Sunday, 17 September 2017

پا ک بھارت آبی تنازعہ

چوہدری ذوالقرنین ہندل گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں ،مکینیکل انجینئر ہیں اور وائس آف سوسائٹی کے
سی ای او ہیں۔
دنیا میں شروع ہی سے یہی اصول چل رہا ہے کہ دریا چاہے کسی بھی ریاست سے نکلتا ہو مگر وہ جہاں سے بھی گزرے گا اس کے باسیوں کا دریا کے پانی پر پورا حق ہوگا،اور اگر کوئی قدرت کے اس گزرتے پانی کو کسی ریاست کے استعمال کے لئے روکے تو وہ جرم کا مرتکب ٹھہرتا ہے۔
میرے نزدیک پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعہ کھڑا کرنے کا منصوبہ تقسیم ہند کے دور کا ہے،البتہ اس پر عمل درآمد تب سامنے آیا جب بھارت نے مسلمان اکثریت والی ریاست کشمیر پر اپنا تسلط جما لیا۔ یہ ہند وائسرائے اور ہندو لیڈروں کا باہمی منصوبہ تھا۔تقسیم کے وقت کی جانے والی ناانصافی آج پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔کشمیر کے قریبی چند مسلم علاقے جن کو تقسیم کے بعد پاکستان کا حصہ بننا تھا جان بوجھ کر بھارت کو دیئے گئے تاکہ بھارت کشمیر پر اپنا قبضہ جما سکے۔درحقیقت بھارت کے کشمیر پر قبضے سے ہی آبی تنازعہ شروع ہوگیا تھا۔قارئین پاکستان کو سیراب کرنے والے دریا بھارتی زیر اثر کشمیر سے ہی نکلتے ہیں۔کچھ برس گزرنے کے بعد جب بھارت نے پاکستان کا پانی روکا تو پاکستانی حکومت و ماہرین کو یہ ادراک ہوا کہ پاکستان تو ایک بڑے آبی مسئلے کا شکار ہے۔اس کے بعد بھارت کا پانی کو روکنا کا معمول بن گیا،جو اب تک جاری ہے صرف پانی کے روکنے کی مقدار میں کمی بیشی ہوتی ہے۔سندھ طاس معاہدے سے پہلے پاکستان میں لوگوں کے دلوں میں جنگ کے وسوسوں نے جنم لیا،ہر با شعور پاکستانی یہی سوچتا تھا کہ اب پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے لئے ایک بڑی جنگ ہوگی،خدا نخواستہ اگر پاکستان پانی سے محروم ہوگیا تو ہمارے سرسبز میدان تو بنجر ہوجائیں گے قحط سالی ہمیں جکڑ لے گی،ہم سب چٹیل میدانوں میں افلاس کے مارے بادہ نشینوں کی طرح خوراک کی آس لگائے مارے مارے میلوں پیدل گھومتے نظر آئیں گے۔ایسے بے شمار وسوسے تھے جو پریشانی میں اضافہ کرتے تھے۔چناچہ پاکستان کی کاوشوں اور واویلے کے بعد 1960میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا جو اس وقت کے موجودہ ہمارے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیراعظم نہرو کے زیر نگرانی طے ہوا ۔یہ معاہدہ ورلڈ بینک کی بدولت طے ہوا جس کی ضمانت پر دونوں ملک معاہدے کے لئے رضا مند ہوئے۔اس معاہدے کا فائدہ بھی بھارت کو پہنچا،کیوں کہ معاہدے کے تحت دو پاکستانی دریا راوی اور ستلج بھارت کے حوالے کر دیئے گئے۔باقی تین دریا سندھ چناب اور جہلم پاکستان کے حصہ میں آئے۔ورلڈ بینک نے معاہدے کے تحت پاکستان کو ڈیم بنانے کے لئے کچھ رقم فراہم کی جس کی بدولت پاکستان نے منگلا اور تربیلا ڈیم بنائے۔چند برس گزرے بھارت نے اپنے کئے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کرنا شروع کردی پاکستانی حصے کے دریاؤں کا پانی روکنے کے لئے ان پر ڈیم بنانا شروع کر دیئے۔1984میں دریائے جہلم پر وولر بیراج اور1990میں چناب پر بگلیہار ڈیم اور اسکے علاوہ چھوٹے بڑے درجنوں منصوبے مکمل کر کے پاکستان کو پانی جیسی عظیم نعمت سے محروم کرنا چاہا۔ہمارے گزشتہ وقت کے منصوبہ سازوں نے غفلت برتی اور بھارتی ڈیم مکمل ہونے کے بعد ان کے ڈیزائنز کو عالمی عدالت میں چیلنج کیا۔پاکستان کو یہ کہہ کر چپ کرا دیا گیا کہ اب تو ڈیم تعمیر ہوچکے ہیں۔بھارت اپنی ہٹ دھرمی اور خلاف ورزیوں سے باز نہ آیا اور پاکستانی حصے کے دریاؤں پر سینکڑوں چھوٹے بڑے ڈیمز بنانے کا منصوبہ تیار کرلیا۔بس اس پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ دریاؤں کا رخ تبدیل کرنے کی بھی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ایسے بے دھڑک منصوبوں کی بدولت ہی مودی سرکار پاکستان کو بنجر کرنے کی بڑھکیں مارتی ہے۔تاہم خوش آئیند بات یہ ہے کہ ہمارے آبی ماہرین نے گزشتہ غلطیوں سے سیکھا اوربھارت کے جانب سے کشن گنگا اور راتلے ڈیم کی تعمیر کی شروعات سے پہلے ہی ان ڈیزائنز پر عالمی بینک میں اعتراضات اٹھادیئے۔جس کی بدولت گزشتہ دو روز عالمی بینک کے ہیڈ کوارٹر واشنگٹن میں آبی کانفرنس ہوئی جو بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث ناکام ٹھہری۔عالمی بینک نے حکم دیا تھا کو دونوں فریقین مل بیٹھ کر معاملات طے کریں،اگر کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو ثالثی کورٹ کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔اب عالمی بینک کا حق بنتا ہے کہ وہ ثالثی کورٹ تشکیل دے۔سوچنے کی بات ہے کہ بھارت مل بیٹھ کر ان مسائل کا حل کیوں چاہے گا جو اس کے اپنے تخلیق کردہ ہیں۔پاکستانی قیادت کو بھارت سے کوئی امید وابستہ نہیں رکھنی چاہئے، بلکہ اپنی اعلی و تیز سفارتکاری کی بدولت دنیا کے سامنے بھارت کی پاکستان مخالف سازشوں اور تعصب پسندی کو بے نقاب کرنا چاہئے۔تاکہ عالمی طاقتیں بھارت پر دباؤ ڈال سکیں۔پاکستان کو عالمی بینک کو اپنے آبی مسئلے کی نوعیت بارے تمام تفصیلات سے آگاہ کرنا چاہئے اور ثالثی کورٹ کی تشکیل کے لئے رضا مند کرنا چاہئے تاکہ پانی جیسی عظیم نعمت کے اس سنگین مسئلے کو حل کیا جا سکے۔اب اپنی حکومتوں کی ناکامی کا اندازہ لگائے کہ کالا باغ ڈیم کی فزیبلٹی پر اربوں خرچ ہوگئے مگر آج تک اس پر کام شروع نہیں ہوسکا۔بھارت ہے کہ دھڑا دھڑ ڈیم بنائی جا رہا ہے۔ہماری حکومت اور ذمہ داران کو جلد از جلد پانی کے اس سنگین مسئلے کو بھانپنا ہوگا اور بھارت نواز سازشوں کو بے نقاب کرکے کالا باغ سمیت مزید ڈیموں کی تعمیر کو ممکن بنانا ہوگا۔ورنہ بھارت کی ہٹ دھرمی تو برسوں سے قائم ہے۔میرے نزدیک موئثر اور فوری حل یہ ہی ہے کہ پاکستان جلد از جلد زیادہ سے زیادہ ڈیم تعمیر کر کے اپنے دریائی پانی کو محفوظ بنائے تاکہ پاکستان آئندہ برسوں قحط سالی کا شکار نہ ہو اور زراعت سے حاصل ہونے والی بھاری معیشت سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے ۔ذرا سوچئے!

Sunday, 10 September 2017

ہماری خارجہ پالیسی


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔سی ای او ،وائس آف سوسائٹی۔گوجرانوالہ


کسی بھی ملک کے بیرونی و بین الاقوامی معاملات و تعلقات کے لئے خارجہ پالیسی انتہائی اہم و اہمیت کی حامل ہے۔خارجہ پالیسی دراصل اپنے ملکی مفادات کو مد نظر رکھ کر بنائی جاتی ہے۔دنیا میں کامیابی کے حصول کے لئے کسی بھی ملک کو ایک جامع اور مثبت خارجہ پالیسی کی ضرورت ہوتی ہے۔دنیا میں کامیاب سپر پاورز کی کامیابی کے پیچھے انکی بہترین اور مفصل خارجہ پالیسی کا بڑا کردار ہے۔
گزشتہ چند برسوں سے ہماری خارجہ پالیسی زیر بحث ہے،ہمارے تجزیہ کار اور ماہرین خارجہ پالیسی پر نقطۂ چینی کرتے نظر آتے ہیں۔ماہرین کے نزدیک بدلتی صورتحال کے تناظر میں ملک پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں بھی بدلاؤ لانا چاہئے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ملک اپنی ناکام خارجہ پالیسی کی بدولت دنیا میں تنہائی کا شکار ہو جائے۔حکومت کے سیاسی مخالفین کے نزدیک ناکام خارجہ پالیسی کی بدولت حکومت نے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔گزشتہ چار برس وزارت خارجہ اور خارجہ پالیسی کا تعین نہ ہونا حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔قارئین ہمارا ہمسائیہ اور دشمن ملک بھارت جو ہمیں دنیا میں تنہا کرنے کا ناپاک عزم کرچکا ہے،اپنی مفصل و چالاک خارجہ پالیسی کی بدولت وہ ایسا کرنے میں کافی حد تک کامیاب ٹھہرا ہے۔مودی سرکار کی چاک و چوبند خارجہ پالیسی نے پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی کوئی کسر نہ چھوڑی،یہ تو صرف اللہ رب العزت کی عنایت ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی و سیاسی اہمیت کی وجہ سے کوئی بھی ملک ہم سے من و عن منہ نہیں پھیر سکتا۔بڑے افسوس کے ساتھ ہماری ناکام خارجہ پالیسی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے ہم مذہب ہمسائیہ ممالک بھی ہمارے مؤقف کے حامی نہیں۔دوسری طرف چوکنا دشمن بھارت جس کے اندر عرصہ دراز سے آزادی کی بغاوتیں موجود ہیں ،وہی ملک ہمیں تنہائی کا شکار کرنے کی طرف گامزن ہے۔میں مانتا ہوں بھارت ایک بڑی طاقت ہے،اسکی آبادی ہم سے زیادہ ہے ،افواج و اسلحے میں ہم سے زیادہ طاقتور ہے۔مگر اس کے مسائل بھی ہم سے زیادہ ہیں ،اسے اپنی سلامتی برقرار رکھنے کے لئے ہم سے کہیں زیادہ مشکلات درکار ہیں مگر وہ اپنی کاوشوں میں مگن ہے۔الحمد للہ ہمارے اندرونی معاملات کافی حد تک بہتر ہو گئے ہیں اور بہتری کی طرف گامزن ہیں،بلوچستان کے حالات قدرے بہتر اور تسلی بخش ہیں۔مگر بھارت کے صوبہ پنجاب و بنگال سمیت بہت سے صوبوں میں آزادی کی بغاوتیں دن بدن بڑ رہی ہیں۔اتنے کٹھن اندرونی حالات کے باوجود بھارتی وزارت خارجہ و مودی سرکار نے عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف اپنی سفارت کاری پر زور دیا اور دنیا کی بڑی طاقتوں پر پریشر ڈالا کہ وہ پاکستان کو دہشتگردی کا ذمہ دار ٹھہرائیں۔مگر ہماری حکومت ہے کہ چار برس خواب عشق و غفلت میں سوئی رہی اور جب سے نواز شریف نااہل ہوا ہے نااہلی کا رونا ہے کہ ختم ہی نہیں ہو رہا ،کہیں ماتم اور کہیں جشن کا سماں ہے۔ملکی بہتری و عزت کی کوئی پرواہ نہیں۔قارئین یہ ہماری ناکام خارجہ پالیسی ہی ہے کہ امریکہ جو ہمیں کچھ عرصہ پہلے اپنا سب سے بڑا نان نیٹو اتحادی کہتا نہیں تھکتا تھا وہی آج ہمیں محض اس لئے دہشتگردوں کا حامی قرار دے رہا کہ اس کا نیا پیار نیا دوست بھارت خوش ہو سکے۔انتہائی دکھ و افسوس کا عالم تھا کہ گزشتہ دن ہمارے اکلوتے دوست ملک چین نے بھی ہمیں ڈو مور کا مطالبہ کر دیا، اور یقین جانئے یہ صرف ہماری ناکام خارجہ پالیسی کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔بھارتی سفارتکاری کا جادو ہی ہے کہ چین اپنے دوست ملک کے خلاف بولا اپنے دشمن کے کہنے پر، تاہم چینی حکومت کو چینی ماہرین نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔بلاشبہ مودی سرکار نے اپنی توسیع پسند اور چالاک پالیسیوں کی بدولت اپنے مفادات کے قریب پہنچنے کی پوری کوشش کی ہے۔اب دیکھنا یہ ہو گا کہ پاکستانی حکومت و ذمہ داران کب خواب غفلت سے بیدار ہوتے ہیں؟اور کب اپنی عزت و آبرو اور مفادات کو مد نظر رکھ کر اپنی پالیسیاں وضع کرتے ہیں۔گزشتہ روز وزیر خارجہ خواجہ آصف کا دورہ چین بہت خوش آئند اور معنی خیز ہے،جس میں چین نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی اور پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف کاوشوں اور قربانیوں کو سراہا اور دنیا پر بھی ذور ڈالا کہ وہ پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرے اور دہشتگردی کی روک تھام کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔چینی وزیر خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک چین دوستی برقرار رہے گی اور چین اپنے دوست ملک کی ہمیشہ ہمایت کرے گا۔اس اہم میٹینگ سے برکس سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا خاتمہ تو ہوگیا ،مگر پاکستان کو مستقبل میں چاک و چوبند رہنے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ،پاکستان اپنی نئی وضع کردہ خارجہ پالیسی پر کتنا کاربند رہتا ہے؟وزرات خارجہ کی طرف سے چین کے بعد ایران ،ترکی اور روس وغیرہ کے دوروں کا بھی زکر کیا گیا،جوکہ خوش آئند ہے۔اگر ایسا پہلے ہوجاتا تو آج پاکستان کو دنیا کی طرف سے ایسے ریمارکس سننے کو نہ ملتے،خیر دیر آئے درست آئے۔موجودہ صورتحال میں پاکستان کو ایران جو کہ ہمارا ہم مذہب ہمسائیہ بھی ہے اس کو افغانستان کے معاملے پر اپنا حامی بنانا بہت ضروری ہے،جو اس وقت افغان معاملہ میں بھارت کا حامی ہے۔اہم بات پاکستان کو روس سے تعلقات بڑھانے کے ساتھ ساتھ امریکہ سے بھی تعلقات کو فروغ دینا ہوگا۔جیسے بھارت نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو وسعت دی مگر روس سے اپنے تعلقات کو کم نہیں ہونے دیا ،اور پاکستان نے امریکہ سے تو تعلقات کم کرلئے مگر روس کے ساتھ تعلقات کو وسعت نہیں دی۔یہ سب ہماری ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے جسے مستقبل میں مد نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔روس کو ہم پر زیادہ اعتبار نہیں ہمیں اپنا اعتماد بحال کرنا ہوگا ،پاکستان کے لئے بیک وقت روس کو اپنا گرویدہ بنانا اور امریکہ سے بھی تعلقات کو بہتر کرنا مستقبل کا بڑا چیلنج ہوگا۔یہی وہ طریقہ ہے کہ پاکستان سی پیک کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر خطے میں معاشی طاقت بن سکتا ہے۔

Sunday, 27 August 2017

مردم شماری کے نتائج اور وسائل کی منصفانہ تقسیم


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔مکینیکل انجینئر۔سی ای او ،وائس آف سوسائٹی۔گوجرانوالہ

بھلا ہو سپریم کورٹ کا جس نے مردم شماری کروانے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔مبارک ہو حکومت کو بھی جس نے 19برس بعد ملک میں چھٹی مردم شماری کامیابی سے کروائی۔مردم شماری میں شامل تین لاکھ سرکاری اور دو لاکھ فوجی جوان بھی کامیابی کے اس عمل میں مبارکباد کے مستحق ہیں۔جی ہاں! قارئین آخر یہ عمل 19برس بعد پایہ تکمیل کو پہنچ ہی گیا ۔ملک کی چھٹی مردم شماری کے تحت نتائج سامنے آچکے ہیں۔جس کے نتیجہ کے مطابق 1998سے2017تک2.4فیصد سالانہ شرح نمو کے ساتھ موجودہ ملکی آبادی20کروڑ77لاکھ74ہزار520افراد پر مشتمل ہے۔بروز جمعہ ادارہ شماریات نے اعداد و شمار مشترکہ مفاداتی کونسل کو پیش کئے۔اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کی آبادی11کروڑ،سندھ کی 4کروڑ78لاکھ،خیبرپی کے کی3کروڑ5لاکھ،بلوچستان کی1کروڑ23لاکھ،فاٹاپچاس لاکھ، اور اسلام آباد کی بیس لاکھ ہے۔جبکہ اعداد و شمار میں کشمیر و گلگت بلتستان کو شامل نہیں کیا گیا۔19سال میں ملکی آبادی میں57فیصد اضافہ ہوا۔جن میں مرد10کروڑ64لاکھ اور خواتین10کروڑ13لاکھ ہیں۔مردوں کی تعداد خواتین سے51لاکھ زیادہ ہے۔قارئین حکومتی مخالفین اور عوام کے نزدیک پاکستان میں موجودہ آبادی مردم شماری کے نتائج کے برعکس ہے۔یعنی موجودہ ملکی آبادی نتائج سے زیادہ ہے۔اختلافات کئے جا سکتے ہیں،مگر ہمیں یہ بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ ہمارے اندازے غلط بھی ہو سکتے ہیں۔تاہم 19برس بعد ملک میں مردم شماری ہوئی ہے،گزشتہ19برس سے ملک کو اندازوں کی بدولت ہی چلایا گیا۔اب جب مردم شماری کے نتائج سامنے آ ہی چکے ہیں تو ہم سب کو تسلیم کرنا چاہئے اور اس حکومتی کاوش کو سراہنا چاہئے۔صرف مردم شماری کروانا ہی حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے نتائج کے مطابق پالیسیاں ترتیب دینا اور علاقہ و وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی حکومتی ذمہ داری میں شامل ہے۔آبادی کی تعداد تو سامنے آ چکی ہے ،اب بہت سے اہم کام حکومت کے ذمہ ہیں۔جلد ہی باقی معلومات یعنی شرح خواندگی و ناخواندگی، گھروں کی معلومات اور ملازمت پیشہ و بے روزگار وغیرہ بھی سامنے آ جائیں گی۔صوبوں میں آبادی کے لحاظ سے نئے سرے سے حلقہ بندیاں کی جائیں اور طے کیا جائے کہ کس صوبے کا قومی اسمبلی میں کیا تناسب ہونا چاہئے۔خواتین و مخصوص نشستوں کی نئے سرے سے تعداد اور صوبوں میں انکی تعداد وغیرہ۔آبادی کے لحاظ سے ،ضلعوں ،شہروں ، تحصیلوں اور حتی کہ قصبوں و یونین کونسلوں تک نئی حلقہ و حدود بندیوں کے بعد سب سے اہم و ضروری کام ہے وسائل کی منصفانہ تقسیم، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب حلقہ و حدود بندیاں اعداد و شمار کے مطابق کی جائیں۔وسائل کی تقسیم پاکستان میں شروع سے ہی بڑا ایشو رہا ہے مختلف چھوٹے صوبوں و علاقوں کا کہنا ہے کہ انہیں انکے حصہ و تناسب کے لحاظ سے وسائل نہیں دیے جاتے۔حکومتی نمائندے بھی صرف اپنے حلقہ جات تک ہی وسائل کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں،مخالفین کے حلقوں کو شروع سے ہی نظر انداز کرنے کی روایت ہے۔امید کرتے ہیں ایسی روایات کو ترک کیا جائے گا اور آبادی کے لحاظ سے وسائل کی تقسیم کی جائے گی نہ کی پسند یدگی کی بنا پر۔حکومتی مخالفین کو بھی اپنے مفادات کی خاطر بے بنیاد الزامات اور صوبوں میں محرومیت پیدا کرنے کی روایت کو ترک کرنا چاہئے، اور حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہئے کہ جلد از جلد نئی حلقہ بندیوں اور و سائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔کسی بھی ملک کی ترقی و بقاء ،بھاگ دوڑ ، انصاف و مساوات میں مردم شماری بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔افسوس کہ پاکستان میں گزشتہ کئی برس حکومتی اندازوں و من مانیوں نے انصاف کی دھجیاں بکھیر دیں اور جانے و انجانے میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے کرپشن کو پروان چڑھایا۔ترقی یافتہ ملکوں کی لسٹ دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ایسے ممالک ہر پانچ یا دس سال بعد مردم شماری کرواتے ہیں تاکہ انہیں انکی اصل آبادی و مسائل کی تشخیص ہوتی رہے۔پاکستانی آئین کے مطابق بھی ہر دس سال بعد مردم شماری کروانا لازمی ہے،بلکہ مقررہ وقت پر موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔افسوس کے اقتدار کے لالچ میں چور ہماری حکومتیں نانصافی کی مرتکب ٹھہریں۔ملکی اعداد و شمار سے متعدد محکموں کا تعین و بہتری کی جاسکتی ہے۔جس میں صحت، لاء اینڈ آرڈر،اکنامک گروتھ،نقل و حمل،اناج اور، تعلیم وغیرہ۔شہروں و دیہاتوں کی تعمیر و ترقی بھی ان کی آبادی کے حساب سے ہی ممکن ہے۔پاکستان تو ایسا ملک ہے جہاں قدرتی و غذائی وسائل کی بھرمار ہے۔چند ایسے ترقی یافتہ ملک بھی ہیں جن کے ہاں قدرتی وسائل کی کمی ہے۔مگر انہوں نے بروقت مردم شماری کی بدولت اپنے اعداد و شمار سے اپنی خامیوں و ضرورتوں کی تشخیص کی اور پھر وسائل کی منصفانہ تقسیم نے ان کو ترقی یاقتہ ممالک کی فہرست میں شامل کروا دیا۔محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے،مگر اکثریت بے روزگار ہے۔میرے نزدیک اس کی بڑی وجہ اندازوں کے مطابق وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔تقریبا ہر سال پندرہ ہزار سے زائد نوجوان ملازمت سے محروم رہتے ہیں۔یہی وجہ ہے بے روزگاری کے ستائے نوجوان معاشرے میں بگاڑ کا باعث بن رہے ہیں۔ہمارے ملک میں غیر منصفانہ تقسیم و کرپشن نے ملکی کاروبار و روزگار کا توازن درہم برہم کر دیا ہے۔وقت آگیا ہے کہ حکومتیں و پالیسی میکرز نئے اعدادو شمار کے ساتھ ہی اپنی پرانی غلطیوں و کوتاہیوں کا ازالہ کرلیں۔حکومتوں و پالیسی میکرز کو اپنی پالیسیاں ملکی مسائل و اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر بنانا ہوں گی، اور ایسی پالیسیاں ترتیب دینی چاہئے کہ ملک سے ہر قسم کی بد عنوانی و غربت کا خاتمہ ہو جائے معاشرے میں توازن قائم ہو امیر امیر تر غریب غریب تر والا نظریہ بدل جائے، اور ہر پاکستانی اپنے پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کرے۔

Sunday, 20 August 2017

محمود اچکزئی کا بیان اور شک و شبہات


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔مکینیکل انجینئر۔سی ای او ،وائس آف سوسائٹی۔گوجرانوالہ


پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے گزشتہ روز بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں دشمنی کی اصل وجہ کشمیر ہے اور دونوں ملکوں کو کشمیر آزاد کر دینا چاہئے۔پوچھا گیا کہ بھارت اپنے زیر اثر کشمیر کا حصہ آزاد کرنے کے لئے رضا مند ہو جائے گا؟تو اچکزئی نے جواب دیا کہ بھارت بے شک رضا مند نہ ہو مگر ہمیں کشمیر آزاد کر دینا چاہئے،ہم تو بچ جائیں گے۔ان کے بقول اگر دنیا کو باور کرانا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہتا ہے تو پاکستان کو کشمیر کو آزاد کرنے میں پہل کرنا ہوگی۔مزید کہا کہ پاکستان کو بھارت ،افغانستان ، اور ایران کے ساتھ امن قائم کرنا چاہئے،تب ہی سی پیک مکمل ہوگا۔بقول اچکزئی پاکستان اگر اخلاص یعنی صدق دل سے کام کرے تو افغانستان کے ساٹھ فیصد مسائل حل ہو جائیں گے۔محمود اچکزئی نے مزید کہا کہ خفیہ ایجنسیاں انتخابات میں مداخلت بند کریں۔بڑے دکھ و افسوس کے ساتھ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی کثیر تعداد موجود ہے جو پاکستان کا کھاتے ہیں ،پاکستان سے کماتے ہیں ،مگر ان کے دل دشمنوں کے لئے دھڑکتے ہیں۔کہیں نہ کہیں ان کے دلوں میں ملک کے لئے غلط اور دشمنوں کے لئے اچھا تاثر موجود ہے۔یہ روپے کی لالچ یا ذہنی فطور و غداری میں سے ایک وجہ ہو سکتا ہے۔ایسے غداروں کی تعداد میں اضافے کا سبب ہماری لاپرواہ اور مفاد پرست حکومتیں اور بکاؤ میڈیا ہے، اور یہ غداری کا گوشہ کوئی یک دم نہیں آیا بلکہ افسوس کے ساتھ اسے ہمارے اپنے ملک میں عرصہ دراز سے پروان چڑھایا جا رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بظاہر ذہنی آزاد لوگ بھی ایسے لوگوں ایسے نظریات کی لپیٹ میں آ رہے ہیں جسے ہماری حکومت و میڈیا نے بھی جانے انجانے تھپکی دے رکھی ہے۔ان نظریات کو پھیلانے کے لئے دشمن ہر سال بھاری مالیت میں فنڈز جاری کرتے ہیں۔اچکزئی کے بیان کی بات کی جائے تو بظاہر اچکزئی پاکستان کو امن کا درس پڑھا رہے ہیں،جیسے معلم شاگرد کو درس دے۔مگر درحقیقت وہ ملکی وقار و سلامتی پر حملے کر کے اسے تار تار کرنے کی کوششیں کر رہے تھے۔اللہ بہتر جانے اچکزئی کے مقاصد کیا ہیں؟مگر بتاتا چلوں کہ موصوف پہلے بھی بے دھڑک ملکی سلامتی کو پس پردہ ڈال کر زبان درازی کرتے رہے۔خیبر پختونخوا کے کچھ علاقہ جات کو افغان سے منسلک علاقے قرار دینا بھی انہی کی زبان سے سرزد ہوا۔تب بھی مذمتی کالم لکھا تھا،اور اب بھی کہتا ہوں کہ اچکزئی کے گزشتہ روز کے بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔اس کی تحقیقات ہونی چاہئے آخر اس شخص کی زبان ہی کیوں لڑ کھڑاتی ہے ۔؟سوچنے کی بات ہے کیوں کوئی اچکزئی ، کوئی الطاف، اور کوئی دوسرے پاکستان کے خلاف زہر افشانی کرتے ہیں،اور ان کے خلاف ایکشن بھی نہیں لیا جاتا۔بڑی وجہ بے بس مفاد پرست اور لاپرواہ حکومتیں اور سیاسی جماعتیں ہیں۔ایجنسیوں کا سیاست میں ضرورت سے زیادہ مداخلت کرنا بھی اس کمزوری کی وجہ ہے۔کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس خود مختار حکومت نہیں ہوتی ایسے میں انہیں اپنے ساتھ ملک دشمن لوگوں کو بھی شامل کرنا پڑتا ہے اور وہ بھی بغیر کسی فکر کے اپنے مفادات کے برعکس ملکی سلامتی کے خلاف سازش کرنے والوں کے حمایتی بن جاتے ہیں۔اچکزئی بھی موجودہ حکومت مسلم لیگ ن کا اتحادی ہے اور موصوف کا بھائی گورنر بلوچستان بھی ہے۔یعنی حکومتی بے حسی کی انتہا دیکھئے کہ ملک کے خلاف زہر افشانی کرنے والے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔کیا یہ سراسر غداری نہیں؟غدار کا حمایتی کیا ہوا؟ کیاغداروں کے خلاف ایکشن ضروری نہیں؟اچکزئی کے گزشتہ بیان کا ذرا جائزہ لیں،کہتے ہیں کہ پاکستان کو اپنے ریر اثر کشمیر کو آزاد کر دینا چاہئے۔بہت خوب جناب اچکزئی! تا کہ بھارت اس علاقہ پر بھی قبضہ کر کے مسلمان کشمیریوں کو درند گی و ظلم کا نشانہ بنا سکے۔موصوف یہ بھی جان لینا چاہئے کہ مسئلہ کشمیر کے دو نہیں تین فریق ہیں ۔چائنہ کے قریبی کشمیر کے کچھ قصبے چائنہ کے زیر اثر ہیں۔شاید اچکزئی نے نقشہ نہیں دیکھا، کہ آزاد کشمیر آزاد ہو کر اپنی آزادی و خود مختاری کو قائم رکھ سکے گا۔نہیں۔اگر پاکستان آزاد کر دے تو آزاد کشمیر مشکلات کی گرفت میں جکڑ جائے گا۔چائنہ اور انڈیا مداخلت شروع ہو جائے گی اور دونوں ہی غیر مسلم ریاستیں ہیں۔پاکستان ہی تو درحقیقت وطن ہے بلکہ آس و امید ہے کشمیر کی کشمیر میں موجود مسلمانوں کی۔عرصہ دراز سے کشمیری بھارت کے ظلم و ستم کو برداشت کر رہے ہیں قربانیاں دے رہے ہیں صرف اس لئے کہ پاکستان ہی ان کا وطن ہے اور پاکستان ہی وہ وطن ہے جس میں ان کے آزاد مسلمان بہن بھائی آباد ہیں۔یہ کہنا درست ہے کہ اچکزئی کہ اس بیان نے کشمیریوں کے ستر سالہ جذبے کو ٹھیس پہنچائی ہے۔اچکزئی کے اس بیان نے پاکستان میں موجود لوگوں کے دلوں میں شک و شبہات کو مزید ہوا دی ہے۔طرح طرح کے سوالات گردش کرنے لگے ہیں۔کیا اچکزئی پاکستان کے وقار کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے؟ کیا اچکزئی ملک دشمنی میں ملوث ہے؟کیا اچکزئی افغانستان کی بھارت نواز زبان استعمال کر رہا ہے؟۔کیا بھارت پاکستان کے خلاف ایسے بیانات کو استعمال کر سکتا ہے۔؟حکومت کی ایسے بیانات پر خاموشی بے حسی کی علامت ہے یا مفاد پرستی کی؟اچکزئی نے کشمیریوں و پاکستانیوں کے دلوں کو ٹھیس پہنچائی ہے اسے فوری سب سے معافی مانگنی چاہئے۔اگر ایسا نہیں تو پاکستان چھوڑ کر بھارت نواز افغانستان منتقل ہو جانا چاہئے۔دو ہی پہلو نکلتے ہیں کہ یا تو اچکزئی نفسیاتی بیماری کا شکار ہے یا پھر بھارتی کارندہ ہے دونوں صورت میں مینٹل ہسپتال ہی اس کا اصل مقام ہے۔مسلم لیگ ن جس کے دور میں ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا گیا اسی حکومت کا اتحادی اچکزئی ایسے بیانات میں ملوث رہا اور حکومت خاموش رہی۔یہ مسلم لیگ ن کی سیاسی صورتحال پر اثر انداز ہوگا۔ اگر مسلم لیگ ن نے بروقت کوئی ایکشن نہ لیا تو آئندہ الیکشنز میں اسکا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔موجودہ حکومت سے اچکزئی کے بیان پر بس یہی مطالبہ ہے۔
سلطان جی کچھ تو یہاں کیجئے
غداروں کو بھی کوئی سزا دیچئے

Sunday, 30 July 2017

عدالتی فیصلہ،ردعمل اور سوالات


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔مکینیکل انجینئر۔سی ای او ،وائس آف سوسائٹی۔گوجرانوالہ

جیسا کہ آپ جانتے ہیں گزشتہ روز جمعہ کو پانامہ لیکس کے کیس پر عدالتی فیصلہ سامنے آیا ۔بلاشبہ یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے اس فیصلہ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو تا حیات نا اہل قرار دے دیا گیا۔مخالفین نے مٹھائیاں بانٹیں، ڈھول بجائے، اور بھنگڑے ڈال کر خوشی کا اظہار کیا۔بعض نے نوافل ادا کئے۔بالخصوص پی ٹی آئی کے کارکن زیادہ پرجوش نظر آئے۔فیصلے سے لے کر اب تک خوشیوں کا سلسلہ جاری ہے۔عدالت عظمی کا یہ فیصلہ جہاں مخالفین کے لئے خوشیوں کا باعث بنا وہیں حامیوں کی لئے مایوسی کی وجہ بنا۔واضح کرتا چلوں عدالت نے نواز شریف کی نا اہلی کے ساتھ ساتھ نواز شریف ،اسحق ڈار ،مریم نواز، حسین نواز اور حسن نواز کے کیسز نیب کو ریفر کردیئے۔عدالت عظمی پاکستان کی سب سے بڑی عدالت ہے اور پاکستانی عوام اللہ کی عدالت کے بعد اس عدالت کو تسلیم کرتی ہے اسی بنا پر عدالتی فیصلے کو نا ماننے کا کوئی جواز نہیں بنتا ہم من و عن عدالتی فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں۔میڈیا کانفرنسز میں مسلم لیگ نواز کی طرف سے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا،تاہم مسلم لیگ ن سمیت نواز شریف کو بھی یہ فیصلہ تسلیم کرنا پڑا۔اسی طرح عوام کا بھی ردعمل بھی مختلف رہا۔کسی نے تحفظات کا اظہار کیا ،کسی نے تاریخی فیصلہ قرار دیا۔غور طلب بات یہ ہے کہ ماہر قانون و قانون دانوں کا رد عمل بھی ایک جیسا نہیں اکثر قانون دانوں نے فیصلے پر سوالات اٹھائے اور تحفظات کا اظہار کیا۔بعض قانون دانوں نے تکنیکی بنیادوں پر تنقید کی بعض نے تائید کی اور تاریخی فیصلہ قرار دیا۔سوشل میڈیا کی بات کی جائے تو جہالت کو غلبہ حاصل رہا کافی گرما گرمی نظر آئی۔جاہل لوگوں نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے خوب گالم گلوچ سے کام لیا،انتہا پسندی سر فہرست رہی جو کہ ہماری حقیقی روایت اور ساکھ کے منافی ہے۔سوشل میڈیا صارفین سے گزارش ہے تحمل سے کام لیا کریں گالم گلوچ سے خود کو اور اپنی برائی کو عیاں نہ کیا کریں۔گزشتہ روز مسلم لیگ ن کا پارلیمانی اجلاس ہوا۔جس کے اختتام پر نواز شریف نے شہباز شریف کو بقیہ مدت کے لئے اور خاقان عباسی کو انٹرم ٹائم کے لئے وزیر اعظم نامزد کیا جس پر پوری پارٹی نے اتفاق رائے کا اظہار کیا۔تاہم مخالفین و ماہرین کی طرف سے تنقید سامنے آئی ماہرین کا کہنا ہے کہ نااہل شخص کی طرف سے وزیراعظم نامزد کیا جانا مذحقہ خیز ہے۔یہ تھی مختصر سٹوری ،اب اصل بات کی طرف آتے ہیں۔قارئین عدالت عظمی نے نواز شریف کو پانامہ کے معاملات پر نہیں بلکہ اثاثے چھپانے یعنی اقامہ کے معاملات پر نااہل کیا۔یعنی آئین کے آرٹیکل 62 ایف ون کے تحت نااہل قرار دیا۔سوال یہ ہے کہ مدعی کی طرف سے کیس کرپشن کا دائر کیا گیا یا نااہلی کا؟اس پر مختلف قانون دان بھی تحفظات کا شکار ہیں،جو عدلیہ کی ساکھ کے لئے ٹھیک نہیں۔آزاد عدلیہ بہت بڑی نعمت ہوتی ہے، اور آزاد عدلیہ سے انصاف پر مبنی فیصلے کی توقع کرنی چاہئے البتہ اگر بدقسمتی سے فیصلہ اس کے برعکس نظر آئے تو اس سے آزاد عدلیہ کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔آخر عدالت نے کرپشن پر نااہل کیوں نہیں کیا؟ کیا کرپشن ثابت نہیں ہوئی؟ان کے جوابات عدالت ہی دے سکتی ہے جو فیصلے کے بعد سے زیر گردش ہیں۔بڑی بات! جسٹس کھوسہ کا ایک عدالتی ریمارک سامنے آیا تھا جسے بعد میں حذف کر دیا گیا ۔’اگر 62,63 کا اطلاق کیا جائے تو سراج الحق کے علاوہ کوئی پارلیمنٹ میں صادق و امین نہیں بچے گا‘۔ البتہ نواز شریف 62آرٹیکل کے تحت ناہل ہوا۔کیا 62,63کی آڑ میں باقی اسمبلی ممبران کو تاحیات نااہل قرار دیا جائے گا؟اگر نہیں تو کیوں؟ بالخصوص یہ سوال جسٹس کھوسہ کے لئے۔ماہرین کے مطابق بھٹو کے فیصلے کی طرح یہ فیصلہ بھی سوالات کا شکار ہے اور کبھی بھی اس فیصلے کو تاریخ میں نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جائے گا۔کیوں کہ کوئی بھی پارٹی نہیں چاہے گی کہ 62,63کے تحت انکے رہنما تاحیات نااہل قرار پائیں۔کیا عمران خان،آصف زرداری،پرویز مشرف،شیخ رشید،خورشید شاہ،جہانگیر ترین اور علیم خان وغیرہ اسے نظیر کے طور پر پیش کریں گے ؟کیا اسکا اطلاق اپنے اوپر چاہیں گے ؟ہر گز نہیں،کیوں کہ یہ خود بھی اس کی زد میں آکر نااہل ہو جائیں گے۔اسی لئے ماہرین کا کہنا ہے کہ خوشیاں منانے سے پہلے فیصلے کو نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل شروع ہو چکا ہے (کاش ایسا ہو جائے)اور اب پاکستان کرپشن سے پاک ہوجائے گایہ ان کی خواہش ضرور ہے حقیقت میں تو ابھی بہت سے کام ہونا باقی ہیں۔نواز شریف کے بہت سے کیسز ماضی میں زیر التواء تھے جس طرح اب مشرف کا بغاوت کا مقدمہ زیر التواء ہے۔ماضی میں بھی ایسے کئی زیر التواء کیسز عدلیہ کے کردار پر سوال اٹھاتے رہے اور اب بھی بھی ایسا ہی ہے۔بلا امتیاز اور حقیقی احتساب نہ جانے کب شروع ہوگا؟کب تک ٹارگٹڈ احتساب جاری رہے گا؟آخر کرپشن کو جڑ سے کیوں نہیں اکھاڑا جاتا؟بلاتفریق سب کا احتساب کیوں نہیں کیا جاتا؟آخرکیوں؟کیا کچھ طاقتیں ہمارے اوپر حاوی ہیں؟کیا مفادات کے لئے کچھ کا احتساب اور کچھ کو بری ذمہ کردیا جاتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیوں ہے کیسے ہے وجوہات کیا ہیں؟کیوں کوئی منتخب وزیراعظم اپنی مدت نہیں کر پاتا؟ اگر کرپشن اس کی وجہ ہے تو ہم کیسے لوگ ہیں کہ ہم سے کرپٹ لیڈر ہی منتخب ہوتا ہے؟غلطی عوام کی ہے یا سازشی قوتیں طاقتور اور با اثر ہیں؟آخر اسٹیبلشمنٹ کہتے کسے ہیں؟ اس کا کیا کردار ہے؟ایسے بہت سے سوالات ہیں جن کے کوئی جوابات نہیں،عوام چاہتے ہوئے بھی ان کے جوابات حاصل نہی کر پاتی کیوں افراتفری کے اس کھیل میں عوامی توجہ و خیالات کو فوری ٹریپ کیا جاتا ہے۔اب وقت بدل رہا ہے سازشی بھی وقت کی رفتار سے چلنا سیکھ رہے ہیں اور ہم عوام ہیں کہ سیاست و اندرونی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں ۔ہمیں بھی بدلنا ہوگا اپنی ساکھ کو قائم رکھنے کے لئے بدلنا ہوگا۔ہم کیسے بے وقوف ہیں کہ صرف ایک دو شخص کے احتساب پر ہی اکتفا کر لیتے ہیں اور باقی کرپٹ عناصر کو سلگتا ہوا چھوڑ دیتے ہیں اور پھر وہی سلگتی چنگاری ہمیں بار بار اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔آئیے ایک عہد کریں کے سب کرپٹ و بد اخلاق لوگوں کا احتساب کریں ،آواز اٹھائیں ایسی نہ ختم ہونے والے آواز جو پارلیمنٹ کے ایوانوں سے ہوتی ہوئی فوج کے ہیڈکوارٹرز سے گزر کر سیدھا انصاف کے کٹہروں میں جا گونجے۔واضح کرتا چلوں کہ کسی ادارے و پارٹی میں اچھے و برے لوگ دونوں ہوتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ چند برے لوگ ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے در پے ہیں ہمیں انکا استحصال کرنا ہوگا۔ہمیں ایک آواز ہونا ہوگا۔کیا سب کے احتساب کا مطالبہ درست نہیں؟ اگر ہے تو چلو یکجا ہوجاؤ اور آواز و صدا بلند کرو ہر فورم پر، کہ ہمیں سب کا احتساب چاہئے۔میڈیا جس پر بہت سے الزامات ہیں ،اس کے پاس بھی موقع ہے کہ احتساب کے اس موسم میں’سب کے احتساب‘ کا مطالبہ اٹھا کر ملک و قوم کے وفادار ثابت ہو جائیں۔