Sunday, 10 December 2017

یہود ونصار کی منظم منصوبہ بندی


چوہدری ذوالقرنین ہندل گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں ،مکینیکل انجینیئر اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔

ایات اور احادیث سے ثابت یہ بات سچ ثابت ہوئی ہے کہ یہود و نصار کبھی تمہارے دوست نہیں بن سکتے۔برسوں پہلے یاصدیوں پہلے عیسائی اور یہودی ایک دوسرے کے دشمن ہوا کرتے تھے۔ایک دوسرے کی جانوں کے پیاسے تھے۔مگر جب مذہب اسلام پھیلنے لگا تو یہ بات سچ ثابت ہوئی کہ یہود ونصار اسلام کے خلاف یکجا ہیں۔دونوں مذہبوں اور ان کے مذہبی سکالروں نے جب اسلام کوپھیلتے دیکھا تو ان میں تشویش کی لہر اٹھی کہ کہیں پوری دنیا میں اسلام نہ پھیل جائے،جب اسلام کو پھیلنے سے نہ روک سکے تو انہوں نے اسلام کے خلاف منظم منصوبہ بندی شروع کردی۔
موجودہ حالات میں مسئلہ فلسطین زیر بحث ہے،یہ بھی یہود و نصار کی منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔
ٹرمپ ایک جنونی شخص ہے وہ کوئی بھی فیصلہ سوچے سمجھے بغیر کردیتا ہے۔امریکی لوگ اسے پاگل قرار دیتے ہیں۔اکثریت امریکی ویورپی عوام اس کے مخالف ہے اور اسے تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔اس کے رویوں اور فیصلوں سے خود امریکی ادارے بھی اکتائے ہوئے ہیں۔عدلیہ بھی اس سے خفا ہے۔امریکہ و یورپ کے لوگ پرامن ہیں اور ٹرمپ کے انتہا پسندانہ رویے کو سخت ناپسند کرتے ہیں،مگر ٹرمپ کے فیصلوں کو چاہ کر بھی روک نہیں سکتے ۔وغیر ہ وغیرہ
یہ سب بظاہر ہے۔ایسا رویہ جان بوجھ کر اختیار کیا جا رہاہے۔امریکی عوام و ادارے منہ کی بجائے ناک یا کان سے کھانہ نہیں کھاتے کہ وہ غلطی سے انتہا پسند شخص کو ملک کا صدر بنوا بیٹھے اور بعد میں ان کو معلوم ہوا کہ کھانہ تو منہ سے کھایا جاتا ہے۔مسٹر ٹرمپ جو بھی کر رہے ہیں یہ سب اپنے ان وعدوں کی تکمیل ہے جو ٹرمپ نے انتخابی کمپین میں کئے تھے،جس سے متاثر ہو کر لوگوں نے اپنے انتہا پسند اور اسلام دشمن ہونے کا ثبوت دیا تھا۔قارئین امریکی پالیسیوں کا جائزہ لیں تو آپ کو باخوبی علم ہوگا امریکی سیاست میں جو بھی ہوتا ہے ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہوتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتتدار میں لانا اور اس کا متعصب پسند رویہ دکھانا یہ سب امریکی پالیسی کا حصہ ہے۔اگر خطے کی صورتحال نہ بدلتی تو امریکہ کی منصوبہ بندی بالکل مختلف ہوتی اور ٹرمپ کی بجائے ہیلری صدر ہوتی۔مگر جب امریکہ کو علم ہوا کہ امریکہ کے مقابلے کچھ دوسری طاقتتیں بھی دنیا میں اثر ورسوخ بڑھا رہی تو انہیں اپنے رویے اور منصوبے میں تبدیلی لانا پڑی۔ایک انتہا پسند جوکر نما شخص کو سامنے لا کر دنیا کو یہ باور کرانا چاہا کہ امریکہ سمیت یورپ ہر گز انتہا پسندی کے مخالف ہیں مگر ڈونلڈ ٹرمپ ایک انتہا پسند اور من مانی کرنے والا شخص ہے جو اپنی مرضی سے مختلف پالیسیوں پر عمل کروا رہا ہے،جو کہ امریکہ کے لئے رسوائی کا باعث بن رہا ہے۔سی آئی اے اور دوسرے امریکی و اسرائیلی اداروں کی منصوبہ بندی کے تحت ہی گزشتہ روز یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا گیا،اور امریکی ادارہ یروشلم منتقل کرنے کا حکم دیا گیا۔بعد میں مختلف یورپی ممالک سے اس کی مذمت بھی کروائی گئی۔ایسا نہیں کہ یہ فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جھٹ پٹ سے دے دیا ہو۔یہ اسرائیل کو 100ویں سالگرہ کا تحفہ ضرور ہو سکتا ہے مگر ایسا تحفہ دینے کی منصوبہ بندی بائیس برس پہلے سے جاری تھی۔گزشتہ برسوں میں شاید ایسی صورتحال یا ایسے مواقع میسر نہیں تھے۔مگر اب کے بار امریکہ کے پاس واضح مواقع موجود تھے ۔موقع محل گردانتے ہوئے انہوں نے اپنا فیصلہ صادر فرمادیا۔مسلمانوں کی موجودہ صورتحال دیکھی جائے تو مسلمان دفاعی و جنگی صورتحال میں مبتلا ہیں،بٹے ہوئے ہیں۔امریکہ کی اپنے نیٹو اتحادی ترکی سے تعلقات میں بھی گرمجوشی نہیں رہی،پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ اور ڈو مور کے مطالبے نے تعلقات کی نوعیت ہی بدل دی۔واحد ایٹمی قوت پاکستان بھی دفاعی حالت میں ہے،اندرونی معاملات میں الجھا ہوا مشرقی و مغربی سرحدوں پر ستایا ہوا سی پیک کی نگرانی سمیت ہر وقت الرٹ رہنے پر مجبور ہے اوپر سے معیشت کا بھیڑا بھی غرق ہے آئی ایم ایف کے بغیر ہمارا بجٹ نہیں بنتا۔ایسے میں پاکستان سوائے بیانات کے کچھ نہیں کر سکتا۔ایران پرامریکی پابندیاں عائد ہیں اسکے علاوہ امریکی اسپونسرڈ جو سعودی عرب کی قیادت میں اسلامی فوجی اتحاد بنا ہے اسکا مقصد صرف ایران اور دوسرے مسلم ممالک کو کاؤنٹر کرنا ہے۔سعودی عرب سمیت متحدہ عرب امارات اور دوسری عربی ممالک پر بھی امید نہیں رکھی جا سکتی۔اسرائیلی ٹیلی ویژن کے مطابق سعودی عرب اورابودبئی سمیت بہت سے اسلامی ممالک کو پہلے اعتماد میں لیا گیا تھا۔سعودی عرب کے پس پردہ اسرائیل سے تعلقات بھی کسی ڈھکے چھپے نہیں۔ترکی سب سے زیادہ ری ایکٹ کر رہا ہے مگر یہ بھی جان لیجئے کے عرصہ پہلے ترکی نے اسرائیل کوآزاد ریاست تسلیم کر لیا تھا۔باقی لیبیا ،عراق اور شام جیسے ممالک تو حالت جنگ میں ہیں بنگلہ دیش اورملیشیاء وغیرہ انٹرنیشنل معاملات پر کم ہی عمل دخل کرتے ہیں۔امریکہ نے مسلمانوں کی حالت زار کا جائزہ لیا انہیں تقسیم کیا اور اب اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ایسی کٹھن مسلمانوں کی صورتحال میں ایسا امریکی فیصلہ آناہی تھا۔کیونکہ امریکی و اسرائیلی ذمہ داران باخوبی علم رکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی طرف سے بیانات آجائیں گے میٹنگز ہو جائیں گی احتجاج کیا جائے گا مگر کوئی بھی عملی اقدام نہیں اٹھایا جا سکتا۔
اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان حکمران خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں اور قرآن کی سورہ بقرہ کی آیت نمبر 120کا جائزہ لیں ،جس میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ’’اور تم سے ہر گز راضی نہیں ہوں گے یہود ونصاری یہاں تک کہ آپ پیروی نہ کریں ان کی ملت کی‘‘۔اب مسلمانوں کی عیاشی و لچک دکھانے کا وقت ختم ہو گیا۔اب وقت کچھ کر دکھانے کا ہے،یکجا ہونے کا ہے۔وقت ہے کہ یہود و نصار کے منظم منصوبوں کو سمجھا جائے اور اسلام کا جھنڈا مضبوطی سے تھاما جائے۔ورنہ یوں ہی مسلمان فلسطین ،برما اور کشمیر کی طرح ظلم و بربریت کا نشانہ بنیں گے اور اپنی خودمختاری کو تسلیم کرانے کے لئے برسوں قربان ہوتے رہیں گے۔
کبھی اے نوجواں مسلم ٖ ٖ! تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹ ہوا تارا

Sunday, 3 December 2017

قاتل معاشرہ


چوہدری ذوالقرنین ہندل گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں، مکینیکل انجینئر اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔

معاشرے میں قتل و غارت عام ہوتی جا رہی ہے ،معاشرہ بد عنوانیوں کی لپیٹ میں ایسا لپٹا ہے کہ اپنے سگے اپنا خون بھی زندگی کی کشمکش میں( افراتفری میں) بھروسے کے قابل نہیں رہا ۔آئے روز کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جاتا ہے ،جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ والد نے بیٹیوں کو قتل کر دیا ہے ۔ ایسے واقعات بھی منظر عام پر آنا شروع ہوگئے ہیں جنہیں دیکھ کر سن کر انسان ایسی سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ خونی رشتوں پر بھی اعتبار نہ کیا جائے۔دشمنوں کی طرف سے پھیلائی ہوئی دہشتگردی جتنی مہلک ہے اس سے کہیں زیادہ خطرناک اپنے سگوں کا سگوں کے ہاتھوں قتل ہونا۔ہمارا معاشرہ جس طرف جا رہا اس سے افرتفری کی فزا مزید پھیلے گی اور خدا نہ خواستہ ایسی خطرناک فضا معاشرے ،ملک و قوم سب درہم برہم کردیتی ہے باقی کچھ نہیں بچتا۔
برسوں پہلے، جب ٹیکنالوجی عام نہیں تھی۔گاڑیوں کا شور و دھواں نہیں تھا۔روپے کی اتنی روانی نہیں تھی۔شہروں کی حدودیں بھی اتنی بڑی نہیں تھیں۔دیہات بھی آباد تھے۔البتہ بجلی گیس نام کی کوئی چیز نہیں تھی،اگر تھی بھی تو مخصوص حلقوں تک تھی۔لوگ کنوؤں سے پانی بھر کر پیتے تھے۔آسانیاں نہیں تھیں ہر کام کے لئے بڑی محنت درکار تھی۔روزگار کے لئے خوراک کے لئے اچھی خاصی محنت درکار تھی۔ان سب کے باوجود بھی معاشرہ پر سکون تھا۔لوگ مطمئن تھے،شکر کے کلمات ادا کئے جاتے تھے۔مکان کچے تھے، مسجدیں کچی تھیں۔جدت کے لحاظ سے زمانہ آج سے بہت پیچھے تھا۔سائنسی علوم سے لوگ بہت کم شناسائی رکھتے تھے۔اخلاقی علم سے مالا مال تھے۔آپ ﷺ کی تعلیمات کا گہرہ اثر تھا ان لوگوں پر،آپ کی تعلیمات کو سینے سے لگا کر رکھنے والے لوگ تھے ۔حسن اخلاق ،عزت و احترام اور احساسات جیسی کئی خصوصیات ان میں موجود تھیں۔جو واقعی ان سادہ مگر صاف دل لوگوں نے آپﷺ کی حیات مبارکہ کے مطالعہ سے ہی سیکھی ہوں گی۔زمانہ سست تھا،مگر سکون و لطف سے بھرپور۔ایک دوسرے کا احساس اتنا کہ جتنا آج کے خونی رشتے بھی نہ رکھتے ہوں۔اسلحہ عام نہیں تھا شاید اس کی اتنی ضرورت بھی نہ تھی۔خالص و پوتر لوگ، بغض نہ رکھنے والے لوگ تھے۔کوئی بھی گلہ شکوہ ہوتا تو کھل کر بیان کر دیتے دل میں غصہ نہ رکھتے۔شاید اسی لئے برائیاں بہت کم تھیں معاشرہ قاتل نہیں تھا۔چوری چکاری بہت کم تھی۔قتل و غارت جیسی واردات بھی نہ ہونے کے برابر تھیں۔اگر کوئی قتل جیسا بڑا سانحہ ہو بھی جاتا تو پورا معاشرہ سوگ میں مبتلا ہو جاتا۔سوگ دور دراز کے علاقوں دیہاتوں کو بھی غمگین کر دیتا۔یہاں تک کہ فضائیں بادل بھی سوگ میں برابر کے شریک ہوتے۔آندھیاں و طوفان برپا ہوجاتے جس سے دور دراز کے لوگ بھی آگاہ ہو جاتے کہ کوئی بڑی انہونی ہوئی ہے۔سوگ میں غمگین یہ لوگ اپنے رب سے رحمت و سلامتی کی دعا کرتے۔ایسی انہونی کبھی کبھار ہوتی اسی لئے لوگ اسے مہینوں تک نہ بھول پاتے اور غمگین رہتے۔آج کا معاشرہ قاتل کہلانے کے لائق ہے کیونکہ روز بروز بڑی بے دردی سے لوگ قتل ہو رہے ہیں مگر کسی کو کوئی احساس نہیں۔روز بروز کی بدعنوانیوں نے ہمارے احساسات کو ختم کر دیا ہے۔احساسات کی جو تھوڑی بہت رمق باقی ہے وہ بھی نہیں رہی یہاں دوسروں کے قتل پر افسردہ ہونے کی بجائے لوگ اپنے خونی رشتوں کو بھی قتل کر رہے ہیں۔
پھر زمانہ بدلتا گیا،وقت گزرا اور دیکھتے ہی دیکھتے شہروں کی حدود دیہاتوں سے لگنے لگی دن رات محفلیں جمنے لگیں۔ٹیکنالوجی نے زندگی ہی بدل دی،زندگی سہل ہوگئی۔انسان محنت سے عاری ہونے لگا۔ انسان آسانیوں کے اس دور میں غافل ہونے لگا ۔اللہ اور اسکے احکامات کو بھولنے لگا۔دنیا کی رنگینیوں میں رنگنے لگا۔ دنیا کی افراتفری میں اسلحے میں بھی جدت آئی۔اختلافات بڑھنے لگے، قتل و غارت روز کا معمول بن گئی۔معاشرے کا توازن بگھڑ گیا۔باہمی مفادات ختم ہوگئے ،ذاتی مفادات نے ترجیح لے لی۔ظاہری رنگین محفلوں والا پرکشش معاشرہ، انسان کو ذہنی الجھنوں میں پھنسانے لگا۔انسان اتنی چہل پہل افراتفری میں بھی ذاتی مفادات تک،تنہا ہونے لگا۔معاشرہ دن بدن ٹوٹنے لگا۔انسانی سوچیں بڑھنے لگیں۔انسان مالیت پرست ہو گیا۔پریشانیاں بڑھنے لگیں۔معاشرہ بے ہنگم ہو گیا ،لوگ چکرا گئے۔انسانی قدروں کا خاتمہ ہوگیا۔اتنی بڑی فورسز اداروں اور قوانین کے باوجود بھی انسانی درندگی حوس و بد عنوانی بڑھنے لگی۔معاشرے کا بھائی چارہ تو ختم ہوا مگر خونی رشتے بھی مدھم ہوکر ختم ہونے لگے۔نفسیاتی بیماریاں بڑھنے لگیں۔نفسیات پر کنٹرول ختم ہو گیا، انسان کا خود پر قابو ختم ہوگیا۔معاشرہ بظاہر بڑا رنگین ،درحقیقت ایک قاتل و کھوکھلا معاشرہ بن کر رہ گیا۔
یقین مانئے جب سے ہوش سنھبالا ہے حالات دن بدن سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔بے حسی و بدعنوانیوں کی ایسی ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں جیسے انسانوں کے معاشرے میں نہیں کسی اور مخلوق کے معاشرہ میں رہ رہے ہیں۔دشمنوں و دہشتگردوں کے ہاتھوں معصوموں ،بوڑھوں اور جوانوں کا شہید ہونا تو معمول ہے۔بھائی ، والد اور چچا کے ہاتھوں بہنوں بیٹیوں کا قتل ہونا بھی معمول بن چکا ہے۔بیٹے کے ہاتھوں باپ و ماں کا قتل ہونا بھی اس قاتل کا معاشرے کا کارنامہ ہے۔مگر گزشتہ روز ایک نئی ہی خبر سننے کو ملی ہے جس نے رشتوں کے کم ہوتے اعتبار کو مکمل ہی ختم کر دیا ہے۔اس سے آگے اب کچھ نہیں یہ انتہا ہے معاشرہ قاتل ہے قاتل ہے۔وہ قاتل معاشرہ جس میں ماں نے اپنے شوہر سے جگھڑے کی بنا پر اپنے ان ننھے منے بچوں کو گلہ کاٹ کر قتل کر دیا جو شاید اس ماں کے قدموں تلے اپنی جنت کے متلاشی ہوں گے، اور پھر بھی تسلی نہ ہوئی تو انہیں نہر میں پھینک دیا۔ وہ کمسن بچے جنہوں نے زندگی کے کچھ برس ہی گزارے تھے ۔جنہیں ابھی سکولوں کالجوں میں پڑھنا تھا،جنہوں نے زندگی میں ابھی کسی سے کوئی لڑائی جگھڑا بھی نہیں کیا تھا۔ جنہیں شاید ابھی لفظ موت اور قتل سے واقفیت بھی نہ تھی۔ جنہیں ابھی دنیا کی درندگی کا اندازہ بھی نہ تھا۔ جن کی عمر کھیلنے کی تھی۔ اور ابھی وہ ماں کی ممتا میں خوشیوں کے متلاشی تھے، جس ماں کی گود میں کھیلنا تھا جس کے ہاتھوں سے غذا کے لقمے کھانے تھے انہیں ہاتھوں نے نہ جانے کیسے چھری چلائی ہوگی،اگلے جہاں میں بیٹھے یہ معصوم بچے ضرور افسردہ ہوں گے اور اپنے رب سے گلہ بھی کریں گے۔ اے خدایہ یہ کیا ہوا ماں تو بچوں کے لئے جان قربان کرسکتی ہے ماں کے قدموں تلے تو جنت ہے اے ہمارے رب خداوند ہم اپنی جنت کہاں تلاش کریں ہماری جنت نے تو ہمیں لہولہان کردیا آخر ہمارا کیا قصور تھا ۔اس سے زیادہ بے حسی بدعنوانی کیا ہو سکتی ہے ۔یہ معاشرہ اخلاق احساس سے بہت دور چلا گیا ہے۔ایسے ہی کئی واقعات اور ہیں جو انسانی درندگی کو عیاں کرتے ہیں۔کچھ ہی روز قبل گوجرانوالہ میں ایک باپ نے اپنی دو کمسن بیٹیوں کو زندہ نہر میں پھینک دیا۔ایک دیہاتی عورت نے پیر کے کہنے پر اپنے بیمار بیٹے کا قتل کر دیا۔کیا کیا لکھوں! بے حسی و بدعنوانی کے قصے ہیں کہ بڑھتے جا رہے ہیں۔
اس سے بڑی سفاکی کیا بتاؤں آدمی ہی انسانیت کا قاتل نکلا
تڑپا تڑپا کر سسکا سسکا کر مارا جس نے بھائی ہی بہن کا قاتل نکلا
دیس کی مٹی کی وفا کو کیا ہوا اس دیس کی مٹی کا وجود بھی غافل نکلا
اس مٹی کی اور کیا بے وفائی بتاؤں بیٹا ہی باپ کا دشمن عناصر نکلا
زرخیز اس مٹی نے اگایا ہے نفرت کو برابر کہ بھائی ہی بھائی کا قاتل نکلا
اس دیس کی کیا داستان سناؤں ہندل ہائے ماں بیٹے کی اور بیٹا ماں کا قاتل نکلا

Sunday, 26 November 2017

پھیلتی افراتفری


چوہدری ذوالقرنین ہندل گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں۔مکینیکل انجینیئر اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔نا چاہتے ہوئے بھی وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ملک افراتفری کی گرفت میں آگیا۔جس سازش کا خدشہ تھا وہ سچ ثابت ہوا۔پاکستان کو بیرونی معاملات میں الجھانے کے لئے اسے اندرونی افراتفری کی طرف دھکیل دیا گیا۔آج پورا ملک بند ہونے کو ہے، کاروبار، آمدورفت اور دوسرے روزمرہ کے کام ٹھپ ہو رہے ہیں۔شہری علاقوں میں گھروں سے باہر نکلنا محال ہے۔خطرناک نتائج لئے پھیلتی افراتفری ہے کہ سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ہر ذی شعور پریشان ہے کہ اکیس کروڑ کے اس ملک کا کیا مستقبل ہے۔معاملات دن بدن سنگین سے سنگین کیوں ہو رہے ہیں۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دشمن ہمارے ملک میں افرتفری پھیلانے میں بھی سرگرم عمل ہے،ہمارے آپس کے اختلافات دشمنوں کے اس ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔ملک میں موجود دشمن دوست پاکستان کے خلاف سازشی منصوبہ بندی میں متحرک ہیں۔وہی پاکستان جو وسط ایشیاء کا نمائندہ ملک بننے جا رہا ہے ،کیا وہ ایسا کر پائے گا؟وہ اپنے اندرونی معاملات سے نمٹنے کی بجائے روز بروز مزید الجھتا جا رہا ہے۔آخر کوئی تو بڑی سازش ہے جو اس وقت متحرک ہے؟، جو پاکستان کو پھلتے پھولتے نہیں دیکھ سکتی۔گزشتہ چند عرصے سے پاکستان کو ہمہ وقت بیرونی و اندرونی معاملات میں الجھایا جا رہا ہے۔ایسے کٹھن حالات میں ہونا تو یہ چاہئے کہ حکومت سمیت تمام سیاسی جماعتیں اور ادارے یکجا ہو کر دشمنی سازشوں سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کریں۔مگر افسوس کہ ملک میں پھیلتی افراتفری میں جتنا ہاتھ دشمن کا ہے اس کہیں زیادہ قصور ہماری سیاسی جماعتوں اور ہمارے اداروں کا ہے۔ملکی افراتفری میں اضافے کے ذمہ دار ہم عام عوام بھی ہیں جو کبھی ایک نظریے پر متفق نہیں ہو سکے،بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا ہماری قوم کسی ایک کام ایک نظریے کے لئے کبھی یکجا نہیں ہوئی۔ہمیشہ عوام نے ظاہری و وقتی مفاد کو ترجیح دی ہے۔موجودہ حکومت کی بات کی جائے تو وہ نامعلوم ہے ایسا لگتا ہے کہ ملک بغیر حکومت کے ہی چل رہا ہے۔فیض آباد کے دھرنے کو کچلنے کی جو ناکام کوشش کی گئی اس کے نتائج ملک بھگت رہا ہے اور نہ جانے کتنے دن اس کے نتائج بھگتنا پڑیں۔حکومتی نااہلی کے باعث ہی تو دھرنا شروع ہوا،مگر مذہبی جماعتوں کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ملک کو افراتفری کی طرف دھکیلیں۔ملک پھیلتی افراتفری کی ریس میں اتنا آگے نکل گیا ہے، لوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں ۔کوئی قانون نہیں ۔جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا مہاورا سچ ثابت ہوتا نظر آرہا ہے۔ریاست تو جیسے سرے سے ہی موجود نہیں،جنگل راج ہے۔ریاست کی تذلیل ہو رہی ہے۔ حکومتی کنٹرول کم ہوتا جا رہا ہے۔جو کسی کا دل چاہتا ہے کرتا ہے۔موجودہ پھیلتی افراتفری میں ہم سب قصور وار ہیں عام عوام سے کہیں زیادہ قصور وار حکومتیں ادارے اور دوسری بااثر جماعتیں ہیں۔نااہلی کی انتہا دیکھئے جس کا دل چاہتا ہے وہ اکٹھ کر کے ملک کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتا ہے۔یہ جنگل راج ہے جو جتنا طاقتور اتنا ہی با اثر۔آخر کب اس وطن کو سکھ اور چین نصیب ہوگا؟پھیلتی افراتفری کب رکے گی؟کون ملک کا حقیقی لیڈر ہے؟اقتدار کے لالچ سے پاک مفادات سے پاک کون ہے ؟ہے کوئی ایسا لیڈر جو اپنے وزراء کو نوازنے کی بجائے ملک کا سوچے؟ایسا کیوں ہے؟ کسی کے پاس اس کا جواب نہیں، ہو بھی کیوں۔کیوں کہ لالچ و بے حسی ہے کہ دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔آج ہم اپنے مفادات کی خاطر دین کا سہارا لینے سے بھی نہیں کتراتے۔ہماری تعلیمات کہاں گئیں؟ہمارے علماء و اساتذہ کے علم میں اتنا بھی اثر نہیں کہ وہ بڑھتی حوس و لالچ کو کم کر سکیں۔اسلام تو مکمل نظام حیات ہے، بلکہ واحد دین ہے جو مکمل ہے۔کیا پھر ہماری تعلیمات میں کوئی کمی کوتاہی ہے؟کیا ہمارے عالم ہی نامکمل علم رکھتے ہیں،یا عمل سے عاری ہیں؟ کچھ تو ایسا ہے کہ ہمارا پورا معاشرہ ہی بے حس ہو چکا ہے ۔ورنہ کوئی ختم نبوت کی شک کو حذف کرنے کی گستاخی نہ کر سکتا۔آپﷺ ہمارے آخری نبی ہیں اور آپﷺ کے بعد اس دنیا میں کوئی نبی نہیں آئے گا۔آپﷺ کی ذات پر ہماری جان بھی قربان۔حکومت نے جو غلطی کی ہے وہ حقیقت میں بڑی غلطی ہے جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑے گا۔مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ نظام حیات کو درہم برہم کیا جائے۔تحریک لبیک کا وزیر کی نااہلی کا مطالبہ درست ہے مگر ملک میں افراتفری پھیلانے کا منصوبہ غلط ہے۔حکومت نے جلد بازی میں یا اپنے وزیر کو بچانے کے چکر جس افراتفری کو فروغ دیا ہے ملک اس کا متحمل نہیں ۔اس کٹھن وقت میں جب دشمن سے بھی خطرات موجود ہیں حکومت کو دانشوری کا مظاہرہ کرنا چاہئے نہ کہ دشمنی سازش کو ترویج دی جائے۔ویسے کچھ عرصے سے ہماری عدالتیں کافی متحرک ہیں اور ہر معاملے میں اپنا فیصلہ صادر فرما دیتی ہیں۔سپریم کورٹ کو چاہئے کہ وہ اس معاملے کوبھی خود ہی دیکھ لے،اور آئین و قانون میں تبدیلی کے ذمہ داران کو سامنے لانے کے لئے کمیٹی تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ مذہبی جماعتوں کو بھی پرامن رہنے کی تلقین کرے۔تاکہ پھیلتی افراتفری پر فوری قابو پایا جا سکے۔باقی بات رہی سازش اور قصور کی وہ وقت عیاں کر دے گا کہ کس کا کتنا قصور ہے۔

Sunday, 19 November 2017

مشرقی و مغربی سرحد اور اندرونی معاملات


چوہدری ذوالقرنین ہندل گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں۔مکینیکل انجینئر اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای
او ہیں۔

ہمہ وقت اندرونی و بیرونی معاملات میں کشیدگی دشمن کی بڑی سازش ہی ہو سکتی ہے،مگر افسوس کہ ہماری سیاسی و مذہبی قیادت اور مختلف ادارے ملک کو افراتفری کی جانب دھکیل کر دشمن کی سازش کو پروان چڑھا رہے ہیں۔جانے انجانے بہت سے لوگ ملک کو افراتفری کی جانب دھکیلنے کا کام سرانجام دے رہے ہیں ان میں سیاسی پارٹیوں کے کارکن حکومتی حامی مذہبی جماعتوں کے کارکن اور بہت سے دانش ور وغیرہ ہیں۔ملک فی الوقت متعدد مسائل کی گرفت میں ہے اور ان میں آدھے سے زائد مسائل ہماری اور حکومت کی نادانیوں کے باعث دشمنوں نے پروان چڑھائے ہیں۔حکومت کو اپنے ہونے کا ثبوت دینا ہوگا،کھوکھلی حکومت سے بہتر ہے کہ فوری اسمبلی تحلیل کر کے انتخابات کروائے جائیں۔لیکن اخلاقی طور پر حکومت کو پورا وقت ملنا چاہئے اور تمام سیاسی پارٹیوں کو الیکشن کے موجودہ وقت کا انتظار کرنا چاہئے الیکشن کمپین ضرور چلائیں مگر مخالفت میں اتنی شدت نہ ہو کہ ملک افراتفری کی طرف چلا جائے۔حکومت کو اگر مدت پوری کرنی ہے تو تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے اور ان کے جائز مطالبات پورے کرے۔پاکستان میں موجود ہر ذی شعور انسان کو باخوبی اندازہ ہے کہ پاکستان بیک وقت متعدد مسائل کی لپیٹ میں ہے۔تاہم سیاسی و عسکری قیادت نے کافی حد تک ان مسائل کو کنٹرول بھی کیا ہے۔خطے کی بدلتی صورتحال نے پاکستان کو ہر وقت محتاط و الرٹ رہنے پر مجبور کردیا ہے۔پاکستان چائنہ اقتصادی راہداری کے آغاز کے بعد سے بہت سی قوتیں پاکستان پر اپنی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔کچھ اچھی نظریں یعنی بعض اچھے ممالک سرمایہ کاری و کاروبار کی نیت سے نظریں مرکوز کئے ہوئے ہیں۔کچھ انتہائی بری نظریں یعنی بعض ممالک کو خطے کی یہ ترقی ہر صورت ہضم نہیں ہو رہی ان کے نزدیک انکی نمبرداری ختم ہوجائے گی وسط ایشیاء مستحکم ہو جائے گا اور چوہدراہٹ والا نظام بھی زوال پذیر ہو جائے گا۔ایسے ممالک میں سپر پاور امریکہ اور ایشیاء میں امریکہ کا دوست بھارت ہر وقت سی پیک کی ناکامی کے لئے متحرک رہتے ہیں،اور بھی بہت سے ممالک ان کے اس مقصد میں حامی ہیں۔پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت مکمل طور پر ان سازشوں سے آگاہ ہے اور ان سے نمٹنے کے لئے اپنی پیشہ ورانہ صلاحتیں استعمال کر رہی ہے۔گزشتہ کچھ دنوں سے پاکستان کو تین طرح کے مسائل در پیش ہیں اور اگر اندازہ لگایا جائے تو سوچی سمجھی سازش ہی لگتی ہے۔کچھ دن قبل افغانستان کی طرف سے پاکستان آرمی پر فائرنگ گزشتہ روز ایل او سی پر بھارتی خلاف ورزی بلوچستان میں پنجابیوں کا قتل اور ملک میں سیاسی و مذہبی انتشار وغیرہ ہمہ وقت ملک کو مختلف مسائل میں دھکیل کر افراتفری کو پروان چڑھانے کے مترادف ہے، اور میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ اس حالت میں دشمن کی ذمہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری سیاسی غفلت بھی شامل ہے۔ ہماری مشرقی سرحد بھارت سے ملتی ہے۔ بھارت ہمارا ازل سے دشمن ہے، لائن آف کنٹرول پر بھارتی خلاف ورزیاں تو عرصہ دراز سے چلی آرہی ہیں مگر جب سے سی پیک کا آغاز ہوا ہے ان خلاف ورزیوں میں شدت آگئی ہے آئے روز کسی نہ کسی دیہات کی فصلیں تباہ ہو رہی ہے دیہات اجڑ رہے ہیں معصوم لوگ مر رہے ہیں۔بھارتی شر پسندانہ حکمت عملی خطے میں جنگ کے خطرات کو پروان چڑھا رہی ہے۔پاکستان نے ہمیشہ نرم رویہ اختیار کیا بعض اوقات مسائل کے حل کی خاطر بھارتی ہٹ دھرمیوں کو پس پشت ڈال کر مذاکرات کے لئے ہاتھ بڑھایا مگر بھارت بعض آنے سے قاصر ہے۔موجودہ آرمی چیف کو کریڈٹ دینا بھی ضروری ہے ،چیف صاحب نے جوانوں کو حکم دے رکھا ہے کہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی صورت میں بروقت اور موئثر جواب دیا جائے تاکہ دشمن کسی وہم میں مبتلا نہ ہو۔پاکستان کی مشرقی سرحد پر مستقل خطرہ موجود ہے اسی لئے آرمی چیف نے ہر وقت الرٹ رہنے کا حکم دے رکھا ہے۔بھارت نے رواں سال 1300سے زائد مرتبہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی جو کہ انسانی حقوق اور امن کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔بھارت کشمیر کو ہڑپ کرنے لئے پاکستان دشمنی میں اپنی حدیں عبور کررہا ہے ،دوسری طرف بھارت کے نئے آقا امریکہ نے اسے حکم دے رکھا ہے کہ سی پیک کو ہر گز کامیاب نہ ہونے دیا جائے۔ہماری مغربی سرحد افغانستان اور ایران کے ساتھ ملتی ہے،یہ سرحد بھی عرصہ سے مشکلات کی گرفت میں ہے۔افغانستان کی طرف سے پاکستانی علاقوں میں فائرنگ اور ایران کی طرف سے دھمکیاں بھی دن بدن بڑھتی جارہی ہیں۔ دونوں ممالک بھارت کے قریبی ہیں اور بھارت ان ممالک میں بھاری سرمایہ کاری بھی کر رہا ہے تاکہ پاکستان کے خلاف استعمال کر سکے۔پاکستان اپنی اس سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے سرگرم ہے۔پاک فوج پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے میں مصروف ہے اور امید کرتے ہیں کہ اس کی تکمیل سے دہشتگردی میں کمی آئے گی۔دہشتگردوں کی افغانستان کے راستے پاکستان آمدورفت رک جائے گی۔پاکستان کی عسکری قیادت کو ہمہ وقت مشرقی و مغربی سرحدوں پر چوکنا رہنے کی ضرورت ہے دشمن ہر وقت ہمیں نقصان پہنچانے کے طریقے ڈھونڈتا ہے،ہمیں دشمنوں کی چالوں کو بھانپ کر انکا مقابلہ کرناہے۔بارڈر مینجمنٹ کو جلد از جلد بہتر بنایا جائے۔اندرونی مسائل سب سے زیادہ گھمبیر ہیں اور انہیں حل کئے بغیر بیرونی مسائل مزید الجھ سکتے ہیں۔حکومت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ،بلوچستان سمیت تمام مسائل کو بھانپ کر انکا مقابلہ کرنا ہوگا۔تمام سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ ذاتی مخالفت کو ذاتی ہی رکھا جائے ، ذاتی مفادات کی خاطر ملک کو انتشار کر طرف مت دھکیلیں۔باہمی طور پر مل بیٹھ کر اپنے مسائل حل کریں،ذمہ داران اور فہم پرست سیاستدان ہونے کا ثبوت دیں۔افراتفری کو فروغ نہ دیں بلکہ دانش مندانہ طریقے سے اپنا اپنا منشور تیار کرکے الیکشن کی تیاری کریں ملکی مفادات کو مد نظر رکھ کر سیاست کریں۔ایسا نہ ہو کہ آپ کے ذاتی مفادات کی خاطر ملک انتشار کی طرف چلا جائے اور یہ روایت مشہور ہو جائے کہ سیاست دان ملکی معاملات چلانے کے قابل نہیں۔

Sunday, 5 November 2017

پاکستان مخالف بھارتی مہم

چوہدری ذوالقرنین ہندل گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں ،مکینیکل انجینیئر اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔
یوں توکئی سالوں ہی سے دشمن ملک بھارت پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے، کوئی بھی مخالفت کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔دوسری طرف پاکستان نے ہمیشہ تعلقات میں بہتری کی کوششیں کیں۔مگر مودی سرکار کے اقتدار میں آتے ہی بھارتی پاکستان مخالفت میں شدت آگئی۔مودی انتہا پسند بھارتی تنظیم اشٹریہ سوائم سیوک سنگھ(آر ایس ایس) کا سرگرم رکن اور مسلم کش ایجنڈا ہندو تواء کا پیرو کار ہے۔مودی نے اپنی تنظیم سے پاکستان کی تباہی جیسے ناپاک وعدے کر رکھے ہیں،مودی نے انتہا پسند بھارتی قوم سے عہد کر رکھا ہے کہ وہ کشمیر سمیت بہت سے پاکستانی علاقوں کو بھارت میں ضم کرے گا۔مودی اور اسکی حکومت اپنے ناپاک عزائم کے لئے سر گرم عمل ہے۔اپنے مقصد کو پس پردہ چلانا بھارتی وطیرہ ہوتا تھا مگر اب کے بار مودی سرکار سرعام اپنے عزائم کا تذکرہ کرتی ہے۔مختلف فورمز پر مودی نے پاکستان کے خلاف زہر افشانی کی اور پاکستان کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دیں۔مودی بذات خود بڑے فخر سے یہ بھی بتا چکا ہے کہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کو علیحدہ کرنے میں ان کی تنظیم اور انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مسلمانوں کا قتل عام کیا۔پس پردہ جڑیں کاٹنا تو بھارت کا معمول کا کام تھا مگر اب کے بار تو کھلم کھلا پاکستان کی تباہی کی باتیں کی جاتی ہیں۔اسکی بڑی وجہ خطے کی بدلتی صورتحال ہے۔بڑی وجہ امریکہ بھارت تعلقات میں بہتری اور پاک امریکہ تعلقات میں کمی و کشیدگی بھی ہے۔پاکستان چائنہ اکنامک کوریڈور جو خطے کے لئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے۔بھارت تو ازل سے ہی اس منصوبے کا مخالف ہے ،امریکہ کو بھی یہ گوارا نہیں اسے لئے اس منصوبے نے امریکہ بھارت کو مزید نزدیک و یکجا کر دیا۔خطے میں سیاسی صورتحال بدل چکی ہے اور تیزی سے بدل رہی ہے۔چائنہ روس اور پاکستان سمیت بہت سے ممالک حامی بنتے جا رہے ہیں جبکہ امریکہ کو یہ بہت ناگوار گزر رہا ہے کہ یہ خطہ انکی مداخلت سے پاک ہو اور چین و روس اس کے مقابلے مضبوط ہو جائیں۔اسی لئے آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت پر امریکہ نے انحصار شروع کردیا، بھارت کو اپنے اسلحے سے لاد کر خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کردیا تاکہ کوئی اس خطے میں امریکہ کے مقابلے کھڑا نہ ہو سکے۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے نزدیک اب پاکستان کی حیثیت بدل چکی ہے اور امریکہ دن بدن پاکستان کو پریشرائز کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے،بھارت کو بھی عزائم مقاصد کی تکمیل کے لئے کھلی چھٹی دے رکھی ہے بلکہ مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔بھارت اس وقت اپنے اثر و رسوخ کی بلندی پر ہے اور نمبرداری کے نشے میں دھت ہے مگر اسے امریکی چالبازیوں کا قطعی علم نہیں شاید اسے پاکستانی دشمنی میں ہر علم سے لاعلم رہنا ہی بہتر لگتا ہے۔مگر بھارت کو جان لینا چاہئے کہ ایک دن امریکی گود میں کھیلتے کھیلتے وہ خود تباہ ہو جائے گا چائنہ اتنا مضبوط ملک ہے کہ بھارت اس کا مقابلہ ہر گز نہیں کر سکتا ، یوں سمجھ لیجئے کہ ظاہری نمبرداری کے چکر میں بھارت تو ایک دن ٹکڑوں میں بھٹ کے رہے گا۔بھارت اس وقت امریکی ملی بھگت اور پاکستان سے مخالفت و دشمنی کی بدولت سی پیک کو ناکام بنانے کی کاوشیں کر رہا ہے چاہے اسکی راہ میں اسکے اپنے مفادات بھی قربان ہو جائیں اسے کوئی سروکار نہیں۔اس ملی بھگت میں کچھ اسلامی ممالک بھی شریک ہیں جن میں افغانستان اور دبئی کا نام قابل ذکر ہے۔بلوچستان میں بھارت عرصہ دراز سے براستہ افغانستان تخریب کاریوں میں ملوث ہے مگر سی پیک کے آغاز کے بعد بھارت نے گلگت بلتستان میں بھی تخریب کاریاں شروع کر رکھی ہیں، کچھ نام نہاد لوگ صحافی و ورکرز کی صورت میں بھارتی ایجنڈے کو گلگت بلتستان میں پروان چڑھا ر ہے ہیں۔پہلے تو بھارت نے کبھی خاطر خواہ اعتراض نہیں اٹھایا تھا مگر سی پیک کی تعمیر سے بھارتی حکومت نے کشمیر کے ساتھ گلگت کو بھی اپنا اٹوٹ انگ قرار دے دیا ہے۔اسی طرح بلوچستان میں بھی مختلف لوگ بھارتی ایجنڈے کو پرموٹ کر رہے ہیں۔پاک آرمی کی کاوشوں کی بدولت کچھ بہتری آئی مگر اب بھی لوگ موجود ہیں جو پاکستان کی جڑیں کاٹ رہے ہیں،چاہے انکی تعداد بہت کم ہے مگر ان سے نمٹنا بہت ضروری ہے۔کچھ عرصہ قبل بھارت نے سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں بلوچستان آزادی کے نام سے پاکستان مخالف مہم چلائی۔گزشتہ روز بھی اسی طرح کی مہم لندن میں بھی چلائی گئی۔ابھی جنیوا کی مہم کا چرچا ختم ہوا ہی تھا کہ بھارت نے پاکستانی مخالفت میں لندن کی مختلف سڑکوں اورگاڑیوں پر آزاد بلوچستان کے اسٹیکرز لگوائے دیئے۔پاکستان نے اپنے دوست ملک برطانیہ سے سخت احتجاج کیا کہ برطانیہ ایسی مہم کی ہر گز اجازت نہ دے یہ پاکستان کی سلامتی و خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔بھارت پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے دنیا بھر میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے ،نام نہاد بلوچ تنظیمیں بھارتی مقاصد کا حصہ بن رہی ہیں۔پاکستانی حکومت کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہئے یہ کوئی چھوٹا معاملہ نہیں یہ ہماری سلامتی کا معاملہ ہے اور کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہماری سلامتی پر سوال اٹھائے۔تمام سیاسی پارٹیوں اور تمام اداروں کو متحد ہونا ہوگا۔دشمن ہماری کمزوریوں کا فائدہ اٹھانے کے در پے ہے اور ہم اپنی سیاسی لڑائیوں میں لگے ہوئے ہیں ہر طرف صرف اقتدار کا لالچ نظر آ رہا ہے سیاسی دنگل عروج پر ہے اداروں کے درمیان غلط فہمیاں ہیں کہ بڑھتی جا رہی ہیں۔یہ ہو کیا رہا ہے؟ وقت کی نوعیت کو سمجھنا ہوگا دشمن کی چالوں کو بھانپنا ہوگا۔یکجا ہو کر اندرونی معاملات کو حل کرنا ہوگا پھر ہی ہماری مضبوطی سے دشمن خود تار تار ہوگا۔پاکستانی حکومت کو اپنی اعلی و اچھی سفارتکاری کی بدولت دنیا کو بتانا ہوگا کہ بھارت کتنا مکار ہے اور بلوچستان پاکستان ہے اس کی اکثریت پاکستان سے دل وجان سے پیار کرتی ہے چند نام نہاد بھارت نواز لوگوں کے کہنے پر بلوچستان کو بھارت کے حوالے نہیں کیا جا سکتا بلکہ ایسا سوچنا بھی جرم ہے۔دنیا کو بھارتی مکاری کے خلاف ایکشن لینا چاہئے اور کسی ملک کی سلامتی کے خلاف سازش کے جرم میں سزا بھی ملنی چاہئے