Sunday, 20 August 2017

محمود اچکزئی کا بیان اور شک و شبہات


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔مکینیکل انجینئر۔سی ای او ،وائس آف سوسائٹی۔گوجرانوالہ


پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے گزشتہ روز بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں دشمنی کی اصل وجہ کشمیر ہے اور دونوں ملکوں کو کشمیر آزاد کر دینا چاہئے۔پوچھا گیا کہ بھارت اپنے زیر اثر کشمیر کا حصہ آزاد کرنے کے لئے رضا مند ہو جائے گا؟تو اچکزئی نے جواب دیا کہ بھارت بے شک رضا مند نہ ہو مگر ہمیں کشمیر آزاد کر دینا چاہئے،ہم تو بچ جائیں گے۔ان کے بقول اگر دنیا کو باور کرانا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہتا ہے تو پاکستان کو کشمیر کو آزاد کرنے میں پہل کرنا ہوگی۔مزید کہا کہ پاکستان کو بھارت ،افغانستان ، اور ایران کے ساتھ امن قائم کرنا چاہئے،تب ہی سی پیک مکمل ہوگا۔بقول اچکزئی پاکستان اگر اخلاص یعنی صدق دل سے کام کرے تو افغانستان کے ساٹھ فیصد مسائل حل ہو جائیں گے۔محمود اچکزئی نے مزید کہا کہ خفیہ ایجنسیاں انتخابات میں مداخلت بند کریں۔بڑے دکھ و افسوس کے ساتھ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی کثیر تعداد موجود ہے جو پاکستان کا کھاتے ہیں ،پاکستان سے کماتے ہیں ،مگر ان کے دل دشمنوں کے لئے دھڑکتے ہیں۔کہیں نہ کہیں ان کے دلوں میں ملک کے لئے غلط اور دشمنوں کے لئے اچھا تاثر موجود ہے۔یہ روپے کی لالچ یا ذہنی فطور و غداری میں سے ایک وجہ ہو سکتا ہے۔ایسے غداروں کی تعداد میں اضافے کا سبب ہماری لاپرواہ اور مفاد پرست حکومتیں اور بکاؤ میڈیا ہے، اور یہ غداری کا گوشہ کوئی یک دم نہیں آیا بلکہ افسوس کے ساتھ اسے ہمارے اپنے ملک میں عرصہ دراز سے پروان چڑھایا جا رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بظاہر ذہنی آزاد لوگ بھی ایسے لوگوں ایسے نظریات کی لپیٹ میں آ رہے ہیں جسے ہماری حکومت و میڈیا نے بھی جانے انجانے تھپکی دے رکھی ہے۔ان نظریات کو پھیلانے کے لئے دشمن ہر سال بھاری مالیت میں فنڈز جاری کرتے ہیں۔اچکزئی کے بیان کی بات کی جائے تو بظاہر اچکزئی پاکستان کو امن کا درس پڑھا رہے ہیں،جیسے معلم شاگرد کو درس دے۔مگر درحقیقت وہ ملکی وقار و سلامتی پر حملے کر کے اسے تار تار کرنے کی کوششیں کر رہے تھے۔اللہ بہتر جانے اچکزئی کے مقاصد کیا ہیں؟مگر بتاتا چلوں کہ موصوف پہلے بھی بے دھڑک ملکی سلامتی کو پس پردہ ڈال کر زبان درازی کرتے رہے۔خیبر پختونخوا کے کچھ علاقہ جات کو افغان سے منسلک علاقے قرار دینا بھی انہی کی زبان سے سرزد ہوا۔تب بھی مذمتی کالم لکھا تھا،اور اب بھی کہتا ہوں کہ اچکزئی کے گزشتہ روز کے بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔اس کی تحقیقات ہونی چاہئے آخر اس شخص کی زبان ہی کیوں لڑ کھڑاتی ہے ۔؟سوچنے کی بات ہے کیوں کوئی اچکزئی ، کوئی الطاف، اور کوئی دوسرے پاکستان کے خلاف زہر افشانی کرتے ہیں،اور ان کے خلاف ایکشن بھی نہیں لیا جاتا۔بڑی وجہ بے بس مفاد پرست اور لاپرواہ حکومتیں اور سیاسی جماعتیں ہیں۔ایجنسیوں کا سیاست میں ضرورت سے زیادہ مداخلت کرنا بھی اس کمزوری کی وجہ ہے۔کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس خود مختار حکومت نہیں ہوتی ایسے میں انہیں اپنے ساتھ ملک دشمن لوگوں کو بھی شامل کرنا پڑتا ہے اور وہ بھی بغیر کسی فکر کے اپنے مفادات کے برعکس ملکی سلامتی کے خلاف سازش کرنے والوں کے حمایتی بن جاتے ہیں۔اچکزئی بھی موجودہ حکومت مسلم لیگ ن کا اتحادی ہے اور موصوف کا بھائی گورنر بلوچستان بھی ہے۔یعنی حکومتی بے حسی کی انتہا دیکھئے کہ ملک کے خلاف زہر افشانی کرنے والے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔کیا یہ سراسر غداری نہیں؟غدار کا حمایتی کیا ہوا؟ کیاغداروں کے خلاف ایکشن ضروری نہیں؟اچکزئی کے گزشتہ بیان کا ذرا جائزہ لیں،کہتے ہیں کہ پاکستان کو اپنے ریر اثر کشمیر کو آزاد کر دینا چاہئے۔بہت خوب جناب اچکزئی! تا کہ بھارت اس علاقہ پر بھی قبضہ کر کے مسلمان کشمیریوں کو درند گی و ظلم کا نشانہ بنا سکے۔موصوف یہ بھی جان لینا چاہئے کہ مسئلہ کشمیر کے دو نہیں تین فریق ہیں ۔چائنہ کے قریبی کشمیر کے کچھ قصبے چائنہ کے زیر اثر ہیں۔شاید اچکزئی نے نقشہ نہیں دیکھا، کہ آزاد کشمیر آزاد ہو کر اپنی آزادی و خود مختاری کو قائم رکھ سکے گا۔نہیں۔اگر پاکستان آزاد کر دے تو آزاد کشمیر مشکلات کی گرفت میں جکڑ جائے گا۔چائنہ اور انڈیا مداخلت شروع ہو جائے گی اور دونوں ہی غیر مسلم ریاستیں ہیں۔پاکستان ہی تو درحقیقت وطن ہے بلکہ آس و امید ہے کشمیر کی کشمیر میں موجود مسلمانوں کی۔عرصہ دراز سے کشمیری بھارت کے ظلم و ستم کو برداشت کر رہے ہیں قربانیاں دے رہے ہیں صرف اس لئے کہ پاکستان ہی ان کا وطن ہے اور پاکستان ہی وہ وطن ہے جس میں ان کے آزاد مسلمان بہن بھائی آباد ہیں۔یہ کہنا درست ہے کہ اچکزئی کہ اس بیان نے کشمیریوں کے ستر سالہ جذبے کو ٹھیس پہنچائی ہے۔اچکزئی کے اس بیان نے پاکستان میں موجود لوگوں کے دلوں میں شک و شبہات کو مزید ہوا دی ہے۔طرح طرح کے سوالات گردش کرنے لگے ہیں۔کیا اچکزئی پاکستان کے وقار کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے؟ کیا اچکزئی ملک دشمنی میں ملوث ہے؟کیا اچکزئی افغانستان کی بھارت نواز زبان استعمال کر رہا ہے؟۔کیا بھارت پاکستان کے خلاف ایسے بیانات کو استعمال کر سکتا ہے۔؟حکومت کی ایسے بیانات پر خاموشی بے حسی کی علامت ہے یا مفاد پرستی کی؟اچکزئی نے کشمیریوں و پاکستانیوں کے دلوں کو ٹھیس پہنچائی ہے اسے فوری سب سے معافی مانگنی چاہئے۔اگر ایسا نہیں تو پاکستان چھوڑ کر بھارت نواز افغانستان منتقل ہو جانا چاہئے۔دو ہی پہلو نکلتے ہیں کہ یا تو اچکزئی نفسیاتی بیماری کا شکار ہے یا پھر بھارتی کارندہ ہے دونوں صورت میں مینٹل ہسپتال ہی اس کا اصل مقام ہے۔مسلم لیگ ن جس کے دور میں ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا گیا اسی حکومت کا اتحادی اچکزئی ایسے بیانات میں ملوث رہا اور حکومت خاموش رہی۔یہ مسلم لیگ ن کی سیاسی صورتحال پر اثر انداز ہوگا۔ اگر مسلم لیگ ن نے بروقت کوئی ایکشن نہ لیا تو آئندہ الیکشنز میں اسکا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔موجودہ حکومت سے اچکزئی کے بیان پر بس یہی مطالبہ ہے۔
سلطان جی کچھ تو یہاں کیجئے
غداروں کو بھی کوئی سزا دیچئے

Sunday, 30 July 2017

عدالتی فیصلہ،ردعمل اور سوالات


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔مکینیکل انجینئر۔سی ای او ،وائس آف سوسائٹی۔گوجرانوالہ

جیسا کہ آپ جانتے ہیں گزشتہ روز جمعہ کو پانامہ لیکس کے کیس پر عدالتی فیصلہ سامنے آیا ۔بلاشبہ یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے اس فیصلہ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو تا حیات نا اہل قرار دے دیا گیا۔مخالفین نے مٹھائیاں بانٹیں، ڈھول بجائے، اور بھنگڑے ڈال کر خوشی کا اظہار کیا۔بعض نے نوافل ادا کئے۔بالخصوص پی ٹی آئی کے کارکن زیادہ پرجوش نظر آئے۔فیصلے سے لے کر اب تک خوشیوں کا سلسلہ جاری ہے۔عدالت عظمی کا یہ فیصلہ جہاں مخالفین کے لئے خوشیوں کا باعث بنا وہیں حامیوں کی لئے مایوسی کی وجہ بنا۔واضح کرتا چلوں عدالت نے نواز شریف کی نا اہلی کے ساتھ ساتھ نواز شریف ،اسحق ڈار ،مریم نواز، حسین نواز اور حسن نواز کے کیسز نیب کو ریفر کردیئے۔عدالت عظمی پاکستان کی سب سے بڑی عدالت ہے اور پاکستانی عوام اللہ کی عدالت کے بعد اس عدالت کو تسلیم کرتی ہے اسی بنا پر عدالتی فیصلے کو نا ماننے کا کوئی جواز نہیں بنتا ہم من و عن عدالتی فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں۔میڈیا کانفرنسز میں مسلم لیگ نواز کی طرف سے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا،تاہم مسلم لیگ ن سمیت نواز شریف کو بھی یہ فیصلہ تسلیم کرنا پڑا۔اسی طرح عوام کا بھی ردعمل بھی مختلف رہا۔کسی نے تحفظات کا اظہار کیا ،کسی نے تاریخی فیصلہ قرار دیا۔غور طلب بات یہ ہے کہ ماہر قانون و قانون دانوں کا رد عمل بھی ایک جیسا نہیں اکثر قانون دانوں نے فیصلے پر سوالات اٹھائے اور تحفظات کا اظہار کیا۔بعض قانون دانوں نے تکنیکی بنیادوں پر تنقید کی بعض نے تائید کی اور تاریخی فیصلہ قرار دیا۔سوشل میڈیا کی بات کی جائے تو جہالت کو غلبہ حاصل رہا کافی گرما گرمی نظر آئی۔جاہل لوگوں نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے خوب گالم گلوچ سے کام لیا،انتہا پسندی سر فہرست رہی جو کہ ہماری حقیقی روایت اور ساکھ کے منافی ہے۔سوشل میڈیا صارفین سے گزارش ہے تحمل سے کام لیا کریں گالم گلوچ سے خود کو اور اپنی برائی کو عیاں نہ کیا کریں۔گزشتہ روز مسلم لیگ ن کا پارلیمانی اجلاس ہوا۔جس کے اختتام پر نواز شریف نے شہباز شریف کو بقیہ مدت کے لئے اور خاقان عباسی کو انٹرم ٹائم کے لئے وزیر اعظم نامزد کیا جس پر پوری پارٹی نے اتفاق رائے کا اظہار کیا۔تاہم مخالفین و ماہرین کی طرف سے تنقید سامنے آئی ماہرین کا کہنا ہے کہ نااہل شخص کی طرف سے وزیراعظم نامزد کیا جانا مذحقہ خیز ہے۔یہ تھی مختصر سٹوری ،اب اصل بات کی طرف آتے ہیں۔قارئین عدالت عظمی نے نواز شریف کو پانامہ کے معاملات پر نہیں بلکہ اثاثے چھپانے یعنی اقامہ کے معاملات پر نااہل کیا۔یعنی آئین کے آرٹیکل 62 ایف ون کے تحت نااہل قرار دیا۔سوال یہ ہے کہ مدعی کی طرف سے کیس کرپشن کا دائر کیا گیا یا نااہلی کا؟اس پر مختلف قانون دان بھی تحفظات کا شکار ہیں،جو عدلیہ کی ساکھ کے لئے ٹھیک نہیں۔آزاد عدلیہ بہت بڑی نعمت ہوتی ہے، اور آزاد عدلیہ سے انصاف پر مبنی فیصلے کی توقع کرنی چاہئے البتہ اگر بدقسمتی سے فیصلہ اس کے برعکس نظر آئے تو اس سے آزاد عدلیہ کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔آخر عدالت نے کرپشن پر نااہل کیوں نہیں کیا؟ کیا کرپشن ثابت نہیں ہوئی؟ان کے جوابات عدالت ہی دے سکتی ہے جو فیصلے کے بعد سے زیر گردش ہیں۔بڑی بات! جسٹس کھوسہ کا ایک عدالتی ریمارک سامنے آیا تھا جسے بعد میں حذف کر دیا گیا ۔’اگر 62,63 کا اطلاق کیا جائے تو سراج الحق کے علاوہ کوئی پارلیمنٹ میں صادق و امین نہیں بچے گا‘۔ البتہ نواز شریف 62آرٹیکل کے تحت ناہل ہوا۔کیا 62,63کی آڑ میں باقی اسمبلی ممبران کو تاحیات نااہل قرار دیا جائے گا؟اگر نہیں تو کیوں؟ بالخصوص یہ سوال جسٹس کھوسہ کے لئے۔ماہرین کے مطابق بھٹو کے فیصلے کی طرح یہ فیصلہ بھی سوالات کا شکار ہے اور کبھی بھی اس فیصلے کو تاریخ میں نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جائے گا۔کیوں کہ کوئی بھی پارٹی نہیں چاہے گی کہ 62,63کے تحت انکے رہنما تاحیات نااہل قرار پائیں۔کیا عمران خان،آصف زرداری،پرویز مشرف،شیخ رشید،خورشید شاہ،جہانگیر ترین اور علیم خان وغیرہ اسے نظیر کے طور پر پیش کریں گے ؟کیا اسکا اطلاق اپنے اوپر چاہیں گے ؟ہر گز نہیں،کیوں کہ یہ خود بھی اس کی زد میں آکر نااہل ہو جائیں گے۔اسی لئے ماہرین کا کہنا ہے کہ خوشیاں منانے سے پہلے فیصلے کو نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل شروع ہو چکا ہے (کاش ایسا ہو جائے)اور اب پاکستان کرپشن سے پاک ہوجائے گایہ ان کی خواہش ضرور ہے حقیقت میں تو ابھی بہت سے کام ہونا باقی ہیں۔نواز شریف کے بہت سے کیسز ماضی میں زیر التواء تھے جس طرح اب مشرف کا بغاوت کا مقدمہ زیر التواء ہے۔ماضی میں بھی ایسے کئی زیر التواء کیسز عدلیہ کے کردار پر سوال اٹھاتے رہے اور اب بھی بھی ایسا ہی ہے۔بلا امتیاز اور حقیقی احتساب نہ جانے کب شروع ہوگا؟کب تک ٹارگٹڈ احتساب جاری رہے گا؟آخر کرپشن کو جڑ سے کیوں نہیں اکھاڑا جاتا؟بلاتفریق سب کا احتساب کیوں نہیں کیا جاتا؟آخرکیوں؟کیا کچھ طاقتیں ہمارے اوپر حاوی ہیں؟کیا مفادات کے لئے کچھ کا احتساب اور کچھ کو بری ذمہ کردیا جاتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیوں ہے کیسے ہے وجوہات کیا ہیں؟کیوں کوئی منتخب وزیراعظم اپنی مدت نہیں کر پاتا؟ اگر کرپشن اس کی وجہ ہے تو ہم کیسے لوگ ہیں کہ ہم سے کرپٹ لیڈر ہی منتخب ہوتا ہے؟غلطی عوام کی ہے یا سازشی قوتیں طاقتور اور با اثر ہیں؟آخر اسٹیبلشمنٹ کہتے کسے ہیں؟ اس کا کیا کردار ہے؟ایسے بہت سے سوالات ہیں جن کے کوئی جوابات نہیں،عوام چاہتے ہوئے بھی ان کے جوابات حاصل نہی کر پاتی کیوں افراتفری کے اس کھیل میں عوامی توجہ و خیالات کو فوری ٹریپ کیا جاتا ہے۔اب وقت بدل رہا ہے سازشی بھی وقت کی رفتار سے چلنا سیکھ رہے ہیں اور ہم عوام ہیں کہ سیاست و اندرونی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں ۔ہمیں بھی بدلنا ہوگا اپنی ساکھ کو قائم رکھنے کے لئے بدلنا ہوگا۔ہم کیسے بے وقوف ہیں کہ صرف ایک دو شخص کے احتساب پر ہی اکتفا کر لیتے ہیں اور باقی کرپٹ عناصر کو سلگتا ہوا چھوڑ دیتے ہیں اور پھر وہی سلگتی چنگاری ہمیں بار بار اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔آئیے ایک عہد کریں کے سب کرپٹ و بد اخلاق لوگوں کا احتساب کریں ،آواز اٹھائیں ایسی نہ ختم ہونے والے آواز جو پارلیمنٹ کے ایوانوں سے ہوتی ہوئی فوج کے ہیڈکوارٹرز سے گزر کر سیدھا انصاف کے کٹہروں میں جا گونجے۔واضح کرتا چلوں کہ کسی ادارے و پارٹی میں اچھے و برے لوگ دونوں ہوتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ چند برے لوگ ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے در پے ہیں ہمیں انکا استحصال کرنا ہوگا۔ہمیں ایک آواز ہونا ہوگا۔کیا سب کے احتساب کا مطالبہ درست نہیں؟ اگر ہے تو چلو یکجا ہوجاؤ اور آواز و صدا بلند کرو ہر فورم پر، کہ ہمیں سب کا احتساب چاہئے۔میڈیا جس پر بہت سے الزامات ہیں ،اس کے پاس بھی موقع ہے کہ احتساب کے اس موسم میں’سب کے احتساب‘ کا مطالبہ اٹھا کر ملک و قوم کے وفادار ثابت ہو جائیں۔ 

Sunday, 16 July 2017

پاکستانی احتساب


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔مکینیکل انجینئر۔سی ای او ،وائس آف سوسائٹی۔گوجرانوالہ

پاکستان میں حقیقی معنوں میں کبھی احتساب ہی نہیں ہوا اگر ایسا ہوتا تو پاکستانی سیاست سے کرپٹ عناصر کا صفایا ہوجاتا۔پاکستانی احتساب بااثر لوگ صرف اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور ایسا عرصہ دراز سے چل رہا ہے،پاکستانی حکومتیں ہمیشہ ان باثر لوگوں کے زیر اثر رہی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں احتساب کی قدر و قیمت ویسے ہی قائم دائم رہتی ہے اگر اللہ کو حاضر ناظر جانتے ہوئے ایک دفع بھی ساری سیاسی جماعتوں کا حقیقی احتساب ہوجائے تو دوبارہ کوئی بدعنوانی پنپنے کا نام ہی نہ لے، اور لفظ احتساب کو عوام بھول جائے۔احتساب کے معنی ہیں جانچ پڑتال یعنی محاسبہ کرنا نفس عارف کا تفصیل تعینات سے ،ڈھونڈنا ان میں حقائق کو،پھر روک ٹوک وغیرہ۔اس سے مراد خلاف حکومت یا مخرب اخلاق اظہار خیال پر سیاسی پابندی ہے۔یہ قدیم یونانی طریقہ ہے جو رد و بدل کے بعد چل رہا ہے۔باقی دنیا سے بڑھ کر پاکستان میں لفظ احتساب زیادہ مقبولیت رکھتا ہے۔ہمیشہ عوام میں وہی چیز مقبول ہوتی ہے جسے وہ چاہے یعنی عوام عرصہ دراز سے حقیقی احتساب چاہتی ہے۔مگر افسوس کہ عوام کو احتساب کی تعریف و مفہوم معلوم ہی نہیں اسی لئے ہر دفع انہیں بے وقوف بنایا جاتا ہے۔قارئین آپ کو واضح بتاتا چلوں کہ جو عرصہ دراز سے پاکستان میں احتساب کی روایت پھل پھول رہی ہے وہ صرف موسمی ہے۔یعنی موسمی احتسابی روایت کے پس پردہ کچھ عناصر اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں۔پاکستانی تاریخ سے باخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ کیسے احتساب صرف مفادات کے برعکس اور ٹارگٹڈ طور پر کیا گیا۔اگر ایک بار بھی حقیقی احتساب ہوجاتا تو دوبارہ بار بار احتساب کی نوبت ہی نہ آتی۔یوں کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان میں ہونے والے احتسابوں کا احتساب بھی ہونا چاہئے۔آپ سوچتے ہوں گے کہ میں کیسی فضول باتیں کر رہا ہوں ،مگر افسوس کہ یہی حقیقت ہے۔پاکستان میں متعدد بار احتساب کا رونا رویا گیا اور متعدد بار احتساب ہوا بھی مگر صرف وقتی و ٹارگٹڈ طور پر۔ایسے احتسابات کے بعد بھی پاکستان وہی پرانے طرز پر چل رہا ہے ،کرپشن بڑھ رہی ہے نانصافی قائم ہے۔بدلا ہے تو صرف اور صرف مفادات حاصل کرنے کا طریقہ بدلا ہے۔مفادات کی خاطر ایسے نت نئے قوانین و طریقے رائج کئے گئے کہ ملک کی دھجیاں اڑتی رہیں۔ملکی خود مختاری و سلامتی کو پس پردہ ڈال کر حکومتوں و اداروں نے اپنے مفادات کو ترجیح دی۔ملک ایک بار پھر احتساب کی فضا سے لبالب ہے۔ملکی سیاست کے سب سے بااثر اور وزیراعظم احتساب کی فضا کے زیر گردش ہیں۔عوام کے مطابق ملک میں بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔جلد حکومت کا تختہ الٹ کر اگلے الکشنز میں پی ٹی آئی بر سر اقتدار آنے والی ہے جو ملک کے قرض ختم کردے گی اور ملکی خودمختاری کو بحال و مستحکم کرے گی۔مگر میرے ملک کی بھلی عوام ہر بار کی طرح پھر بھول میں ہے نہیں جانتے کہ پس پردہ طاقتیں کیا چاہتی ہیں اور ملک کس طرف جا رہا ہے یقینی طور پر افراتفری کا غلبہ قائم کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کی خودمختاری و سلامتی کو روکا جا سکے۔چند سالوں سے ملکی سیاست پر نظر جمائے ہوئے ہوں اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ پاکستان پر حکومتوں سے زیادہ اداروں کا کنٹرول ہے۔میرے مطابق ملکی حکومتیں اسٹبلشمنٹ کے زیر اثر ہوتی ہیں چاہے وہ ملکی ہو یا انٹرنیشنل میرے خیال سے(آپ کی رائے مختلف بھی ہوسکتی ہے) بلکہ مختلف تجزیہ کاروں کا بھی یہی نظریہ ہے مگر کہنے سے ڈرتے ہیں کہ جو اسٹبلشمنٹ و ایجنسیوں کے زیر سایہ رہا اسے حکومت عطا کر دی گئی اس کے بعد جس نے ان باثر لوگوں کے مفادات کو یاد رکھا اس نے اپنی مدت پوری کی اور جس نے انکے مفادات کو پس پردہ ڈال کر ملکی مفادات کو ترجیح دی اس کو حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ہم لوگوں کا بھی عالم دیکھئے کہ ہم جانتے ہوئے بھی ان لوگوں کو منتخب کرتے ہیں کہ انہوں نے کرپشن کرنی ہے۔کرپٹ لوگوں کو ایوانوں تک ہم خود پہنچاتے ہیں۔یہی ہمارا المیہ ہے۔شاید کچھ عناصر عین وقت ہمارے ذہن کو کنٹرول کر کے ہم سے یہ سب کرواتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس بار تو ہم پہلے سے زیادہ بالغ ہوگئے ہیں اور بہتری کی سمجھ رکھتے ہیں ہم آزاد ہیں اور بہتر فیصلہ لے سکتے ہیں ۔مگر ہم اپنی آزادی میں بھی غلطی پر ہوتے ہیں ہمیں ٹریپ کیا جاتا ہے مختلف طریقوں سے ہمارے زہنوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے،اور ہم نا چاہتے ہوئے بھی ہمیشہ کی طرح اپنی غلامی کا سودہ کر لیتے ہیں شاید اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہوتا۔آخر ایسا کیوں ہے؟ سب سے بڑی وجہ ہماری خودمختاری،یعنی عرصہ دراز سے ہماری خودمختاری کا سودہ ہمارے آباؤ اجداد نے جانے انجانے میں کیا تھا اور آج ہمارے پاس کوئی بہتر رستہ ہی نہیں۔خیر یہ بااثر عناصر کی برسوں پہلے پلاننگ ، ہمارے لیڈران کے لالچ اور ہمارے بزرگوں کی ناسمجھی کا نتیجہ ہے۔ہم بھی موجودہ دور میں سمجھداری کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہیں ،کیوں بحثیت قوم ہم کبھی ایک پلیٹ فارم پر متفق ہی نہیں ہوئے؟۔یا پھر مختلف عناصر ہمیں اصل نظریات سے ہٹانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔خیر کچھ تو ہے جس کی بدولت ہم نا چاہتے ہوئے بھی خودمختاری کو پس پشت ڈال رہے ہیں۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ خودمختاری میں ہی بہتری و سلامتی ہے۔قارئین جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان بہتری کی طرف گامزن ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن کی لڑائی و ہٹ دھرمی کی وجہ سے ملکی ترقی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔اگر یونہی حکومت و اپوزیشن میں تصادم چلتا رہا تو ملک افراتفری کی زد میں آجائے گا جس سے پاکستان میں ترقی کی راہیں بند ہوں گی۔بات احتساب کی ہے تو احتساب بھی ضروری ہے مگر سب کا۔ملکی ترقی کو پس پردہ صرف ایک صورت میں ڈالا جا سکتا ہے اگر امید ہو کہ احتساب سب کا ہوگا اور ایسا احتساب ہوگا جس سے تمام کرپٹ اور سازشی بچ نہ پائیں گے۔اگر ٹارگٹڈ اور مفاداتی احتساب ہی ہونا ہے تو کیا فائدہ کیا حاصل؟میری عوام سے گزارش ہے کہ احتساب سب کا،مکمل احتساب کی آواز اٹھائیں تاکہ ملک ایک نئے سرے سے جدوجہد شروع کرے ،جیسے چائنہ نے کی۔مفاد پرست اور زیر اثر لوگوں کا خاتمہ ہو۔کیوں نہ ہم اپنی پسند اپنی پارٹی اور پسندیدہ شخصیت کو پس پردہ ڈال ایک آواز ہو کر سب کے احتساب کا مطالبہ کریں اور ایک ہی نعرہ لگائیں احتساب سب کا۔یہی وہ طریقہ ہے جس سے ہم نئے سرے سے ملکی خود مختاری کو اولین ترجیحات میں شامل کر سکیں گے۔ورنہ یہ سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کی خاطر ملکی نقصان و غلامی کو فروغ دیتے رہیں گے۔آخر میں’کوڑے کے ڈھیر پر کھڑے ہوکر مٹھی بھر کوڑا اچھالنے سے صفائی نہیں ہوجاتی‘بلکہ پورا کا پورا کوڑا ڈمپ کرنا پڑتا ہے۔پاکستانی احتساب بھی کوڑا اچھالنے کے مترادف ہے۔حقیقی و مکمل احتساب کی ضرورت ہے، ورنہ یہ لوگ حکومت حاصل کرنے کے لئے بلی چوہا ہی بنتے رہیں گے۔مگر پاکستان کا کیا بنے گا؟سوچنا ہوگا!

Sunday, 9 July 2017

قومی سلامتی اور سازشی عناصر


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔مکینیکل انجینئر۔سی ای او ،وائس آف سوسائٹی۔گوجرانوالہ

پاکستانی سلامتی کو جتنا خطرہ بیرونی سازشوں سے ہے ان سے کہیں زیادہ خطرات اندرونی سازشوں سے ہیں،جن میں مختلف این جی اوز مختلف تنظیمیں اور مختلف گروہ سرگرم ہیں۔افسوس ہم بے چارے سادہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پڑھ لکھ کر آزاد ہوگئے ہیں مگر بہت سے عناصر انٹرنیٹ،سوشل میڈیا کے زریعے ہمیں استعمال کر رہے جن میں دین کے نام پر آزادی کے نام پر اور بہت سے طریقوں سے عوام کو ٹریپ کیا جا رہا ہے۔اور ہم بے چارے لوگ ہیں کہ ہمیں ملکی سلامتی پس پردہ ڈال کر ان سازشوں کے بنائے ہوئے کھیل پر ناچنا پڑتا ہے۔حقیقت میں ہم اصلاحی کام کررہے ہوتے ہیں مگر بعض اوقات جزباتی طور پر ملکی سلامتی اور خودمختاری کی دجھیاں ہم سے جانے انجانے اڑ ہی جاتی ہیں۔خیر اس میں عوام کا کوئی زیادہ قصور نہیں ہوتا بلکہ سازشی گروپ اور ان کے کنٹرول پینل اتنے مضبوط اور جامع ہوتے ہیں کہ ہر کوئی ان کی گرفت میں آجائے۔حکومت پاکستان کو اس کی اصلاح کے لئے مزید کام کرنا ہوگا اورایسے عناصر کو بے نقاب کرنے کیلئے کوششیں کرنی ہوں گی۔ملکی سلامتی عرصہ دراز سے زیر بحث ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کی عسکری و سول قیادت نے ملکی سلامتی کو سب سے زیادہ مقدم جانا ،ملکی بقاء کی خاطر مشکل حالات میں طرح طرح کی سازشوں کا مقابلہ کیا۔بعض غلطیاں بھی سر زد ہوئیں، بعض اوقات سازشی عناصر کوغلبہ حاصل رہا اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سازشی عناصر کی تشخیص نہ ہونا۔جیسے مرض کی تشخیص ہوجائے تو علاج کرنا آسان ہوتا ہے اسی طرح ملکی سلامتی کے خلاف ہونے والی سازشوں کی تشخیض بہت ہی ضروری اور اہم ہے اس ضمن میں حکومت کو ایک کمیٹی تشکیل دینی چاہئے جس میں مختلف ڈیپارٹمنٹ کے فلاسفر موجود ہوں جو ہر وقت ملک میں ہونے والی سازشوں کو بھانپیں اور متعلقہ اداروں کو ان کے بارے آگاہ کریں۔ملک پاکستان کی سلامتی سے جڑے چند ممالک قابل زکر ہیں۔بھارت، افغانستان،ایران،چین،امریکہ اور روس وغیرہ۔موجودہ صورتحال سے باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ روس اور چائنہ پاکستان کے قریب سے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔اور ہمسایہ ممالک بھارت ایران اور افغانستان سے تعلقات میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔امریکہ جو کہ ایشیاء میں اثر رسوخ کے لئے پاکستان کا استعمال کرتا رہا اس کے نا روا رویے اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو بھانپتے ہوئے پاکستان کا جھکاؤ چائنہ کی طرف بڑھ گیا ہے اور امریکہ سے تعلقات کافی حد تک کم ہوچکے ہیں۔مختلف مفکرین و تجزیہ کاروں کے مطابق چائنہ پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتا ہے اور روس امریکہ کی جگہ پاکستان کا استعمال چاہتا ہے ۔چائنہ پاکستان کا خیر خواہ اس لئے ہے کہ دونوں کا بڑا دشمن بھارت ہے اور اس کے علاوہ چائنہ براستہ پاکستان وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی چاہتا ہے سی پیک اسی ضمن میں جاری ہے۔دوسری طرف امریکہ بھارت کا بڑا حامی ہے اور بیک وطن بھارت اور پاکستان کو استعمال کرنا چاہتا ہے سازشوں کی دنیا کا بادشاہ ملک ہے امریکہ۔جبکہ بھارت تو پاکستان کا ازل سے ہی دشمن ہے اس کی بڑی وجہ کشمیر ہے۔افسوس ناک امر ہے کہ ایران و افغانستان مسلمان ممالک ہوتے ہوئے بھی پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اسکی بڑی وجہ شاید بھارت اور اسکی خفیہ ایجنسی را ہے۔بھارت ایران میں چار بہار بندرگاہ کے لئے خطیر رقم خرچ کر رہا ہے تاکہ وہ ایران کی حمایت حاصل کرکے پاکستان کو خطے میں تنہا کرسکے۔ایران اور افغانستان پاکستان کے ہمسایہ ملک ہیں اسی لئے سازشی و مکار بھارت نے ان پر اپنا اثر ورسوخ بڑھا لیا ہے تاکہ پاکستان کی سلامتی کو ٹھیس پہنچا سکے اس کی مثالیں بھی سامنے آچکی ہیں۔جیسے کلبھوشن یادیو۔پاکستان اور چین کے مفادات ایک دوسرے سے منسلک ہیں باقی تمام ملک صرف سازشی عناصر کا کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں جن کے ماسٹر مائینڈ خود امریکہ و بھارت ہیں۔پاکستان کو اب امریکہ نواز پالیسیوں سے باہر نکلنا ہوگا اور اپنی خودمختاری کو سر فہرست لانا ہوگا تاکہ ہماری سلامتی کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔پاکستان کو بیک وقت افغانستان پر اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کی ضرورت ہے اوراس میں چین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور مسئلہ کشمیر کو مزید اجاگر کرنا ہوگا ۔گزشتہ دن وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سول و عسکری قیادت نے شرکت کی۔جس میں ملکی سلامتی امن اور کشمیر سمیت کلبھوشن کیس پر تبادلہ خیال ہوا۔ اجلاس میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ سازشی ملک بھارت کو دنیا میں بے نقاب کریں گے ۔ملکی قیادت نے فیصلہ کیا کہ بھارت کی ہر سازش کا بروقت اور موئثر جواب دیا جائے گا۔میں سلامتی کمیٹی کی ان کاوششوں کو سراہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ سول قیادت سفارتی سطح پر سازشی عناصر کو لگام ڈالے گی۔ امید کرتا ہوں کہ اندرونی سازشوں کی تشخیص کے لئے بھی کوئی موئثر اقدام کیا جائے گا۔متعدد بار لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کو اپنی خودمختاری عزیز ہونی چاہئے پاکستان خودمختار اور ثابت قدم ہوجائے تو بھارت تو خود ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا جس میں متعدد علیحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں۔موجودہ صورتحال پاکستان کے سامنے ہے اب پاکستان کو بھانپنا ہوگا کہ ان کے لئے غلط و درست کیا ہے اور یہ کام جتنا جلد ہوجائے اتنا ہی بہتر ہے۔

Saturday, 1 July 2017

دی کنٹریکٹر اور سوالات

چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

دی کنٹریکٹر نے منظر عام پر آتے ہی پاکستانی اداروں اور حکمرانوں کو کنٹریکٹر ثابت کردیا اور ایسے کنٹریکٹر جو اپنے آقا امریکہ سے خوف و ہراس کی وجہ سے ایک وطن کے اعلی عہدیداران ہو کر بھی کنٹریکٹر کا کام کرتے رہے۔’دی کنٹریکٹر‘ ایک کتاب کا نام ہے جو سابق امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس نے اپنی آپ بیتی پر لکھی مگر اس آپ بیتی نے پاکستانی سربراہوں کے پول بھی کھول دیئے۔جہاں حکومتی بے بسی کے پول کھولے وہیں عوام کے دلوں میں افسردگی و سوالات بھی چھوڑے۔اور امید کرتے ہیں ہمارے ادارے اور نمائندگان وضاحت ضرور پیش کریں گے۔2011 کا یہ باب پھر سے کھل کر سامنے آگیا اور اس بار کچھ زیادہ ہی کھل کر سامنے آگیا۔ایک بار پھر محب وطن پاکستانی عوام سوالات کے بوجھ تلے دب چکی ہے۔عوام کے دلوں میں طرح طرح کے سوالات گردش کرنے لگے ہیں۔عوام کے دلوں میں ملال ہے کہ وہ اپنی محنت اور کوشش سے اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنی محنت کی کمائی سے کچھ رقم ٹیکس کی صورت میں دیتے ہیں تا کہ انہیں تحفظ اور انصاف جیسی سہولتیں ملیں۔مگر افسوس کے قوم کا ہر فرد بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔مگر کیوں؟کیا ہم ان قرضوں کے بغیر ترقی نہیں کر سکتے؟آخر ہمیں خودمختاری کب نصیب ہوگی؟پاکستان تو ایک خودمختار ریاست کے طور پر معرض وجود میں آیا تھا آخر خودمختاری کہاں کھوگئی؟آیا ہماری خود مختاری ڈالرز کے عوض بک چکی ہے؟اربوں ڈالرز کے عوض اپنی خودمختاری بیچ کر بھی تعلیم صحت اور غربت میں فرق نہیں تو پھر ایسا کیوں ہے؟آیا ہمیں اپنی بدولت خودمختار ملک بن کر سوکھی روٹی بہتر نہیں؟یہ سوالات برسوں سے چلے آرہے ہیں اور ہماری خودمختاری کا جنازہ نکالنے کے لئے کافی ہیں۔اربوں ڈالرز کا قرض ہماری حکومتیں اور ادارے بٹور رہے کیا؟بحیثیت قوم ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ریمنڈ ڈیوس کے انکشافات غیرت مند قوم کے لئے آگ کے گولوں سے کم نہیں ہماری خودمختاری کی کرچیاں کرچیاں بکھری پڑی ہیں اس کتاب کے انکشافات میں۔افسوس کے کسی نمائندے کی طرف سے اس کی وضاحت بھی پیش نہیں کی گئی۔قارئین آپ کو بتاتے ہیں کیا انکشافات کئے ہیں ریمنڈ ڈیوس نے،اس کا کہنا ہے کہ اس نے دس گولیاں دو پاکستانیوں کے سینوں میں اپنے خطرے کی صورت میں سرعام لاہور شہر میں اتار دیں۔اس کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا جیسے ہی یہ معاملہ امریکہ تک پہنچا تو پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی ہوگئی۔اس نے کہا کہ اس کی رہائی کے لئے امریکہ نے کوششیں شروع کردیں اور پاکستان اور اسکے اداروں پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ اسی ضمن میں جان کیری نے نواز شریف سے ملاقات کی نواز شریف نے بازیابی کی یقین دہانی کرائی مزید بتایا کہ اس کی رہائی کے لئے جنرل پاشا نواز شریف اور صدر آصف زرداری متفق تھے۔حسین حقانی نے بھی بڑا کردار ادا کیا ۔ان سب نے امریکی سفارتکاروں کے ساتھ مل کر رہائی کی پلاننگ کی۔تاہم دیت کے تحط معاملات نمٹانے کے لئے کوشش شروع کر دی گئی مگر لواحقین ماننے کو تیار نہیں تھے اسی لئے لواحقین کو ڈرایا دھمکایا گیا اور اس میں آئی ایس آئی اہلکاروں نے بھی مدد کی۔مزید کتاب میں لکھا کہ سب سے زیادہ مدد اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا نے کی۔انہوں نے پیشی کے دوران احاطہ عدالت میں رہ کر امریکی سفیر کیمرون منٹر کو میسجز کے زریعے عدالتی کاروائی کے بارے آگاہ بھی کیا۔قارئین یوں ایک لاکھ تیس ہزار ڈالرز کا خون بہا زبردستی لواحقین کو تھما کر ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کا حکم لکھ ڈالا۔یہاں بھی عوام کے دل میں سوال اٹھتا ہے کہ ،کیا عدالت کو علم نہیں تھا کہ لواحقین پر دباؤ ڈالا گیا ہے؟۔یقینی علم ہوگا۔مگر افسوس کے قرآن واسلام کا حلف اٹھانے والے یہ عادل بھی خوف اور طاقت کے سامنے بے بس نظر آئے اور انصاف کی دجھیاں اڑادیں۔مجھے یقین ہے کہ کوئی بھی وضاحت نہیں دے گا۔مگر عوام جاننا چاہتی ہے کہ کتاب میں سب حقیقت ہے کیا؟اگر نہیں تو وضاحت پیش کریں؟شاہ محمود وہ واحد شخصیت ہیں جو امریکہ کے سامنے دیوار بنے اسکی گواہی ڈیوس کی کتاب بھی دیتی ہے۔دنیا کی نمبر ایک انٹیلی جنس آئی ایس آئی کے لمحہ فکریہ ہے انہیں از سر نو تحقیقات کرنی چاہئے اور ذمہ داران کو سزا دینی چاہئے تاکہ ملکی خود مختاری اور سلامتی کو یوں رسوا کرنے کی رسم تھم جائے۔عوام کی طرف سے منطق پیش کی جا رہی ہے کہ پاکستان ڈاکٹر عافیہ کو بازیاب کروا سکتا تھا مگر ڈیوس کی مدد کی ہر ممکنہ کوشش کی گئی اور عافیہ کی رہائی کا مطالبہ کرنے کی ہمت ہی نہیں کی۔واقعی بھکاریوں کی کوئی عزت نہیں۔بڑی بات، جب بات عزت نفس تک پہنچ جائے تو تعلق کو ٹھوکر مار دینی چاہئے عزت کا دفاع سب سے ضروری ہے تعلق بنتے رہتے ہیں۔دی کنٹریکٹر کا خلاصہ پڑھ کر اپنی حیثیت کا باخوبی اندازہہوگیا ہے پاکستانی عوام کو ، التجا ہے موجودہ آرمی چیف صاحب سے کہ ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جائے اور ملکی خودمختاری کو بحال کیا جائے عوام خودمختاری کی بحالی کے لئے تیار ہے۔چاہے اس کے عوض ہمیں پابندیاں ہی کیوں نہ برداشت کرنی پڑیں۔
سر شرم سے جھک گیا وطن کا
حاکم ہی بھک گیا وطن کا
محافظ بھی ظالم بنا وطن کا
ب بس نکلا عادل بھی وطن کا

Sunday, 11 June 2017

قبل از وقت برطانوی انتخابات اور نتائج


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

کسی بھی وطن یا ریاست کے لئے مقررہ مدت سے قبل از وقت انتخابات بظاہر و حقیقی طور پر نقصان دہ ہی دکھائی دیتے ہیں۔قبل از وقت انتخابات لوگوں اور سیاسی پارٹیوں میں بے اعتمادی کی فضا کو فروغ دیتے ہیں۔کسی نہ کسی حد تک قبل از وقت انتخابات قومی اخراجات کا ضیاء بھی ثابت ہوتے ہیں۔مبصرین و تجزیہ کاروں کے مطابق قبل از وقت انتخابات ہمیشہ قومی مفادات کے برعکس ہوتے ہیں، قبل از وقت انتخابات میں کسی نہ کسی بڑی سیاسی جماعت کے مفادات چھپے ہوتے ہیں۔ہمیشہ سیاسی جماعتیں اسی تگ و دو میں ہوتی ہیں کہ قبل از وقت انتخابات ہوجائیں اور ہماری سیاسی برتری میں اضافہ ہو۔قارئین ایسا ہی کچھ برطانوی سیاست میں ہوا۔گزشتہ روز برطانوی انتخابات اور اس کے نتائج سے با خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ برطانوی عوام اچھے و برے کا شعور رکھتی ہے،برسر اقتدار برطانوی کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ ٹریسامے نے سیاسی برتری میں اضافے کی کوشش میں اچانک اٹھارہ اپریل کو قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کر دیا۔لیکن پھر برطانوی عوام نے انہیں خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ٹریسامے نے بریگزٹ ریفرینڈم کی بنیاد پر سکورنگ کی کوشش کی۔ٹریسامے کا کہنا تھا، کہ انہیں یورپی یونین سے برطانیہ کے انخلاء کے لئے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کے لئے نیا اور مضبوط مینڈیٹ درکار ہے۔ٹریسامے اور اسکے وزراء کا خیال تھا کہ وہ عام انتخابات میں مزید برتری حاصل کر کے لیبر پارٹی کی حیثیت کو محدود کر سکتے ہیں۔تاہم برطانوی عوام باشعور ہیں انہیں کسی منصوبہ کے تحت ٹریپ کرنا بہت مشکل ہے۔گزشتہ روز کے نتائج کے مطابق کنزرویٹو پارٹی اپنی برتری میں کمی کرتے ہوئے صرف 318 نشستیں حاصل کرسکی جبکہ اسکے برعکس لیبر پارٹی نے 261 نشستیں حاصل کرکے اپنی گزشتہ سکورنگ میں 32 نشستوں کا اضافہ کیا۔اس کے ساتھ ہی نیشنل اسکاٹش پارٹی کو 35 لبرل ڈیموکریٹس کو 12 اور ڈی یو بی کو 10 نشستیں ملی ہیں۔کنزرویٹو پارٹی کو پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لئے 326 نشستیں درکار تھیں تاہم وہ سادہ اکثریت میں ناکام رہے۔خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے ڈی بی یو کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے۔دوسری طرف لیبر پارٹی کے لیڈر جیری کوربین نے ٹریسامے سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔جیری کوربین عوام میں غیر معمولی مقبولیت رکھتے ہیں۔طالب علموں میں خاصے مقبول ہیں ،انہوں نے اپنی کمپین میں طالب علموں کی بھاری فیسوں کو ختم کرنے اور انہیں مفادات دینے کا بھی اعلان کیا تھا ۔جبکہ عوام کو ٹریسامے کی سیاسی پوائنٹ سکورنگ نے بدزن کردیا۔کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ گزشتہ دنوں میں لندن اور مانچسٹر میں دہشتگردی کے واقعات کی وجہ سے عوام میں حکومت جماعت کی مقبولیت میں کمی سامنے آئی۔ہمیشہ سیکیورٹی پر کنزرویٹو پارٹی حمایت حاصل کرتی ہے۔تاہم لیبر پارٹی کے لیڈر نے واضح کیا کہ،ٹریسامے نے وزیر داخلہ کے طور پر پولیس کی نفری میں کمی کی ہے اور لوگوں کے تحفظ کو پامال کیا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ وہ برسر اقتدار آکر سیکیورٹی کو مزید بہتر بنائیں گے۔ کنزرویٹو پارٹی کے کچھ لوگوں کے نزدیک بھی پارٹی کی کم ہوتی مقبولیت کی ذمہ دار ٹریسامے ہیں ،اگر اس نظریے کو وسعت ملی تو ٹریسامے کوہر حال میں استعفی دینا پڑے گا۔عالمی لیڈروں نے بھی انتخابات کے نتائج پر تشویش کا اظہار کیا۔دوسری طرف یورپی یونین کا کہنا ہے کہ،معلق پارلیمنٹ سے برطانیہ کے بریگزٹ کے لئے ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہوسکتے ہیں۔یہ کہنا بجا ہوگا کہ، برطانیہ کا یورپی یونین سے نکلنے کے لئے برطانوی وزیراعظم کا قبل از وقت انتخابات کا جوا ان کے اپنے گلے ہی پڑ گیا۔برطانوی انتخابات میں بارہ پاکستانی نژاد ممبران بھی منتخب ہوئے، جو پاکستانی عوام کے پرامن ہونے کی علامت ہیں۔گزشتہ دنوں برطانوی دہشتگردی کے واقعات میں پاکستانی نژاد برطانوی شہری کا نام بھی سامنے آیا۔تاہم برطانوی عوام کا پاکستانی نژاد ممبران پر اعتماد اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور اس میں موجود عوام امن کی خواہاں ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ منتخب پاکستانی برطانیہ میں موجود پاکستانیوں کی حمایت کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے،اور یونہی ملک پاکستان کا نام روشن کرتے رہیں گے۔پاکستانی عوام اور سیاسی پارٹیوں کو برطانوی انتخابات سے سبق سیکھنا چاہئے۔پاکستانی عوام کو سمجھنا ہوگا کہ انتخابات کوئی گڈی گڈے کا کھیل نہیں جو جب جی چاہے رچایا جائے ، اس پرملکی دولت خرچ ہوتی ہے۔الیکشن کمیشن اور الیکشنز کو حقیقت تسلیم کرنا ہوگا تبھی جمہوری روایات کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

Sunday, 23 April 2017

پانامہ فیصلہ اور فریقین


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

گزشتہ روز بیس اپریل کومقررہ وقت دو بجے کے قریب پانامہ لیکس کا فیصلہ سنایا گیا۔جس میں پی ٹی آئی ،شیخ رشید،اور جماعت اسلامی کی اس استدعا کو مسترد کر دیا گیا کہ وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیا جائے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ تحریک انصاف ،عوامی مسلم لیگ ،اور جماعت اسلامی نے جو دستاویزات پیش کی ہیں وہ تحقیق طلب ہیں ان کی تحقیق کے لئے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔اور اسے تحقیقات مکمل کرنے کے لئے دو ماہ کا وقت دیا جائے۔عدالتی فیصلہ پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔فیصلہ میں کرائم سیریز مویز اور ناولز کے حوالے دئیے گئے۔جن کو ماہر قانون عاصمہ جہانگیر نے تنقید کا نشانہ بنایا۔اس تاریخی فیصلہ میں دو ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے وزیر اعظم کو بے ایمان اور جھوٹا گردانتے ہوئے نااہل قرار دے دیا۔ ٹربیونل کے باقی تین ججز نے خدشات کی بنا پر معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیاتاہم تحقیقات پر پانچوں ججز نے اتفاق کیا۔پانچوں ججز نے شریف برادران کی طرف سے پیش کئے گئے شواہد کو بے بنیاد قرار دے دیا۔یہاں تک کہ شہرت پانے والے قطری خط کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جس میں مختلف اداروں کے نمائندے شامل تفتیش ہونگے۔آئی ایس آئی کا نمائندہ بھی اس ٹیم کا حصہ ہوگا۔سینئر و نامور قانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن کی طرف سے جے آئی ٹی وآئی ایس آئی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جو انتہائی نامناسب ہے۔جس کے جواب میں جنرل آصف غفور نے کہا کہ مسلح افواج کی ساکھ کسی قسم کے شکوک و شبہات سے بالاتر ہے۔قارئین جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ فیصلہ کے فوری بعدتمام فریقین کی کیفیت بھی مختلف تھی۔فیصلہ کے فوری بعد حکومت کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا مٹھائیاں بانٹی گئیں بھنگڑے ڈالے گئے(نہ جانے کس خوشی کے؟)۔دوسری طرف اپوزیشن میں موجود باقی فریقین پی ٹی آئی اور دوسری جماعتیں فیصلے کی نوعیت کو سمجھنے میں مصروف ہو گئیں۔مگر سوشل میڈیا پر ان کے حامیوں نے سخت رویا اختیار کیا ۔کسی نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ سنا دیا ،کسی نے عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنا دیا ،یہاں تک کے ایسے کمنٹس بھی ملے کہ تین ججز جیو اور دو اے آر وائے دیکھتے ہیں۔کسی نے کہا کھسرا پیدا ہوا۔سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے طرح طرح کے طعنے کسے گئے۔جیسے ہی کچھ گھنٹے گزرے قانونی ماہرین نے تبصرے شروع و مکمل کئے تو لوگوں کو فیصلے کی نوعیت کا اندازہ ہونا شروع ہوگیا(جس کا کام اسی کو ساجھے)۔اور یہ جاننے میں کامیاب ہوئے کہ درحقیقت کس کی فتح اور کس کو شکست ہوئی۔پی ٹی آئی کی طرف سے مشاورت کے بعد مٹھائی بانٹی گئی جیت کی فتح کی۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور میڈیا پر لوگوں کے تاثرات بدلنے لگے۔دن گزرا تو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر موجود حامیوں نے اپنی جیت کے اسٹیٹس لگانے شروع کئے جو کل تک فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔دوسری طرف گزشتہ دن کی خوشیاں منانے والے مسلم لیگ نواز کے کارکن کچھ مایوس نظر آئے۔درحقیقت عدالتی فیصلے کو فوری کوئی بھی نہ سمجھ سکا ۔جسکی بدولت یعنی نہ سمجھی کی وجہ سے لوگ سر عام توہین عدالت کرتے نظر آئے سوشل میڈیا اور میڈیا دونوں محاذ پر۔جو قابل مذمت ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ عدالتی فیصلے ہمیشہ سے ہی بے بس رہے، عدالتی فیصلہ درست ہی سنایا جاتاہے ،فیصلہ ججز کی جانچ کے بعد درحقیقت انکی رائے یعنی انکے خیالات ہوتے ہیں جو حکم کی صورت میں پیش کئے جاتے ہیں۔مگر افسوس کہ اداروں ،عوام اور فیصلے کے فریقین نے کبھی فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا۔عدالتوں سے زیادہ قصور وار تو ادارے ہیں جو عدالتی فیصلوں پر عملدراآمد نہیں کرواتے۔عدالتوں سے زیادہ قصور وار وہ وکیل ہیں جو روپے کے عوض جھوٹے دلائل جھوٹے گواہ اور جھوٹی کہانیاں گڑھ کر ججز کو فیصلے کی نوعیت بدلنے پر مجبور کرتے ہیں۔عدالتوں سے زیادہ قصور وار وہ عوام اور فریقین ہیں جو عدالتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔مختصر یہ کہ ہم لوگ خود اپنے عدالتی وقار اور اپنی عدالتوں کی توہین کرتے ہیں اور توہین عدالت کے مرتکب ٹھہرتے ہیں بلکہ عدالتوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور ان کے کام میں رکاوٹ کا کردار ادا کرتے ہیں۔میں پاکستانی عدالتوں کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں جو بیک وقت طاقتور فریقین غنڈہ گرد وکلاء بے ایمان اداروں اور دوغلی عوام کے ہوتے ہوئے بھی اپنا فیصلہ سنا دیتی ہے۔اس کے بعد کا احوال تو ہم بیس اپریل سے دیکھ رہے ہیں کہ کسً طرح اپنی من مانی کے تحت فیصلے کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ہر وہ شخص قانون دان بنا ہوا ہے جسے چار بندوں میں بات کرنے کا موقع ملتا ہے یا کوئی چار بندوں کا جھرمٹ اسکی بات سن رہا ہے۔دوسرے لفظوں میں جسے کسی اخبار یا ٹیلی ویڑن کی نمائندگی ملی ہوئی ہے۔بھائی جس کا کم اسی کو ساجھے۔کوئی ماہر قانون ہی بہتر فیصلہ کرسکتا ہے کہ عدلیہ نے کس نوعیت کا فیصلہ دیا۔ہر بندہ قانون دان بن کر قانون کی دھجیاں تو خود اڑا رہا ہے۔سب سے بڑھ کر فریقین فیصلے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہو جاتے ہیں بھائی فیصلہ کھینچنے سے یا تو پھٹ جائے گا یا لمبا ہوجائے گا۔حکومت اور اپوزیشن دونوں فریقین خوب سیاسی دکانداری چمکانے میں مصروف ہیں کسی کو کرپشن کے خاتمے کی فکر نہیں بس اپنی اپنی حکومت بنانے اور کرسیوں کا استعمال ہی انکا مقصد ہے۔یہ ایک دوسرے کے لئے جملے کسنے میں مصروف ہیں اور مسئلہ کشمیر توجہ کا منتظر ہے بلوچستان بھی بہتری کا منتظر ہے سندھ بہتری کا منتظر ہے ملک بہتری کا منتظر ہے سی پیک کی ساکھ کو نقصان ہو سکتا ہے ملکی سالمیت کی کسی کو فکر نہیں ،بلکہ سیاسی دکانداری چمکنی چاہئے۔افسوس۔کہ اب پیپلز پارٹی بھی انصاف کے فیصلے کرے گی عدالتوں سے بڑھ کر ہے یہ؟نہیں ہر گز نہیں۔ہونا تو یہ چاہئے کہ تمام فریقین کو صدق دل سے جے آئی ٹی کی ٹیم پر بھروسہ کرنا چاہئے اور ٹیم پر نظر مرکوز رکھنی چاہئے۔میں مانتا ہوں کہ ایک وزیر اعظم سے افسران کا تفتیش کرنا مشکل ہے مگر ناممکن ہر گز نہیں۔تمام فریقین کو ملکی حالات خراب کرنے کی بجائے جے آئی ٹی کی تحقیق کو مثالی بنانے میں کردار ادا کرنا چاہئے۔کیا یہ تاریخی فیصلہ نہیں کہ ملک کا وزیر اعظم بھی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوگا۔ماضی کی ایک بات بیرسٹر اعتزاز احسن صاحب کہتے تھے کہ گیلانی صاحب اڈیالہ جیل میں بھی چلے جائیں تو وہ وزیر اعظم ہی ہوں گے اب کس منہ سے استعفی مانگ رہے ہیں ۔پی ٹی آئی کا استعفی تو سمجھ بھی آتا ہے۔پی پی؟

Sunday, 16 April 2017

عالمی امن تباہی کی طرف


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

امن کی تباہی انسانیت کے خاتمے کی علامت ہے۔اگر یونہی دنیا میں امن تباہی کے خطرے سے دو چار رہا تو خدا ناخواستہ ایک دن دنیا کو امن کے معنی و مفہوم بھول جائیں گے اور دنیا میں انسانیت کے خاتمے کی نت نئی مثالیں ملیں گی۔امن لفظ سکون آرام اور خوشی و خوشحالی کے مترادف ہے۔امن کسی بھی صوبے یا ملک کی پہلی ترجیحات میں ہی شامل ہوتا ہے۔کسی بھی چھوٹے قصبے یا کسی ایک گھر کے لئے بھی امن بہت اہمیت کا حامل ہے اور گھر کا ہر فرد امن سے جڑا ہوتا ہے کسی ایک میں بے چینی آئے تو پورے گھر کا امن درہم برہم ہوجاتا ہے۔کسی بھی علاقے کی ترقی کے لئے امن و امان کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔امن و امن ہی علاقوں کو درست سمت پر گامزن کرتا ہے ۔انسانی سکون انسان کو ہمیشہ مثبت راستے کی طرف لے جاتا ہے اور دوسری طرف بے چینی و بے آرامی انسان کو غلطیوں کی دہلیز پر لا کھڑا کرتی ہے۔قارئین جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں عالمی امن ہمیشہ سے ہی خطرے میں رہا عالمی امن کی ناؤ عرصہ دراز سے ہچکولیاں کھاتی آرہی ہے۔مگر گزشتہ کچھ عرصہ سے عالمی امن کی ناؤ بڑے ہچکولے کھا رہی ہے یہاں تک کہ امن کی ناؤ کو ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہے۔یہ خطرہ پوری دنیا کے لئے ہے۔امن کی تباہی درحقیقت دنیا کی تباہی ہے۔گزشتہ کچھ عرصہ سے دنیا بڑی تیزی سے تباہی کی طرف دوڑتی جارہی ہے۔جسے روکنا انتہائی ضروری ہے۔تاریخ سے سبق ملتا ہے کہ دنیا کا امن ہمیشہ سے دنیا میں ابھرتی و بڑی طاقتوں نے تباہ کیا ہے۔یہ طاقتیں ہمیشہ سے اپنی نمبرداری کے چکر میں دوسروں کو استعمال کرتی ہیں۔ایک دوسرے کو اپنی پاور دکھانے کے چکر میں چھوٹے ملکوں کا استعمال کرکے ان کو تباہ و برباد کرتی ہیں۔عرصہ دراز کی منصوبہ بندی کے بعد اپنے اثر ورسوخ کو استعمال کرکے بڑی طاقتیں چھوٹے ترقی پذیر ملکوں کا امن تباہ کرتی ہیں چھوٹے ملک امن کی تباہی کے بعد ایسی کیفیت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ پھر ان سے غلطیوں کا سرزد ہونا معمول بن جاتاہے۔ایسے میں سپر پاورز ایک دوسرے کو اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے نظر آتی ہیں۔ایسی ہی ایک مثال امریکہ اور روس کی ہے۔گزشتہ دنوں امریکہ کی طرف سے روس کے حلیف ملک شام کے ائیر بیس پر امریکی میزائلوں سے حملہ اور امریکہ کا افغانستان پر ایک بڑے وزنی بم کا گرانہ اور روس کا مریکہ کو دھمکانا درحقیقت طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔اسکے علاوہ امریکہ کا روس اور چائنہ کے حامی ایران کو دھمکانا بھی طاقت کا مظاہرہ تھا۔طاقت کا مظاہرہ و استعمال دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور قائم رکھنے کے لئے کیا جاتا ہے۔کچھ عرصہ سے واقعی عالمی امن خطرے میں ہے اور خطرے کی شدت پہلے سے کچھ زیادہ ہے۔جزیرہ نما کوریا میں امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔چین نے خبر دار کیا ہے کہ کسی بھی وقت جنگ چھڑ سکتی ہے۔چین نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو اکسانے اور دھمکانے سے اجتناب کریں۔اگر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہوئی تو ایک ایٹمی جنگ ہوگی جس سے دنیا بلکہ ایشیاء کا بڑا حصہ تباہ و برباد ہوجائے گا۔ایک نئے ورلڈ آرڈر کی تشکیل ہورہی ہے جس میں روس چائنہ اور ایران سمیت دوسرے ممالک شامل ہیں۔امریکہ جو کہ سپر پاور ہے وہ اپنے مقابلہ میں کسی کو کھڑا ہوتا دیکھ نہیں سکتا۔اس کو یہ آرڈر ہضم نہیں ہورہا۔جس کی وجہ سے وہ طاقت کے استعمال کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دے رہاتاکہ مخالفین پر طاقت کا خوف طاری ہو۔امریکہ اور شمالی کوریا میں لڑائی خطے میں بالادستی قائم کرنے کی ہے۔شمالی کوریا خطے سے امریکہ کا انخلاء چاہتا ہے جبکہ امریکہ شمالی کوریا کو سبق سکھانا چاہتا ہے۔دونوں لڑائی کے لئے تیار کھڑے ہیں۔حقیقت ہے کہ شمالی کوریا امریکی اڈوں کو بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے مگر اس کے جواب میں جو نقصان ہوگا اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔دوسری طرف شام پر امریکی حملے کے جواب روس نے کہا ہے کہ روس امریکہ لڑائی ایک انچ کی دوری پر ہے۔کسی بھی وقت طبل جنگ بج سکتا ہے۔روس چائنہ اور پاکستان سمیت دوسرے ممالک افغان امن کانفرنسز میں مصروف ہیں اور امریکہ کا افغانستان میں مدر آف آل بم گرانا قابل مذمت ہے۔جس سے امریکہ روس تصادم شروع ہوسکتا ہے۔بھارت براعظم ایشیاء پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے لئے پاکستان اور چائنہ کے خلاف جنگ کی تیاریوں میں مصروف رہتا ہے۔اسرائیل اس ضمن میں بھارتی کا حامی و اسلحہ ڈیلر ہے۔اسی طرح کچھ دوسرے ممالک بھی اپنا اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔دنیا کا امن خطرے میں ہے اس کی کسی کو پرواہ نہیں امن کی تباہی کا خطرہ ہے کہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔گزشتہ چند دنوں کی صورتحال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان جنگ ہوگی جو براعظم ایشیاء کے ملک افغانستان شام اور کوریا پر مسلط کی جائے گی ۔دونوں طاقتیں دوسرے ممالک کے سر پر اپنی جنگ لڑنا چاہتی ہیں۔اس جنگ سے دنیا میں بڑی تباہی پھیلنے کا خدشہ ہے بلکہ براعظم ایشیاء بڑی تباہی کے دہانے پر ہے۔اگر کسی بھی طرف سے جنگ شروع ہوئی تو اتنی تباہی ہوگی کہ امن کا نام کچھ عرصہ کے لئے دنیا کو بھول جائے گا۔کاش بڑی طاقتیں باتوں کی بجائے حقیقی معنوں میں امن کے فروغ کے لئے کام کریں ناکہ امن کی تباہی کا سودہ کرتے رہیں۔موجودہ صورتحال سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا میں امن کو کتنا بڑا خطرہ لاحق ہے۔اور یہ خطرہ ایک ہی صورت ٹل سکتا ہے کہ دنیا میں موجود تمام ملک بڑی طاقتوں کی مکاری سے کوسوں دور رہیں اور مل جل کر امن کے لئے کام کریں نہ کہ کسی جنگی کاوش کا حصہ بنیں۔ اقوام متحدہ کو موجودہ صورتحال پر تمام طاقتوں کو باز رہنے کی ہدایت دینی چاہئے کیونکہ جنگ شروع ہوئی تو نقصان سبھی کا ہوگا پوری دنیا کا امن تباہ ہوگا۔اقوام متحدہ انسانی حقوق اور امن کی حامی تنظیموں اور ملکوں کو موجودہ صورتحال میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ دنیا میں مسکراہٹیں بکھریں امن کی خوشبو مہکے۔

شام پر امریکی حملہ اور حقائق


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

گزشتہ روز ملک شام کے ائیر بیس پر امریکی حملے کے نتیجہ میں شامی ائیر بیس مکمل تباہ ہو گیا۔یہ حملہ شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف کیا گیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد اسلامی ملک شام پر پہلی امریکی یکطرفہ فوجی کاروائی کی گئی۔جس میں 59 ٹام ہاک کروز میزائل استعمال کئے گئے۔جس کے نتیجہ میں ائیر بیس تباہ اور ائیر کمونڈور سمیت چھ فوجی جاں بحق ہو گئے۔بقول ٹرمپ کیمیائی ہتھیاروں سے معصوم لوگوں پر حملہ نا قابل قبول ہے ۔امریکی صدر کے دل میں معصوم لوگوں کے لئے ہمدردی ہے بہت اچھی بات ہے۔مگر تاریخ بہت سی تلخ حقیقتوں سے بھی آگاہ کرتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ اسرائیل کی فوجوں نے فلسطین کے معصوم بچوں عورتوں بزرگوں کو بلڈوزروں کے نیچے کچلا گولیوں سے چھلنی کیا انکی عزتوں کو تار تار کیا ظلم کی داستانیں رقم کیں۔کشمیر میں بھارتی فوجیں ظلم اور بربریت کی مثالیں قائم کر رہی ہے کشمیریوں کو جانوروں کی طرح کچلا جا رہا ہے۔بینائی سے محروم کیا جا رہا ہے عزتوں سے کھیلا جا رہا ہے ظلم کی انتہا کو وسعت دی جا رہی ہے۔مگر افسوس کہ دہرا معیار، نرم گوشہ رکھنے والے نمبر دار امریکہ کو یہ ظلم کیوں نظر نہیں آتا؟ان علاقوں کے معصوم بلبلاتے لوگ نظر کیوں نہیں آتے؟شاید امریکہ کو ان سے وابستہ کوئی مفاد نظر نہیں آتا؟امریکہ کا کوئی دوست نہیں مفاد سے اسکی دوستی ہے ۔یہی سپر پاور کی اصلیت ہے۔تاریخ میں اامریکی مفاد پرستی کی ڈھیروں مثالیں موجود ہیں۔دنیا جانتی ہے۔جانتی ہے کہ داعش کا بانی و حامی کون ہے۔حقیقت میں بشارالسد اور شامی فورسز امریکی سرپرستی کردہ تنظیم داعش کے خلاف کاروائیوں میں مصروف ہے۔شام میں باغیوں کو ہوا دینے والا بھی امریکہ ہی ہے۔امریکہ شام کو بھی عراق جیسا دیکھنا چاہتا ہے یہ کہنا بجا ہوگا کہ عراق کے ساتھ شام میں بھی پورا کنٹرول امریکی کھیل میں شامل ہے۔روس نے امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے اور ساتھ ہی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو بھی امریکہ پر ڈال کر امریکی پراپیگنڈہ کا نام دیا۔روس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے کیمیائی ہتھیاروں کو خود اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا۔شام کی حفاظت کے لئے روسی بحری بیڑہ بھی شام پہنچ گیا۔ایران نے بھی روسی موء قف کی حمایت کی۔چین نے امریکی طاقت کے یوں استعمال کو غلط قرار دیا اور امن کے حل کو ترجیح دی۔پاکستان نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کی اور امن کی کوششوں پر ذور ڈالا۔جبکہ اسرائیل نے امریکی حملے کا خیر مقدم کیا۔سعودی عرب متحدہ عرب امارات ترکی یورپ اور برطانیہ نے امریکی حمایت میں بیانات دئیے۔پاکستان نے ہمیشہ ایسے مقامات پر ڈبل اسٹینڈرڈ بیانات دیئے ہیںیعنی کسی کی بھی حمایت نہ کی۔عربی ممالک سمجھتے ہیں کہ شامی صدر بشارالسد کی حکومت گرا کر وہ اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیں گے۔مگر حقیقت اسکے برعکس ہے امریکہ اس علاقے کے سر پر جنگ کی تلوار لٹکانا چاہتا ہے اور روس بھی امریکہ سے بدلہ لینے کے لئے اس زمین کا استعمال کرنا چاہتا ہے۔دونوں بڑی طاقتیں اس علاقے کو میدان جنگ بنانے کی کاوشوں میں مگن ہیں۔اسلامی ملک ہیں کہ کسی بھی موء قف پر اکٹھے نہیں بلکہ بٹے ہوئے ہیں جوکہ اسلامی ریاستوں کہ لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔دنیا کی تاریخ کو دیکھا اور پرکھا جائے تو زندہ ضمیر بتاتا ہے کہ دنیا میں سب سے بڑے دہشتگرد خود امریکہ اور روس ہیں۔جن کے کھیل اور اثر و طاقت کے دکھاوے اور استعمال نے دنیا میں کروڑوں لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا۔جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے۔کیونکہ مسلمان بار بار طاقت کے اس کھیل میں کود جاتے ہیں۔بکھرے ہوئے مسلمانوں کو فوری متحد ہونے کی ضرورت ہے۔اس ضمن میں سعودیہ اور ایران کا ایک پیج پر ہونا اتہائی اہم و ضروری ہے۔ورنہ تاریخ کا یہ کھیل مسلمانوں کی ساکھ کے ساتھ یوں ہی کھیلتا رہے گا۔ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم بھی نمبر ون امریکہ نے ہی گرا کر تباہی کی حد کو عبور کیا۔مسلمانوں کو حقیقت سے آگاہ ہو کر پوری مسلم امہ کے مفاد کو ترجیح دینا چاہئے۔نہ کہ امریکی کھیل کو۔امریکہ ہر صورت بشارالسد کو ہٹانا چاہتا ہے۔سوال یہ ہے کہ بشارالسد کے بعد شام کا اگلا صدر کون ہوگا ؟ کہیں یہاں داعش کی حکومت بنا کر انکی جگہ ہموار کرنے کا ارادہ تو نہیں؟اگر روس نے بشارالسد کو بچانے اور امریکہ سے بدلہ لینے لئے کوششیں شروع کردیں تو شام کا کیا حال ہوگا؟ کہیں شام پر بڑی جنگ تو مسلط نہیں کی جا رہی۔جو امریکہ روس کے خلاف داعش کی مدد سے لڑے گا اور روس شامی حکومت کی مدد سے؟۔دنیا کو ،انسانیت کی باتیں کرنے والوں کو، نرم گوشہ رکھنے والوں کو، میڈیا کو، اسلامی ممالک کو، اور سوشل میڈیا پر شعور رکھنے والوں کو، شام کی حمایت کے لئے کھل کر میدان میں آنا چاہئے تا کہ بڑی طاقتیں شام کو اس کے حال پر چھوڑ دیں ناکہ اس پر مسلط مشکلات کو مزید بڑھاوا دیں۔

Sunday, 26 March 2017

افغان امن ماسکو کانفرنس


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

چند دنوں سے افغان امن کے حوالے سے روس کے شہر ماسکو میں کانفرنس کے بارے خبریں گردش کر رہی ہیں اس حوالے سے چند ماہ قبل بھی کوششیں کی گئیں جن میں افغان امن پر اتفاق کیا گیا اسی ضمن میں اگلے ماہ ماسکو میں روس چائنہ افغانستان پاکستان بھارت اور دوسرے وسطی ایشیائی ممالک کے وفوداکٹھے ہوں گے۔امریکہ کا شمولیت سے انکار کئی شکوک و شبہات کو حقیقت کی طرف لے جائے گا۔افغانستان ایک اسلامی ملک ہے جو سنٹرل ایشیاء میں پاکستان ایران ترکمانستان ازبکستان تاجکستان اور چائنہ کے ساتھ واقع ہے۔جغرافیائی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے اسی وجہ سے دنیا کی نظریں یہاں سے ہٹتی نہیں۔قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے۔ایشیائی ممالک کی تجارت کے لئے سنٹر کی حیثیت رکھتا ہے۔1980 سے دہشتگردی کی آڑ میں ہے۔روس امریکہ اور دوسرے مغربی اتحادی اس کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔بھارت نے بھی افغانستان پر اپنا اثر و رسوخ جما کر پاکستانی حکمرانوں کی غلطیوں کا فائدہ اٹھا کر افغانستان کو پاکستان کے خلاف بھڑکانہ شروع کر دیا۔اس سے قبل پاکستان افغانستان کے تعلقات قدرے بہتر تھے پاکستان نے تاریخ کی سب سے بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کو پناہ دی۔حالات یکسر نہیں رہتے بدلاؤ آتا رہتا ہے۔منفی بدلاؤ بھی ہو سکتا ہے اور مثبت بھی۔سویت وار کے بعد امریکا کوافغانستان کو ایک خودار اور پر امن ریاست بنانا تھا مگر امریکہ نے اپنا مقصد پورا ہوتے ہی اپنا رویہ بدل لیا۔دہشتگردی کی آڑ میں ہزاروں کی تعداد میں فسادیوں نے جنم لیا۔مذہب عزت کلچر سب کو پامال کیا گیا۔امریکی کھیل کی بدولت افغانستان ایک صدی پیچھے ہی رہ گیا۔ترقی و خوشحالی پر روک کی چھاپ لگ گئی۔پاکستان نے بھی اس دہشتگردی سے بڑے نقصانات اٹھائے مگر وقت بدلا پاکستان نے اپنی غلطیوں کو بھانپا ان سے سیکھا اور مثبت راہ کو چنا۔آج واقعی پاکستان اپنے فہم کی وجہ سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔گزشتہ بدلتی صورتحال کو افغان حکومت نہ بھانپ سکی یا پھر ایسا چاہتی ہی نہیں۔شاید گزشتہ صدی سے کچھ نہیں سیکھا۔اسی لئے اپنی تباہی کے سودے خودہی کر رہی ہے۔خود کو خود مختار بنانے کی بجائے دوسروں پر انحصار رکھا ۔اب وقت کی سمت افغانستان کے لئے پھر موزوں ہے بلکہ بہت ہی زیادہ موزوں ہے۔چین اور دوسرے ممالک نے پاکستان میں امن کی بنا پر اسے محفوظ ملک گردانتے ہوئے سی پیک کا مرکز بنانے کا ارادہ کیا جس پر کام جاری ہے جو شاید چند برسوں تک پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔پاکستان کے ساتھ افغانستان 2650 کلو میٹر لمبی سرحد کے ذریعے منسلک ہے بلکہ آر پار رہنے والے ایک ہی زبان کلچراور مذہب کے لوگ ہیں۔افغانستان براہ راست اس روٹ کا حصہ ہے۔اسی لئے پاکستان افغان امن کے لئے تگ و دو کر رہا ہے۔دوسری طرف افغانستان کی سرزمین سی پیک کو ناکام بنانے کے لئے استعمال ہو رہی ہے۔افغانستان کو بھارتی چالاکیوں میں آنے کی بجائے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے۔پاکستان کا امن افغانستان کے ساتھ جڑا ہے درست ہے۔اسی طرح پاکستان کے ساتھ افغانستان کے پاس بھی سی پیک سے اقتصادی ترقی کے مواقع موجود ہیں۔اب افغانستان پر ہی منحصر ہے کہ وہ اسے کیسے ڈیل کرتا ہے۔اپنی تباہی کو پریفر کرتا ہے یا مسترد کر کے ایک اقتصادی ملک بن کر ابھرتا ہے۔ماضی میں روس واقعی افغان امن کی تباہی کا باعث بنامگر صورتحال بدل چکی ہے۔اب دنیا کی بڑی طاقتیں جنگ کی جگہ معاشی ترقی پر یقین رکھتی ہیں۔یہی ابھرتی طاقتوں کا وطیرہ ہے۔گزشتہ چند عرصے سے پاکستان روس ایران اور چائنہ افغانستان میں امن کے لئے تہہ دل سے کوشاں ہیں۔کیونکہ سی پیک کی مکمل افادیت سے مستفید ہونے کے لئے افغانستان میں امن بہت ضروری ہے۔افغانستان کے امن سے ہی پاکستان کا امن منسلک ہے۔پاکستان سی پیک کا مرکز ہے۔یہی ایک قریبی راستہ ہے وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی کا اور افغانستان میں امن کی بدولت ہی ایشیائی ممالک میں تجارت کو مزید پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔یہ بھی سچ ہے کہ افغانستان میں امن سے ہی چائنہ پاکستان ایران اور روس کو فائدہ ہے۔موجودہ امن کوششیں اور ماسکو کانفرنس بھی سی پیک کی افادیت سے مستفید ہونے اور اسکی تکمیل کے لئے ہے۔افغانستان ایسا خوش قسمت ملک ہے جو براہ راست سی پیک کا حصہ ہے۔اور جسکی ترقی اور امن کے لئے دوسرے ممالک مسلسل تگ و دو میں ہیں۔مگر شاید افغانستان سنجیدہ نہیں افغانستان کی سنجیدگی اسے ترقی یافتہ ملک بنا سکتی ہے۔اور غیر سنجیدگی مزید افلاس کی طرف دھکیلے گی۔اب فیصلہ افغانیوں کے ہاتھوں میں ہے۔امریکہ کا افغان امن ماسکو کانفرنس میں شرکت سے انکار دہرے معیار کا بیان ہے۔جو ایک سپر پاور کو ذیب نہیں دیتا ۔بلکہ کئی شکوک شبہات کو حقیقت کے قریب لے جاتا ہے جس سے امریکی دہرا معیار واضح ہوتا ہے امریکہ کو اس سے متعلق نظر ثانی کی ضرورت ہے۔پاکستان کو ماسکو کانفرنس میں بھارتی ہٹ دھرمیوں اور افغانی الزامات کو مد نظر رکھ کر شرکت کرنی چاہئے اور بھی بہتر ہو اگر پاکستان اس کانفرنس میں شرکت سے پہلے مختلف نقطوں پر تبادلہ خیال کر لے۔جیسے چائنہ روس اور ایران کو اعتماد میں لے کر بھارتیوں کو باز آنے اور افغانیوں کو تعاون کرنے کا زور ڈالے۔اس کانفرنس کا فائدہ اسی صورت میں ہے اگر افغانستان اپنے خیر خواہ اور دشمنوں کو بھانپ لے اور بدلتی صورتحال سے سیکھ کر اپنے امن اور ترقی کو پریفر کرے نا کہ بھارتی چالاکیوں کی گرفت میں رہے۔اگلے مہینے تک پاکستان کو اس کانفرنس میں، حقیقی پہلوؤں کو اجاگر کرنے، اس کے بارے سوچ کر کام کرنے کی ضرورت ہے تا کہ پاکستان خطے میں امن کے لئے بہترین کردار ادا کر سکے۔

Sunday, 19 March 2017

پاک افغان امن


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

یہ واقعی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے جڑا ہوا ہے۔خطے میں اس وقت تک امن کی فضاء کو قائم نہیں رکھا جا سکتا جب تک افغانستان امن کی خاطر تہہ دل سے اقدامات نہ کرے۔دونوں ملک 2640 کلو میٹر کی لمبی سرحد سے دوطرفہ تجارت کرتے ہیں۔اس سرحد کو ڈیورنڈ لائن کہتے ہیں۔اس سے بھی بڑھ کر اس سرحد کے آر پار رہنے والے ایک ہی زبان بولتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے رشتہ دار بھی ہیں ایک ہی مذہب ایک ہی ثقافت بلکل ایک جیسے لوگ۔پاکستان اور افغانستان براعظم ایشیاء کے دو اسلامی ملک ہیں۔جغرافیائی لحاظ سے دونوں اہمیت کے حامل ہیں۔قدرتی وسائل سے مالا مال بھی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ ان ممالک پر اپنا پورا اثر رسوخ چاہتا ہے۔امریکہ اور روس کی لڑائی کے لئے امریکہ نے بڑی مکاری کے ساتھ دونوں ملکوں کا استعمال کیا اور براستہ پاکستان افغانستان پر جنگ مسلط کر دی۔اسی جنگ کے دوران افغانستان سے لاکھوں پناہ گزین پاکستان آئے ۔پاکستانیوں نے انہیں مسلمان بھائی سمجھ کر خوشی سے تسلیم کیا۔پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بھی قدرے بہتر تھے۔وقت گزرا روس کو شکست ہوئی سویت یونین کے ٹکڑے ہوئے امریکہ سپر پاور بن کر ابھرا۔آہستہ آہستہ امریکہ نے دونوں ملکوں سے اپنی امداد روک لی اور دونوں بارے اپنی سٹریٹیجی بھی بدلی صرف فوجی و جنگی مداخلت جاری رکھی۔اسی دوران امریکہ کبھی پاکستان میں دہشتگردی کی آڑ میں بم برساتا اور کبھی افغانستان میں دونوں ملکوں کے حالات بدتر ہوتے گئے۔نوبت یہاں تک پہنچی کے دونوں ایک دوسرے پر الزام تراشی پر اتر آئے۔اس بدلتی کیفیت میں بھارت نے افغانستان پر سرمایہ کاری شروع کی اور افغانستان پر اپنا اثر رسوخ قائم کیا۔افغان حکومت بھارتی زبان بولنے لگی۔قائد کا پاکستان جو امن و آشتی کے لئے اسلام کے نام پر قائم ہوا۔وہی ملک افراتفری کا شکار ہونے لگا۔امن کی دھجیاں بکھرنے لگیں۔محبتوں کو قدروں کو پامال کیا گیا۔بیک وقت پاکستان کے متعدد دشمن پیدا ہوگئے۔جن میں افغانستان اور امریکہ دشمنوں کے سہولت کار رہے۔وقت گزرا پاکستان نے اپنی غلطیوں کو جانچا اور اپنی سالمیت کو مضبوط کیا۔دشمنوں کے خلاف جنگ لڑی اور کامیاب رہے امریکی ڈرون کا پاکستان میں گرنا بھی بند ہوگیا۔لیکن افغان حکومت بھارتی بین سنتی رہی اور اپنی بربادی کا سودا کرتی رہی۔پاکستان ایک محفوظ ملک بنا اور چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور جیسا بڑا منصوبہ سامنے آیا اور اس پر کام جاری و ساری ہے۔یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس سے اس خطے کی صورتحال یکسر بدل جائے گی۔یہ خطہ ایک معاشی خطہ بن کر ابھرے گا۔آج پاکستان پھر ایک مثبت سمت پر گامزن ہے اور دنیا اس کا اعتراف بھی کر چکی ہے اسی لئے پاکستان چائنہ اکنامک کوریڈور میں پچاس سے زائد ممالک شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں۔افغانستان بھی براہ راست اس راہداری کا حصہ ہے۔شاید افغانستان کو اس بات کی خبر نہیں کہ وہ کس قدر خوش قسمت ملک ہے کہ وہ براہ راست اس بڑے اقتصادی منصوبے کا حصہ ہے۔اگر اس کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا تو بھارتی شہہ پر براستہ افغانستان پاکستان میں دہشتگردی کر کے سی پیک کو ناکام بنانے کی سازشیں نہ کی جاتیں۔گزشتہ روز افغانستان کی طرف سے دہشتگردوں نے پاکستانی چوکی پر پھر حملہ کیا۔افغانستان سے در اندازی کا سلسلہ تشویش ناک صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ان حملوں میں ملوث تنظیموں اور سہولت کاروں کے ٹھکانے افغانستان میں پاکستانی سرحد کے قریب ہیں۔پاکستان بار بار افغانستان کو دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کا کہہ چکا ہے مگر خاطر خواہ اقدام نہیں کئے جا رہے۔یا تو یہ افغان حکومتی شہ پر ہورہا ہے یا افغان فورسز دہشتگردوں سے کمزور ہیں۔بر حال افغان حکومت کو پاکستانی تعاون سے ان دہشتگردوں کے خاتمے کے لئے کام کرنا چاہئے تا کہ دونوں ممالک کا امن اور تجارت بحال ہوسکے۔پاکستان نے تو ماضی کی غلطیوں کو پہچان کر اپنا آج اور مستقبل سنوار لیا ہے۔اب افغان حکومت کے پاس بھی موقع ہے کہ وہ دوبارہ اپنی بہتری اور امن امان کے بارے میں سوچے نہ کہ بھارتی گود میں کھیلتے کھیلتے خود کو دہشتگردی کی آڑ میں جلاتا رہے۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ افغانستان ایک مسلم ہمسایہ اور خیرخواہ پاکستان کو مخالف اور ایک غیر مسلم مکار انتہا پسند اور دشمن ملک بھارت کو اپنا دوست تصور کرتا ہے۔افغانستان کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ بدلتی صورتحال سے آشنا ہو جائے اور خود کو امن اور ترقی کی راہ پر گامزن کر لے نہ کہ امریکی و بھارتی سہولت کار بن کے دہشتگردی کی آگ میں جلتا رہے۔پاکستان کا کیا ہے پاکستان تو پاک افغان سرحد بند بھی کر سکتا ہے اور اس پر آمدورفت کو کنٹرول بھی کرسکتا ہے جس پر کام بھی جاری ہے۔ماضی میں دونوں طرف سے غلطیاں سرزد ہوئیں لیکن اب غلطیاں دہرانے کا دور ختم ہوا دونوں ملکوں کو نئی دوستی بھائی چارے اور ولولے کے ساتھ امن و ترقی کی راہ کو چننا چاہئے۔کیونکہ دونوں ممالک میں امن سے ہی خطے میں امن ہوگا۔دونوں وطنوں کا امن بھی ایک دوسرے کے امن سے منسلک ہے۔اگر افغانستان نے بھارتی گود نہ چھوڑی تو ایک دن پھر افغانستان دوسرے ملکوں وریاستوں سے صدیاں پیچھے ہوگااور اس کے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ نہ ہوگا۔پاکستان کی طرف سے بھی خاطر خواہ اقتدامات ہونے چاہئے ایسا نہ ہو کہ بھارت براستہ افغانستان ہمارے امن کوششوں کو تار تار کرنے کی تگ و دو کرتا رہے۔پاکستان کو فی الفور افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر طریقے سے طے کرنے چاہئیے۔یہ بھی وقت کی ضرورت ہے۔پاک افغان امن سے بہت سے دشمنوں کو بیک وقت شکست ہوگی۔پاکستانی حکومت کو افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے دہشتگردی کے خاتمے اور اقتصادی ترقی کی اہمیت بارے آگاہ کرنا چاہئے۔

Sunday, 12 March 2017

پاکستان اور امریکی کھیل


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی 
پاکستان امریکی کھیل کی بدولت آج تک دہشتگردی سے لڑ رہا ہے اور اگر پاکستان نے اپنی پالیسیوں کو نہ بدلا تو شاید آگے بھی ایسے ہی چلتا رہے۔پاکستان امریکہ تعلقات کا آغاز پاکستان بننے کے بعد ہی شروع ہوگیا تھا۔لمبے عرصے تک پاکستانی حکومتیں اور جرنیل امریکی تعلقات سے لطف اندوز ہوتے رہے۔لطف میں ڈالرز اور پروٹوکول نمایاں ہے۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کو معرض وجود میں آنے کے بعد متعدد چیلنجز در پیش تھے۔انتظامی و مالی سرفہرست تھے۔مگر اس دہائی میں بھی پاکستان سے دہشتگردی کوسوں دور تھی۔کچھ عرصہ تک پاکستان نے کافی حد تک اپنے انتظامی و مالی مسائل پر قابو پالیا تھا۔وقت گزرا پاکستانی آمروں نے اپنی ٹرنیلی کے چکر میں امریکی کھیل میں شمولیت اختیار کی۔یہ کھیل ظاہری طور پر تو بہت ہی سادہ اور فائدہ مند تھابہت کم لوگ اس کے اثرات سے واقف تھے۔پاکستان خطے میں امریکی اتحادی کے روپ میں نظر آیا۔امریکہ اپنا یکہ وتر کرنے کے لئے پاکستانی سر زمین کو استعمال کرنے لگا ہمارے ادارے بھی اس میں شامل رہے۔سویت یونین کی واپسی کے بعد پاکستان نے چاغی کے مقام پر ایٹمی دھماکے کئے جو کامیاب ٹھہرے۔ایٹمی نمائش کے بعد سے پاک امریکہ تعلقات خراب ہونا شروع ہو گئے۔امریکہ کو ہر گز گوارا نہ تھا کہ اس کے اشاروں سے چلنے والا اتحادی مضبوط ہو۔امریکہ نے پاکستان پر پابندیاں عائد کیں ڈالرز آنے بند ہوگئے۔یہی وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا جب امریکہ نے پاکستان کے ساتھ اپنی پالیسیاں بدل دیں اور پاکستان کو بدلتی آنکھ سے دیکھنا شروع کیا۔ ایک بار پھر پاکستانی جرنیل نے ٹرنیلی کے چکر میں امریکہ کو افغانستان پر چڑھائی کے لئے پاکستانی اڈے فراہم کئے نیٹو سپلائی شروع ہوئی۔پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پھر بہتر ہوئے مگر پہلے سی گرم جوشی نہ دکھائی دی۔امریکہ ڈالرز جاری کرتا اور ساتھ ہی پاکستان پر ڈراؤن اٹیک کی صورت میں ڈالرز کے دام پورے کرتا۔افغانستان کے ساتھ ساتھ وہ پاکستان پر بھی چڑھائی کی کوششیں کرتا رہا۔عرصہ گزرا یونہی چلتا رہا امریکی ڈراؤنز کی زد میں معصوم پاکستانی آتے رہے۔بہت سی پاکستا ن خلاف تنظیموں نے جنم لیا۔پاکستان ریاست کے خلاف بغاوت شروع ہوگئی دشمن ملک نے اس سے فائدہ اٹھانا شروع کیا۔پاکستان بیک وقت امریکی ڈراؤن اور دہشتگرد ی سے دوچار رہا۔وقت گزرا جرنیل گھر چلتا بنا۔جمہوری حکومت آئی متعدد کوششوں کے باوجود بھی دہشتگردی پر قابو نہ پایا گیا۔امریکی تعلقات بنتے ٹوٹتے رہے۔امریکی آپریشن ایبٹ آباد جس میں شاید امریکی فورسز نے اسامہ بن لادن کو مارا تھا۔اس کے بعد سے پاک امریکہ تعلقات کافی خراب رہے۔پاکستان امریکہ پر ڈراؤن پر قابو پانے کے لئے دباؤ ڈالتا رہا۔نئی حکومت آئی۔پاکستان چائنہ اور روس قریب ہوتے نظر آئے۔نئے آرمی چیف آئے بلوچستان سمیت بہت سے علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کی ۔پاکستان کے دو ٹوک مؤقف اور بار بار اصرار پر ڈراؤن اٹیک بند ہوگئے۔آرمی پبلک سکول جیسا دردناک واقعہ نے پوری قوم کو جنجھوڑ دیا۔پاکستان حکومت اور فورسز نے آپریشن ضرب عضب کا یک طرفہ فیصلہ کیا۔جس پر عملدرآمد کے بعد پاکستان کے بہت سے علاقوں سے دہشتگردی کا خاتمہ ہوا۔پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو امریکہ بھی سراہتا رہا اور ساتھ ہی ڈومور کا بھی مطالبہ کرتا رہا۔امریکہ نے بلا جواز پاکستان پر پابندیاں بھی لگائیں اور بھارت کے ساتھ قربت بھی امریکی پالیسی کا حصہ رہا۔پاکستان ایک لمبے عرصے کے بعد کسی مثبت مقام پر پہنچا تو چائنہ نے پاکستان کو محفوظ ملک گردانتے ہوئے پاک چائنہ اکنامک کوریڈور پر کام شروع کیا۔اکنامک کوریڈور پر کام شروع ہوتے ہی دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہوگئیں۔بھارت اور امریکہ کو ہر گز گوارا نہ تھا کہ پاکستان اور چائنہ کی اشتراک سے یہ منصوبہ مکمل ہوامریکہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات محدود کر کے بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ شروع کردی۔بھارت اکنامک کوریڈور کو ناکام کرنے کے لئے سازشیں کرتا رہا پاکستان نے نقصان کے باوجود ان سازشوں کو ناکام بنایا۔اسی دوران امریکی صدر بدلا اور ٹرمپ برسراقتدار آیا۔جس کی انتہا پسندانہ سوچ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پاکستان کے لئے نقصان دہ اور بھارت کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔اسی صورتحال کے دوران امریکی بیانات میں متضاد نظر آیا کبھی امریکہ پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف کوششوں کو سراہتا اور کبھی پاکستان پر دہشتگردی کو پروان چڑھانے کے الزامات لگاتا۔امریکہ کی پاکستان کے ساتھ تعلقات کی تاریخ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ ہماری سرزمین صرف اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے رہے مزید اپنے مفادات کی خاطر اپنا اثر رسوخ پاکستان پر قائم رکھنا چاہتے ہیں۔پاکستان میں دہشتگردی اور پاک افغان تعلقات میں خرابی کی سب سے بڑی وجہ خود امریکہ ہے۔امریکہ ہر گز پاکستان اور اس خطے کو مستحکم ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔گزشتہ دنوں امریکی کمانڈر جوزف کی طرف سے ڈو مور کا مطالبہ اور پھر رکن ایوان ٹیڈپو جو کہ امریکی ایوان میں دہشتگردی سے متعلق کمیٹی کے صدر ہیں نے پاکستان کو دہشتگردی کی معاونت کرنے والا ملک قرار دینے کے لئے ایوان میں بل پیش کیا۔جو کہ حقائق سے منافی ہے۔دنیا پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف کارکردگی کو متتعد بار تسلیم کرچکی ہے۔شاید بلکہ یقینی طور پر امریکہ پاکستان کو دوبارہ ٹف ٹائم دینے کی تیاریوں میں ہے۔ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کو پابندیوں والے ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔پاکستان کو سفارتی سطح پر چستی دکھانا ہوگی اور اس بل کی احمقانہ اور پراپیگنڈہ حقیقت کو سامنے لانا ہوگا۔امریکہ سے مطالبہ کرنا ہوگاکہ تعلقات دو طرفہ ہونے چاہئے ہم دو طرفہ تعلقات کے حامی ہیں۔دیکھا جائے تو پاکستان نے امریکی اتحادی بن کے اپنا ہی نقصان کیا ہے۔شاید امریکی امداد بھی اتنی نہ ملی ہو جتنی رقم ہم نے اپنے اندرونی معاملات اور دہشتگردی کے خلاف لڑنے کے لئے خرچ کی۔جو قیمتی جانیں قربان ہوئیں ان کا اذالہ کبھی ممکن نہیں۔دنیا اور پاکستان بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان میں موجوہ دہشتگردی امریکی دوستی کا ثمر ہے۔پاکستان کو امریکی ڈو مور مطالبے کو مسترد کر کے امریکہ سے دہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی ترک کرنے کا مطالبہ کرنا چاہئے۔پاکستان کو امریکی کھیل کو مسترد کر کے خود مختار بننے کی ضرورت ہے ماضی وحال کے نقصانات اسی کھیل کا حصہ تھے۔امریکہ جیسے مکار یار کے لئے اپنی پالیسیاں بدلنے کی فوری ضرورت ہے۔کیونکہ مکار یار دشمن سے بھی خطرناک ہوتا ہے۔پاکستان کو اپنی خاجہ پالیسی ازسر نو بدلتی صورتحال کو دیکھ کر تشکیل دیناہوگی۔یہی وقت کی پکار ہے۔

Sunday, 5 March 2017

پی ایس ایل فائنل اور جذبہ حب الوطنی


چوہدری ذوالقرنین ہندل ۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

آج شب لاہور قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان سپر لیگ کے فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کی ٹیمیں مد مقابل ہوں گی۔جس میں ملکی و غیر ملکی کھلاڑی بھی شرکت کریں گے۔زمبابوے کے پاکستان دورے کے بعد یہ پہلے بین الاقوامی سطح کے کرکٹ میچ کا پہلا میلا سجا ہے۔جس میں شائقین بڑھ چڑھ کر شرکت کر رہے ہیں۔پی ایس ایل ٹورنامنٹ کے باقی تمام میچز دبئی میں کھیلے گئے۔فائنل لاہور کرانے کا فیصلہ بہت پہلے کا تھا مگر لاہور اور ملک بھر میں گزشتہ دنوں دہشت گردی کی لہر نے جہاں پاکستانی اداروں پر سوالیہ نشان اٹھائے وہیں پی ایس ایل فائنل پر بھی سوال بننے لگے۔مگر پاکستان آرمی چیف اور حکومت نے یک طرفہ فیصلہ جاری کیا کہ پی ایس ایل کا فائنل ہر حال میں پاکستان میں ہی کھیلا جائے گا۔ریاست کے اس فیصلے سے غمزدہ لوگوں میں ایک خوشی کی لہر اٹھی ایک نیا ولولہ اٹھا۔یہ ولولہ یہ جذبہ حب الوطنی کا ہے۔پاکستانی قوم نے اپنی تاریخ میں بڑے دلسوز اور خوفناک واقعات و حالات دیکھے اور ایسے حالات سے دو چار اس قوم میں صبر اور برداشت کا بھی عنصر شامل ہوگیا۔اس قوم نے ہر مشکل میں دوبارہ چلنا سیکھ لیا۔گزستہ دنوں دہشتگردی نے لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے چھوڑے لوگوں کے دل و دماغ پر خوف کی چھاپ نے جمنے کی کوشش کی۔مگر یہ قوم غم و خوف کی اس منزل پر ہے کہ دشمن کی مزید کاروائی اس قوم کو دھکیلنے کی بجائے اچھالے گی ۔خیبر سے پنجاب سندھ بلوچستان کشمیر اور بلتستان پورا وطن پوری قوم گزشتہ دنوں غم کی لپیٹ میں تھی۔پھر اس قوم نے دشمن کی مات کے لئے ایک راستہ چنا اور پی ایس ایل فائنل کی کامیابی کی صورت میں دشمن کو اسکی ناکامی کا پیغام پہنچانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔اس قوم میں حب الوطنی کا جو جذبہ ہے اسے شاید دشمن کبھی کم نہیں کرسکتا۔آج لاہور قذافی اسٹیڈیم میں پورا وطن ہر صوبے کے نمائندگان جن میں بزرگ معصوم بچے اور نوجوان جذبہ حب الوطنی کے تحت پوری دنیا تک پر امن پاکستان کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔دشمنوں کی دہشتگردی کے واقعات نے جہاں اس قوم کو صبر اور برداشت کی طرف گامزن کیا ہے وہیں ثابت قدمی بھی ان میں بڑھتی جا رہی ہے۔ثابت قدمی کسی بھی قوم کی ترقی کی ضمانت ہے۔پاکستان نے آپریشن ردالفساد اور پی ایس ایل فائنل کی شکل میں اپنی ثابت قدمی کے ثبوت پیش کئے ہیں۔دشمن اگر طویل عرصے تک ہمارے خلاف پرپیگنڈہ کر سکتا ہے تو ہم بھی ان کی سازشوں سے نمٹنے کے لئے ثابت قدم ہیں۔مجھ سمیت بہت سے لکھاری متعدد بار ثابت قدمی کی افادیت پر لکھ چکے ہیں۔امید ہے کہ پاکستان نے جس ثابت قدمی کی ابتداء کی ہے اس پر گامزن رہے گا۔گزشتہ دنوں ملک کے نامور سیاستدان اور اور نامور کرکٹرز نے پی ایس ایل فائنل لاہور کروانے کو پاگل پن قرار دے دیا۔میں انہیں بس یہ ہی جواب دینا چاہتا ہوں کہ اگر خوف اور دشمن کے خلاف لڑنا پاگل پن ہے تو ہاں ہم پاکستانی پاگل پن کا شکار ہیں اور ہم اسی طرح دشمنوں کی سازشوں کے خلاف ثابت قدم رہیں گے۔قومیں کبھی اس وقت تک دشمنوں کا مقابلہ نہیں کرسکتیں جب تک وہ اپنے اندر موجود خوف کا مقابلہ نہ کرلیں۔الحمداللہ پاکستانی قوم خوف کو اور دشمن کو ہمیشہ کے لئے شکست دے گی۔دوسری بات جو بیرون ممالک کھلاڑی پاکستان نہیں آئے ان کے لئے، پاکستان میں سی پیک کے لئے نو ممالک کے صدور آسکتے ہیں غیر ملکی فوجیں امن مشقیں کر سکتی ہیں مختلف ممالک تجارت کے لئے ہمارا راستہ استعمال کرنا چاہتے ہیں اور تم کچھ گھنٹوں کے لئے میچ نہیں کھیل سکتے بزدل ہو گھر سے باہر نہ نکلا کرو۔دہشتگردی کے واقعات تو بھارت فرانس اور جرمنی وغیرہ میں بھی ہوتے ہیں ۔کیا وہاں لوگ کھیلنا چھوڑ دیتے ہیں؟نہیں ہر گز نہیں۔ہم بھی کھیلنا نہیں چھوڑیں گے۔چاہے کوئی غیر ملکی آئے یا نا آئے۔جو غیر ملکی پاکستان آئے ہیں انہیں تہہ دل سے خوش آمدید۔انشاء اللہ یہ کھلاڑی پاکستان سے امن کا پیغام لے کر جائیں گے۔قارئین دیکھیں آج بلوچستان کی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹر اور خیبر پختونخواہ کی ٹیم پشاور زلمی قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ دشمن کے خلاف کھیلیں گی اور دشمن کے مقدر میں ہی شکست ہوگی اور درحقیقت صبح اخبارات پر دشمن کی شکست کی خبریں ہوں گی ۔یاد رہے کے بلوچستان اور خیبر پی کے میں دشمن نے نفرت پھیلانے کے لئے بڑی سازشیں کیں مگر اس غیور قوم نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور آج بھی دشمن کا مقابلہ کرنے لوگ خیبرپی کے بلوچستان سندھ اور پنجاب کے مختلف مقامات سے آئے ہیں۔میرے نزدیک پی ایس ایل کا فائنل کروانا ایک اچھا اور مثبت قدم ہے چاہے لاہور کے کچھ حصے بند ہیں ۔کیوں کہ نہ تو کبھی سکول پر حملوں کی وجہ سے ہم نے تعلیم حاصل کرنا چھوڑی نہ ہی مسجدوں پر حملوں کی وجہ سے نماز پڑھنا۔دشمن کی کارویوں پر ہم جھک نہیں سکتے نہ ہی گھروں میں بیٹھ کر خوف کی کیفیت میں رہ سکتے ہیں۔ہمیں آگے بڑھنا ہے مقابلہ کرنا ہے ۔پاکستان زندہ باد۔پائندہ آباد۔

Sunday, 26 February 2017

سی پیک کے ثمرات سب کے لئے


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

سی پیک اکنامک کوریڈور کا معاہدہ پاکستان اور چائنہ کے اشتراک سے 2015میں طے ہوا۔جس میں اقتصادی راہداری کے روٹ اور گوادر سمیت بہت سے منصوبے شامل ہیں۔اس منصوبے پر کام جاری و ساری ہے جو قریب چند سالوں میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔سی پیک اکنامک کوریڈور صرف ایک راہداری کا نام نہیں بظاہر نام سے یہ ایک راہداری ہی لگتا ہے لیکن اس منصوبے کے تحت پاکستان میں توانائی سمیت بہت سے پراجیکٹس پر کام کیا جائے گا۔جس میں بجلی وگیس سر فہرست ہیں۔سی پیک منصوبہ کے تحت چائنہ پاکستان میں مختلف پراجیکٹس پر 46بلین ڈالرز خرچ کرے گا۔جس میں سے 35بلین ڈالرز توانائی اور دیگر صوبائی مسائل کے لئے خرچ ہوں گے۔باقی 10بلین ڈالرز پاکستان اپنے افراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لئے مختلف مقامات پر استعمال کرسکے گا۔یہ 46 بلین ڈالرز کی رقم براہ راست پاکستانی حکومت کو نہیں دی جائے گی بلکہ چائنہ خود اپنی زیرنگرانی یہ رقم مختلف پراجیکٹس پر خرچ کر رہا ہے۔فقط کچھ چھوٹے پراجیکٹس و مقامات پر ہی پاکستانی حکومت کی رقوم تک رسائی ہے۔زیادہ تر بڑے پراجیکٹس کی نگرانی چائنہ خود ہی کر رہا ہے۔اسی بنا پر اس راہداری منصوبے میں کرپشن کے چانسسز بہت کم ہیں۔جہاں تک بات صوبوں کی ہے تو سب صوبوں کو انکے حصے اور مواقعوں کے مطابق ہی راہداری میں شامل کیا گیا ہے۔تاہم صوبائی حکومتیں اپنی پھرتی کی بنا پر کچھ وافر کام بھی لے سکتی ہیں۔اس پھرتی میں پنجاب کا نام سر فہرست ہے۔سندھ بھی کوششوں میں مصروف ہے۔یہ بتانے کا مقصد ہے کہ وفاق جن کی زیادہ اکثریت پنجاب میں ہے کسی ناانصافی پر عمل نہیں کرسکتی۔کیوں کہ سی پیک کے ثمرات سب کے لئے ہیں۔چائنہ اس راہداری پر صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے ہی کام کر رہا ہے۔میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ راہداری منصوبے کے ثمرات تمام صوبوں تک پہنچیں گے۔جن پر کام جاری و ساری ہے۔سی پیک کے ثمرات سے سب سے زیادہ مستفید بلوچستان اور خیبر پختونخواہ ہوں گے۔صوبوں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر تک بھی اس کے ثمرات پہنچیں گے۔سی پیک کے زریعے ملک کے مختلف علاقوں میں ہائیڈرل پاور پراجیکٹس کوئلے سے بجلی بنانے کے پلانٹس ہوا سے بجلی بنانے والے ونڈ ٹربائینز اور سورج سے بجلی بنانے والے سولر پاور پلانٹس لگائے جائیں گے جن میں سے چند پر کام بھی جاری ہے۔میرے خیال سے تمام صوبائی حکومتوں کوسی پیک سے پوری طرح سے مستفید ہونے کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور چائنہ کو توانائی کے بہترین مواقعوں سے آگاہ کرنا چاہئے تاکہ ایسے منصوبوں پر عملدرآمد ہو سکے جہاں کم وسائل سے زیادہ مستفید ہوا جا سکے۔جیسے سولر پاور پلانٹس پاکستان میں بہت کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔پاکستان اس راہداری کے زریعہ بلوچستان اور دور دراز کے علاقوں میں بجلی گیس اور سڑکوں کے جال بھی بچھا رہا ہے۔انٹرنیٹ کی سہولت کے لئے فائبر آپٹکس کے جال بھی اسی منصوبہ کے زریعہ بچھائے جا رہے ہیں۔پاکستان کے بہتر ہوتے انفراسٹرکچر کو دیکھ کر ہی دوسرے ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔سی پیک منصوبے کے تحت گوادر اور اس کے قریبی علاقہ میں پاکستانی دفاع کو مزید مضبوط اور بہتر بنانے کے لئے بھی بھاری رقم استعمال کی جا رہی ہے۔گزشتہ بحری مشقیں بھی دفاع کو بہتر بنانے کے لئے کی گئیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں سی پیک کی شکل میں بیج بویا جا رہا ہے جو مکمل ہو کر پاکستان کے لئے میٹھا پھل ہی ثابت ہوگا۔بلاشبہ اس کی تکمیل سے پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے گا روز گار کے مواقع بڑھیں گے۔فوری وقت لاکھوں پاکستانی مزدور بھی سی پیک سے مستفید ہو رہے ہیں۔قارئین جہاں پاکستان اس سے مستفید ہوگا وہیں دوسرے ممالک تک بھی اس کے ثمرات پہنچیں گے۔چائنہ کو ایک آسان اور شارٹ کٹ راستہ مل جائے گا وہ آسانی سے دوسرے ممالک تک رسائی حاصل کرسکے گا۔برآمدات اور درآمدات میں باآسانی اضافہ کرسکے گا۔اس منصوبے سے روس افغانستان ایران جاپان کوریا دوسرے وسطی ممالک قازکستان ازبکستان وغیرہ اورمغربی حتی کہ بھارت بھی مستفید ہو سکتے ہیں ان سب کے لئے یہ آسان تجارتی راستہ ہوگا۔لیکن بھارت کو ہرگز گوارا نہیں کہ وہ پاکستان کو خطے میں ایک اقتصادی نمبردار کی حیثیت سے دیکھ سکے۔اسی لئے وہ سی پیک کو نقصان پہنچانے کے لئے سرگرمیوں میں ملوث ہے۔پاکستان بھارت کو بھی اس منصوبے میں شرکت کی دعوت دے چکا ہے۔لیکن بھارت شامل ہونے کی بجائے افغانستان براستہ پاکستانی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔بھارت اس منصوبے میں شامل ہوکر خطے میں اپنی اقتصادی پوزیشن کو بہتر کرسکتا ہے۔اپنی برآمدات و درآمدات میں اضافہ کر سکتا ہے۔لیکن مسلسل بھارت منصوبے کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔جو کسی روز اسے اپنے نقصان کی شکل میں چکانا پڑے گا۔اب افغانستان جو براہ راست سی پیک کا حصہ ہے اسے بھارت کی گود کا سہارا چھوڑ کر خود کو مستحکم کرنا چاہئے کیونکہ یہی ایک موقع ہے کہ افغانستان بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔برصغیر ایشیاء کا یہ خطہ سی پیک کی تکمیل سے بہت سے ثمرات سمیٹے گا اور اسکا سہرا پاکستان کے سر ہے۔پاکستان کو اپنی اندرونی معاملات فوری حل کرنے چاہئے تاکہ سی پیک کی کامیابی پر توجہ مرکوز رہے۔اور بیرون ممالک اپنی سرمایہ کاری پاکستان میں کرنے سے گریز نہ کریں بلکہ کھلے دل سے سرمایہ کاری کریں۔اگر سی پیک پر کام پوری توجہ اور محنت سے کیا جائے تو سی پیک پراجیکٹ پر لگنے والی سرمایہ کاری مزید بڑھ سکتی ہے دوسرے ممالک بھی اس پر سرمایہ کاری کرسکتے ہیں کیوں کہ اس میں ہی سب کے فوائد و ثمرات ہیں۔واقعی یہ خطے کے لئے گیم چینجر ہے دنیا اس سے آگاہ ہے اور جو آگاہ نہیں انہیں بھی چند سالوں میں علم ہو جائے گا

Sunday, 19 February 2017

دہشتگردی سی پیک اور دشمن


چوہدری ذوالقرنین ہندل ۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی


گزشتہ پانچ دنوں میں دہشتگردی کے نو واقعات نے پورے پاکستان کو حیران و پریشان کر دیا ہے ہر طرف سوگواری ہے۔افسوس کی لہر دوڑ رہی ہے۔گزشتہ دنوں لاہور ،کوئٹہ ،پشاور ، مہمندایجنسی، ڈیرہ اسماعیل، آواران، اور سیہون شریف میں لال شہباز قلندر کے مزار پر دہشتگردی کے واقعات پیش آئے۔جو انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہیں۔دہشتگردی کے ان واقعات میں ایک سو تیس سے زائد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ان واقعات نے جہاں پورے پاکستان کو حیران و پریشان کیا ہے وہیں ہمارے انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں پر بھی سوالیہ نشان اٹھایا ہے۔آخر ہمارے سیکورٹی و انٹیلی جنس ادارے اتنے کمزور اور لاعلم کیوں؟ اگر علم تھا تو کوئی عملدرآمد اور روک تھام کیوں نہیں؟ماضی میں بھی متعدد بار دہشتگردی کے واقعات ہونے تک ہمارے حکمران اور ادارے سوئے رہے۔جب تک کوئی بڑی دہشتگردی نہ ہو جائے کوئی حرکت سامنے نہیں آتی ۔آخر کیوں؟آخر ہم دشمنوں کے مقاصد جاننے کے باوجود بھی ہر وقت دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے چوکنا کیوں نہیں ہوتے۔؟اگر چوکنا ہیں تو یہ واقعات کیسے اور کیوں؟یہ ایک بڑا سوال ہے جس کا جواب کوئی بھی نہیں دیتا۔جن کے سگے جان سے بھی پیارے دہشتگردی کا نشانہ بنے ہیں انکی دلی کیفیت سے ہم ہر گز واقف نہیں۔معصوم چہرے غم زدہ آنکھیں اور ساکت زبان ہمارے اداروں سے حکمرانوں سے سوال کر رہی ہیں کہ آخر ہم نے کسی کا کیا بگاڑا ہے ہمار قصور کیا ہے؟کیوں ہمارے باغوں کی کلیوں پھولوں اور پھلوں کو چھلنی کیا جاتا ہے؟آخر کیوں؟ان سوالوں کے جواب بھی کسی کے پاس نہیں۔قارئین گزشتہ چند عرصے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ایک چیز واضح ہو جاتی ہے کہ ملک دشمن سی پیک کی ناکامی کے لئے مسلسل متعدد کوششوں میں مصروف ہیں۔دشمن ہماری نظریں کشمیر اور سی پیک سے ہٹا کر افراتفری پھیلانا چاہتا ہے۔کبھی آزاد کشمیر کے بارڈر پر الجھایا جاتا ہے کبھی افغانستان کے راستہ الجھایا جاتا ہے۔کبھی سرجیکل سٹرائیک کے جھوٹے دعوے کئے جاتے ہیں۔کبھی ہمارے جاسوس کبوتر پکڑے جاتے ہیں۔کبھی ہمیں تنہا کرنے کے دعوے کئے جاتے ہیں۔دشمن مسلسل افراتفری پھیلانے کی کوششوں میں مصروف رہتا ہے۔میں یہ بات پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ موجودہ دہشتگردی کے واقعات بھی اسی کڑی سے جا ملتے ہیں۔گزشتہ دنوں پاکستان اور دوسرے غیر ملکی ممالک کی مشترکہ بحری مشقیں اور پی ایس ایل جس میں غیر ملکی کھلاڑی بھی شامل ہیں جاری تھے۔دہشتگردی کے واقعات عین وقت اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمن پاکستان کو دنیا کے سامنے غیر محفوظ اور دہشتگرد ملک قرار دینا چاہتا ہے۔سی پیک جو کہ بہت سے ممالک کے لئے بڑی معاشی ترقی کی اہمیت کا حامل ہے۔جسکی بدولت دنیا اپنی نظریں پاکستان پر مرکوز کئے ہوئے ہے۔ایسے میں دشمن کا جھلن کے باعث کڑھ جانا اور اپنی کم ہوتی اہمیت سے تنگ آکر پاکستان میں سی پیک کی ناکامی کے لئے جتن کرنا ہی اصل وجہ ہے۔دشمن نے دہشتگردی کا یہ وقت اس لئے چنا کیوں کہ ہمہ وقت بحری مشقوں اور پی ایس ایل میں موجود فوجیوں اور کھلاڑیوں تک اس کی گونج پہنچے اور غیر محفوظ پاکستان کا تاثر پہنچے۔فوجی اور کھلاڑی بیرون ملک دونوں ہی ملکی سفیر سا درجہ رکھتے ہیں۔افسوس کہادارے دشمن کی چالاکیوں سے علم رکھتے ہوئے بھی چوکنا نہیں رہے۔ہمارے ادارے اور حکمران اپنے کاموں میں مگن تھے۔کوئی حکومت گرا رہا تھا کوئی حکومت بچا رہا تھا۔پاک فوج کی توجہ بھارت بارڈر پر اٹکائی گئی تھی۔افسوس کہ دشمن پھر اپنی چالاکیوں میں کامیاب رہا۔یہ دشمن وہی انتہا پسند بھارت ہے جسکا اپنا گھر بکھرنے کے درپے ہے اور وہ دوسروں پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے۔بھارت پاکستان کو تنہا کرنا چاہتا ہے اور بیک وقت پاکستان کو کئی الجھنوں میں الجھائے ہوئے ہے۔جن میں افغانستان بارڈر اور دہشتگردی سرفہرست ہیں۔افغانستان کے ساتھ برے تعلقات پاکستان کی ماضی میں ناکام پالیسیوں کی بدولت ہیں۔پاکستان کا امن اتنی دیر تک ممکن نہیں جب تک افغانستان پاکستان کے ساتھ مخلص اور پر امن نہ ہوجائے۔متعدد بار لکھ چکا ہوں کہ اپنی اندرونی معاملات کو فوری نمٹا کر اپنا اندرون مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔دہشتگردی کے واقعات ہمارے اداروں پر سوالیہ نشان ہیں۔ہمارے اداروں کو ہر وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے نہ کہ افراتفری کے عالم میں بے گناہوں کو پکڑ کر مزید بدامنی پھیلانے کی۔ہمیں قوم میں مثبت سوچ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔موجودہ صورتحال میں پاکستان کو ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے۔ثابت قدمی کے ساتھ ہمارا اندرون مضبوط ہوجائے تو دشمن خود ہی بکھر جائیں گے اور پاکستان سی پیک کی تکمیل سے ایک بڑا اقتصادی و معاشی ملک بن کر ابھرے گا۔دہشتگردی کے واقعات دشمن کے آخرے ہتھکنڈے ہیں پاکستان کو دشمن کی کاروائیوں کا واضح جواب دینے کے ساتھ مثبت سوچ ثابت قدمی اور نئی واضح خارجہ پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔تاکہ ایک نئے نظریے کے ساتھ پاکستان موجودہ چیلنجز کا سامنہ کرتے ہوئے سی پیک کی پایہ تکمیل تک پہنچ جائے۔

Sunday, 12 February 2017

پاک بحریہ امن مشقیں اور بھارت


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

مل جل کر ارض پاک کو رشک چمن کریں 
کچھ کام آپ کیجئے کچھ کام ہم کریں
گزشتہ روز دس فروری سے پاکستان بحریہ کی دوسرے ممالک کے ساتھ پانچویں مجموعی امن مشقوں کا آغاز ہوگیا ہے۔جو دس روز تک جاری رہے گا۔پاکستان نے ان امن مشقوں کا آغاز 2007 میں کیا۔2017 امن مشقوں کی خاص بات یہ ہے کہ اس بار دنیا کے 37 ممالک کی بہترین بحری افواج اپنے لڑاکا جہازوں کے ساتھ شریک ہورہی ہیں۔جن میں امریکہ روس چین برطانیہ جاپان سعودی عرب آسٹریلیاء اٹلی سری لنکاء بحرین اور دیگر کئی ممالک شریک ہیں۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا پاکستان کی امن کوششوں کو سراہتی ہے اور پاکستان کے ساتھ مل کر امن کے حوالے سے کام کرنے کے لئے تیار ہے۔پاکستان بحر یہ امن مشقیں ہر دو سال بعد کرواتی ہے۔ روس پہلی مرتبہ اپنے تین بڑے بحری جہازوں سمیت شرکت کر رہا ہے۔پاکستان میں اس وقت سی پیک اور گوادر بندرگاہ پر کام جاری ہے جو پاکستان اور پاکستانی معیشت کے لئے ایک بڑی اہمیت رکھتا ہے۔بعض مخالفین کو پاکستان کی یہ اقتصادی ترقی ہضم نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے یہ مخالفین راہداری منصوبے میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں۔اور پاکستان میں سازشی کاروائیوں میں مصروف ہیں۔پاکستان کا اندرون اور بیرون ماضی کی نسبت بہت مضبوط ہے اور انشاء اللہ دن بدن مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔مخالفین صرف حسد میں جلتے رہیں گے۔گوادر بندر گاہ پاک چین سمیت بہت سے مشرقی و مغربی ممالک کے لئے بھی تجارت کا مرکز بن رہا ہے۔موجودہ وقت میں اسی بنا پر پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں چاہیں دشمنی کی ہوں یا دوستی کی۔یہی وجہ ہے کہ برطانیہ جیسا عظیم ملک بھی پاکستان چائنہ راہداری میں شریک ہونا چاہتا ہے اور ساتھ مل کر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ 2017 امن مشقیں بھی اسی بنا پر بہت اہمیت کی حامل ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان پوری دنیا کو محفوظ بحری راستہ مہیا کرنا چاہتا ہے۔یہ بحری راستہ صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا راستہ ہے اور اسکی حفاظت بھی پوری دنیا پر فرض ہے۔امن مشقیں مختلف بحری مشکلات اور رکاوٹوں سے مل کر نمٹنے کے لئے کی جا رہی ہیں۔جس میں 37ممالک کی بہترین بحری فوجیں اپنے اپنے تجربات شیئر کریں گی۔جس سے تمام ممالک کی افواج کو مل جل کر تجربات سے سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ہر ملک کی فوج کا ایک اپنا تجربہ ہے اور دیکھا جائے تو سب کے تجربات ملا کر قریب ایک ہزار سال سے زائد کا تجربہ بنتا ہے۔یونہی مل جل کر امن مشقوں سے تمام بحری فوجوں کو ایک ہزار سال سے زائد کے تجربات سے مفید ہونے کا موقع ملا ہے۔اس کا سہرا پاک بحریہ کے سر جاتا ہے جو پل کی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔مخالفین کو علم ہونا چاہئے کہ پاکستان کسی بھی بحری جارحیت کے خلاف نمٹنے کے لئے ہراول دستے کا کردار ادا کرے گا۔ہر گزرتے دن کے ساتھ دنیا کو پاکستان کی امن کوششیں واضح ہورہی ہیں اور دوسری طرف بھارت کی انتہا پسندانہ سوچ سے بھی دنیا آگاہ ہو رہی ہے۔بھارت نے اپنا دفاعی بجٹ گزشتہ سال سے بڑھا کر 45کھرب کرلیا جو پاکستان سمیت بہت سے ملکوں کے مجموعی بجٹ سے بھی بہت زیادہ ہے۔بھارت دنیا میں خطرات کی بگل بجائے جا رہا ہے ۔بھارت تھرمونیوکلیئر بم جوکہ ایٹم بم سے بھی دو گنازیادہ تباہی پھیلا سکتا ہے کو بنانے میں مصروف ہے۔عالمی برادری کو فوری بھارت کو روکناہوگا اور پابندیاں عائد کرنی ہوں گی۔تاکہ دنیا کسی بھی بڑی تباہی سے کوسوں دور رہے۔یوں تو بھارت پاکستان کے وجود سے ہی جلتا ہے مگر گزشتہ دن شروع ہونے والی امن مشقوں سے بھی بھارت کو خاصی تکلیف پہنچی ۔جس کے جواب میں بھارتی نیوی کے چیف سنیل لانباہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں امن مشقیں کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتیں یہ معمول کی مشقیں ہیں اور اس میں صرف سولہ ممالک شریک ہو رہے ہیں۔بھارت اپنی انتہا پسندانہ سوچ اور آمرانہ خواہش کی بدولت دن بدن نقصان کی طرف جا رہا ہے ایسا نقصان جس کی تلافی برسوں پوری نہیں ہو سکے گی۔بھارتی عوام بھوک و افلاس اور بہت سی پچیدگیوں میں مبتلا ہے اور حکومت اسلحے کی دوڑ میں بھاگے جا رہی ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ انتہا پسندانہ سوچ ہمیشہ بکھیر دیتی ہے اور ایسا بکھیرتی ہے کہ سنبھلنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔بھارت اپنی ملکی سلامتی بکھیرنے کی طرف جا رہا ہے جس میں بھارتی حکومت کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا اور دانشوروں کا بھی پورا ہاتھ ہے۔اگر بھارت اپنی نمبرداری سے بعض نہ آیا تو ایک دن بھارتی ٹکڑے یقینی ہیں اور یہ ٹکڑے انکی اپنی ریاستوں سے شروع ہوں گے۔وقت ہے کہ گزر جاتا ہے مگر واپس نہیں آتا۔ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ بھارتی دانشور ہاتھ ملتے رہ جائیں گے اور ملامت کریں گے کہ عوام کو حقیقت سے کیوں دور رکھا کیوں تاریخ بدلنے کی کوشش کی۔پاکستانی عوام اور حکومت کو ثابت قدمی اور مزید محنت کی ضرورت ہے۔پاکستان کو فی الفور اپنے اندرونی معاملات سے نمٹنا چاہئے جو کہ وقت کی بڑی ضرورت ہے۔ اگر اندرون مضبوط ہوگا تو مخالف ٹکرا کر خود گر جائے گا۔پاکستان کو پوری دنیا کے سامنے اپنا مثبت موقف پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ثابت قدمی محنت واہ2030کا پاکستان کتنا حسین اور بڑا اقتصادی ملک نظر آرہا ہے ہر طرف خوشیاں ہیں بے روزگاری دور چلی گئی ہے۔انتہا پسندی اور آمرانہ سوچ آہ 2030کا بھارت بکھر چکا ہے افلاس نے جکڑ لیا ہے۔

Sunday, 5 February 2017

ثابت قدمی اور بھارتی ٹکڑے


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔ گوجرانوالہ۔ چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی


بھارت بہت عرصہ سے برصغیر پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے اور اپنے اس خواب کی تعبیر کے لئے جتن اور کوششوں میں مصروف ہے۔بھارتی خواب کی راہ میں پاکستان رکاوٹ کا کردار ادا کرتا ہے۔بھارت اپنی سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کے خلاف متعدد منصوبہ بندیاں کر چکا ہے اور کرنے میں مصروف ہے۔بھارت کو حکمرانی کی لت لگانے والا ملک امریکہ ہے ۔امریکہ بھارت کو خطے میں مضبوط دیکھنا چاہتا ہے تا کہ وہ ابھرتی ہوئی سپر پاور چین کو روک سکے۔اس سارے کھیل میں پاکستان ایک بڑے مہرے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے ۔جو سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ۔پاکستان نظریاتی لحاظ سے چین کے زیادہ قریب ہے مگر امریکہ سے بھی اپنے تعلقات ختم کرنا نہیں چاہتا۔چین اور روس پاکستان کو سی پیک کی صورت میں مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ انکا حریف امریکہ بھارت کو خطے میں ان کے سامنے کھڑا نہ کر سکے۔بھارت ایک انتہا پسند ملک ہے پوری دنیا بھارتی تنگ نظری سے واقف ہے اور دنیا جانتی ہے کہ بھارتی حکمرانی دنیا کے لئے بڑا خطرہ ہے۔بھارت حکمرانی کے نشے میں ایسا دھت ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف بہت سے ملکوں کے ذریعے تخریب کاریوں میں مصروف عمل ہے۔ثابت قدمی ایک بہت بڑا عمل ہے جو صبر کے معنوں میں آتا ہے۔زندگی میں ثابت قدمی کو بہت سی کامیابیوں کی ضمانت تصور کیا جاتا ہے۔بے شک ثابت قدمی بھی خدا داد صلاحیت ہے۔مگر انسان اپنے ماضی کی مشکلات و پریشانیوں سے بھی سیکھ کر ثابت قدمی کا دامن تھام لیتا ہے۔اسلام میں بھی ثابت قدمی کی کئی مثالیں موجود ہیں جنگ کا محاذ ہو یاکوئی دوسرا۔میں جب سے اپنے ہوش و حواس میں ہوں تب سے اب تک پاکستانی حکومتوں میں ثابت قدمی کے فقدان کو بہت محسوس کیا۔5 فروری یوم یکجہتی کشمیر بھی ہمیشہ کی طرح گزر گیا سب نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں جو شاید دو دن بعد بھول بھی جائیں عملدرآمد نہ ہونے کے باعث اگلے سال ممکن ہے پھر پیش کی جائیں۔پاکستان اقوام متحدہ کی طرف سے مسئلہ کشمیر کا اہم ترین فریق ہے۔مگر گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے مضبوطی سے پیش نہیں کرسکا جسکی ضرورت تھی۔اور نہ ہی پاکستان بھارتی اصلیت کو دنیا کے سامنے آشکار کر سکا۔ایک طرف بھارت پاکستان پر الزام تراشی کر کے پاکستان کو تنہا کرنے کی سازشوں میں مصروف ہوتا ہے پاکستان کو دہشتگرد ملک ٹھہرانے کی کوشش میں مصروف پاکستانی کھلاڑیوں پاکستانی فنکاروں پر پابندیاں اور مزید پابندیوں میں مصروف ہوتا ہے اور دوسری طرف پاکستانی حکومت اپنے اہم ریاستی رہنماؤں کی گرفتاریوں بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت اور بھارت سے دوستی کی تگ و دو مصروف ہوتے ہیں۔بھارت آبی جارہیت کرتا ہے اور سندھ تاس معاہدے کی خلاف ورزی بھی اور پاکستان کی طرف سے کوئی بھی ٹھوس اقدام نہیں اٹھائے جاتے۔آخر کیوں؟یہ کیا ہے؟کیوں ہے؟عوام اس کے جوابات چاہتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ بھارت اپنی نمبرداری کے چکر میں دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اسکے اپنے ملک کی کئی ریاستیں وفاق سے بدذن ہیں اور آزادی چاہتی ہیں۔اسی سلسلے میں متعدد تنظیموں و تحریکوں نے جنم لیا ہے اور دن بدن فعال بھی ہوتی جا رہی ہیں۔بھارتی اقلیتیں تحفظ کے لئے ترس رہی ہیں۔غربت و افلاس میں انسانی قدروں کی پامالی ہورہی ہے۔عورتوں کی عصمتیں محفوظ نہیں۔عصمت ریزی میں بھارت کا بڑا نام ہے۔انسانیت کی دھجیاں بکھیرنا معمول کا کام بن چکا ہے۔بھارت خطے میں نمبر داری کے چکر میں اپنی عزت کا جنازہ نکال چکا ہے اور بھارتی میڈیا بھی اس کا ذمہ دار ہے۔بھارتی میڈیا اپنے عوام کو حقیقت سے باخبر رکھ کر بھارتی شیرازہ بکھیرنے کی طرف گامزن ہے۔بھارتی نمبرداری کے خواب کو پاکستان چکنا چور کرتا ہے بھارت اپنے اس بڑے حریف کو مات دینے کے لئے مختلف طریقوں سے خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے تخریب کاریوں میں مصروف ہے۔پاکستان کے پاس اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔پاکستان کی موجودہ حکومت بھی گزشتہ کی طرح سست روی کا شکار ہے۔بہت سے معاملات میں سستی دکھائی جارہی ہے ۔مسئلہ کشمیر سر فہرست افغانستان امریکہ اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی وغیرہ۔ان سب معاملات کو فوری حل ہونا چاہئے۔موجودہ وقت میں خطے کی صورتحال بہت تیزی سے بدل رہی ہے دو اتحاد سامنے آ رہے ہیں جن میں چین روس اور پاکستان اور دوسری طرف امریکہ اسرائیل اور بھارت۔پاکستانی قیادت شاید اس تبدیلی سے صحیح طرح سے آگاہ نہیں یا ہونا نہیں چاہتی۔پاکستانی حکومت بیک وقت دو کشتیوں کی سواری کرنا چاہتی ہے جو نا ممکن ہے۔یعنی چین اور امریکہ۔جسکی بدولت ملک اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچا ہے اور پہنچ رہا ہے۔پاکستان کو فوری ایک وزیر خارجہ کو منتخب کرنا ہوگا اور خطے کی بدلتی صورتحال دیکھ کر ایک واضح خارجہ پالیسی تشکیل دیناہوگی۔پاکستان کو ماضی کی طرح اکھڑے قدموں کی بجائے ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے ۔سی پیک کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اپنے اندرونی معاملات کو نمٹایا جائے۔قارئین بھارت گھر کا ایسا چوہدری ہے جس کی چوہدراہٹ اس کے اپنے گھر کو ہی نقصان پہنچا رہی ہے۔اور ایک دن ایسے چوہدری کی ساکھ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہے اپنے گھر والے ہی بندوق تانے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ملک پاکستان اپنی پالیسیاں واضح کر کے ان پر ثابت قدم رہے تو بھارت کے متعدد ٹکڑے یقینی ہیں۔پاکستان کو فی الفور مسئلہ کشمیر پر اپنا طاقتور اور مثبت مؤقف پیش کرنے کی ضرورت ہے۔کشمیر کی آزادی بھارتی ٹکڑوں کا آغاز ہوگا۔پاکستان کو دنیا کے سامنے بھارتی چالبازیوں اور ہٹ دھرمیوں کو پیش کرنا ہوگا تا کہ دنیا تنگ نظر بھارت کی حقیقت کو جان سکے۔پاکستان کو افغانستان سے اپنے تعلقات باقاعدہ طے کرنا چاہیں۔پاکستان کو بھارتی آبی خلاف ورزیوں کیخلاف جلد از جلد ٹھوس اقدامات اٹھانا چاہیے۔گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان اور پاکستانی سالمیت کو صرف غیر واضح پالیسیوں اور ثابت قدمی سے کوسوں دور رہنے کی وجہ سے نقصان پہنچا۔دو کشتیوں کی سواری بھی پاکستانی ساکھ کو متاثر کرتی رہی۔حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر کچھ ٹھوس اقدامات جلد اٹھائے جائیں۔خاجہ امور کی وزارت قائم کی جائے واضح خاجہ پالیسی تشکیل دی جائے۔خطے میں دباؤ کو مسترد کرکے کھل کر ثابت قدمی سے سامنے آیا جائے۔اندرونی معاملات کو نمٹا کر ملک کی مضبوطی میں اضافہ کیا جائے تاکہ دشمن ہماری سلامتی سے کھیلتے خود بکھر جائے