Sunday, 8 April 2018

پی ٹی آئی کا سفر اور نوجوان کارکن


چوہدری ذوالقرنین ہندل:لکھاری گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں، مکینیکل انجینیئر اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف1996میں ایک معروف سابق قومی کرکٹر عمران خان کی کی سربراہی میں سیاسی جماعت کی صورت میں سامنے آئی۔ابتدائی مراحل میں کافی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن عمران خان نے اپنے ارادے و حوصلے پست نہیں کئے وہ ڈٹا رہا۔عمران نے 1997کے جنرل الیکشنز میں سات نشستوں پر انتخابات لڑے کسی بھی حلقے سے بھاری ووٹ حاصل نہیں کرسکے۔پھر 2002کے انتخابات میں میانوالی سے قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے۔پی ٹی آئی نے 2008کے الیکشنز کا بائیکاٹ کیا۔پارٹی 2011میں نئے عزم کے ساتھ عوام کی توجہ کا مرکز بنی۔ طلباء اورنوجوانوں میں کافی مقبول ہوئی۔الیکشنز 2013سے قبل پی ٹی آئی ایک مقبول ترین جماعت بن گئی۔عام انتخابات کے بعد قومی اسمبلی میں تیسری اور بنیادی تور پر دوسری بڑی جماعت بن گئی۔تحریک انصاف نے اس سارے عرصے میں خوب کمپین چلائی۔تحریک انصاف کے کارکن ،پڑھے لکھے باشعورنوجوان اور باہمت مڈل و غریب طبقہ نے تحریک انصاف کو حقیقی معنوں میں بام عروج تک پہنچایا۔ملک کے کونے کونے میں لوگوں میں شعور اجاگر کیا۔سب سے بڑی بات تحریک انصاف نے اپنے پلیٹ فارم سے انتخابات میں عام کارکنوں، نوجوانوں اور غریب لوگوں کو برابری کے درجے کے تحت میدان میں اتارنے کا اعلان کیا۔جسے دیکھ کر کارکنوں نوجوانوں کا جذبہ بڑھا اور ملک کے گلی کوچے میں تحریک انصاف کے تبدیلی کے پیغام کو پہنچایا۔کارکنوں نے بے انتہا محنت کی اور حقیقی معنوں میں تحریک انصاف کو ایک نئی روح و پہچان بخشی۔وقت گزرا 2013کے عام انتخابات آئے پی ٹی آئی کی لیڈرشپ نے دوسری پارٹیوں کے مضبوط امیدواروں کو ساتھ ملانے کی کوشش کی ۔اپنے اس مقصد میں کچھ حد تک کامیاب بھی ٹھہرے۔پارٹی ٹکٹوں کا وقت آیا تو مضبوط اور طاقتور امیدواروں کو ٹکٹ دیئے گئے۔کارکنوں کو نظر انداز کیا گیا۔جن حلقوں میں کوئی مضبوط امیدوار نہ ملا وہاں کارکنوں کو ٹکٹ بھی ملے۔ ان سارے حالات میں کارکنوں نے صبر سے کام لیا۔پارٹی قیادت کی طرف سے تسلیم کیا گیا کے ٹکٹ میرٹ پر تقسیم نہیں ہوئے۔یقین دہانی کروائی گئی کہ آئندہ باشعور اور قابل لوگوں کو ٹکٹ دیں گے۔اب جب کہ 2018کے الیکشنز کا وقت ہے تو خان صاحب پھر یوٹرن مارنے کو تیار ہیں۔خان صاحب کارکنوں نے بڑا صبر کرلیا کچھ ایسے یو ٹرنز پر
جیسے۔1۔شیخ رشید کواپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں۔شیخ رشید کی اور ہماری سوچ ایک ہی ہے۔2۔پرویز الہی پنجاب کا بڑا ڈاکو ہے۔پرویز الہی اور ہم مل کر کرپشن کے لئے لڑیں گے۔3۔آف شور کمپنی رکھنے والے چور ہیں۔میں نے کمپنی ٹیکس بچانے کے لئے بنائی۔ اور مزید بہت سے یوٹرنز جیسے پارٹی میں صاف شفاف انتخابات سے جعلی انتخابات ،کے پی کے میں احتساب سے ناانصافی تک ۔ہر محاذ پر آپ کو کارکنوں نے نہ صرف برداشت کیا بلکہ اپنی پوری کوشش و توانائی سے آپ کادفاع بھی کیا۔خان صاحب جان لیجئے کہ ایک لیڈر اور سیاستدان کے لئے اس کے ورکرز ہی ہمیشہ میدان بناتے ہیں۔اسے بام عروج تک پہنچاتے ہیں۔اس کے لئے لڑتے جگھڑتے ہیں۔اپنی خوشیاں اس کی خوشیوں پر نچھاور کر تے ہیں۔سیاستدان اگر فہم و فرواست والا ہو تو ورکروں کی عزت کرتا ہے انہیں ان کی قربانیوں کا صلہ دینے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ان کی قربانیوں کا ہمیشہ معترف رہتا ہے اور انہیں ہمیشہ سراہتا ہے۔ہر محاظ پر ان کو اعتماد میں لیتا ہے ان سے مشورہ کرتا ہے۔اگر کوئی لیڈر اپنے کارکنوں کی قدر نہ کرے تو یہ کارکنوں کا نقصان نہیں بلکہ لیڈر کی کم عقلی ہے۔یاد رکھئے کہ ورکر عزت و قدر کا بھوکا ہوتا ہے۔اگر انہیں عزت و احترام نہ دیا جائے تو وہ اپنا لیڈر بدلنے کا پورا حق رکھتے ہیں اور ایسا کر گزرتے ہیں۔جو آپ کو شہرت کی بلندیوں پر لے جا سکتا ہے وہ واقعی آپ کو اس شہرت کی بلندی سے گرانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
خان صاحب آپ کو یاد ہو کہ نہ یاد ہو،آپ کی جماعت یوتھ یعنی نوجوانوں کی نمائندہ جماعت تھی۔آپ نے بھی قائد کی طرح نوجوانوں کو پاکستان کے لئے متوجہ کیا۔مگر افسوس کے آپ نوجوان کار کنوں کو نہ تو عزت دے سکے نہ ہی ان کی نمائندگی کرسکے۔پی ٹی وی سنٹر حملہ ہی دیکھ لیجئے آپ کے کارکن کیسے کیسز میں ذلیل ہوتے رہے مگر آپ نے نہ تو انہیں اپنایا نہ ہی ان کی کوئی مدد کی۔انسان اگر شہرت کی بلندیوں پر پہنچنا چاہتا ہے تو اس میں ہمت حوصلہ اور صبر بھی ہونا چاہئے۔خان صاحب موجودہ الیکشنز نزدیک ہیں اور آپ بھی پارٹی میں پرانے بے وفا اور آزمائے ہوئے سیاستدانوں کو بھرتی کر رہے ہیں۔کہاں گئی ؟خان صاحب وہ نوجوانوں کی نمائندگی !وہ جنونی کارکن !وہ تبدیلی !کہاں گئے باشعور لوگ ،وہ طلباء ، اوروہ باہمت غریب؟۔آخر کہاں گئے؟یوٹرن کہیں انہیں بھی ساتھ بہا کر تو نہی لے گیا؟کیا پاکستان تحریک انصاف کا مقدر بھی وہی خاندانی جاگیردار مفاد پرست سیاستدان ہی ہیں جو بھرسوں سے کبھی اس پارٹی تو کبھی اس پارٹی حکومت کے مزے لے رہے ہیں؟بے وفا آزمائے ہوئے اور کرپٹ لوگوں کا ہی ٹولہ بنانا تھا تو پھر کیوں تبدیلی کے دعوے کئے؟کہاں گئی وہ’ نیا پاکستان‘ کی تحریک؟آخر میں !آ پ بھی کرسی کی خاطر جوڑ توڑ کرنے والے ہی نکلے۔تبدیلی تو چھٹیوں پر چلی گئی۔خان صاحب یاد رکھئے گا یہ بے وفا اپنی پارٹی اور لیڈروں کے قصیدے پڑھا کرتے تھے آج انہیں دھوکا دیا کل آپ کو بھی دیں گے۔ان کے لئے حکومت اور اس کے ثمرات افضل ہیں کوئی پارٹی کوئی لیڈر افضل نہیں۔خان صاحب بہادر کارکن اور نوجوان پوچھنا چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو کرپٹ اور لٹیروں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟آپ کے پاس ایسا کونسا کلینر ہے جس میں سے گزر کر ہر کرپٹ کرپشن سے پاک ،ہر چور شریف اور ہر بد تمیزتمیز دار ہو جاتا ہے؟خان صاحب جواب دیجئے گا کہ آپ نے کیوں جہانگیر ترین اور علیم خان جیسے بزنس ٹائیکونوں کے برعکس فوزیہ قصوری، ناز بلوچ اور جسٹس وجیہہ الدین جیسے رہنماؤں کو گنوایا؟تحریک انصاف کا حقیقی نظریہ کیا ہے اور آج پارٹی اپنا نظریہ کیوں بھلا بیٹھی ہے؟کیوں غلط سمت پر گامزن ہیں؟
خان صاحب یہ جو آپ نے اپنے ارد گرد موجود کرپٹ نیب سے شہرت یافتہ لوگوں کے کہنے پر ایم این اے کی درخواست کے لئے ایک لاکھ اور ایم پی اے کی درخواست کے لئے پچاس ہزار کی فیس رکھی ہے۔یہ ان امیر اور دوسری پارٹیوں سے آئے ہوئے مفاد پرست امیروں کے لئے تو موزوں ہے۔ مگر یہ ایک عام شہری اور ورکر ایک نوجوان سیاسی سپاہی اور جیالے کے لئے بہت زیادہ ہے۔یہ غریب کارکنوں امیدواروں اور نوجوانوں کے منہ پر تو آپ کے گرد جمع امراء کا ایک طمانچہ ہے۔آخر یہ ساری سکیم اس لئے تیار کی گئی کہ کوئی ورکر اور غریب ٹکٹ کے لئے اپلائی ہی نہ کر سکے۔آپ ان آزمائے ہوئے کارتوسوں کو ضرور ٹکٹیں دیجئے اور واضح کر دیجئے کہ آپ سیاسی بازار میں زرداری ،نواز اور مولانا حضرات کے بھائی ہی ہیں۔کیا فرق آپ میں اور ان میں ؟وہ بھی کرسی کے لئے ہر طرح کی بدعنوانیاں کرنے والے امراء کو ساتھ ملاتے ہیں آپ بھی ویسا ہی کر رہے ہیں۔ وہ بھی جنونی و جذباتی ورکرز کا استعمال کرتے ہیں آپ بھی ویسا ہی کر رہے ہیں۔خان صاحب آپ ان ساری اسکیموں سے 2018کے الیکشنز تو جیت جائیں گے ،مگر عوام کے دل نہیں جیت پائیں گے۔کارکنوں و نوجوانوں کا حوصلہ ہمت سب ختم ہو جائے گا۔دوران حکومت آپ کو کوئی ڈیفینڈ کرنے والا نہیں ہوگا۔حکومت لعن تعن کا شکار رہے گی۔کارکنوں نے ساتھ چھوڑنا شروع کیا تو آپ کی حالت بھی نواز شریف جیسی ہوگی طرح طرح کے تعنے کسے جائیں گے۔ایسے حالات میں مفاد پرست ٹولہ آپ کا ساتھ دینے کی بجائے آپ کو ہی پارٹی اور حکومت سے الگ کرنے کی اسکیمیں بنائے گا۔یاد رکھئے یہ کرپٹ کبھی کرپشن سے باز نہیں آئیں گے اور نہ ہی آپ سے کنٹرول ہوں گے۔خان صاحب اب آپ کی مرضی ہے کہ عوام کا ساتھ حاصل کر کے نیا پاکستان تشکیل دینا ہے یا پھر مفاد پرست ٹولے کو ملا کر ملک کو مزید کھوکھلا کرنے میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔

Sunday, 1 April 2018

ہماری سلامتی کو لاحق اندرونی خطرات


چوہدری ذوالقرنین ہندل:لکھاری گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں،مکینیکل انجینیئر اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔
آج پاکستان مختلف (سیکیورٹی تھریٹس) خطرات کی وجہ سے متعدد محاظ پر الجھا ہوا ہے۔ایسا تصور کیا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک کی سیاست کا ماحول اس کے جغرافیائی مقام کی اہمیت پر منحصر ہے۔ کسی بھی ملک کے لئے اس کے زمینی حقائق اور اثرات سے بچنا ناممکن ہوتا ہے۔اہم یہ ہے کہ کوئی ملک کیسے اپنے اوپر اثر انداز ہونے والے عوامل و دباؤ کو ہینڈل کرتا ہے۔کسی بھی ملک کی پالیسیاں بھی اس کی زمینی اہمیت پر منحصر ہوتی ہیں۔جغرافیائی لحاظ سے جنوبی ایشیاء کو بحر ہند کا ذیلی خطہ کہا جا سکتا ہے ۔پہاڑی دیواروں کی بنیاد جو کہ کرتھر بلوچستان کی حد سے خیبر پاس تک وسیع ہے۔ہمالیہ کے پہلوؤں کے ساتھ ساتھ مشرق کی جانب پھر یہ تیزی سے جنوب کی طرف آرکانا یامہ کی طرف شمال مغرب سے شمالی مشرقی دیواروں تک۔ جبکہ خلیج بنگال شمال کی طرف ،مرکزی بحر ہند جنوب میں اور بحیرہ عرب مغرب کی طرف جنوبی ایشیاء کے ثقافتی زون کی حد کو مکمل کرتا ہے۔پاکستان اس خطے میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔پاکستان ایسی جکہ پر واقع ہے جہاں تین اہم علاقے آپس میں ملتے ہیں۔جیسے جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور جنوبی مشرقی ایشیاء جسے’ فلکرم آف ایشیاء‘ بھی کہتے ہیں۔ اس زمینی مقام کی بنا پر دنیا بالخصوص ایشیاء کی طاقتیں پاکستان پر اپنی نظریں مرکوز کئے ہوئے ہیں۔پاکستان نا چاہتے ہوئے بھی ایسی لڑائیاں لڑنے پر مجبور ہے جو دنیا کی سیاست کی بدولت پاکستان کے حصے میں آرہی ہیں۔پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں بھی اسی جغرافیائی لوکیشن کی بدولت ہیں۔پاکستان ایک ایسا رفاقتی معاشرہ ہے ،جہاں بہت سے مذہبی گروپ فقط چھوٹی چھوٹی باتوں پر شدت کی انتہا تک بھٹے ہوئے ہیں۔پاکستان میں مذہب، ذات، زبان، عقیدے اور حالات کی بنا پر ایسے بہت سے تنازعات نے جڑیں مضبوط کر رکھیں ہیں جو ہماری اندرونی سلامتی کے لئے خطرات کا باعث ہیں۔یہی وجوہات پاکستان کی اقتصادی ترقی کو روکنے کے ساتھ ساتھ سماجی و سیاسی عدم استحکام کا بھی باعث بن رہی ہیں۔درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر پاکستان کی اندرونی سلامتی ہمیشہ خطرے میں رہتی ہے۔
سیاسی نظام کی خرابی۔پاکستان میں قائد کی وفات کے بعد کوئی بڑا قومی لیڈر سامنے نہیں آیا جو ملک کو سیاسی مصلحت کے ساتھ چلا سکے۔مفاد پرست وڈیروں ،بزنس ٹائیکونوں اور سرکاری افسروں نے ملک کی سیاست میں عمل دخل شروع کر دیا اور سیاسی جمہوری نظام کی آڑ میں مفادات کے کھیل کھیلے گئے۔ایسے ملک میں اندرونی و بیرونی خطرات ہمیشہ منڈھلاتے رہتے ہیں جہاں سیاسی نظام مفلوج ہو۔یہاں جسکی لاٹھی اس کی بھینس والے قانون کے تحت آمریت و جمہوریت نامی الفاظ کی آڑ میں کم عقل کم فہم با اثر لوگ سیاست جیسے مقدس شعبے کو ملک و قوم کی مفادات کی بجائے اپنے مفادات و اثر رسوخ کے لئے استعمال کرتے ہیں جو ہمارے سیاسی نظام کی خرابی کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔
غیر منظم شدہ جدیدیت۔عالمگیریت نے جہاں مغرب کو بے بہا وسائل فراہم کئے ہیں وہیں ترقی پذیر ممالک کے اقتصادی نظام میں جیسے چھید کردیا گیاہو۔ جو کسی بھی ملک کی سیاسی و سماجی بربادی کے لئے کافی ہے۔ورلڈ ٹریڈ آرڈر کے تحت مغرب نے اپنی بنی ہوئی ٹیکنالوجی کی اشیاء کو اتنا عام کیا کہ دنیا اس کی حیرت میں گم ہو گئی اور اسی کے برعکس دنیا بھر سے غذائی اجناس اور تیل جیسے بہت سے ذخیروں تک اپنی رسائی حاصل کی ۔پاکستان بھی ایسے ترقی پذیر ممالک میں سے ایک ہے جہاں الیکٹرانک کی جدید اشیاء عیش و عشرت سے مزین ہوٹل عام عوام کی توجہ کا مرکز ہیں۔مگر اپنی معیشت ،زراعت پر جیسے پردہ پڑ گیا ہو۔آج ہماری غذائی اجناس اور دوسری پراڈکٹس کی قیمتیں بہت کم ہیں جس کی بنا پر ہمارا ملک مالی مسائل کا شکار رہتا ہے اور ہماری عوام غربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے روزگارموجود نہیں۔مغرب نے پاکستان کو بھی ایک منافع بخش مارکیٹ کے طور پر گردانتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں عیش و عشرت اور جیدیت کو فروغ دیا۔آج پاکستان میں لوگوں کے پاس موبائل اور کمپیوٹر ضرور موجود ہوگا چاہے وہ معیاری خوراک حاصل نہ کرسکے۔پاکستان آج بھی بجلی و پانی کے مسئلے سے دو چار ہے ۔مغرب نے گلوبلائزیشن سے اپنے مفادات کو حاصل کیا ہے باقی دنیا آج بھی مسائل سے دوچار ہے۔
بیگانگی کا احساس۔نظام میں موجود خرابیاں اور ناکافی صلاحیتیں پاکستان کو گھر میں ہی کمزور کر رہی ہیں۔وڈیروں سیاستدانوں اور افسروں کی طاقت کے غلط استعمال اور ظلم و جبر سے تنگ لوگوں کے لئے ملک صرف امراء کی جاگیر ہوتا ہے۔حالات و واقعات سے اکتائے لوگ خود کو اور ملک بیگانہ تصور کرتے ہیں جو ملکی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ ہے۔
میڈیا پول۔میڈیا پر بزنس ٹائیکونوں کا قبضہ بھی ہمارے اندرونی معاملات کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔میڈیا ہاؤسز اکثریت ایسے لوگ چلا رہے ہیں جنہیں صرف روپے سے غرض ہے چاہے اس میں ملکی سلامتی داؤ پر لگ جائے۔ مختلف چینلز پربنی بنائی من گھرٹ کہانیاں ملک میں صرف افراتفری اور انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہیں۔ایسے میں صحافتی اداروں کو حکومت کا ساتھ دینا چاہئے تاکہ ملک سے بکاؤ میڈیا گروپس کا خاتمہ ہو سکے۔
سیاست، ایک کاروبار۔بدقسمتی سے پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں سیاست کی کوئی درسگاہ نہیں یہاں مقدس و خالص سیاست سے کسی کو کوئی سروکار نہیں۔یہاں سیاست کی آڑ میں کاروبار چمکائے جا رہے ہیں ۔سیاست کی آڑ میں اثر ورسوخ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔معاشرہ خود غرض ہے ،ووٹر خود غرض ہیں، سیاستدان خود غرض ہیں۔کوئی روپے دے کر صرف اس امید پر ووٹ خریدتا ہے کہ منتخب ہو کر اس سے کہیں زیادہ کما لے گا۔اور کوئی اتنا خود غرض اور جاہل ہے کہ قیمے والے نان ، گلیوں نالیوں، موبائل فون ،نقدی اور نوکری کے لالچ میں ووٹ فروخت کر دیتا ہے۔سیاسی کاروبار کی خریداری کا موسم پھر شروع ہوا چاہتاہے۔ایسا ملک خطرات کی زد سے کیسے باہر نکلے گا جس ملک و وطن کے نام کا چورن بیچ کر منافع کمانے والے لوگ موجود ہوں گے۔
مذہبی بد انتظامیت۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مذہبی قوم کی نسلیں آباد ہیں جن کا ریاست سے متفق ہونا ضروری نہیں جن کے اپنے ہی الگ نظریات ہیں۔غیر مسلم کے مقابلے ممتاز ہونا ایک طرف یہ تو فرقے ہیں جوایک دوسرے کو دیکھنا پسند نہیں کرتے ایک دوسرے میں فرق کرتے ہیں خود کو ممتاز سمجھتے ہیں دوسرے کو کافر۔کوئی بھی مذہبی گروپ اٹھتا ہے اور ریاست کو یرغمال بنا لیتا ہے۔جتنے فرقے اتنے نظریے اور قانون ہیں ۔جب ریاست کو کچھ سمجھتے ہی نہیں تو پھر ملکی بہتری کی امید کیوں؟جب خود انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہو تو پھر دھماکوں پر افسوس کیوں؟
غیر ریاستی اداکاروں کا اضافہ۔بے شمار فرقہ پرستی، مذہبی عدم برداشت ،قومیت پرستی اور انا کی بنا پر بہت سی غیر ریاستی طاقتیں سرگرم ہیں۔ہماری آپس کی تفرقہ بازی غیر ریاستی اداکاروں کے اضافے کا سبب ہے۔غیر ریاستی طاقتیں ہمارے بہت سے علاقوں اور لوگوں کو کنٹرول کرتی ہیں۔بعض اوقات ہماری عوام اپنی کم ضرفی میں غیر ریاستی اداکاروں کو پرموٹ کرتی ہے اور ہماری ریاست ایسے میں کچھ کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔
فلسفیانہ دو فرعی تقسیم۔علماء اور جدید تعلیم یافتہ طبقاتی تقسیم بھی ہمارے ملک کے اندرونی معاملات کے خطرات کی بڑی وجہ ہے۔علماء حضرات کی اکثریت جدید طرز تعلیم سے عاری ہے اور جدید طبقہ مذہبی پہلوؤں کو سمجھنے سے قاصر ہے اور یوں دو دھڑے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے چکرمیں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے میں جتے ہوئے ہیں ۔ان کے لئے ایک پیج پر متفق ہونا جیسے قیامت ہو۔جبکہ حقیقت میں ملک کی بہتری میں دین و دنیا دونوں کی ضرورت ہے۔ ایک چیز سے ایک طرف کا پلڑا بھاری ہوتا ہے جبکہ دونوں کے توازن سے معاشرہ بھی متوازن ہو جاتا ہے۔
بے روزگاری و غیر ملکی مداخلت۔بے روزگاری ایک اہم اور بڑا مسئلہ ہے۔بہت سے غریب حالات سے تنگ آکر غلط کاموں کا سہارا لیتے ہیں۔بے روزگاری انسان کو کمزور اور اندھا بنا دیتی ہے اچھے و برے کی تمیز ختم کر دیتی ہے پھر انسان کے لئے صرف رزق کی تلاش ہوتی ہے چاہے وہ اچھے زریعے سے ملے یا کسی غلط راہ سے۔ایسے اکتائے ہوئے لوگ عدم برداشت کا شکار ہوجاتے ملک میں افراتفری پھیلتی ہے اور غیر ملکی ایجنسیاں مداخلت کرتی ہیں بہت سے حالات کے مارے لوگ دشمن کے لئے کام کرتے ہیں اور دشمن ممالک ہمارے ملک میں افراتفری کو مزید فروغ دے کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ 
یہ ہمارے ملک کے اندرونی خطرات کی بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے آج بھی ملک حالت جنگ میں ہے۔جن پر قابو پانا وقت کی بڑی ضرورت ہے۔ہمیں مل جل کر ایسے کام کرنے چاہئے جو ہمارے ملک کی بہتری کے لئے ضروری ہیں۔ہمیں عوام میں شعور اجاگرکرنا چاہئے۔ذرا سوچئے!

Sunday, 11 March 2018

سماجی و اقتصادی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں


چوہدری ذوالقرنین ہندل(میری رائے):لکھاری گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں، وائس آف سوسائٹی کے سی ای او اور مکینیکل انجینینئر ہیں۔

پاکستان ایک جنوبی ایشیائی ملک ہے ،جو مشرق وسطی اور وسط ایشیاء کے پار قریب ترین ملک ہے۔پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کا اندازہ لگاتے ہوئے دنیا و خطے کی بہت سی طاقتیں اس پر اپنی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔پاکستان کو جہاں اپنی جغرافیائی اہمیت کا مان ہے اور سی پیک جیسے کئی مفاد بھی حاصل ہو رہے ہیں۔وہیں اگر محتاط اندازہ لگایا جائے تو باخوبی علم ہوتا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کی بدولت بہت سے ممالک جیسے بھارت و امریکہ اسے کمزور و غیر مستحکم کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔پاکستان میں پھیلتی افراتفری ،عدم مساوات اور انتہا پسندی انہیں طاقتوں کی منصوبہ بندی ہے۔پاکستان معرض وجو د سے ہی بہت سے اقتصادی انتظامی اور سماجی مسائل کا شکار تھا۔ وقت کے ساتھ کچھ پر قابو پالیا گیا۔ مگر کچھ مسائل گمبھیر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔پاکستانی حکومتیں ہمیشہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہی ہیں۔اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ملکی و غیر ملکی قرضوں کی دوڑ میں مگن ہو گئیں۔تمام حکومتوں نے بنیادی مسائل کو حل کرکے اقتصادی و سماجی مسائل پر کنٹرول پانے کی بجائے، وقتی قرضوں کی بدولت اپنی نااہلیوں کو چھپایا۔پاکستان کی اقتصادی و سماجی ترقی کی راہ میں چند حائل رکاوٹیں۔ 
ملکی و غیر ملکی قرضے، چند حساس میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کا گردشی قرضہ 10کھرب سے تجاوز کر گیا ہے۔صرف پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 10کھرب22ارب روپے ہوگیا ہے۔قانون کے مطابق قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے60فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے،مگر ہمارا قرض قریب جی ڈی پی کے75فیصد تک پہنچ چکا ہے۔گزشتہ چار سال میں پاکستان کے قرضوں میں12ہزار500ارب کا اضافہ ہوا۔موجودہ ملکی و غیر ملکی قرض کا حجم26ہزار814ارب ہے۔جس میں غیر ملکی قرض کا حجم9ہزار816ارب کے لگ بھگ ہے۔پاکستانی کی اقتصادی و سماجی ترقی میں قرضے رکاوٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔پاکستان ان قرضوں پر ہر سال اربوں روپے سود دیتا ہے اور اصلی قرض بڑھتا چلا جا رہاہے ۔جو ہماری معیشت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔اسی طرح ہماری خودمختاری بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اسی قرض کی بدولت ہمیں غیر ممالک کو اپنے بہت سے معاملات میں رسائی دینا پڑتی ہے۔جو ہمارے سماج پر گہرے اثرات مرتب کررہے ہیں۔
بڑھتی آبادی،پاکستان کی بڑھتی آبادی اور محدود وسائل پاکستان کی اقتصادی و سماجی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ کا کردار ادا کر رہی ہے۔قیام پاکستان کے وقت مغربی پاکستان کی آبادی 3کروڑ کے لگ بھگ تھی۔موجودہ 2017کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی کل آبادی21کروڑ ہے۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں عام آدمی یومیہ 2ڈالر کے قریب کماتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں غربت و افلاس ہے۔لوگ سماجی و اقتصادی مسائل سے بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔معاشرہ عدم مساوات کا شکار ہے۔آبادی و معیشت پر کنٹرول صفر ہے۔ایک اچھی و معیاری زندگی بسر کرنے کے لئے حکومت کو عوام میں آبادی کے کنٹرول کے حوالے سے آگاہی دینی چاہئے ۔تا کہ آبادی و وسائل میں توازن قائم رہے۔
غربت، پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں 80فیصد دیہاتی لوگ خط غربت سے نیچے بنیادی سہولیات سے محروم زندگی بسر کررہے ہیں۔خیبر پختونخوا کی حکومتی رپورٹ کے مطابق44فیصد لوگ غربت کی زندگی بسر کرہے ہیں۔فاٹا میں 60فیصد لوگ غط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔بہت سے مزید علاقے جیسے تھر جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔اسی محرومی کے باعث وہ دشمن کے ہاتھوں اونے پونے اپنا ایمان فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔جو ہماری ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ کا سبب ہے۔
ناقص تعلیمی سہولیات،تعلیم ہی ایک ایسا زریعہ ہے جو لوگوں کو صبر اور شعور فراہم کرتا ہے اور معاشرہ ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے۔مگر افسوس کہ ہمارا تعلیمی ڈھانچہ ہی بہت کمزور اور ناقص ہے۔بہت سے علاقے تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں۔قریب79فیصد پاکستانی میٹرک سے نیچے یعنی انڈر میٹرک ہیں۔تعلیم معاشرے کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے۔ تعلیم کا فقدان ہی معاشرتی و سماجی برائیوں کو جنم دیتا ہے اور معاشرہ ہر لحاظ سے کھوکھلا ہوجاتا ہے۔
بے روزگاری،بے روزگاری مجبور و لاچار لوگوں کے لئے جلتی پر تیل کا کام انجام دیتی ہے۔بہت سے لوگ روزگار سے محروم اور معاشرے سے نالاں ہو کر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔بہت سے لوگ روزگار کے لئے دشمن کے عزائم کا حصہ بن کر دہشتگردی کو فروغ دیتے ہیں۔پاکستان میں2015\16کی رپورٹ کے مطابق 7فیصد لوگ بے روزگاری کا شکار ہورہے ہیں۔جن کو روزگار کا موقع ہی میسر نہیں ہوتا ہے ۔وہی بے روزگار دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔آخر کار ایک وقت ان کے لئے اچھا برا سب تمیز ختم ہوجاتی ہے اور متعدد بدعنوانیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔
توانائی کا بحران،بجلی کی بندش نے لاکھوں مزدوروں کے روزگار کو سوالیہ نشان بنا رکھا ہے۔سینکڑوں کاروبار ی افراد دیوالیہ ہوگئے ہیں۔ملکی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہوگئی ہے۔معاشی عدم استحکام کے باعث معاشرہ ناپاک عزائم میں دشمن کا ہم نوا بن رہا ہے۔
کرپشن، یہ ایک بڑا ناسور ہے جو ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔کھوکھلا کر رہا ہے۔ملک میں نانصافی کو فروغ دے رہا ہے۔لوگوں کی حق تلفی ہورہی ہے۔پاکستان کی معیشت کو آئے روز چونا لگایا جارہا ہے۔کرپشن پرسیپشن انڈیکس کے مطابق پاکستان 175میں سے 127نمبر پر ہے یعنی پاکستان میں 127ممالک سے زیادہ شرح کرپشن ہے۔پاکستان میں سیاستدان،بیوروکریٹ ، افواج، پولیس ،ججز اور بہت سے ادارے و عام لوگ کرپشن جیسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔جو ہماری ترقی کے راستے میں آئے روز سوراخ کر رہے ہیں، گڑھے کھود رہے ہیں اور ہماری ترقی انہیں گڑھوں میں رک جاتی ہے۔
جنگی اثرات، پاکستان نے بھارت کے ساتھ جنگوں میں کافی نقصان اٹھایاہے۔مگر 9/11 کے بعد سے امریکہ نے جہاں پاکستان کی دفاعی معاملات میں مدد کی،وہیں ہمارے سماجی و اقتصادی مسائل بھی بڑھنے لگے۔پاکستان کی طالبان کے لئے حمایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، امریکہ نے بین الاقوامی پریشر کی بدولت(وار آن ٹیرر)دہشتگردوں کے خلاف جنگ کے نام پر بہت سی انتہا پسند تنظیموں اور افغانستان کو پاکستان کے مخالف کروا دیا۔بعد ازاں امریکی اثرات کی بدولت یہی دہشگردوں کے خلاف جنگ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منتقل ہوگئی اور اس کے اثرات پاکستان کے مختلف شہروں میں بم دھماکوں کی صورت میں سامنے آنے لگے۔امریکہ اور دہشتگردوں نے پاکستان کو یرغمال بنانا شروع کر دیا۔پاکستان نے امریکی دوستی کی شکل میں اپنی معیشت اور بنیادی ڈھانچے میں 40بلین ڈالرز کا نقصان اٹھایا۔ لاکھوں جانوں جن میں سویلین شہریوں اور فوجی جوانوں کو قربان کیا۔بدلے میں امریکہ کی طرف سے متعدد سختیوں سے مشروط اتحادی فنڈ جو کہ1.2 بلین سالانہ تاخیر اور ٹال مٹول کے ساتھ دیا جاتا رہا۔شرائط ایسی کے پاکستان اس فنڈ کو اپنے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لئے استعمال نہیں کر سکتا۔پاکستان کو اس فنڈ کے بدلے دہشتگردی کا ٹیگ ملا اور دہشتگردوں کی دشمنی، مارکیٹ میں امریکی اسمگل اسلحہ براستہ افغانستان ملا جو انتہا پسندی کے فروغ کا کردار ادا کررہا ہے۔جو پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کو برسوں سے روکے ہوئے ہے۔
خطے میں بھارتی اثر و کردار،بھارت نے اپنے برسوں پرانے نمبرداری کے خواب کو پورا کرنے کے لئے بلی چوہے کا کھیل رچایا ہوا ہے۔بھارت خطے میں موجود ممالک بالخصوص پاکستان کو اپنے اثر کی بدولت دبانا چاہتا ہے۔بھارت کشمیر پر جبری قبضہ جمائے ہوئے ہے۔پاکستان کو کشمیر پالیسی کی بدولت اقتصادی سطح پر بہت سے نقصانات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔بھارت پاکستان کا پانی روکنے کے لئے دھڑا دھڑ ڈیم بنا رہا ہے جو ہماری زراعت اور معیشت کے لئے ایک بڑا دھچکہ ہے۔بھارت پاکستان کو مسلسل مختلف محاذوں پر الجھائے ہوئے ہے جس میں ورکنگ باؤنڈری ،افغانستان ،ایران اور کشمیر وغیرہ۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں39000کے قریب بھارتی سپاہی موجود ہیں جن کا مقصد پاکستان میں دہشتگردی کو فروغ دینا ہے اور براستہ افغانستان پاکستان کی تجارت کو روکنا ہے۔۔یہی نہیں بھارت پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تجارتی معاملات میں بھی نقصان پہنچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔
ایسے بہت سے مزید چھوٹے بڑے عناصر ہیں جو پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کی راہ میں حائل ہیں ج کا حل بہت ضروری ہے، اور فوری ہونا چاہئیے تا کہ پاکستان آنے والے مزید چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔

Sunday, 4 March 2018

ہمارا نظام تعلیم


چوہدری ذوالقرنین ہندل(میری رائے):لکھاری گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں،وائس آف سوسائٹی کے سی ای او اور مکینیکل انجینئر ہیں۔

دنیا بھر میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ نت نئی و حیرت انگیز ہونے والی ایجادات کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے ۔انسان کا چاند اور سیاروں پر جانا صرف تعلیم کی بدولت ہی ممکن ہوا۔تاریخ سے باخوبی علم ہوتا ہے کہ دین اسلام بھی روز اول سے لے کر آج تک دنیا میں علم کی شمع جلا رہا ہے،اور قیامت تک علم کی اس مشعل کو لے کر آگے بڑھتا رہے گا۔دنیا میں جتنے بھی پیغمبر آئے سب نے اللہ رب العزت کے احکامات کو لوگوں تک پہنچایا ،اور توحید و تقوی کی تعلیم دی۔اللہ کے آخری نبیﷺ پر جو پہلی وحی نازل ہوئی وہ کچھ یوں تھی،ترجمہ:’’پڑھ اللہ کے نام سے جس نے تجھے پیدا کیا‘‘۔آپﷺ نے اللہ کے احکامات کو لوگوں تک پہنچایا اور دین اسلام کو مکمل کیا۔کیا جس نے صحرا نشینوں کو یکتا! آپﷺ نے عرب کی بھگڑی ہوئی قوم کو ایک پرامن معاشرے میں تبدیل کیا ۔انہیں اخلاق و ایمان کی تعلیمات دیں۔
پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے کہا کہ،’آپ تعلیم پر پورا دیہان دیں۔اپنے آپ کو عمل کے لئے تیار کریں یہ آپ کا پہلا فریضہ ہے۔ہماری قوم کے لئے تعلیم موت اور زندگی کا مسئلہ ہے‘۔
قارئین پاکستان کو معرض وجود میں آئے ستر برس کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اسی دوران بیسیوں پالیسیاں بنیں اور مرتب کی گئیں مگر ہمارا تعلیم کا مسئلہ آج بھی جوں کا توں ہے۔ہم سے بعد میں آزاد ہونے والے بہت سے ممالک اس میدان میں آج ہم سے بہت آگے ہیں۔ہیومن ڈویلپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان شرح خواندگی کے لحاظ سے دنیا میں136thنمبر پر ہے۔پاکستان میں58%لوگ پڑھنا اور لکھنا جانتے ہیں جنہیں ہم خواندہ کہتے ہیں۔یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق 67لاکھ بچے سکول جانے کی عمر میں سکول جا ہی نہیں پاتے۔قریب59%بچے ایسے ہیں جو سکول جانے کے کچھ عرصہ بعد مختلف وجوہات کی بنا پر سکول جانا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔یونیسکو کی ایجوکیشن فار آل گلوبل مانیٹرنگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں5.3ملین بچے سکول ہی نہیں جا پاتے جو دنیا میں سکول سے محروم بچوں کا9.2%ہیں۔ پاکستان میں قریب49ملین بالغ افراد پڑھنا لکھنا ہی نہیں جانتے جو دنیا میں ناخواندہ افراد کا6.3%ہیں۔یو این کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پرائمری سطح کی تعلیم میں دنیا سے پچاس سے زائد سال اور سیکنڈری سطح کی تعلیم میں ساٹھ سے زائد سال دنیا سے پیچھے ہے۔ہمارے نظام تعلیم میں بہت سی خرابیاں اور وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہم آج دنیا سے پیچھے ہیں۔
غیر متوازن نظام تعلیم ،ہمارے تعلیمی نظام کی خرابی کا بڑا سبب ہے۔ہمارا تعلیمی نصاب ہو یا تعلیمی ڈھانچہ سب غیر متوازن ہیں۔ریاست ہمیشہ ملک کی عوام کو ایک جیسی تعلیم اور ایک جیسے تعلیمی مواقع دینے میں نکام رہی ہے۔ہمارے ہاں پرائیویٹ تعلیمی ادارے تعلیم جیسے مقدس شعبے میں مافیا کا کردار ادا کر رہے ہیں۔من چاہے تعلیمی نصاب اور من چاہے تعلیمی اخراجات عام عوام پر مسلط کئے جاتے ہیں۔غیر متوازن نظام تعلیم نے معاشرے کو الجھا کر رکھ دیا ہے اور تعلیم کے میدان میں بھی افراتفری کا سماں ہے۔سرکاری ادارے میٹرک اور ایف اے کروا رہے ہیں اور پرائیویٹ ادارے اے لیول او لیول کروا رہے ہیں۔سرکاری ادارے اردو میڈیم ہیں اور پرائیویٹ سیکٹر انگلش میڈیم ہیں۔اس غیر متوازن نظام تعلیم نے مڈل کلاس اور غرباء کو الجھا کر رکھ دیا ہے۔جو کہ ہمارے نظام تعلیم کی بہتری میں حائل بڑی رکاوٹ ہے۔
علاقائی عدم مساوات، بھی تعلیمی بہتری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔بلوچستان فاٹا اور دوسرے علاقے جہاں پہلے ہی علاقائی اختلافات کے باعث تعلیمی میدان متاثر ہورہا ہے وہاں حکومت کا معیاری تعلیم کی فراہمی میں توجہ نہ دینا بھی نظام تعلیم کی بڑی ناکامی ہے۔ایسے علاقوں میں کالجز اور یونیورسٹیز بہت کم ہیں اور ان علاقوں اور پاکستان کے دوسرے علاقوں کے سکول و کالجز کے معیار میں بھی زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ان علاقوں کو برابری کی سطح پر تعلیمی ماحول و مواقع فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ریاست اپنے اس فرض سے بھی غافل دکھائی دیتی ہے۔
فنی تعلیم کا فقدان ،بھی ہمارے نظام تعلیم کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔دنیا بھر میں ریاست اپنے نوجوانوں کو خودمختار بنانے کے لئے انہیں فنی تعلیم مہیا کرتی ہے۔اسی ضمن میں فنی تربیتی ادارے قائم کئے جاتے ہیں کالجز بنائے جاتے ہیں۔تربیت یافتہ نوجوان خودمختار ہوکر نہ صرف فنی تعلیم اور معاشرے کی بہتری میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ ملکی ترقی میں بھی اپنا حصہ بھی ڈالتے ہیں۔پاکستان میں ایسے فنی تربیتی کالجز کا فقدان ہے۔جو کچھ کالجز ہیں وہاں مناسب تربیتی سہولیات موجود نہیں،مناسب لیبارٹریز اور آلات موجود نہیں ہیں۔
صنفی فرق(gender unequality) ،یعنی مرد و عورت کی غیر برابری کا نظریہ بھی ہمارے نظام تعلیم کو بہتر ہونے سے روکتا ہے۔اس کا اندازہ پرائمری سکولوں میں لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد سے ہوتا ہے جو 10:4ہے۔بہت سے والدین آج بھی لڑکیوں سے غیر امتیازی طور پر ان کے بہت سے بنیادی حقوق چھین لیتے ہیں یا فراہم ہی نہیں کرتے۔اسی بنا پر بہت سی قابل لڑکیاں اپنی قابلیت کو نکھارنے سے محروم ہو جاتی ہیں۔جو ہمارے ملک کی ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
غیر تربیت یافتہ اساتذہ ،بھی ہمارے تعلیمی نظام کی خرابی کا باعث بن رہے ہیں۔دنیا بھر میں تعلیم میں اول نمبر اور قابل ترین افراد کو معلم کے طور پر منتخب کیا جاتا ہے۔مگر ہمارے ہاں تو نظام ہی الٹ ہے جسے کوئی نوکری نہ ملے وہ تعلیم و تربیت کے میدان میں اپنی قسمت آزمائی کرتا ہے اور اپنے جیسے بہت سے کم علم اور کم فہم طلباء کو پروان چڑھاتا ہے جو ہمارے نظام تعلیم کی خرابی اور معیار کی پستی کا باعث بنتے ہیں۔
غربت ،ہمارے ملک کا بڑا مسئلہ ہے ۔ملک کی بڑی آبادی غربت میں زندگی بسر کر رہی ہے ۔ایسے میں لوگوں کے لئے تعلیم کا حصول مشکل ہو جاتا ہے اور غریب والدین اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کی بجائے اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لئے بھٹوں اور مکینکوں کے پاس مزدوری کے لئے چھوڑ آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کا ایک بڑا حصہ تعلیم سے محروم ہے۔
ناقص امتحانی طریقہ و تشخیص ،بھی ہمارے تعلیمی اداروں اور امتحانی مراکزکی بڑی خامی ہے۔دنیا بھر میں طلباء کو تعلیم بوجھ کے تصور سے بالاتر ہو کر بغیر کسی خوف اور سیکھانے کے نظریے سے دی جاتی ہے۔لیکن ہمارے ہاں گریڈز اور نمبروں کی دوڑ میں ماں باپ اور اساتذہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بچے تعلیم کے بوجھ تلے دبے انہیں 90فیصد نتائج تو دے رہے ہیں مگر حقیقت میں سیکھنے کے مرحلے میں انہوں نے 50%بھی نہیں سیکھا۔دنیا بھر کے تعلیمی میدان میں روز یعنی معمول کاکام روز کروا کر اسی دن اس کام کو پرکھ لیا جاتا ہے اور اسی حساب سے طلباء کو نمبرز اور گریڈز دیئے جاتے ہیں۔اس طرح طلباء کام کے بوجھ سے بالاتر ہوکر سیکھتے ہیں اور گھر جا کر تعلیمی پریشانی سے آزاد کھیل کود کر اپنی جسمانی نشونما میں بھی بہتری لاتے ہیں۔مگر ہمارے ہاں تو بچوں کو نمبروں کی دوڑ میں ہفتے کا کام دو دنوں میں کروایا جاتا ہے اور اس کی تشخیص کے لئے مہینوں بعد کوئی امتحان لیا جاتا ہے۔جس کے باعث طلباء نمبروں کے لئے نقل یا رٹہ سسٹم کا سہارا لیتے ہیں۔اسی طرح ناقص امتحانی طریقے اور تشخیص نے ہمیں ایسے رٹے لگوائے ہیں کہ ہمیں انگریزی میں ہر لفظ یاد تو ہے مگر اس کے مطلب کا پتہ نہیں۔
ریاستی ناکامی، ان سب وجوہات کا باعث ہے۔ریاست برسوں سے میدان تعلیم میں اپنی ناہلی کی راہ پر گامزن ہے۔ہر حکومت اپنے مفادات کی دوڑ میں تعلیم جیسے اہم شعبے پر توجہ دینے سے کتراتی ہے۔
پاکستان کے آئین کی شق 25Aکے مطابق ’ریاست 5 سے16سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے‘۔مگر یہاں تو سارا نظام ہی الٹ ہے ریاست اپنے دوسرے فرائض کی طرح اس مقدس اور اہم فریضے کو بھی پورا کرنے میں ہمیشہ ناکام رہی ہے۔ریاست کی ناکامیوں کے باعث پرائیویٹ مافیا دن رات ہمارے نظام تعلیم کو پنکچر لگانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ہماری حکومتیں تعلیمی فنڈز میں کرپشن کرتی ہیں۔تعلیم کے لئے مختص کئے گئے فنڈز GDPکا 2%ہوتے ہیں جسے کم از کمGDPکا7%ہونا چاہئے۔دنیا بھر میں تعلیم کے لئے دفاع سے زیادہ بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔
ایسے مزید بہت سے عناصر(Factors) ہیں جو ہمارے نظام تعلیم کی راہ میں حائل ہیں اور آج ہم تعلیمی میدان میں دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ریاست کو تعلیم جیسے اہم شعبے کی ترقی کے لئے خلوص نیت سے کام کرنا ہوگا ،تبھی جاکر ہمارا ملک ترقی یافتہ ممالک کی لسٹ میں شامل ہوگا اور ایک پرامن اور نمبر ون ملک بن کر ابھرے گا۔

Sunday, 18 February 2018

حبیب بینک ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ


چوہدری ذوالقرنین ہندل(میری رائے):لکھاری گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں،وائس آف سوسائٹی کے سی ای او اور مکینیکل انجینئر ہیں۔

حکومت پاکستان حکومتی اداروں کو نجی اداروں میں منتقل کرنے میں مگن ہے۔ ریاست کے ان اقدامات کی وجہ سے غریب لوگ اور نچلے درجے کے ملازمین متاثر ہورہے ہیں۔پرائیویٹ مالکان اور سرمایہ دار ملازمین سے ان کے بنیادی حقوق چھین کر انہیں جبری تور پر ملازمت سے فارغ کر رہے ہیں۔سینکڑوں پنشنرز عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں۔حکومت یا حکومتی ادارے خاموش تماشائی بنے مظلوم ملازمین کی رسوائی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔اسے ریاستی کمزوری سمجھا جائے ؟یا پھر سرمایہ داروں کے لئے منافع خوری؟
ہمیشہ کی طرح 22دسمبر2017کے دن ایچ بی ایل بینک ملازمین پوری تیاری کے ساتھ اپنے دفتروں میں داخل ہوئے۔کام کے آغاز کے لئے سسٹم کو لاگن کرنا چاہا مگر سسٹم نے ایرر کی حالت دکھانا شروع کردی۔ملازمین نے اسے معمول کی خرابی تصور کرتے ہوئے اپنا کام شروع کردیا۔اتنے میں پوسٹ ماسٹر زآئے اور پاکستان بھر میں 144ایچ بی ایل ملازمین کو خط تھما کر چلے گئے۔خطوں کو دیکھتے ہی ملازمین کے پاؤں تلے زمین نکلنے لگی۔لمحہ بھر کے لئے سکتے میں چلے گئے۔خط کو ڈراؤنا خواب تصور کرنے کی بھی کوشش کی۔مگر حقیقت سے منکر نہیں ہوا جا سکتا۔دیکھتے ہی ساری ہمت اور چہرے کی رونق گہری گرد کی لپیٹ میں آگئی۔ چہروں پر حیرت کے بادل چھا گئے۔بعض تو یہ گہرا صدمہ سہہ نہ پائے اور ادھ موا ہوکر بے ہوشی کی حالت میں چلے گئے۔باقی اس آفت سے بچے ملازمین کے گلے لگ کر زارو قطار رونے لگ گئے۔سرگودھا برانچ کے ایک صاحب کا دل یہ صدمہ برداشت نہ کر سکا۔دل کے دورے نے انہیں گرنے پر مجبور کردیا۔تمام متاثرہ ملازمین وہی خط اٹھائے بدحواسی کی حالت میں پہلے پہر ہی گھروں کو لوٹنے لگے۔ایچ بی ایل کے اس خط میں ان ملازمین کی فراغت کے الفاظ درج تھے۔یہ دن ان کے لئے قیامت صغری سے کم نہ تھا۔نکالے جانے والے ان ملازمین کی عمریں45سے55سال تک کی تھیں۔ نچلے درجے کے ان کمزور وبڑی عمر کے ملازمین کے نہ جانے کتنے ارمان بکھر ے ہوں گے۔کسی نے اپنی رحمت یعنی بیٹی کو پوری شان و شوکت سے رخصت کرنا تھا۔کسی کو ابھی اپنا گھر بنانا تھا۔کسی نے اپنے بچوں کو مہنگی و معیاری تعلیم دلانا تھی۔ اسی طرح کسی نے کاروبار اور کسی نے خاندان کی لئے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔جو ان کو ملنے والی پنشن اور رقم سے ہی ممکن ہونا تھا۔نہ ختم ہونے والی پریشانیوں سے یہ لوگ بیمار ہونے لگے۔اسی آب و تاب میں کراچی ناظم آباد برانچ کے کمال مصطفی صدمے کے باعث اپنے خاندان کو بے آسرا چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوگئے۔سجاد احمد، اصغر ندیم اور عبدالشکور جیسے بہت سے ملازمین 30سے35برس تک محنت و دیانتداری سے بینک کے لئے اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔دوران ملازمت بہت سے بینکوں کی آفرز کو ٹھکرایا۔اب جب بڑھاپہ قریب ہے اور ریٹائرمنٹ میں صرف چند ماہ یا سال باقی ہیں۔ایسے میں بینک کی طرف سے جبری تور پر ملازمت سے فارغ کر کے صرف چھ ماہ کی تنخواہیں تھما دینا کہاں کا انصاف ہے۔بینک کی طرف سے ان کے ریٹائرمنٹ اور پینشن کے حقوق صلب کرنا انتہائی گھٹیا اور قابل مذمت اقدام ہے۔بینک کے دسمبر2017میں ریٹائر ہونے والے صدر نعمان کے ڈار کی تنخواہ ان 144ملازمین کی مجموعی تنخواہ سے بھی زیادہ تھی۔ ان ملازمین کو پنشن دینا بینک کے لئے ایسے ہے جیسے چیونٹی کا سمندر سے پانی پینا۔مگر یہاں معاملہ کچھ اور ہی ہے!
قارئین جیسا کہ آپ جانتے ہیں گزشتہ سال 2017میں امریکی ریگولیٹری اتھارٹی کی طرف سےHBLبینک کو 66کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔یہ جرمانہ بعد میں سودے بازی کے تحت کم کروا کے22.5کروڑ ڈالر جمع کروا دیاگیا۔اسی ضمن میںHBLنیو یارک برانچ کو بھی بند کرنا پڑا۔امریکی فنانشل سروسز کی رپورٹ کے مطابق حبیب بینک پر50کے قریب الزامات عائد کئے گئے۔جن کی بنا پر انہیں جرمانہ عائد کیا گیا۔جن میں منی لانڈرنگ، بلیک مارکیٹ ٹریڈنگ، دہشتگردوں کی مالی امداد اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے الزامات عائد کئے گئے۔بتایا گیا کہ2007سے2017تک منی لانڈرنگ کا سلسلہ جاری رہا جس میں بڑی سیاسی شخصیات بھی ملوث رہیں۔بینک کے ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی۔اسٹاک مارکیٹ میں نقصان ہوااور ڈالر کے ریٹ بڑھ گئے۔پاکستان کو بڑا معاشی دجھکا لگا۔ان اقدامات پر نہ تو چکومت کی طرف سے کوئی ایکشن سامنے آیا اور نہ ہی کسی حکومتی ادارے کی طرف سے۔ایسے میں بینک انتظامیہ کا حوصلہ بڑھا اور انہوں نے اپنا مالی خسارہ پورا کرنے کے لئے نچلے درجے کے ملازمین کے حق صلب کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ پاکستان بھر سے 144ملازمین کو جبری ریٹائر کردیا گیا اور انہیں انکے بنیادی ریٹائرمنٹ کے حقوق سے بھی محروم کردیا۔اطلاعات کے مطابق بینک انتظامیہ نے مزید 2000کے قریب ملازمین کو فارغ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔
متاثرہ ملازمین نے قانونی جنگ کا فیصلہ کیا تو انہیں ماسٹر اینڈ سرونٹ رول کے تحت ٹرخایہ گیا۔بلا آخر ان کی جدوجہد کے باعث NIRCکورٹ کراچی نے بینک کے جبری ریٹائرمنٹ آپریشن کو12جنوری2018کے روز معطل کر کے17ملازمین کی فوری بحالی کا حکم صادر فرمایا۔مگر اس دن سے لے کر آج تک ملازمین HBLبینک کے دفتروں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔بینک انتظامیہ عدالت کے اس حکم کو ماننے سے انکاری ہے۔
حکومت پاکستان نے بہت سے سرکاری اداروں کو سرمایہ داروں کو بیچنے کے ساتھ نچلے درجے کے ملازمین کے بنیادی حقوق بھی بیچ دیئے۔جن کاادراک عوام کو اب ہورہا ہے اور وقت کے ساتھ ہوتا رہے گا۔ہماری حکومتی ناکامی کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہو سکتی ہے کہ اپنے ریاستی ادارے سرمایہ داروں کے آگے اونے پونے بیچ رہی ہے۔وہی سرمایہ دار ایک طرف عام عوام سے سروسز کی صورت میں اضافی ٹیکسز وصول کررہے ہیں اور دوسری طرف اپنے عام ملازمین کو بنیادی حقوق سے بھی محروم کرہے ہیں۔یہ صرف حبیب بینک ہی کا معاملہ نہیں بہت سے پرائیویٹ اداروں میں ایسا ہورہا ہے۔ایسے تمام اداروں کا فرازک آڈٹ ہونا چاہئے۔جنہیں حکومت ،وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک نے کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ایسے میں بے چارے مظلوم و لاچار ملازمین کہاں جائیں؟ کیا کریں؟
امید کرتے ہیں کہ جس طرح چیف جسٹس نے اس معاملے پر سوموٹو ایکشن لیا ہے۔وہ جلد ان مجبور ملازمین کو ان کے حقوق دلائیں گے ۔ حکومت کی ناہلی پر اس کی سرزنش اور پرائیوٹ اداروں کو جرمانہ عائد کریں گے۔
جس عہد میں لٹ جائے، فقیروں کی کمائی 
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے