Sunday, 18 February 2018

حبیب بینک ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ


چوہدری ذوالقرنین ہندل(میری رائے):لکھاری گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں،وائس آف سوسائٹی کے سی ای او اور مکینیکل انجینئر ہیں۔

حکومت پاکستان حکومتی اداروں کو نجی اداروں میں منتقل کرنے میں مگن ہے۔ ریاست کے ان اقدامات کی وجہ سے غریب لوگ اور نچلے درجے کے ملازمین متاثر ہورہے ہیں۔پرائیویٹ مالکان اور سرمایہ دار ملازمین سے ان کے بنیادی حقوق چھین کر انہیں جبری تور پر ملازمت سے فارغ کر رہے ہیں۔سینکڑوں پنشنرز عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں۔حکومت یا حکومتی ادارے خاموش تماشائی بنے مظلوم ملازمین کی رسوائی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔اسے ریاستی کمزوری سمجھا جائے ؟یا پھر سرمایہ داروں کے لئے منافع خوری؟
ہمیشہ کی طرح 22دسمبر2017کے دن ایچ بی ایل بینک ملازمین پوری تیاری کے ساتھ اپنے دفتروں میں داخل ہوئے۔کام کے آغاز کے لئے سسٹم کو لاگن کرنا چاہا مگر سسٹم نے ایرر کی حالت دکھانا شروع کردی۔ملازمین نے اسے معمول کی خرابی تصور کرتے ہوئے اپنا کام شروع کردیا۔اتنے میں پوسٹ ماسٹر زآئے اور پاکستان بھر میں 144ایچ بی ایل ملازمین کو خط تھما کر چلے گئے۔خطوں کو دیکھتے ہی ملازمین کے پاؤں تلے زمین نکلنے لگی۔لمحہ بھر کے لئے سکتے میں چلے گئے۔خط کو ڈراؤنا خواب تصور کرنے کی بھی کوشش کی۔مگر حقیقت سے منکر نہیں ہوا جا سکتا۔دیکھتے ہی ساری ہمت اور چہرے کی رونق گہری گرد کی لپیٹ میں آگئی۔ چہروں پر حیرت کے بادل چھا گئے۔بعض تو یہ گہرا صدمہ سہہ نہ پائے اور ادھ موا ہوکر بے ہوشی کی حالت میں چلے گئے۔باقی اس آفت سے بچے ملازمین کے گلے لگ کر زارو قطار رونے لگ گئے۔سرگودھا برانچ کے ایک صاحب کا دل یہ صدمہ برداشت نہ کر سکا۔دل کے دورے نے انہیں گرنے پر مجبور کردیا۔تمام متاثرہ ملازمین وہی خط اٹھائے بدحواسی کی حالت میں پہلے پہر ہی گھروں کو لوٹنے لگے۔ایچ بی ایل کے اس خط میں ان ملازمین کی فراغت کے الفاظ درج تھے۔یہ دن ان کے لئے قیامت صغری سے کم نہ تھا۔نکالے جانے والے ان ملازمین کی عمریں45سے55سال تک کی تھیں۔ نچلے درجے کے ان کمزور وبڑی عمر کے ملازمین کے نہ جانے کتنے ارمان بکھر ے ہوں گے۔کسی نے اپنی رحمت یعنی بیٹی کو پوری شان و شوکت سے رخصت کرنا تھا۔کسی کو ابھی اپنا گھر بنانا تھا۔کسی نے اپنے بچوں کو مہنگی و معیاری تعلیم دلانا تھی۔ اسی طرح کسی نے کاروبار اور کسی نے خاندان کی لئے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔جو ان کو ملنے والی پنشن اور رقم سے ہی ممکن ہونا تھا۔نہ ختم ہونے والی پریشانیوں سے یہ لوگ بیمار ہونے لگے۔اسی آب و تاب میں کراچی ناظم آباد برانچ کے کمال مصطفی صدمے کے باعث اپنے خاندان کو بے آسرا چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوگئے۔سجاد احمد، اصغر ندیم اور عبدالشکور جیسے بہت سے ملازمین 30سے35برس تک محنت و دیانتداری سے بینک کے لئے اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔دوران ملازمت بہت سے بینکوں کی آفرز کو ٹھکرایا۔اب جب بڑھاپہ قریب ہے اور ریٹائرمنٹ میں صرف چند ماہ یا سال باقی ہیں۔ایسے میں بینک کی طرف سے جبری تور پر ملازمت سے فارغ کر کے صرف چھ ماہ کی تنخواہیں تھما دینا کہاں کا انصاف ہے۔بینک کی طرف سے ان کے ریٹائرمنٹ اور پینشن کے حقوق صلب کرنا انتہائی گھٹیا اور قابل مذمت اقدام ہے۔بینک کے دسمبر2017میں ریٹائر ہونے والے صدر نعمان کے ڈار کی تنخواہ ان 144ملازمین کی مجموعی تنخواہ سے بھی زیادہ تھی۔ ان ملازمین کو پنشن دینا بینک کے لئے ایسے ہے جیسے چیونٹی کا سمندر سے پانی پینا۔مگر یہاں معاملہ کچھ اور ہی ہے!
قارئین جیسا کہ آپ جانتے ہیں گزشتہ سال 2017میں امریکی ریگولیٹری اتھارٹی کی طرف سےHBLبینک کو 66کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔یہ جرمانہ بعد میں سودے بازی کے تحت کم کروا کے22.5کروڑ ڈالر جمع کروا دیاگیا۔اسی ضمن میںHBLنیو یارک برانچ کو بھی بند کرنا پڑا۔امریکی فنانشل سروسز کی رپورٹ کے مطابق حبیب بینک پر50کے قریب الزامات عائد کئے گئے۔جن کی بنا پر انہیں جرمانہ عائد کیا گیا۔جن میں منی لانڈرنگ، بلیک مارکیٹ ٹریڈنگ، دہشتگردوں کی مالی امداد اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے الزامات عائد کئے گئے۔بتایا گیا کہ2007سے2017تک منی لانڈرنگ کا سلسلہ جاری رہا جس میں بڑی سیاسی شخصیات بھی ملوث رہیں۔بینک کے ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی۔اسٹاک مارکیٹ میں نقصان ہوااور ڈالر کے ریٹ بڑھ گئے۔پاکستان کو بڑا معاشی دجھکا لگا۔ان اقدامات پر نہ تو چکومت کی طرف سے کوئی ایکشن سامنے آیا اور نہ ہی کسی حکومتی ادارے کی طرف سے۔ایسے میں بینک انتظامیہ کا حوصلہ بڑھا اور انہوں نے اپنا مالی خسارہ پورا کرنے کے لئے نچلے درجے کے ملازمین کے حق صلب کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ پاکستان بھر سے 144ملازمین کو جبری ریٹائر کردیا گیا اور انہیں انکے بنیادی ریٹائرمنٹ کے حقوق سے بھی محروم کردیا۔اطلاعات کے مطابق بینک انتظامیہ نے مزید 2000کے قریب ملازمین کو فارغ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔
متاثرہ ملازمین نے قانونی جنگ کا فیصلہ کیا تو انہیں ماسٹر اینڈ سرونٹ رول کے تحت ٹرخایہ گیا۔بلا آخر ان کی جدوجہد کے باعث NIRCکورٹ کراچی نے بینک کے جبری ریٹائرمنٹ آپریشن کو12جنوری2018کے روز معطل کر کے17ملازمین کی فوری بحالی کا حکم صادر فرمایا۔مگر اس دن سے لے کر آج تک ملازمین HBLبینک کے دفتروں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔بینک انتظامیہ عدالت کے اس حکم کو ماننے سے انکاری ہے۔
حکومت پاکستان نے بہت سے سرکاری اداروں کو سرمایہ داروں کو بیچنے کے ساتھ نچلے درجے کے ملازمین کے بنیادی حقوق بھی بیچ دیئے۔جن کاادراک عوام کو اب ہورہا ہے اور وقت کے ساتھ ہوتا رہے گا۔ہماری حکومتی ناکامی کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہو سکتی ہے کہ اپنے ریاستی ادارے سرمایہ داروں کے آگے اونے پونے بیچ رہی ہے۔وہی سرمایہ دار ایک طرف عام عوام سے سروسز کی صورت میں اضافی ٹیکسز وصول کررہے ہیں اور دوسری طرف اپنے عام ملازمین کو بنیادی حقوق سے بھی محروم کرہے ہیں۔یہ صرف حبیب بینک ہی کا معاملہ نہیں بہت سے پرائیویٹ اداروں میں ایسا ہورہا ہے۔ایسے تمام اداروں کا فرازک آڈٹ ہونا چاہئے۔جنہیں حکومت ،وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک نے کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ایسے میں بے چارے مظلوم و لاچار ملازمین کہاں جائیں؟ کیا کریں؟
امید کرتے ہیں کہ جس طرح چیف جسٹس نے اس معاملے پر سوموٹو ایکشن لیا ہے۔وہ جلد ان مجبور ملازمین کو ان کے حقوق دلائیں گے ۔ حکومت کی ناہلی پر اس کی سرزنش اور پرائیوٹ اداروں کو جرمانہ عائد کریں گے۔
جس عہد میں لٹ جائے، فقیروں کی کمائی 
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

Sunday, 11 February 2018

نوجوان قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں


چوہدری ذوالقرنین ہندل گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں، وائس آف سوسائٹی کے سی ای او، اور مکینیکل انجینئر ہیں۔

نوجوان ملک و ملت کا مستقبل ہوتے ہیں۔قوم کے معمار ہوتے ہیں۔کسی بھی قوم میں نوجوان قوم کا قیمتی سرمایہ تصور کئے جاتے ہیں۔نوجوان ملت کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔قائداعظم محمد علی جناح نے تحریک پاکستان کے دوران نوجوان طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ’’میں آپ کی طرح جوان نہیں ہوں لیکن آپ کے جوش و جذبے نے مجھے بھی جواں کر رکھا ہے،آپ کے ساتھ نے مجھے مضبوط بنا دیا ہے‘‘۔نوجوان دماغی و جسمانی لحاظ سے باقی عمر کے طبقوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ہمت و جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔کٹھن حالات کا جواں مردی سے مقابلہ ان کی خوبی ہے۔کسی بھی قوم کی ترقی کی ضمانت نوجوانوں میں مضمر ہے۔اس قوم کی راہ ترقی میں کوئی بھی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی، جس کے نوجوان محنتی و ذمہ دار ہوں۔جن قوموں کے نوجوان ان صفات سے عاری یعنی سست وکاہل ہوں گے، وہ قومیں خودبخود بربادی کی طرف رواں ہو جائیں گی۔
دنیا بھر میں نوجوان قومی ریڑھ کی ہڈی تصور کئے جاتے ہیں۔اگر ریڑھ کی ہڈی ہی ناتواں ہو تو پورا شریر ہی کمزور پڑھ جاتا ہے،جسم میں سکت نہیں رہتی۔ راہ راست ہی نوجوانوں کی مضبوطی کی ضمانت ہے۔دنیا میں وہی قومیں ترقی کر رہی ہیں، جن کے نوجوان درست سمت پر چل رہے ہیں۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے ،جس کی سب سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔محتاط اندازوں کے مطابق 60فیصد پاکستانی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔پاکستانی نوجوانوں میں قابلیت اور ذہانت کی کمی نہیں،اسی لئے بہت سے بین الاقوامی سطحوں پر ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔ہمارے نوجوانوں میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں ،جو نوجوانوں کا خاصہ تصور کی جاتی ہیں۔ان میں ہمت ہے، جذبہ ہے ،یہ قابل ہیں، ذہین ہیں بہادر ہیں، اور محنتی بھی ہیں۔مگر برسوں سے ہمارے آباؤ اجدا دہمیں شعور دینے میں ناکام رہے ہیں۔ہماری ریاست بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ہمیشہ ناکام رہی ہے۔’آئین پاکستان کے آرٹیکل 25Aکے مطابق ریاست ہر شہری کو میٹرک تک مفت تعلیم دلوانے کی پابند ہے‘۔مگر یہاں تو نظام ہی الٹ ہے ،ریاست اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کی اجارہ داری نے من پسند کے نصاب اور من چاہی فیسوں سے تعلیمی نظام کی کمزوری کو عیاں کر دیا ہے۔غریب کے لئے تعلیم تو جیسے ناممکنات میں سے ہے۔اگر کوئی غریب اس کٹھن مرحلے میں معیاری تعلیم حاصل بھی کرلے تو اس کے سامنے اگلا کٹھن مرحلا نوکری یعنی روزگار حاصل کرنا ہوتا ہے۔اب غریب اس کرپشن و سفارشی کلچر میں کیا کرے؟۔اپنی جائیداد بیچ کر نوکری حاصل کرے ؟یا پھر ڈگری کوآگ لگا کر مزدوری شروع کردے؟۔آج ہمارے ہاں نوجوانوں کو سب سے بڑ ا جو درپیش مسئلہ ہے ،وہ بے روزگاری ہے۔تعلیم و ہنر کا فقدان تو برسوں سے چلا آ رہا ہے اس میں کمی بھی ہورہی ہے۔مگر بے روزگاری ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔لاکھوں روپے کے خرچ اور محنت سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی نوجوان ادھر ہی کھڑا رہتا ہے، جہاں وہ ڈگری کرنے سے پہلے تھا۔نوجوانوں کی ضروریات اور بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی ہماری ریاستی ناکامیوں کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔ہمارے ہاں ہمیشہ کی طرح سیاسی پارٹیاں اور سیاستدان نوجوانوں کو سہولتیں فراہم کرنے کی بجائے ،انہیں اپنے سیاسی مفادات کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔تعلیم کا چاہے حرج ہو جائے،ان کے جلسوں میں ضرور شامل ہوں۔حکومت اگرنوجوانوں کے لئے کوئی پالیسی بنا تی ہے ،تو اس کی شرائط ہی اتنی کٹھن ہو تی ہیں کے نوجوان اس سے مستفید نہیں ہو سکتے ۔ بلکہ سیاستدانوں کے لاڈلے اس سے پورا فائدہ اٹھاتے ہیں۔سیاسی پارٹیوں کی چالاکیاں دیکھئے،اپنی سکیموں کے تحت اپنے پارٹی ورکرز کو پروان چڑھاتے ہیں۔ایسے کٹھن حالات میں مجبور نوجوان برائیوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں ۔نام نہاد تنظیموں کے ہتھے چڑھ کر ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔معاشرہ دن بدن اسی کشمکش میں برائی کی چادر اوڑھتا چلا جا رہا ہے۔بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق ہر چھٹا پاکستانی بے روزگار ہے۔ہمارے بااثر لوگ اور حکمران ہمارے نوجوان اثاثے کو بھی دوسرے ملکی اثاثوں کی طرح بیچ رہے ہیں، برباد کررہے ہیں۔آج ہمارے ہیرے جیسے ڈاکٹرز و انجینئرز باقی قیمتی چیزوں کی طرح ہی دوسرے ملکوں کی زینت بن رہے ہیں۔کیونکہ ہم اپنے رب کی دی ہوئی معدنیات اور نوجوانوں جیسی نعمتوں کو تراشنا نہیں جانتے،انہیں پالش نہیں کر سکتے۔
میری اپنے نوجوانوں سے گزارش ہے کہ ،وہ ان بااختیار حکمرانوں کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ الیکشن میں ووٹ ڈالیں۔ہم مسلمان قوم ہیں ۔ہمیں اسلام کی تاریخ سے سیکھ کر خود ہی کچھ کرنا ہوگا۔حضرت ابراہیم ؐ نے نوجوانی میں بت توڑ کر اپنے آباؤ اجداد کی غلط روایت کو ختم کیا۔حضرت یوسفؐ نے نوجوانی میں گناہ کی دعوت کو ٹھکرا کر ایمان کے راستے کو ترجیح دی۔طارق بن زیاد، محمد بن قاسم،عبدالرحمن اول، احمد شاہ ابدالی، اور شہاب الدین غوری یہ سب نوجوان ہی تھے،جنہوں نے قرآن و سنت کی بالادستی اور معاشرے کی بحالی و بقاء کے لئے اپنا تن من دھن سب قربان کر دیا۔
ہمیں اپنے ملک کی بقاء کے لئے خود ہی کچھ کرنا ہوگا۔عہد کیجئے کہ خود کا احتساب کرکے معاشرے میں ایک باشعورنوجوان کا اضافہ کریں گے۔
قارئین یہ سارا خلاصہ جس تقریب کی گفتگو کا ہے اس کا ذکر بھی بہت ضروری ہے۔راقم نے تقریب میں مبصر اور ممبر کے تور پر شرکت کی۔عابد غوری جن کی جدوجہد نے پاکستان کے چاروں صوبوں اوروفاق کی نوجوان قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔عابد غوری کا تعلق تحریک انصاف سے ہے اور2013کے جنرل الیکشن میں پی ٹی آئی کی طرف سے پنجاب اسمبلی کے لئے الیکشن بھی لڑ چکے ہیں۔ باقی جن دوستوں نے شرکت کی ۔ان میں سے :لاہور سے بیرسٹر حارث سوہل نے شرکت کی ،جنہوں نے 21سال کی عمر میں بیرسٹر کی ڈگری حاصل کر کے ریکارڈ قائم کیا۔فصاحت حسن یونائیٹڈ نیشن میں پاکستان کے نوجوانوں کی دو بار نمائندگی کر چکے ہیں۔عابد علی اتوزئی خیبر پختونخوا سے لوکل باڈی الیکشن میں یوتھ کے ناظم منتخب ہوئے۔طلحہ نصیر اور ذیشان ہوتی تھیلیسیمیاء جیسی مہلک بیماری پر فلاحی کام کر رہے ہیں۔شرجیل ملک، عدیل مرتضی ،نوید مشتاق اور شہزاد بھی اپنے اپنے علاقوں میں نوجوانوں کے حوالے سے فلاحی کام کر رہے ہیں۔ایسے بہت سے نوجوان اپنی مدد آپ کے تحت پاکستان کی فلاح کے لئے کام کر رہے ہیں۔حکومت کو ایسی تنظیموں اور نوجوانوں کی سرپرستی کرنی چاہئے، تاکہ نوجوانوں جیسا قیمتی سرمایہ درست سمت پر چل پڑے ۔طویل نشت تقریب کے اختتام پر عزم کیا گیا کہ ہم سب مل کر ملک کے نوجوانوں میں شعور اجاگر کریں گے۔ہر سطح پر فلاحی کاموں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں موجود تمام نوجوانوں کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیموں کو یکجا کر کے ایک نئی ہمت و جزبے کے ساتھ سیاسی و سماجی شعور اجاگر کر کے ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔اسی حوالے سے ڈیموکریٹک یوتھ نامی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا۔

Sunday, 4 February 2018

مسئلہ کشمیر کب حل ہوگا!


چوہدری ذوالقرنین ہندل(میری رائے)۔ذوالقرنین ہندل گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں،مکینیکل انجینئر اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔

سبزے اور پھولوں سے لہلہاتی حسین و جمیل وادی ،پہاڑوں کی خوبصورتی میں لپٹی پرکشش جھیلیں، موسموں کے دلکش نظارے اور پھلوں سی مزید نعمتیں اس وادی کو جنت کہنے پر مجبور کرتی ہیں۔افسوس کے اس حسین و جمیل وادی میں رہنے والے خوبصورت اور بہادر باشندے برسوں سے قید کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔یہ نڈر و غیور قوم یہ سوال ضرور دل میں رکھتے ہوں گے کہ’ آخر مسئلہ کشمیر کب حل ہوگا‘؟۔ پھر خود ہی اس کے جواب میں جذبہ آزادی سے سرشار یہ لوگ کہتے ہوں گے کہ’ آخر کب تک‘؟۔ اللہ کے کرم سے ایک نہ ایک دن تو ہمیں آزادی ضرور نصیب ہوگی۔انشاء اللہ!
کشمیری برسوں سے آزادی کے حصول کے لئے لڑ رہے ہیں۔مگر ان کے ولولے میں کبھی کمی نہیں آئی۔بہت ثابت قدم قوم ہے۔کشمیری ایسے پھولوں کی مانند ہیں، جنہیں ان کے اپنے ہی آنگن میں مسل اور مسخ دیا جاتا ہے۔مگر وہ پھر اگلی صبح نئی امید اور مہک کے ساتھ پنپتے ہیں۔برسوں سے قابض بھارتی فوج نے ظلم و ستم کی ایسی داستانیں قائم کیں ہیں ،جنہیں بیاں کرنا بھی مشکل ہے۔انسانیت کا درد رکھنے والا کشمیریوں پر ہوتے ظلم کی داستان سن کر تھر تھر کانپے اور بھارت کے لئے بددعا کرے۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ امریکہ کی گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق 45فیصد کشمیری ڈپریشن جیسی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہیں۔میرے نزدیک تو 90فیصد کشمیری نفسیاتی مریض ہوں گے۔جب آپ اسی خوف میں ہوں کہ آپ کے آنگن کے پھول اور کلیاں مسل دیئے جائیں گے ۔ ہستا بستا گھرانہ اجڑ جائے گا۔آپ آنکھوں کی بنائی سے محروم ہو جائیں گے۔ اپنوں کو بھارتی ظلم کا نشانہ بنتے دیکھ کر کچھ نہ کر پائیں گے۔پریشانیوں کا دھڑکا تو لگا ہی رہے گا۔تو کیسے نفسیاتی بیماریاں کم ہوں گی۔ بلکہ پورا معاشرہ ہی اس وہم میں مریض بنتا جائے گا کہ ،آخر کب تک اس کی نسلیں درندگی کا نشانہ بنتی رہیں گی؟
بھارت کشمیر کو ہر حال میں ہضم کرنا چاہتا ہے۔پاکستان اپنے مسائل میں ہی الجھا رہتا ہے۔مسلم دنیا خو دالجھی ہوئی ہے۔چین جیسا فریق ویسے ہی خاموش تماشائی ہے۔اقوام متحدہ ،انسانیت کی نام نہاد تنظیمیں اور دنیا کے پاس تو ویسے کشمیر کے لئے وقت نہیں ۔مسئلہ کشمیر بھی دنیا کے ایسے حل طلب مسئلوں میں سے ہے۔ جسے شاید دنیا کی طاقتیں حل کرنا ہی نہیں چاہتیں اور نہ ہی ایسی کوئی کوشش کرتی ہیں۔بلکہ اسے مزید اجھایا جاتا ہے۔
کشمیر ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے۔ جس نے لاکھوں کشمیریوں کی جانوں کا نذرانہ لیا ہے، مگر اب بھی جوں کا توں ہے۔یہ مسئلہ انسویں صدی کا ہے۔یہ تاثر بھی غلط دیا جاتا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے تحریکیں قیام پاکستان کے بعد شروع ہوئیں۔تاریخ گواہ ہے کہ 1832میں جب کشمیری مسلمانوں کو بھی باغی قرار دے کر مسلمانوں کی کھالیں اتاری گئیں اور انہیں سرعام لٹکایا گیا تو منظم طریقے سے آزادی کی تحریکیں شروع ہوگئیں۔مارچ 1846میں انگریزوں نے کشمیر کو 75لاکھ کے عوض سکھ راجہ کو فروخت کیا تو آزادی کی باقاعدہ تحریکیں شروع ہوگئیں۔کشمیریوں کی تحریکوں کو کچلنے کے لئے مسلمانوں کی شہادتیں معمول بننے لگیں۔ پھر1931میں قرآن پاک کی توہین کے خلاف تحریک چلائی گئی تو اسے کچلنے کے لئے بہت سے مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا۔جس سے مسلمان آزادی کے لئے مزید متحرک ہوگئے۔اگست1931میں مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کی قیادت میں یوم کشمیربھی منایا گیا۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 1946میں کشمیر میں مسلم کانفرنس میں شرکت کی اور کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔جولائی1947کو مسلم کانفرنس میں’ قرار داد الحاق پاکستان‘ منظور ہوئی۔مگر بھارت کی چالاکیوں سے تنگ آکر مسلح جدوجہد کا آغاز کیا گیا۔راشٹر سوائم سیونک سنگھ نامی ہندو انتہا پسند تنظیم نے راجہ کو قائل کر کے جھوٹا الحاق کروایا۔ایسے میں مسلمان مجاہدین نے جدوجہد جاری رکھی اور 15ماہ کی جدوجہد کے بعد کشمیر کا کچھ علاقہ آزاد کروا لیا۔ جسے اب آزاد کشمیر کہتے ہیں۔بھارتی وزیراعظم نہرو کو جب کشمیر ہاتھ سے جاتا نظر آنے لگا تو جنگ بندی کے لئے اقوام متحدہ سے مدد کے لئے بھاگا۔اقوام متحدہ نے جنگ بندی کا حکم دے دیا اور مسئلہ کشمیر کو رائے شماری کے زریعے حل کروانے کی قرار داد منظور کی۔بھارت نے رائے شماری کروانے کا وعدہ کیا ۔مگر بھارت آج تک اپنے اس وعدے سے مکر رہا ہے۔ہوا کچھ یوں کے بھارت نے ہیلے بہانے شروع کردیے۔ رائے شماری کی بجائے معصوم و نہتے کشمیریوں کو شہید کیا جانے لگا۔آزادی کشمیر کی تحریک کچلنے کے لئے 6لاکھ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر پر قابض ہوگئی اور ظلم و تشدد کرنے لگی۔مسلمانوں کی نشل کشی کی پوری کوشش کی گئی۔یہاں تک کے ہندو بستیاں آباد کی جانے لگیں۔صوبے کا درجہ دیا گیا اور نام نہاد حکومتیں بننے لگیں۔پاکستان نے کشمیر کے لئے دنیا بھر میں اپنی آواز اٹھائی۔مگر مکاربھارت نے پاکستان کو پہلے دو لخط کر کے کمزور کیا اور اب بلوچستان میں اپنی کاروائیاں کر رہا ہے۔بھارت نے پاکستان کا پانی ہڑپ کرنے کے لئے کشمیر پر قبضہ کیا ۔پھر کشمیر سے نظر ہٹانے کے لئے پاکستان کو بیک وقت متعدد محاذوں پر الجھا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ RSS باقاعدہ راء کی ٹریننگ کے ساتھ اسرائیلی اسلحے سے لیس کشمیر کے علاقوں میں فیڈ کی جا رہی ہے، تا کہ ظلم و بربریت کے زریعے مسلمانوں کو نسل کشی پر مجبور کیا جائے۔ایسے میں نام نہاد انسانیت پسند تنظمیں کچھ نہیں کریں گی بلکہ مسلمانوں کا اتحاد و اتفاق ہی بھارت کوباز رکھنے کے لئے کچھ کر سکتا ہے۔
یہ تو کوئی نہیں جانتا کہ مسئلہ کشمیر کب حل ہوگا۔مگر یہ ایک بڑا سوال ضرور بن چکا ہے کہ، یہ سنگین ترین مسئلہ کب حل ہوگا؟۔کب برصغیر کے لوگ بالخصوص مسلمان سکون کا سانس لیں گے؟۔دنیا کی طاقتوں سے کسی قسم کی کوئی امید وابستہ نہیں کی جا سکتی ۔کیونکہ یہ مسئلہ انگیزوں کا اپنا تخلیق کردہ ہے۔انگریز کبھی بھی نہیں چاہتے کے اس مسئلے کو حل کیا جائے۔بلکہ برصغیر میں خانہ جنگی کے لئے وہ مزید اس مسئلے کو الجھائیں گے۔تاکہ اس خطے کے مسلمان مستحکم نہ ہو سکیں۔اس مسئلے کے پیچھے ضرور بہت سے بین الاقوامی سطح کے مفاد ات جڑے ہوئے ہوں گے۔جو وقت عیاں کرتا جائے گا۔ وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔یہ ضرور بدلتا ہے اور اللہ نے چاہا تو ایک دن کشمیریوں کی جدوجہد ضرور کامیاب ہوگی۔وقت کشمیر کے لئے سازگار ہوگا۔کشمیر کی آزادی بھارت کی ناکامی ہوگی ۔بھارت اپنے ہی کھودے گڑھوں میں گر جائے گا۔جو کسی کو زبردستی محکوم بنانے کی کوشش کرتا ہے ،وہ خود تباہ ہوجاتا ہے۔کشمیر کی آزادی بھارت میں موجود بہت سی مظلوم اقلیتوں کو بھی جذبہ جدوجہد فراہم کرے گی۔یہ اقلیتیں بھارت سے آزادی حاصل کر کے آزاد حیثیت اختیار کریں گی۔پھر بھارت بکھرنے کی راہ پر گامزن ہوگا۔مگر وقت سنھلنے کا موقع نہیں دیتا۔یہ بکھرتا چلا جائے گا یہاں تک کہ مٹ جائے گا۔یہ وہ وقت ہوگا جب اسلام اس خطے میں مضبوط ہو گا اور مزید پھیلے گا۔کشمیری اسے آغاز فراہم کریں گے۔اللہ نے جب چاہا تب ہی کشمیر آزاد ہوگا۔
یاران جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت
اورجنت کسی کافر کو ملی ہے، نہ ملے گی

Sunday, 28 January 2018

امت مسلمہ کے ذاتی مسائل

چوہدری ذوالقرنین ہندل گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں ، مکینیکل انجینئر اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔

ہر کوئی جانتا ہے کہ مسلم دنیا ہمہ وقت متعدد مسائل کا شکار ہے۔دشمنان اسلام کی طرف سے تخلیق کردہ مسائل سے تو ہر کوئی باخوبی علم رکھتا ہے ۔مگر ہم اپنے پاؤں پر ماری جانے والی اپنی کلہاڑیوں کو پہچاننے سے کتراتے ہیں۔دین اسلام کے دشمن تو اول روز سے ہی نت نئی سازشوں اور پرپیگنڈہ میں مصروف ہیں۔ماضی کے ادوار سے بھی اس بات کا باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ہمیں حضور اکرمﷺ کے دور سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔آپ ﷺ نے راہزنوں اور لٹیروں کو کیسے مہذب قوم بنایا۔آپﷺ کی تعلیمات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ۔آج ہم آپﷺ کی تعلیمات پر مکمل عمل پیرا نہیں اسی بدولت دشمنوں کی سازشوں میں پھنستے چلے جا رہے ہیں۔آپﷺ کے دور اور صحابہ اکرم رضی اللہ کے ادوار میں مسلمان مٹھی بھر تھے ۔مگر ان کے حوصلے اور ایمان پختہ تھے ۔اللہ نے اس وقت کے حقیقی مسلمانوں کو مدد فراہم کی اور یوں اسلام دنیا میں پھیلتا گیا۔
آج مسلمان دنیا کی کل آبادی کا 25فیصد حصہ ہیں۔دنیا میں دوسری بڑی مذہبی آبادی ہیں۔مگر مسائل کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی آبادی ہیں۔موجودہ دور میں دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی کی زد میں آنے والوں میں 76فیصد مسلمان ہیں۔دنیا کے مسلح تنازعات میں سے 60فیصد تنازعات کی زد میں مسلمان ہیں۔دنیا میں موجودمہاجرین کی بات کی جائے تو 67فیصد مسلمان مہاجرین ہیں۔جن میں سے متعدد دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔جیسے روہنگیا مسلمان،فلسطینی مسلمان اور کشمیری مسلمان وغیرہ۔
مانتے ہیں کہ ایسے حالات کے پس پردہ یہود و نصاری کی صدیوں پرانی منظم منصوبہ بندی ہے۔مگر ماضی میں بھی تو مسلمانوں نے ایسی سازشوں کا سامنا کیا اور ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اور ایمان والوں اور بے دینوں میں فرق واضح کر دیا۔حقیقت تو یہ ہے کہ اب ہمارے جذبات ختم ہو رہے ہیں۔ ہمارا ایمان کمزور ہے ۔جس سے بے دین فائدہ اٹھا رہے ہیں۔آج اپنی اس حالت کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔
پختہ ایمان اور عمل صالح کا فقدان۔ موجودہ دور میں ہم عمل و کردار سے تو کوسوں دور ہیں۔ہمارے کردار میں میں مسلمانوں کی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔ہمارے ایمان کی بات کی جائے تو وہ بھی کمزور ہو چکا ہے ۔ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان تو رکھتے ہیں۔ مگر ہم قران اور حدیث کی رہنمائی حاصل کرنے کی بجائے اپنے ہی تجربات و خیالات کی من مانی کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم زوال کا شکار ہو رہے ہیں۔ جب ہمارے ایمان ہی پختہ نہیں ہوں گے اور ہم خود اپنی بھلائی کا نہیں سوچیں گے۔ایسے میں اللہ ہماری رہنمائی کیسے کرے گا؟
دنیا سے محبت اور موت کا ڈر۔ہم سب وھن کی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔یعنی ہمیں دنیا اور دنیا داری سے اتنی محبت ہو چکی ہے کہ موت ہمیں یاد ہی نہیں اور موت سے آنکھیں چراتے ہیں۔ہم دنیا کی اس بناوٹی محبت میں اللہ کی محبت سے دور ہوچکے ہیں ۔اس دنیا اور زندگی کی محبت نے ہمیں دنیا وی طاقتوں کے تابع کردیا ہے ۔ آج ہم دنیا کی چاہت و لذت میں جانے انجانے میں بے دینوں کی پیروی کرتے ہیں۔ 
اتفاق و اتحاق کا فقدان ۔ہمارے ذاتی مفادات اور خواہشات نے ہمارے اتحاد و اتفاق کی دھجیاں اڑا دیں۔ہم اپنے مفادات کی دوڑ میں اپنے بھائی چارے کو روندھتے چلے گئے ۔ اب بھی ایسی دوڑ اور راستے پر گامزن ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کبھی مسلم دنیا کا معنی خیز اتحاد معرض وجود میں نہیں آیا ۔ کفار اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
تعلیم کا فقدان ۔ہم نے قرآن کی پہلی صورت و آیت ’اقراء‘ کو بھلا دیا ہے ۔تعلیم کے میدان میں بھی ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔جبکہ قرآن میں علم کو بڑی فوقیت دی گئی۔دشمن نے علم کے میدان میں سبقت کی وجہ سے ہمارے معاملات پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔آج ہمارے زرائع ابلاغ پر دشمنوں کا قبضہ ہے اور اپنے اس قبضے کی بدولت وہ مسلمانوں کو اخلاقی لحاظ سے کمزور کر رہے ہیں۔میڈیا کے زریعے مسلم دنیا میں انتشار پھیلا رہے رہے ہیں۔
عیش و عشرت اور کاہلی۔عیاشی، سستی اور کاہلی نے تو جیسے ہمارے زوال پر مہر لگادی ہو۔ہماری عیاشی و کاہلی نے معاشرے کو کھوکھلا کرکے ہمیں اخلاقی و معاشی پسماندگی کی طرف دھکیل دیا۔عیش و عشرت میں دین سے ایسے دور ہوئے کہ بربادی نے ہمیں سنبھلنے کا موقع بھی نہ دیا ۔عیش و عشرت میں ہم نے اللہ کی طرف مسلمانوں کو ملنے والے انعام (زرعی و معدنی وسائل )کا بھی غلط استعمال شروع کردیا۔ہمارے معدنی و زرعی وسائل بھی دشمنوں کے ہاتھ اونے پونے فروخت ہو رہے اور خاتمے کی طرف رواں دواں ہیں۔آپﷺ کی حیات مبارکہ سے دیکھا جائے تو آپﷺ نہ صرف اپنے کام خود کرتے بلکہ دوسروں کے کام میں بھی ہاتھ بٹاتے۔
کرپشن و بددیانتی اور احساس کمتری۔کرپشن اور بددیانتی نے ہمیں احساس کمتری کا شکار کردیا ۔کرپشن کے گرم بازار کی گرماہٹ نے ہمارے ایمان کی کمزوری کو عیاں کردیا ہے۔ہماری بدیانتی کو استعمال کرتے ہوئے بے دین لوگوں نے ہمیں اپنے تابع کرنے کے لئے ہمیں سود پر قرض کے کھیل میں دھکیل دیا اور سود کے حرام مال نے ہمارے خون میں تبدیلیاں شروع کردیں۔ اس تبدیلی نے ہماری خودمختاری کو ختم کر کے ہمیں تابع رہنے کی عادت ڈال دی۔یوں ہم احساس کمتری کے سفر پر گامزن ہیں۔
تفرقہ بازی۔ہم رنگ و نسل اور فرقوں و مسلکوں کی تفریق میں ایسا گھرے ہیں کہ ایک لڑی میں پرونا تو ہمیں آتا ہی نا ہو۔ہم خود ایک دوسرے کو کافر قرار دے کر انتشار کو فروغ دے رہے ہیں۔ دشمن ہمارے انتشار کو پروان چڑھا کر ہمیں کھوکھلا کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔آج ہم اتنے شدت پسند ہو چکے ہیں کہ ایک دوسرے پر کفر کے فتوے جاری کردیتے ہیں ۔معاملات کو سلجھانے کی بجھائے مزیدالجھاتے ہیں۔یوں ہمارے انتشار کا سفر جاری ہے۔
اصلاح کا فقدان۔اصلاح کی بات کی جائے تو ہم اپنی اصلاح کی بجائے دوسروں کو اصلاح کے مشورے دیتے ہیں۔دوسروں کو برا کہنا اور خود غلطی پر غلطی کرتے جان ہمارا معمول بن چکا ہے۔اگر کوئی اصلاح کا مشورہ دے تو اس پر عمل کرنے کی بجائے ہم الٹا اس پر تنقید کرتے ہیں۔خود احتسابی تو جیسے ہمارے پاس سے بھی نہ گزری ہو۔
انصاف کا فقدان اور ظلم کا بول بالا۔ظلم و زیادتی اور نانصافی ایک اہم ترین فیکٹر ہے۔حضرت علی رضی اللہ کا قول ہے کہ’’معاشرے کفر کے ساتھ تو باقی رہ سکتے ہیں لیکن ظلم کے ساتھ باقی نہیں رہ سکتے‘‘۔
ہم اپنے ماضی پر نظر دوڑائیں تو مسلمانوں کا ایک اہم اصول انصاف تھا۔اسلام نے ہمیشہ سے ظلم و زیادتی کو ختم کرنے اور انصاف کو رائج کرنے کی کوشش کی۔اسی انصاف کی بدولت مسلمانوں نے دنیا پر حکومتیں قائم کیں اور کامیابی سے چلائیں۔مسلمانوں نے ہمیشہ سے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا اور ان کے ساتھ صلح و انصاف کے ساتھ رہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جس حکومت میں انصاف کی دھجیاں اڑائی گئیں ان کا خاتمہ ہی ان کا مقدر ٹھہرا۔انصاف کا دامن چھوڑنے پر مسلمانوں کی حکومتیں بھی ختم ہوئیں ۔جیسے مغلیہ سلطنت۔ہمارے ہاں بے جانانصافی نے ہمارے معاشرے اور نظریے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔
بہت سے ایسے مزید فیکٹربھی ہیں جو ہماری بربادی کا سبب ہیں۔بے دین طاقتوں کی سازشوں کا عمل دخل بھی اس وقت کامیاب ہوتا ہے۔ جب ہم کمزور اور کھوکھلے ہوں۔ہمیں اپنے ذاتی مسائل کو سمجھنا ہوگا۔ہم دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ تب ہی کر سکیں گے۔جب ہم اسلام کے جھنڈے کو مضبوطی سے تھام کر ایمان، اتحاد اور تنظیم کو فروغ دیں گے۔جب انصاف کا بول بالا ہوگا۔

Sunday, 21 January 2018

قانونی گرفت یا غنڈہ گردی

چوہدری ذوالقرنین ہندل گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں، مکینیکل انجینیئر اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔
دنیا بھر میں غنڈہ گردی کوایک بڑی بد عنوانی و جرم تصور کیا جاتاہے۔غنڈہ گردی کرنے والوں کو غنڈہ گرد کہا جاتا ہے۔دراصل غنڈہ گرد اپنے مفادات کے لئے سرعام مار پیٹ کرتے ہیں۔لوگ ان کے ناموں سے تھر تھر کانپتے ہیں۔روپے پیسے کے عوض غنڈہ گرد خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔بلکہ بہت سے قانون دان ، سیاستدان اور قانون پر عملدرآمد کروانے والے خود ان کے محافظ ہوتے ہیں۔کسی بھی ملک کے اندرونی انتشار و قتل وغارت میں ان کا ہاتھ ہوتا ہے۔پولیس اور دوسرے سیکورٹی ادارے اسے کاؤنٹر کرنے کے لئے بنائے جاتے ہیں۔جدید نظریے اور نئے واقعات کے پیش نظر غنڈہ گردوں میں صرف سول غنڈہ گرد ہی نہیں بلکہ سیاسی غنڈہ گرد قانونی غنڈہ گرد اور قوانین پر عملدرآمد کروانے والے غنڈے بھی موجود ہیں۔مختلف ترقی پذیر ممالک میں غنڈہ گردوں کی یہ ساری اقسام موجود ہیں۔پاکستان بھی ایسے ممالک میں سے ایک ہے جہاں قانون پر عملدرآمد کروانے والے ادارے ،لوگوں کو پرسکون ماحول فراہم کرنے اور جرائم کی روک تھام کے لئے تعینات کردہ سرکاری ملازمین بھی غنڈہ گردی کرتے ہیں اور یہی غنڈہ گرد سیاسی غنڈہ گردوں اور دہشتگردوں کو محفوظ ماحول و راستہ فراہم کرنے کے لئے قانونی گرفت کو پس پست ڈال کر غنڈہ گردی کی گرفت کو پروان چڑھاتے ہیں اور دن دیہاڑے قانونی گرفت کی آڑ میں جعلی مقابلوں میں عام عوام اور معصوم لوگوں کو قتل کرتے ہیں ۔قانونی گرفت کی آڑ میں کھیلی جانے والی غنڈہ گردی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔تھانوں کچہریوں میں بھی لوگ اس غنڈہ گردی سے متاثر ہوتے ہیں۔
نئے سال کا آغاز پاکستان کے لئے انتہائی اذیت ناک رہا۔نئی نوید کی بجائے پرانے جرائم اور مجرم کھل کر سامنے آنے لگے۔گڈ گورنس کے نعرے لگانے والی حکومتیں اور ادارے اور ان کی قانونی و ریاستی معاملات پر گرفت سب عیاں ہو گئے۔سال نو کے ابتدائی ہفتے میں افراتفری ، بے بسی،لاقانونیت،بدعنوانی اور جبر سب سامنے آگئے۔ ہمیشہ کی طرح امن و امان کو شکست دے کر جرائم نے غلبہ حاصل کیا۔قانون و قوانین کی تو دھجیاں اڑتی نظر آئیں۔بد عنوانیوں کی لہروں کی راہ میں نہ کوئی قانون غالب آیا نہ ہی کوئی قانونی ادارہ نہ ہی کوئی پارلیمنٹ نہ ہی کوئی جمہوریت،سب کی گورنس عیاں ہو گئی۔گزشتہ کچھ واقعات نے ثابت کردیا ہے کہ وقت ضرور بدلا ہے مگر ظالم و مظلوم ہمیشہ ویسے ہی رہتے ہیں۔ظالم آج بھی اتنا بھیانک و جابر ہے اور مظلوم آج بھی معصوم و لاچار ہے۔ ہمیشہ کی طرح ہمارے منتخب نام نہاد جمہوری نمائندوں نے انسانیت کی اڑھتی دھجیوں پر مذمت ضرور کی مگراس نظام کو بدلنے کے لئے برسوں سے کچھ نہیں کیا جہاں قانون و قانونی گرفت کی بجائے جاگیرداروں نمبرداروں اور امراء کے اصول و حکم اور انہیں کی گرفت ہے۔آخر کوئی اپنے پاؤں پر کلہاڑی کیوں مارے گا اور وہ بھی جاگیردار سیاستدان ہر گز نہیں وہ بھاؤلا تو نہیں نا۔جمہوریت کے دعویدار، سیاست و جمہوریت نام کی دکانداری کرتے ہیں اور باری باری اسے چمکاتے ہیں اور یوں ازلوں سے ان کے مفادات کا بازار گرم ہے۔یاد رکھئے!’جب تک مفادات کا بیوپار سرگرم ہے تب تک ملک و ملکی خودمختاری کا ہی سودہ ہوگا‘۔ایسے میں ملک افراتفری کا شکار ہوگا جو ملک کو دھیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کردے گی۔گزشتہ چند روز سے قانون ،معاشرے یہاں تک کہ انسانیت کی جو دھجیاں اڑ رہی ہیں انہیں شاید سمیٹنا مشکل ہوجائے۔زینب قتل کیس ،اسماء قتل کیس اور ایسے ہی دیگر کئی جنسی درندگیوں کے اذیت ناک کیسز ہمارے معاشرے اور انسانیت کے خاتمے کی علامت ہیں۔یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہاں انسان نما حیوان آباد کار ہیں۔ایسے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں جو صرف حیوان ہی کر سکتے تھے مگر ہمارے باسیوں نے انہیں انجام دے کر حیوانوں کی ایک نئی قسم متعارف کروائی ہے جو دیکھنے میں تو انسانوں سی شکل و شباہت رکھتے ہیں مگر حقیقت میں حیوان ہیں کیونکہ انہیں نہ کسی رشتے کی پہچان ہے اور نہ ہی کسی رشتے دار کی نہ ہی کسی خون کی پہچان ہے۔یہ حیوان ہیں اور قانون سے بالاتر ہیں۔
ہر شخص خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔جس کا جو جی چاہتا ہے کرتا ہے۔ اچھے برے کی کوئی تمیز نہیں۔نہ کوئی قانون نظر آتا ہے نہ ہی کوئی قانون دان اور نہ ہی کوئی قانون پر عملدرآمد کروانے والا۔کوئی کسی قسم کی قانونی و ریاستی گرفت نہیں رہی سب اپنی ہی پالیسیوں پر گامزن ہیں۔قانون بنانے والے یعنی منتخب نمائندے خود اپنے بنائے ہوئے قوانین کی پاسداری نہیں کرتے۔قانون کو صرف اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں اور یہاں تک کہ ذاتی مفادات کی بنا پر پارلیمنٹ پر لعنت بھی بھیجتے ہیں اور عدلیہ و قانونی اداروں پر جملے کستے ہیں۔جس پارلیمنٹ میں بیٹھنے کے لئے کروڑوں روپے خرچ کر کے منتخب ہوتے ہیں پھر اس پر ہی لعنت بھیجتے ہیں۔خود ہی عدلیہ کو بحال کرواتے ہیں اور اپنے برعکس فیصلہ آنے پر عدلیہ کو جھوٹے و مکار جیسے لقب سے نوازتے ہیں۔قانون دان یعنی وکلاء قانون کی دھجیاں اڑانے سے باز نہیں آتے۔پاکستان کے دفاعی ادارے آرمی کو بھی اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے والے جرنیل بھی قانون کو ماننے کی بجائے اپنی من مانی کرتے ہیں۔پولیس والے خود کو غنڈہ سمجھتے ہیں اورقانون پر عمل کروانے کی بجائے قانون کو پامال کرتے ہوئے جعلی مقابلے کرتے ہیں۔گزشتہ چند روز سے کراچی کے امن و امان کی صورتحال کھل کر سامنے آگئی ہے پہلے تو بغیر وردی یعنی سول غنڈے،بھتہ خور اور ٹارگٹ کلرز موجود تھے مگر اب کے بار تو سرکاری غنڈے بھتہ خور اور ٹارگٹ کلرز بھی کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں جن میں سندھ پولیس و سیکورٹی اداروں کی طرف سے متعدد معصوموں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔نقیب ہو یا مقصود یا کوئی اور تمام واقعات ہمارے اداروں کے منہ پر طمانچے ہیں وہی ادارے جو عوام کی بھلائی و فلاح کے لئے بنائے گئے وہی عوام پر قابض بن بیٹھے ہیں اور قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔یہ کیسا ملک ہے جہاں ریاستی ملازم خود کو مالک سمجھتے ہیں اور عوام کو غلام۔کسی قانون کی کوئی گرفت نہیں گرفت ہے تو غنڈہ گردوں کی ،گرفت ہے تو سیاستدانوں، جاگیرداروں ،بزنس ٹائیکونوں،امراء اور بڑے افسروں کی ۔یہ سب قانون سے بالاتر ہیں ان کے لئے کوئی قانون نہیں اور نہ ہی کوئی قانونی پاسداری اور یہ سب قانونی گرفت کی آڑ میں غنڈہ گردی کے کھیل رچاتے ہیں۔عام معصوم لوگوں کو جعلی مقابلوں میں مارنا ان کا معمول ہے اور یہ برسوں سے ہوتا آ رہا ہے اور یہ تب تک ہوتا رہے گا، جب تک قانون کے رکھوالے بھی قانون کی پاسداری نہیں کرتے اور قانونی گرفت کی آڑ میں اذیت ناک جعلی پولیس مقابلوں کے کھیل کو ترک نہیں کرتے ۔اگر عوام کے جان ومال کا تحفظ ہی نہیں تو پھر کیا فائدہ ملک کا۔قائد کے بنائے ملک کو انصاف و قانون کے راہ پر چلانا ہے نہ کے قانون کی آڑ میں چھپے مفادات کے متلاشیوں کی راہ میں جو دشمن کے ایجنڈے کو فروغ دیں اور دشمن کو فائدہ پہنچائیں۔میں چیف جسٹس کا شکر گزار ہوں کہ وہ ایسے واقعات پر از خود نوٹسز لے رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ حکومت و دوسرے ادارے بھی اپنے ہونے کا ثبوت دیں گے۔اپنے کام کو قانون و آئین کے مطابق سرانجام دیں گے۔جب تمام ادارے اپنے اختیارات کا درست استعمال کریں گے تو انتشار و افراتفری کو شکست کا سامنا ہوگا اورجلد پاکستان اپنے اندرونی معاملات کو نمٹا لے گا۔نئے سال میں نئے عزم و نیک خیالات کو جنم دیجئے ۔