Sunday, 15 July 2018

الیکشن اور ضلع گوجرانوالہ کی سیاسی و انتخابی صورتحال


چوہدری ذوالقرنین ہندل:لکھاری گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں، مکینیکل انجینیئر اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔

گوجرانوالہ پہلوانوں کا شہر،خوش خوراک لوگوں کا مسکن،حسن پرستوں اور مہمان نوازوں کا گھر ہے۔گوجرانوالہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا پانچواں بڑا شہر ہے۔جو رقبہ کے لحاظ سے3198kmsqپر پھیلا ہوا ہے۔شہر کی کل آبادی 2238243نفوس پر مشتمل ہے۔گوجرانوالہ کو صنعتی لحاظ بڑا درجہ حاصل ہے ۔یہی وجہ ہے کہ، پاکستان کی سالانہ جی ڈی پی میں گوجرانوالہ کی 5%شراکت ہوتی ہے۔ضلع گوجرانوالہ کی بات کی جائے تو اس میں شہر کی دو تحصیلوں(صدر،سٹی) کے ساتھ دیہی علاقوں کی تحصیلوں کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ جس میں کامونکی ،وزیر آباد اور نوشہرہ ورکاں شامل ہیں۔رقبہ کے لحاظ سے ضلع کی حدود3622kmsqتک پھیلی ہوئی ہیں۔جبکہ ضلع کی کل آبادی5014196نفوس پر مشتمل ہے۔سیاست کی بات کی جائے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ ،گوجرانوالہ کی بھولی عوام ہمیشہ سے اپنے نمائندے چننے میں فہم و فراست سے کام نہیں لیتی۔یہی وجہ ہے کہ گوجرانوالہ جیسا بڑا ضلع آج بھی بہت سی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔قومی اسمبلی کی نشتوں کی بات کی جائے تو، گوجرانوالہ ضلع چھ قومی حلقوں پر مشتمل ہے۔حلقہ بندیوں سے پہلے نشتوں کی تعداد سات تھی ،جو اب کم ہوکر چھ رہ گئی ہے۔اسی طرح صوبائی اسمبلی کی نشتوں کی تعداد 14ہے۔قومی اسمبلی کے حلقے 79سے لے کر84 تک جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقے51سے لے کر 64تک ہیں۔گوجرانوالہ کو جی ٹی روڈ کی سیاست کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ جو ماضی میں حکومتوں کی تخلیق میں اہم کردار نبھاتا رہا ہے۔ گوجرانوالہ ماضی میں مسلم لیگ ن اور ق کا گڑھ رہ چکا ہے ،بلکہ گوجرانوالہ کو اب بھی مسلم لیگ ن کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔مگر الیکشن 2018کی بات کی جائے تو صورتحال بالکل تبدیل ہو چکی ہے۔الیکشن سے عین قبل مسلم لیگ ن کے دو ایم این ایز رانا عمر نذیر اور میاں طارق کا پارٹی کو خیر آباد کہہ کر تحریک انصاف میں شامل ہونا ،اور اپنے ساتھیوں اور حلقے پر اثر انداز ہونا۔ تحریک انصاف کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔اسی بنا پر تحریک انصاف اب مسلم لیگ کے لئے آسان حدف نہیں رہا۔اور آل صورتحال میڈیا ایجنسیز کے سروے اور ہماری اپنی تشخیص کے مطابق اندازہ لگایا جائے تو ;گوجرانوالہ کے ووٹرز کی تقسیم کچھ اس طرح سے ہے۔مسلم لیگ ن 45%تحریک انصاف39%باقی تیسری پوزیشن تحریک لبیک اور آزاد امیدوران جبکہ چوتھی پوزیشن پی پی پی کی ہوگی۔ضلع کے ہر حلقے میں اصل مقابلہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان ہے۔گوجرانوالہ کے حلقہ NA79 کی بات کی جائے تو یہ حلقہ تحصیل وزیر آباد اور علی پور ٹاؤن کے علاقوں پر مشتمل ہے ۔جس کی کل آبادی830396نفوس پر مشتمل ہے۔یہاں سے مسلم لیگ ن کے امیدوار ڈاکٹر نثار چیمہ ہیں جو سابق آئی جی ذوالفقار چیمہ اور سابق ایم این اے افتخار چیمہ کے بھائی ہیں۔افتخار چیمہ اسی حلقہ سے دو دفعہ2008اور2013میں ایم این اے منتخب ہو ئے تھے۔جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار احمد چٹھہ ہیں ۔ جو سابق اسپیکر قومی اسمبلی حامد ناصر چٹھہ کے بیٹے ہیں۔اس حلقے میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔تاہم پی ٹی آئی کے جیتنے کے چانسز زیادہ ہیں۔اس حلقہ کے زیر نگیں صوبائی اسمبلی کے حلقہً PP51,52 پر کانٹے کامقابلہ متوقع ہے۔حلقہNA80کی بات کی جائے تو یہ حلقہ گوجرانوالہ کینٹ راہوالی قلعہ دیدار سنگھ اور شہر کے کچھ علاقوں پر مشتمل ہے۔جس کی کل آبادی833310نفوس پر مشتمل ہے۔یہاں سے مسلم لیگ ن کے امیدوار محمود بشر ورک ہیں۔جو سابق وفاقی وزیر رہ چکے ہیں۔پی ٹی آئی کے امیدوار میاں طارق محمود ہیں ۔جو سابق ایم این رہ چکے ہیں اور کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔اس حلقے میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے تاہم الیکشن سے قبل جیت کا اندا زہ لگانا مشکل ہے کیونکہ یہاں ففٹی ففٹی چانسز ہیں۔تاہم اس کے زیر نگیں صوبائی نشتوں PP53,62پر پی ٹی آئی کا پلڑا بھاری دیکھائی دیتا ہے۔حلقہNA81کی بات کی جائے تو یہ گوجرانوالہ شہر کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ جس میں سیٹلائٹ ٹاؤن اورپیپلز کالونی کے علاقے بھی شامل ہیں۔جس کی کل آبادی852472نفوس پر مشتمل ہے۔یہاں مسلم لیگ ن کے امیدوار خرم دستگیر ہیں ۔جو سابق ایم این اے دستگیر خاں کے بیٹے اور سابق وفاقی وزیر ہیں۔دستگیر خاندان عرصہ درازسے ہی گوجرانوالہ سے یہ نشست جیت رہا ہے۔خرم دستگیر کے مد مقابل پی ٹی آئی کے امیدوار صدیق مہر ہیں۔اس حلقہ میں خرم دستگیر گروپ کافی مضبوط ہے اور ان کے جیتنے کے امکانات واضح ہیں۔تاہم اس کے زیر نگیں صوبائی نسشتوںPP54,58 پر کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔خصوصی تور پر PP54جہاں پومی بٹ کے بھائی عمران خالد بٹ مسلم لیگ ن اور سابق میئر اسلم بٹ کے بیٹے رضوان اسلم بٹ پی ٹی آئی کی طرف سے مد مقابل ہیں۔اندرون شہر کی اس نسشت پر مقابلہ بازی زور و شور سے جاری ہے۔ دونوں ہی گروپ خاصے مقبول اور مضبوط ہیں۔ یہاں مقابلہ ففٹی ففٹی ہے، اسی لئے اس صوبائی نشت کے نتائج کے بارے کچھ کہنا جلد بازی ہوگی ۔حلقہNA82 گوجرانوالہ کا سب سے بڑا حلقہ ہے ۔جس کی کل آبادی867382نفوس پر مشتمل ہے۔اس حلقہ میں گوجرانوالہ میونسپل کارپوریشن اور ضلع گوجرانوالہ کے مختلف علاقے شامل ہیں۔یہاں سے مسلم لیگ ن کے امیدوار سابق وفاقی وزیر عثمان ابراہیم ہیں ۔جبکہ ان کے مد مقابل سپر ایشیاء گروپ کے مالک علی اشرف مغل ہیں۔تاہم اس حلقے میں عثمان ابراہیم کے جیتنے کے واضح امکانات موجود ہیں۔اس کے زیر نگیں صوبائی نشستوں PP55,56پر بھی مسلم لیگ ن کا پلڑا بھاری دیکھائی دیتا ہے۔حلقہ NA83تحصیل کامونکی،ٹاؤن سادھوکی،تلونڈی موسی خان،منڈیالہ میر شکاراں، کوہلوال، اور گوجرانوالہ شہر کے دیگر علاقوں پر مشتمل ہے۔اس کی کل آبادی837017نفوس پر مشتمل ہے۔یہاں سے مسلم لیگ ن کے امیدوار سابق ایم پی اے ذوالفقار علی بھنڈر ہیں۔جبکہ تحریک انصاف کی طرف سے امیدوار سابق وفاقی وزیر رانا نذیر احمد خاں ہیں۔رانا نذیر گروپ اس حلقہ میں خاصہ مقبول ہے اور سات دفعہ اس حلقہ سے ایم این اے منتخب ہو چکے ہیں۔موجودہ الیکشن میں کانٹے کا مقابلہ ہو سکتا ہے ۔تاہم مختلف زرائع کے مطابق رانا نذیر گروپ کے جیتنے کے چانسز واضح ہیں۔اس حلقہ کے زیر نگیں صوبائی اسمبلی کی نشستوںPP59,60,61پر کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔خصوصی تور پر PP60جہاں پر مسلم لیگ ن کی طرف سے سابق ایم پی اے قیصر سندھو اور پی ٹی آئی کی طرف سے سابق ایم پی اے ظفراللہ چیمہ مد مقابل ہیں۔ یہاں مقابلہ ففٹی ففٹی ہے اسی لئے قبل از وقت کچھ بھی کہنا مناسب نہیں ہوگا۔حلقہNA84یہ گوجرانوالہ کا آخری حلقہ ہے۔جوتحصیل نوشہرہ ورکاں، ایمن آباد ٹاؤن اور گوجرانوالہ میونسپل کارپوریشن کے مختلف علاقوں پر مشتمل ہے۔اس کی کل آبادی793857نفوس پر مشتمل ہے۔یہاں سے مسلم لیگ ن کے امیدوارسابق ایم این اے اور حاجی مدثر قیوم ناہرہ کے بھائی اظہر قیوم ناہرہ ہیں۔جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار سابق ایم این اے بلال اعجاز ہیں۔اس حلقے میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔اس کے زیر نگیں صوبائی نشستوںPP63,64پر مسلم لیگ ن کا پلڑا بھاری دیکھائی دیتا ہے۔تاہم PP63جہاں سے مسلم لیگ ن کے امیدوار سابق صوبائی وزیر اقبال گجر اور تحریک انصاف کے امیدوار سابق ایم این اے راعمر نذیر کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔
قارئین یہ تھی ہماری رائے مگر اصل نتائج تو 25جولائی کو ہی سامنے آئیں گے۔
گوجرانوالہ کے ووٹروں کی بات کی جائے تو آج بھی لوگ گلیوں ،نالیوں، سوئی گیس اور تھانے کچہریوں کے نام پر ووٹ دیتے ہیں۔دیہی علاقوں میں سیاسی فہم نہ ہونے کے برابر ہے۔ البتہ اندرون شہر میں لوگوں کی کچھ تعداد سیاسی بصیرت رکھتی ہے۔مسائل کی بات کی جائے تو سنٹرل پنجاب کے اس ضلع میں آج بھی تعلیم اور صحت کی سہولیات ناکافی ہیں۔شہر آج بھی بڑی سرکاری یونیورسٹی سے محروم ہے۔ایک سول ہسپتال ہے۔ جہاں مناسب سہولیات نہ ہونے کی بنا پر ڈاکٹرز سیریس مریضوں کو لاہور ریفر کردیتے ہیں۔دیہی علاقوں میں بنیادی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔امن وامان کی صورتحال ضرور بحال ہوئی ۔تاہم کاروبار و زراعت آج بھی ویسے ہی ہیں۔چھوٹے کسان مسائل کی گرفت میں ہیں۔روزگارکے مواقع کم ہیں۔سڑکوں اور پلوں کی تعمیر سے آمدورفت کافی بہتر ہوئی ہے ۔تاہم محلوں گلیوں میں آج بھی کوڑا کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔گنجان آباد محلوں اور دیہاتوں میں سیوریج کے مسائل ہیں۔اہم گزرگاہ کنگنی والا پل جو شاید زمانہ انگریز سے بنا ہوا ہے۔اس پل کی ازسر نو تعمیر بہت ضروری ہے۔اس کے علاوہ دیہاتوں کے ساتھ ساتھ شہر کے بھی اکثر علاقوں میں لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔اس کے علاوہ نہ جانے کتنے مسائل جو برسوں سے چلے آرہے ہیں نمائندوں کی توجہ کے منتظر ہیں۔
گوجراونوالہ کے پہلوانوں،حسن پرستوں اور بھولے بھالے لوگوں سے گزارش ہے کہ، اس بار ضرور دیکھ بھال کر ووٹ دیں اور 25جولائی کو اپنا فیصلہ سنا دیں۔

Sunday, 29 April 2018

بجٹ و ترقیاتی سروے حقیقت میں


چوہدری ذوالقرنین ہندل:لکھاری گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں، مکینیکل انجینئر،پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ممبر اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔

گزشتہ روز پارلیمنٹ میں مسلم لیگ ن کے وزیر خزانہ مفتاع اسماعیل نے اپنی حکومت کی طرف سے آخری بجٹ2018-19پیش کیا ۔جس کا حجم 59کھرب32ارب50کروڑ روپے مختص کیا گیا۔جس میں ترقیاتی بجٹ 20کھرب143ارب جبکہ پی ایس ڈی پی کے لئے 800ارب روپے مختص کئے گئے۔وزیر خزانہ نے اپنی حکومت کی طرف سے ترقیاتی کارکردگی پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بن چکا ہے۔بتایا گیا کہ مجموعی ترقی کی شرح 5.4فیصد ہے۔مارچ تک کے سروے کے مطابق افراط زر3.8فیصد رہا، جبکہ شرح نمو 13سال کی سب سے زیادہ سطح پر پہنچ کر5.79فیصد ہوگئی۔اسی طرح حکومت کے مطابق ٹیکس وصولیوں میں پانچ سال کے دور حکومت میں 2ہزار ارب کا اضافہ ہوا۔گزشتہ پانچ سال میں33ہزار 285کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔وغیرہ وغیرہ۔موجودہ حکومت سے معصومانہ سوال ہے کہ اتنا سب کچھ بہتر ہونے کے باوجود عام عوام کیوں ناخوش ہے؟کیوں غریب !غریب تر ہوتا جا رہا ہے؟آج بھی لاکھوں لوگ بے روزگار کیوں ہیں؟کیا 2ہزار ارب کے ٹیکس سے کوئی بھی منصوبہ بندی نہیں کی گئی کہ بے روزگاری کم ہو؟کیا ہزاروں نئی رجسٹرڈ ہونے والی کمپنیوں میں بے روزگار لوگوں کے لئے کوئی نوکری نہیں؟کیاان پانچ سالوں میں ملک میں حالات سے مجبور بے روزگار لوگوں کے لئے بھی کوئی ادارہ بنا یا گیا، کوئی منصوبہ بندی کی گئی؟نہ جانے ترقی کہاں ہورہی ہے۔شاید اشرافیہ کی نظر میں ہو رہی ہو۔کیوں کہ انہیں تو گاڑیوں کے ٹیکس میں چھوٹ مل رہی ہے۔ان کے لئے معیاری سڑکیں بن رہی ہیں۔غریب کے لئے تو روزگار کا حصول ہی افضل ہے۔
مانتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے بہت اچھا بجٹ پیش کیا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھا دیں پنشرز کی پنشنز میں اضافہ ہوگیا۔کھاد بنانے والی کمپنیوں کے لئے ٹیکس میں چھوٹ ہو گئی۔زرعی مشینری پر عائد ٹیکس کم ہوگیا۔الیکٹرک گاڑیوں پر عائد ٹیکس ختم کر دیا۔دودھ مکھن پنیر مچھلی مرغی کی خوراک سستی کر نے کا اعلان کردیا۔ایل این جی لنڈے کے کپڑے جوتے اور میٹرس وغیرہ بھی سستے کرنے کا اعلان کردیا۔کینسر کی ادویات،ایل ای ڈیز اور قرآن پاک کی طباعت والے کاغذ پر بھی عائد ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان۔ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی کم کر کے 50سے25فیصد کردیا۔وغیرہ وغیرہ۔بہت ہی اچھا اقدام ہے، اور پاکستان کی ترقی کے لئے ایسے اقدامات ضروری ہیں۔مگر معصومانہ سوال پھر وہی ہے کہ ،بے روزگاروں کے لئے کیا !کیا گیا؟پاکستان 21کروڑ کی آبادی پر مشتمل ہے۔جس میں سے اکثریت غربت کی زندگی بسر کرہی ہے۔بہت سے لوگوں کو تو ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کا کچھ علم نہیں کہ یہ کیا ہیں۔بہت سے تو گاڑی خرید ہی نہیں سکتے۔دنیا بھر میں ملک کی اکثریت عوام کاپیشہ سرکاری ملازمت ہوتاہے ۔مگر ہمارے ہاں اکثریت عوام پرائیویٹ سطح پر کام کرتی ہے۔سب سے بڑی معیشت زراعت کا حال دیکھ لیجئے چھوٹے کسان ذلت امیز زندگی گزارنے پر مجبور ہیں قرضوں کا بوجھ ہے کہ ان کے سروں پر منڈھلاتا رہتا ہے۔ اب ایسے میں ،کیا بھوکے ننگھے کسان زرعی مشینری امپورٹ کریں گے۔آپ کے دور حکومت میں صرف کسانوں کو ایک ہی فائدہ ملا جو عام عوام تک بھی پہنچا وہ تھا کھاد پر براہ راست سبسڈی مگر اب کھاد پر 10ارب کی سبسڈی کو ختم کر کے اس کے لئے صرف ایک ارب ہی مختص کرنا سراسر زیادتی ہے۔سرکارنے کینسر کی دوا تو سستی کردی مگر کینسر ہسپتال بنانا شاید ضروری نہیں سمجھا۔اکیس کروڑ عوام میں اتنے زیادہ ہسپتالوں کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں ہوتی شاید!
چلیں ہم یہ بھی مان لیتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سالوں میں سے سب سے بہتر بجٹ پیش کیا گیا۔یہ بھی مان لیتے ہیں کہ اس میں غرباء اور ملازمین کے لئے بڑی رعائتی جھلک نظر آ رہی ہے۔مگر معصومانہ سوال ہے کہ ایسا بجٹ گزشتہ پانچ سالوں میں کیوں پیش نہیں کیا گیا؟اب جب کہ حکومت کی مدت میں دو ماہ سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے اتنا عوام دوست بجٹ کتنا معنی خیز ہوگا؟ دو ماہ کی مہمان حکومت کا پورے سال کا بجٹ پیش کرنا اور پھر اپنے دور حکومت کا سب سے اچھا بجٹ !آخر یہ معاملہ کچھ اور ہی لگتا ہے۔کہیں حکومت ایک تیر سے دو شکار کھیلنے کی کوشش میں تو نہیں؟یعنی بجٹ سے عوام خوش اور الیکشن کمپین بھی باخوبی۔یا پھر پیپلز پارٹی کی طرح بجٹ تو نام کا ہے اصل میں مختص رقم تو الیکشن لڑنے اور اپنے زیر التوا پراجیکٹس کی تکمیل کے لئے ہے۔تاریخ گواہ ہے پاکستان میں ہر منتخب حکومت نے سرکاری خزانہ استعمال کر کے ووٹ خریدنے کی ہی سیاست کی ہے ،چاہے کسی آمر کی حکومت ہو یا منتخب جماعت کی۔
موجودہ حکومت سے بہت سے سوالات ہیں۔آج حکومت زراعت کا نام استعمال کرکے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔تعلیم اور صحت کا نام استعمال کرنا چاہتی ہے۔سی پیک کا نام تو پہلے ہی استعمال ہورہا ہے۔مگر افسوس کہ حکومت نے اپنی کسی رپورٹ میں تعلیم کی بہتری کے لئے بنائے جانے والے اسکول کالجز اور یونیورسٹیز کی تعداد نہیں بتائی۔صحت کے حصول کے لئے بنائے گئے ہسپتالوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔آخر ایسا کچھ کیا ہوگا تو رپورٹ مرتب کریں گے۔ دنیا بھر میں،لاہور شہر سے چھوٹے ملک کے چھوٹے چھوٹے شہروں میں متعدد کالجز یونیورسٹیاں اور ہسپتال موجود ہیں۔مگر ہمارے سب سے زیادہ ڈیولپ صوبہ پنجاب کا یہ عالم ہے کہ پورے صوبے کے شہروں سے عوام آج بھی لاہور کے واحد ہسپتال میں ہی علاج کے حصول کے لئے آتی ہے۔ایسا ہی عالم تعلیم کا ہے لوگ پورے پنجاب سے لاہور ہی یونیورسٹیز کے لئے آتے ہیں۔اب جبکہ حکومت دو ماہ کی مہمان ہے۔ایسے میں صحت کے لئے مختص 37ارب اور ایچ ای سی کے لئے مختص47ارب روپے سے کیا ہوجائے گا۔اکیس کروڑ آبادی کے بڑے ملک جہاں اکثریت نوجوان ہوں اور ان کی بھی اکثریت بے روزگار ہو۔ وہاں یوتھ کے لئے 10ارب بہت زیادہ نہیں وہ بھی دو ماہ کی حکومت کی طرف سے۔معصومانہ سوال ہے میٹرو بس، سڑکیں اور اورنج لائن ٹرین تعلیم وصحت کے متبادل ہو سکتی ہیں۔؟افسوس کہ حکومت زراعت ،صحت اور تعلیم جیسے بہت سے سیکٹرز کا بجٹ استعمال کر کے بھی ایک توانائی کے مسئلے کو حل نہیں کر سکی۔جتنا بجٹ موجودہ حکومت کے دور میں تعمیرات پر خرچ ہوا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سی پیک پر چائنہ نہیں بلکہ صرف پاکستان ہی خرچ کر رہا ہو۔باقی رہی بات زراعت کی تو گندم کی فروخت کے لئے باردانہ حاصل کرنے والے کسانوں کو ہی مل لیجئے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔حقیقت میں حکومت کی طرف سے پیش کیا جانے والا ترقیاتی سروے اور بجٹ صرف اور صرف عوام کو دیا جانے والا ایک بہلاوہ ہے۔باقی پاکستان کے سارے ادارے آپ کے سامنے ہیں ۔گزشتہ سالوں کی کارکردگی کا اندازہ لگاتے ہوئے موجودہ حکومت کو پرکھ لیجئے۔بجٹ کے بہلاوے میں نہ آئیے گا ۔کیوں کہ دو ماہ کی حکومت کا،سال کے بجٹ کا کوئی جواز نہیں بنتا، اور نہ ہی یہ حکومت اس بجٹ کے ثمرات عوام تک پہنچا سکتی ہے۔ذرا سوچئے! 


Sunday, 8 April 2018

پی ٹی آئی کا سفر اور نوجوان کارکن


چوہدری ذوالقرنین ہندل:لکھاری گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں، مکینیکل انجینیئر اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف1996میں ایک معروف سابق قومی کرکٹر عمران خان کی کی سربراہی میں سیاسی جماعت کی صورت میں سامنے آئی۔ابتدائی مراحل میں کافی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن عمران خان نے اپنے ارادے و حوصلے پست نہیں کئے وہ ڈٹا رہا۔عمران نے 1997کے جنرل الیکشنز میں سات نشستوں پر انتخابات لڑے کسی بھی حلقے سے بھاری ووٹ حاصل نہیں کرسکے۔پھر 2002کے انتخابات میں میانوالی سے قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے۔پی ٹی آئی نے 2008کے الیکشنز کا بائیکاٹ کیا۔پارٹی 2011میں نئے عزم کے ساتھ عوام کی توجہ کا مرکز بنی۔ طلباء اورنوجوانوں میں کافی مقبول ہوئی۔الیکشنز 2013سے قبل پی ٹی آئی ایک مقبول ترین جماعت بن گئی۔عام انتخابات کے بعد قومی اسمبلی میں تیسری اور بنیادی تور پر دوسری بڑی جماعت بن گئی۔تحریک انصاف نے اس سارے عرصے میں خوب کمپین چلائی۔تحریک انصاف کے کارکن ،پڑھے لکھے باشعورنوجوان اور باہمت مڈل و غریب طبقہ نے تحریک انصاف کو حقیقی معنوں میں بام عروج تک پہنچایا۔ملک کے کونے کونے میں لوگوں میں شعور اجاگر کیا۔سب سے بڑی بات تحریک انصاف نے اپنے پلیٹ فارم سے انتخابات میں عام کارکنوں، نوجوانوں اور غریب لوگوں کو برابری کے درجے کے تحت میدان میں اتارنے کا اعلان کیا۔جسے دیکھ کر کارکنوں نوجوانوں کا جذبہ بڑھا اور ملک کے گلی کوچے میں تحریک انصاف کے تبدیلی کے پیغام کو پہنچایا۔کارکنوں نے بے انتہا محنت کی اور حقیقی معنوں میں تحریک انصاف کو ایک نئی روح و پہچان بخشی۔وقت گزرا 2013کے عام انتخابات آئے پی ٹی آئی کی لیڈرشپ نے دوسری پارٹیوں کے مضبوط امیدواروں کو ساتھ ملانے کی کوشش کی ۔اپنے اس مقصد میں کچھ حد تک کامیاب بھی ٹھہرے۔پارٹی ٹکٹوں کا وقت آیا تو مضبوط اور طاقتور امیدواروں کو ٹکٹ دیئے گئے۔کارکنوں کو نظر انداز کیا گیا۔جن حلقوں میں کوئی مضبوط امیدوار نہ ملا وہاں کارکنوں کو ٹکٹ بھی ملے۔ ان سارے حالات میں کارکنوں نے صبر سے کام لیا۔پارٹی قیادت کی طرف سے تسلیم کیا گیا کے ٹکٹ میرٹ پر تقسیم نہیں ہوئے۔یقین دہانی کروائی گئی کہ آئندہ باشعور اور قابل لوگوں کو ٹکٹ دیں گے۔اب جب کہ 2018کے الیکشنز کا وقت ہے تو خان صاحب پھر یوٹرن مارنے کو تیار ہیں۔خان صاحب کارکنوں نے بڑا صبر کرلیا کچھ ایسے یو ٹرنز پر
جیسے۔1۔شیخ رشید کواپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں۔شیخ رشید کی اور ہماری سوچ ایک ہی ہے۔2۔پرویز الہی پنجاب کا بڑا ڈاکو ہے۔پرویز الہی اور ہم مل کر کرپشن کے لئے لڑیں گے۔3۔آف شور کمپنی رکھنے والے چور ہیں۔میں نے کمپنی ٹیکس بچانے کے لئے بنائی۔ اور مزید بہت سے یوٹرنز جیسے پارٹی میں صاف شفاف انتخابات سے جعلی انتخابات ،کے پی کے میں احتساب سے ناانصافی تک ۔ہر محاذ پر آپ کو کارکنوں نے نہ صرف برداشت کیا بلکہ اپنی پوری کوشش و توانائی سے آپ کادفاع بھی کیا۔خان صاحب جان لیجئے کہ ایک لیڈر اور سیاستدان کے لئے اس کے ورکرز ہی ہمیشہ میدان بناتے ہیں۔اسے بام عروج تک پہنچاتے ہیں۔اس کے لئے لڑتے جگھڑتے ہیں۔اپنی خوشیاں اس کی خوشیوں پر نچھاور کر تے ہیں۔سیاستدان اگر فہم و فرواست والا ہو تو ورکروں کی عزت کرتا ہے انہیں ان کی قربانیوں کا صلہ دینے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ان کی قربانیوں کا ہمیشہ معترف رہتا ہے اور انہیں ہمیشہ سراہتا ہے۔ہر محاظ پر ان کو اعتماد میں لیتا ہے ان سے مشورہ کرتا ہے۔اگر کوئی لیڈر اپنے کارکنوں کی قدر نہ کرے تو یہ کارکنوں کا نقصان نہیں بلکہ لیڈر کی کم عقلی ہے۔یاد رکھئے کہ ورکر عزت و قدر کا بھوکا ہوتا ہے۔اگر انہیں عزت و احترام نہ دیا جائے تو وہ اپنا لیڈر بدلنے کا پورا حق رکھتے ہیں اور ایسا کر گزرتے ہیں۔جو آپ کو شہرت کی بلندیوں پر لے جا سکتا ہے وہ واقعی آپ کو اس شہرت کی بلندی سے گرانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
خان صاحب آپ کو یاد ہو کہ نہ یاد ہو،آپ کی جماعت یوتھ یعنی نوجوانوں کی نمائندہ جماعت تھی۔آپ نے بھی قائد کی طرح نوجوانوں کو پاکستان کے لئے متوجہ کیا۔مگر افسوس کے آپ نوجوان کار کنوں کو نہ تو عزت دے سکے نہ ہی ان کی نمائندگی کرسکے۔پی ٹی وی سنٹر حملہ ہی دیکھ لیجئے آپ کے کارکن کیسے کیسز میں ذلیل ہوتے رہے مگر آپ نے نہ تو انہیں اپنایا نہ ہی ان کی کوئی مدد کی۔انسان اگر شہرت کی بلندیوں پر پہنچنا چاہتا ہے تو اس میں ہمت حوصلہ اور صبر بھی ہونا چاہئے۔خان صاحب موجودہ الیکشنز نزدیک ہیں اور آپ بھی پارٹی میں پرانے بے وفا اور آزمائے ہوئے سیاستدانوں کو بھرتی کر رہے ہیں۔کہاں گئی ؟خان صاحب وہ نوجوانوں کی نمائندگی !وہ جنونی کارکن !وہ تبدیلی !کہاں گئے باشعور لوگ ،وہ طلباء ، اوروہ باہمت غریب؟۔آخر کہاں گئے؟یوٹرن کہیں انہیں بھی ساتھ بہا کر تو نہی لے گیا؟کیا پاکستان تحریک انصاف کا مقدر بھی وہی خاندانی جاگیردار مفاد پرست سیاستدان ہی ہیں جو بھرسوں سے کبھی اس پارٹی تو کبھی اس پارٹی حکومت کے مزے لے رہے ہیں؟بے وفا آزمائے ہوئے اور کرپٹ لوگوں کا ہی ٹولہ بنانا تھا تو پھر کیوں تبدیلی کے دعوے کئے؟کہاں گئی وہ’ نیا پاکستان‘ کی تحریک؟آخر میں !آ پ بھی کرسی کی خاطر جوڑ توڑ کرنے والے ہی نکلے۔تبدیلی تو چھٹیوں پر چلی گئی۔خان صاحب یاد رکھئے گا یہ بے وفا اپنی پارٹی اور لیڈروں کے قصیدے پڑھا کرتے تھے آج انہیں دھوکا دیا کل آپ کو بھی دیں گے۔ان کے لئے حکومت اور اس کے ثمرات افضل ہیں کوئی پارٹی کوئی لیڈر افضل نہیں۔خان صاحب بہادر کارکن اور نوجوان پوچھنا چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو کرپٹ اور لٹیروں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟آپ کے پاس ایسا کونسا کلینر ہے جس میں سے گزر کر ہر کرپٹ کرپشن سے پاک ،ہر چور شریف اور ہر بد تمیزتمیز دار ہو جاتا ہے؟خان صاحب جواب دیجئے گا کہ آپ نے کیوں جہانگیر ترین اور علیم خان جیسے بزنس ٹائیکونوں کے برعکس فوزیہ قصوری، ناز بلوچ اور جسٹس وجیہہ الدین جیسے رہنماؤں کو گنوایا؟تحریک انصاف کا حقیقی نظریہ کیا ہے اور آج پارٹی اپنا نظریہ کیوں بھلا بیٹھی ہے؟کیوں غلط سمت پر گامزن ہیں؟
خان صاحب یہ جو آپ نے اپنے ارد گرد موجود کرپٹ نیب سے شہرت یافتہ لوگوں کے کہنے پر ایم این اے کی درخواست کے لئے ایک لاکھ اور ایم پی اے کی درخواست کے لئے پچاس ہزار کی فیس رکھی ہے۔یہ ان امیر اور دوسری پارٹیوں سے آئے ہوئے مفاد پرست امیروں کے لئے تو موزوں ہے۔ مگر یہ ایک عام شہری اور ورکر ایک نوجوان سیاسی سپاہی اور جیالے کے لئے بہت زیادہ ہے۔یہ غریب کارکنوں امیدواروں اور نوجوانوں کے منہ پر تو آپ کے گرد جمع امراء کا ایک طمانچہ ہے۔آخر یہ ساری سکیم اس لئے تیار کی گئی کہ کوئی ورکر اور غریب ٹکٹ کے لئے اپلائی ہی نہ کر سکے۔آپ ان آزمائے ہوئے کارتوسوں کو ضرور ٹکٹیں دیجئے اور واضح کر دیجئے کہ آپ سیاسی بازار میں زرداری ،نواز اور مولانا حضرات کے بھائی ہی ہیں۔کیا فرق آپ میں اور ان میں ؟وہ بھی کرسی کے لئے ہر طرح کی بدعنوانیاں کرنے والے امراء کو ساتھ ملاتے ہیں آپ بھی ویسا ہی کر رہے ہیں۔ وہ بھی جنونی و جذباتی ورکرز کا استعمال کرتے ہیں آپ بھی ویسا ہی کر رہے ہیں۔خان صاحب آپ ان ساری اسکیموں سے 2018کے الیکشنز تو جیت جائیں گے ،مگر عوام کے دل نہیں جیت پائیں گے۔کارکنوں و نوجوانوں کا حوصلہ ہمت سب ختم ہو جائے گا۔دوران حکومت آپ کو کوئی ڈیفینڈ کرنے والا نہیں ہوگا۔حکومت لعن تعن کا شکار رہے گی۔کارکنوں نے ساتھ چھوڑنا شروع کیا تو آپ کی حالت بھی نواز شریف جیسی ہوگی طرح طرح کے تعنے کسے جائیں گے۔ایسے حالات میں مفاد پرست ٹولہ آپ کا ساتھ دینے کی بجائے آپ کو ہی پارٹی اور حکومت سے الگ کرنے کی اسکیمیں بنائے گا۔یاد رکھئے یہ کرپٹ کبھی کرپشن سے باز نہیں آئیں گے اور نہ ہی آپ سے کنٹرول ہوں گے۔خان صاحب اب آپ کی مرضی ہے کہ عوام کا ساتھ حاصل کر کے نیا پاکستان تشکیل دینا ہے یا پھر مفاد پرست ٹولے کو ملا کر ملک کو مزید کھوکھلا کرنے میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔

Sunday, 1 April 2018

ہماری سلامتی کو لاحق اندرونی خطرات


چوہدری ذوالقرنین ہندل:لکھاری گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں،مکینیکل انجینیئر اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔
آج پاکستان مختلف (سیکیورٹی تھریٹس) خطرات کی وجہ سے متعدد محاظ پر الجھا ہوا ہے۔ایسا تصور کیا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک کی سیاست کا ماحول اس کے جغرافیائی مقام کی اہمیت پر منحصر ہے۔ کسی بھی ملک کے لئے اس کے زمینی حقائق اور اثرات سے بچنا ناممکن ہوتا ہے۔اہم یہ ہے کہ کوئی ملک کیسے اپنے اوپر اثر انداز ہونے والے عوامل و دباؤ کو ہینڈل کرتا ہے۔کسی بھی ملک کی پالیسیاں بھی اس کی زمینی اہمیت پر منحصر ہوتی ہیں۔جغرافیائی لحاظ سے جنوبی ایشیاء کو بحر ہند کا ذیلی خطہ کہا جا سکتا ہے ۔پہاڑی دیواروں کی بنیاد جو کہ کرتھر بلوچستان کی حد سے خیبر پاس تک وسیع ہے۔ہمالیہ کے پہلوؤں کے ساتھ ساتھ مشرق کی جانب پھر یہ تیزی سے جنوب کی طرف آرکانا یامہ کی طرف شمال مغرب سے شمالی مشرقی دیواروں تک۔ جبکہ خلیج بنگال شمال کی طرف ،مرکزی بحر ہند جنوب میں اور بحیرہ عرب مغرب کی طرف جنوبی ایشیاء کے ثقافتی زون کی حد کو مکمل کرتا ہے۔پاکستان اس خطے میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔پاکستان ایسی جکہ پر واقع ہے جہاں تین اہم علاقے آپس میں ملتے ہیں۔جیسے جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور جنوبی مشرقی ایشیاء جسے’ فلکرم آف ایشیاء‘ بھی کہتے ہیں۔ اس زمینی مقام کی بنا پر دنیا بالخصوص ایشیاء کی طاقتیں پاکستان پر اپنی نظریں مرکوز کئے ہوئے ہیں۔پاکستان نا چاہتے ہوئے بھی ایسی لڑائیاں لڑنے پر مجبور ہے جو دنیا کی سیاست کی بدولت پاکستان کے حصے میں آرہی ہیں۔پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں بھی اسی جغرافیائی لوکیشن کی بدولت ہیں۔پاکستان ایک ایسا رفاقتی معاشرہ ہے ،جہاں بہت سے مذہبی گروپ فقط چھوٹی چھوٹی باتوں پر شدت کی انتہا تک بھٹے ہوئے ہیں۔پاکستان میں مذہب، ذات، زبان، عقیدے اور حالات کی بنا پر ایسے بہت سے تنازعات نے جڑیں مضبوط کر رکھیں ہیں جو ہماری اندرونی سلامتی کے لئے خطرات کا باعث ہیں۔یہی وجوہات پاکستان کی اقتصادی ترقی کو روکنے کے ساتھ ساتھ سماجی و سیاسی عدم استحکام کا بھی باعث بن رہی ہیں۔درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر پاکستان کی اندرونی سلامتی ہمیشہ خطرے میں رہتی ہے۔
سیاسی نظام کی خرابی۔پاکستان میں قائد کی وفات کے بعد کوئی بڑا قومی لیڈر سامنے نہیں آیا جو ملک کو سیاسی مصلحت کے ساتھ چلا سکے۔مفاد پرست وڈیروں ،بزنس ٹائیکونوں اور سرکاری افسروں نے ملک کی سیاست میں عمل دخل شروع کر دیا اور سیاسی جمہوری نظام کی آڑ میں مفادات کے کھیل کھیلے گئے۔ایسے ملک میں اندرونی و بیرونی خطرات ہمیشہ منڈھلاتے رہتے ہیں جہاں سیاسی نظام مفلوج ہو۔یہاں جسکی لاٹھی اس کی بھینس والے قانون کے تحت آمریت و جمہوریت نامی الفاظ کی آڑ میں کم عقل کم فہم با اثر لوگ سیاست جیسے مقدس شعبے کو ملک و قوم کی مفادات کی بجائے اپنے مفادات و اثر رسوخ کے لئے استعمال کرتے ہیں جو ہمارے سیاسی نظام کی خرابی کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔
غیر منظم شدہ جدیدیت۔عالمگیریت نے جہاں مغرب کو بے بہا وسائل فراہم کئے ہیں وہیں ترقی پذیر ممالک کے اقتصادی نظام میں جیسے چھید کردیا گیاہو۔ جو کسی بھی ملک کی سیاسی و سماجی بربادی کے لئے کافی ہے۔ورلڈ ٹریڈ آرڈر کے تحت مغرب نے اپنی بنی ہوئی ٹیکنالوجی کی اشیاء کو اتنا عام کیا کہ دنیا اس کی حیرت میں گم ہو گئی اور اسی کے برعکس دنیا بھر سے غذائی اجناس اور تیل جیسے بہت سے ذخیروں تک اپنی رسائی حاصل کی ۔پاکستان بھی ایسے ترقی پذیر ممالک میں سے ایک ہے جہاں الیکٹرانک کی جدید اشیاء عیش و عشرت سے مزین ہوٹل عام عوام کی توجہ کا مرکز ہیں۔مگر اپنی معیشت ،زراعت پر جیسے پردہ پڑ گیا ہو۔آج ہماری غذائی اجناس اور دوسری پراڈکٹس کی قیمتیں بہت کم ہیں جس کی بنا پر ہمارا ملک مالی مسائل کا شکار رہتا ہے اور ہماری عوام غربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے روزگارموجود نہیں۔مغرب نے پاکستان کو بھی ایک منافع بخش مارکیٹ کے طور پر گردانتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں عیش و عشرت اور جیدیت کو فروغ دیا۔آج پاکستان میں لوگوں کے پاس موبائل اور کمپیوٹر ضرور موجود ہوگا چاہے وہ معیاری خوراک حاصل نہ کرسکے۔پاکستان آج بھی بجلی و پانی کے مسئلے سے دو چار ہے ۔مغرب نے گلوبلائزیشن سے اپنے مفادات کو حاصل کیا ہے باقی دنیا آج بھی مسائل سے دوچار ہے۔
بیگانگی کا احساس۔نظام میں موجود خرابیاں اور ناکافی صلاحیتیں پاکستان کو گھر میں ہی کمزور کر رہی ہیں۔وڈیروں سیاستدانوں اور افسروں کی طاقت کے غلط استعمال اور ظلم و جبر سے تنگ لوگوں کے لئے ملک صرف امراء کی جاگیر ہوتا ہے۔حالات و واقعات سے اکتائے لوگ خود کو اور ملک بیگانہ تصور کرتے ہیں جو ملکی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ ہے۔
میڈیا پول۔میڈیا پر بزنس ٹائیکونوں کا قبضہ بھی ہمارے اندرونی معاملات کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔میڈیا ہاؤسز اکثریت ایسے لوگ چلا رہے ہیں جنہیں صرف روپے سے غرض ہے چاہے اس میں ملکی سلامتی داؤ پر لگ جائے۔ مختلف چینلز پربنی بنائی من گھرٹ کہانیاں ملک میں صرف افراتفری اور انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہیں۔ایسے میں صحافتی اداروں کو حکومت کا ساتھ دینا چاہئے تاکہ ملک سے بکاؤ میڈیا گروپس کا خاتمہ ہو سکے۔
سیاست، ایک کاروبار۔بدقسمتی سے پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں سیاست کی کوئی درسگاہ نہیں یہاں مقدس و خالص سیاست سے کسی کو کوئی سروکار نہیں۔یہاں سیاست کی آڑ میں کاروبار چمکائے جا رہے ہیں ۔سیاست کی آڑ میں اثر ورسوخ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔معاشرہ خود غرض ہے ،ووٹر خود غرض ہیں، سیاستدان خود غرض ہیں۔کوئی روپے دے کر صرف اس امید پر ووٹ خریدتا ہے کہ منتخب ہو کر اس سے کہیں زیادہ کما لے گا۔اور کوئی اتنا خود غرض اور جاہل ہے کہ قیمے والے نان ، گلیوں نالیوں، موبائل فون ،نقدی اور نوکری کے لالچ میں ووٹ فروخت کر دیتا ہے۔سیاسی کاروبار کی خریداری کا موسم پھر شروع ہوا چاہتاہے۔ایسا ملک خطرات کی زد سے کیسے باہر نکلے گا جس ملک و وطن کے نام کا چورن بیچ کر منافع کمانے والے لوگ موجود ہوں گے۔
مذہبی بد انتظامیت۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مذہبی قوم کی نسلیں آباد ہیں جن کا ریاست سے متفق ہونا ضروری نہیں جن کے اپنے ہی الگ نظریات ہیں۔غیر مسلم کے مقابلے ممتاز ہونا ایک طرف یہ تو فرقے ہیں جوایک دوسرے کو دیکھنا پسند نہیں کرتے ایک دوسرے میں فرق کرتے ہیں خود کو ممتاز سمجھتے ہیں دوسرے کو کافر۔کوئی بھی مذہبی گروپ اٹھتا ہے اور ریاست کو یرغمال بنا لیتا ہے۔جتنے فرقے اتنے نظریے اور قانون ہیں ۔جب ریاست کو کچھ سمجھتے ہی نہیں تو پھر ملکی بہتری کی امید کیوں؟جب خود انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہو تو پھر دھماکوں پر افسوس کیوں؟
غیر ریاستی اداکاروں کا اضافہ۔بے شمار فرقہ پرستی، مذہبی عدم برداشت ،قومیت پرستی اور انا کی بنا پر بہت سی غیر ریاستی طاقتیں سرگرم ہیں۔ہماری آپس کی تفرقہ بازی غیر ریاستی اداکاروں کے اضافے کا سبب ہے۔غیر ریاستی طاقتیں ہمارے بہت سے علاقوں اور لوگوں کو کنٹرول کرتی ہیں۔بعض اوقات ہماری عوام اپنی کم ضرفی میں غیر ریاستی اداکاروں کو پرموٹ کرتی ہے اور ہماری ریاست ایسے میں کچھ کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔
فلسفیانہ دو فرعی تقسیم۔علماء اور جدید تعلیم یافتہ طبقاتی تقسیم بھی ہمارے ملک کے اندرونی معاملات کے خطرات کی بڑی وجہ ہے۔علماء حضرات کی اکثریت جدید طرز تعلیم سے عاری ہے اور جدید طبقہ مذہبی پہلوؤں کو سمجھنے سے قاصر ہے اور یوں دو دھڑے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے چکرمیں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے میں جتے ہوئے ہیں ۔ان کے لئے ایک پیج پر متفق ہونا جیسے قیامت ہو۔جبکہ حقیقت میں ملک کی بہتری میں دین و دنیا دونوں کی ضرورت ہے۔ ایک چیز سے ایک طرف کا پلڑا بھاری ہوتا ہے جبکہ دونوں کے توازن سے معاشرہ بھی متوازن ہو جاتا ہے۔
بے روزگاری و غیر ملکی مداخلت۔بے روزگاری ایک اہم اور بڑا مسئلہ ہے۔بہت سے غریب حالات سے تنگ آکر غلط کاموں کا سہارا لیتے ہیں۔بے روزگاری انسان کو کمزور اور اندھا بنا دیتی ہے اچھے و برے کی تمیز ختم کر دیتی ہے پھر انسان کے لئے صرف رزق کی تلاش ہوتی ہے چاہے وہ اچھے زریعے سے ملے یا کسی غلط راہ سے۔ایسے اکتائے ہوئے لوگ عدم برداشت کا شکار ہوجاتے ملک میں افراتفری پھیلتی ہے اور غیر ملکی ایجنسیاں مداخلت کرتی ہیں بہت سے حالات کے مارے لوگ دشمن کے لئے کام کرتے ہیں اور دشمن ممالک ہمارے ملک میں افراتفری کو مزید فروغ دے کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ 
یہ ہمارے ملک کے اندرونی خطرات کی بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے آج بھی ملک حالت جنگ میں ہے۔جن پر قابو پانا وقت کی بڑی ضرورت ہے۔ہمیں مل جل کر ایسے کام کرنے چاہئے جو ہمارے ملک کی بہتری کے لئے ضروری ہیں۔ہمیں عوام میں شعور اجاگرکرنا چاہئے۔ذرا سوچئے!

Sunday, 11 March 2018

سماجی و اقتصادی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں


چوہدری ذوالقرنین ہندل(میری رائے):لکھاری گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں، وائس آف سوسائٹی کے سی ای او اور مکینیکل انجینینئر ہیں۔

پاکستان ایک جنوبی ایشیائی ملک ہے ،جو مشرق وسطی اور وسط ایشیاء کے پار قریب ترین ملک ہے۔پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کا اندازہ لگاتے ہوئے دنیا و خطے کی بہت سی طاقتیں اس پر اپنی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔پاکستان کو جہاں اپنی جغرافیائی اہمیت کا مان ہے اور سی پیک جیسے کئی مفاد بھی حاصل ہو رہے ہیں۔وہیں اگر محتاط اندازہ لگایا جائے تو باخوبی علم ہوتا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کی بدولت بہت سے ممالک جیسے بھارت و امریکہ اسے کمزور و غیر مستحکم کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔پاکستان میں پھیلتی افراتفری ،عدم مساوات اور انتہا پسندی انہیں طاقتوں کی منصوبہ بندی ہے۔پاکستان معرض وجو د سے ہی بہت سے اقتصادی انتظامی اور سماجی مسائل کا شکار تھا۔ وقت کے ساتھ کچھ پر قابو پالیا گیا۔ مگر کچھ مسائل گمبھیر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔پاکستانی حکومتیں ہمیشہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہی ہیں۔اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ملکی و غیر ملکی قرضوں کی دوڑ میں مگن ہو گئیں۔تمام حکومتوں نے بنیادی مسائل کو حل کرکے اقتصادی و سماجی مسائل پر کنٹرول پانے کی بجائے، وقتی قرضوں کی بدولت اپنی نااہلیوں کو چھپایا۔پاکستان کی اقتصادی و سماجی ترقی کی راہ میں چند حائل رکاوٹیں۔ 
ملکی و غیر ملکی قرضے، چند حساس میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کا گردشی قرضہ 10کھرب سے تجاوز کر گیا ہے۔صرف پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 10کھرب22ارب روپے ہوگیا ہے۔قانون کے مطابق قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے60فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے،مگر ہمارا قرض قریب جی ڈی پی کے75فیصد تک پہنچ چکا ہے۔گزشتہ چار سال میں پاکستان کے قرضوں میں12ہزار500ارب کا اضافہ ہوا۔موجودہ ملکی و غیر ملکی قرض کا حجم26ہزار814ارب ہے۔جس میں غیر ملکی قرض کا حجم9ہزار816ارب کے لگ بھگ ہے۔پاکستانی کی اقتصادی و سماجی ترقی میں قرضے رکاوٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔پاکستان ان قرضوں پر ہر سال اربوں روپے سود دیتا ہے اور اصلی قرض بڑھتا چلا جا رہاہے ۔جو ہماری معیشت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔اسی طرح ہماری خودمختاری بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اسی قرض کی بدولت ہمیں غیر ممالک کو اپنے بہت سے معاملات میں رسائی دینا پڑتی ہے۔جو ہمارے سماج پر گہرے اثرات مرتب کررہے ہیں۔
بڑھتی آبادی،پاکستان کی بڑھتی آبادی اور محدود وسائل پاکستان کی اقتصادی و سماجی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ کا کردار ادا کر رہی ہے۔قیام پاکستان کے وقت مغربی پاکستان کی آبادی 3کروڑ کے لگ بھگ تھی۔موجودہ 2017کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی کل آبادی21کروڑ ہے۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں عام آدمی یومیہ 2ڈالر کے قریب کماتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں غربت و افلاس ہے۔لوگ سماجی و اقتصادی مسائل سے بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔معاشرہ عدم مساوات کا شکار ہے۔آبادی و معیشت پر کنٹرول صفر ہے۔ایک اچھی و معیاری زندگی بسر کرنے کے لئے حکومت کو عوام میں آبادی کے کنٹرول کے حوالے سے آگاہی دینی چاہئے ۔تا کہ آبادی و وسائل میں توازن قائم رہے۔
غربت، پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں 80فیصد دیہاتی لوگ خط غربت سے نیچے بنیادی سہولیات سے محروم زندگی بسر کررہے ہیں۔خیبر پختونخوا کی حکومتی رپورٹ کے مطابق44فیصد لوگ غربت کی زندگی بسر کرہے ہیں۔فاٹا میں 60فیصد لوگ غط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔بہت سے مزید علاقے جیسے تھر جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔اسی محرومی کے باعث وہ دشمن کے ہاتھوں اونے پونے اپنا ایمان فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔جو ہماری ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ کا سبب ہے۔
ناقص تعلیمی سہولیات،تعلیم ہی ایک ایسا زریعہ ہے جو لوگوں کو صبر اور شعور فراہم کرتا ہے اور معاشرہ ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے۔مگر افسوس کہ ہمارا تعلیمی ڈھانچہ ہی بہت کمزور اور ناقص ہے۔بہت سے علاقے تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں۔قریب79فیصد پاکستانی میٹرک سے نیچے یعنی انڈر میٹرک ہیں۔تعلیم معاشرے کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے۔ تعلیم کا فقدان ہی معاشرتی و سماجی برائیوں کو جنم دیتا ہے اور معاشرہ ہر لحاظ سے کھوکھلا ہوجاتا ہے۔
بے روزگاری،بے روزگاری مجبور و لاچار لوگوں کے لئے جلتی پر تیل کا کام انجام دیتی ہے۔بہت سے لوگ روزگار سے محروم اور معاشرے سے نالاں ہو کر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔بہت سے لوگ روزگار کے لئے دشمن کے عزائم کا حصہ بن کر دہشتگردی کو فروغ دیتے ہیں۔پاکستان میں2015\16کی رپورٹ کے مطابق 7فیصد لوگ بے روزگاری کا شکار ہورہے ہیں۔جن کو روزگار کا موقع ہی میسر نہیں ہوتا ہے ۔وہی بے روزگار دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔آخر کار ایک وقت ان کے لئے اچھا برا سب تمیز ختم ہوجاتی ہے اور متعدد بدعنوانیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔
توانائی کا بحران،بجلی کی بندش نے لاکھوں مزدوروں کے روزگار کو سوالیہ نشان بنا رکھا ہے۔سینکڑوں کاروبار ی افراد دیوالیہ ہوگئے ہیں۔ملکی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہوگئی ہے۔معاشی عدم استحکام کے باعث معاشرہ ناپاک عزائم میں دشمن کا ہم نوا بن رہا ہے۔
کرپشن، یہ ایک بڑا ناسور ہے جو ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔کھوکھلا کر رہا ہے۔ملک میں نانصافی کو فروغ دے رہا ہے۔لوگوں کی حق تلفی ہورہی ہے۔پاکستان کی معیشت کو آئے روز چونا لگایا جارہا ہے۔کرپشن پرسیپشن انڈیکس کے مطابق پاکستان 175میں سے 127نمبر پر ہے یعنی پاکستان میں 127ممالک سے زیادہ شرح کرپشن ہے۔پاکستان میں سیاستدان،بیوروکریٹ ، افواج، پولیس ،ججز اور بہت سے ادارے و عام لوگ کرپشن جیسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔جو ہماری ترقی کے راستے میں آئے روز سوراخ کر رہے ہیں، گڑھے کھود رہے ہیں اور ہماری ترقی انہیں گڑھوں میں رک جاتی ہے۔
جنگی اثرات، پاکستان نے بھارت کے ساتھ جنگوں میں کافی نقصان اٹھایاہے۔مگر 9/11 کے بعد سے امریکہ نے جہاں پاکستان کی دفاعی معاملات میں مدد کی،وہیں ہمارے سماجی و اقتصادی مسائل بھی بڑھنے لگے۔پاکستان کی طالبان کے لئے حمایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، امریکہ نے بین الاقوامی پریشر کی بدولت(وار آن ٹیرر)دہشتگردوں کے خلاف جنگ کے نام پر بہت سی انتہا پسند تنظیموں اور افغانستان کو پاکستان کے مخالف کروا دیا۔بعد ازاں امریکی اثرات کی بدولت یہی دہشگردوں کے خلاف جنگ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منتقل ہوگئی اور اس کے اثرات پاکستان کے مختلف شہروں میں بم دھماکوں کی صورت میں سامنے آنے لگے۔امریکہ اور دہشتگردوں نے پاکستان کو یرغمال بنانا شروع کر دیا۔پاکستان نے امریکی دوستی کی شکل میں اپنی معیشت اور بنیادی ڈھانچے میں 40بلین ڈالرز کا نقصان اٹھایا۔ لاکھوں جانوں جن میں سویلین شہریوں اور فوجی جوانوں کو قربان کیا۔بدلے میں امریکہ کی طرف سے متعدد سختیوں سے مشروط اتحادی فنڈ جو کہ1.2 بلین سالانہ تاخیر اور ٹال مٹول کے ساتھ دیا جاتا رہا۔شرائط ایسی کے پاکستان اس فنڈ کو اپنے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لئے استعمال نہیں کر سکتا۔پاکستان کو اس فنڈ کے بدلے دہشتگردی کا ٹیگ ملا اور دہشتگردوں کی دشمنی، مارکیٹ میں امریکی اسمگل اسلحہ براستہ افغانستان ملا جو انتہا پسندی کے فروغ کا کردار ادا کررہا ہے۔جو پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کو برسوں سے روکے ہوئے ہے۔
خطے میں بھارتی اثر و کردار،بھارت نے اپنے برسوں پرانے نمبرداری کے خواب کو پورا کرنے کے لئے بلی چوہے کا کھیل رچایا ہوا ہے۔بھارت خطے میں موجود ممالک بالخصوص پاکستان کو اپنے اثر کی بدولت دبانا چاہتا ہے۔بھارت کشمیر پر جبری قبضہ جمائے ہوئے ہے۔پاکستان کو کشمیر پالیسی کی بدولت اقتصادی سطح پر بہت سے نقصانات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔بھارت پاکستان کا پانی روکنے کے لئے دھڑا دھڑ ڈیم بنا رہا ہے جو ہماری زراعت اور معیشت کے لئے ایک بڑا دھچکہ ہے۔بھارت پاکستان کو مسلسل مختلف محاذوں پر الجھائے ہوئے ہے جس میں ورکنگ باؤنڈری ،افغانستان ،ایران اور کشمیر وغیرہ۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں39000کے قریب بھارتی سپاہی موجود ہیں جن کا مقصد پاکستان میں دہشتگردی کو فروغ دینا ہے اور براستہ افغانستان پاکستان کی تجارت کو روکنا ہے۔۔یہی نہیں بھارت پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تجارتی معاملات میں بھی نقصان پہنچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔
ایسے بہت سے مزید چھوٹے بڑے عناصر ہیں جو پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کی راہ میں حائل ہیں ج کا حل بہت ضروری ہے، اور فوری ہونا چاہئیے تا کہ پاکستان آنے والے مزید چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔