Wednesday, 2 March 2016

Ethad E Insaniyat By Zulqarnain Hundal



اتحاد انسانیت

(Zulqarnain Hundal, Gujranwala) 


اتحاد انسانیت ایک بہت ہی اہم عنوان ہے ۔اس عنوان کو زیر بحث لا رہا ہوں ۔اس عنوان کے بارے بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے میں کوئی بڑا رائیٹر نہیں ہوں اسی لئے میں اس عنوان پر صرف اپنی رائے پیش کروں گا۔ یہ میری رائے ہو گی آپکی رائے مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ قارئین میرے نزدیک انسانیت میں اتحاد کا شروع ہی سے فقدان رہا۔انسان جوں جوں زندگی میں آگے بڑھتا گیادشمنیاں بڑھاتا گیا۔انسانیت کو بری طرح کچلا گیا۔ اتحاد نام کی چیز پورے انسانوں کی بجائے کسی ایک طبقے میں بھی نہیں۔چونکہ میرا عنوان اتحاد انسانیت ہے میں اسی پر ہی رہوں گا۔ ’’انسانیت‘‘ میرے نزدیک انسانیت اسے کہتے ہیں جو کسی سچے اور نیک انسان میں پائی جاتی ہے جو شخص دوسروں کے لیے بہتر سوچے کسی کے غم میں غمگین اور خوشی میں خوش اور مصیبت میں پوری کوشش اور ہمت سے مدد کرے جسے صرف اپنی اپنے خاندان اپنے فرقے کے علاوہ پوری انسانیت کی فکر جس کے کام جس کی باتیں سب انسانوں کی بھلائی کے لیے ہو۔ انسانیت لفظ لکھنے میں تو چھوٹا سا ہے۔لیکن اس کی تعریف وتشریح بہت زیادہ ہے۔
لفظ اتحاد کے معنی ہیں متحد ہو کر رہنا اتفاق قائم کرنا یکجا ہونا ۔ لفظ اتحاد کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے۔ جن کا آپس میں اتحاد قائم ہو وہ قومیں ہمیشہ مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر ہم با قا ئدہ مطالعہ کریں تو ہمیں انسانوں میں ان دونوں چیزوں کا فقدان نظر آئے گا۔ اتحاد انسانیت کا۔ انسان ماضی میں بھی اتحاد انسانیت قائم کرنے کی کوششیں کرتا کچھ حد تک کامیاب بھی رہامگر شیطان کو یہ ہر گز گوارا نہ تھا ۔ کیونکہ اس نے انسانوں کو برباد کرنے کاٹھیکہ لے رکھا تھا۔ اسی لیئے شیطانی وس وسوں نے کبھی بھی انسانوں میں اتحاد اور انسانیت کو قائم نہیں ہونے دیا۔انسان ہمیشہ سے ہی بھٹکتارہا۔اﷲ تعالی نے انسانوں کی اصلاح کے لیئے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے۔ آخری پیغمبر حضرت محمدﷺ پر نبوت کا خاتمہ کر دیاآپ ﷺ دنیا کے آخری پیغمبر ہیں۔اس کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔ اب آپﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا تا قیامت ضروری ہے۔آپﷺ صرف مسلمانوں کے ہی نہیں پورے جہاں کے پیغمبر ہیں۔ آپﷺ نے بھی انسانیت کا درس دیا۔ اور انسانیت میں اتحاد کو ضروری قرار دیا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں اسی طرح آپﷺکی تعلیمات پورے عالم کے لئیے ہیں۔
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اک نسخاء کیمیاء ساتھ لایا
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا سوت حادی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلادی
کہاں ہے وہ اخوت وہ بھائی چارہ وہ اتحاد جسے ہمیں اسلام نے سکھایا؟کیا ہم مسلماں کہلانے کے لائق ہیں؟کیا ہمارے اندر انسانیت ہے؟ ہم بس افراتفری میں قید ہیں انسانیت ایک بہت بڑا خزانہ ہے اسے لباس میں نہیں انسان میں تلاش کرو ہمیں جس سبق کو پڑھنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ انسانیت کا ہے۔انسان ہونا ہمارا انتخاب نہیں قدرت کا عطا کردہ ہے لیکن اپنے اندر انسانیت بنائے رکھنا ہمارا انتخاب ہے دین عقل کی زمین پر معرفت کا وہ درخت ہے جس کا تنا اخلاق شاخیں قانون اور پھل عدل و انصاف ہے کس قدر بد نصیب ہیں ہم کہ ہمیں انسانوں کی اس دنیا میں ہمیشہ علم اور عقل کی اہمیت ثابت کرنا پڑی اگر تم عظمت کی بلندیوں کو چھوناچاہتے ہو تو اپنے دل میں انسانیت کے لیے نفرت کی بجائے محبت آباد کرو۔مگر ہم حقیقت کی طرف نہیں آتے۔ہم مسلمان ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اتحاد انسانیت میں کردار ادا کریں۔نہ کہ مسلمان مسلمانوں کا ہی خون کا پیاسا رہے۔ ہمیں سب قوموں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔بقول اقبال ۔
اسی میں حفاظت ہے انسانیت کی 
کہ ہوں ایک جنیدی وارد شیری 

ہمیں غیر مسلمانوں کے ساتھ بھی متحد ہو کر اپنی اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرنا ہے۔ ہمیں ثابت کرنا ہے کہ اسلام بھائی چارے کا درس دیتا ہے اتحاد وانسانیت کا درس دیتاہے۔ہمارا سب سے بڑا مسئلہ اب اتحاد میں فقدان ہے۔اور یہ دین سے دوری کے باعث ہے۔ ہمیں پہلے آپس میں اور پھر پورے عالم انسانیت میں اتحاد قائم کرنا ہے۔ہمیں فضول کاموں کو چھوڑ چھاڑکر انسانیت کے لیئے سوچنا چاہیے ۔ آج لوگ آپس میں لڑ لڑ کر مر رہے ہیں۔انہیں اتحاد کا درس دینا ہے۔ اور نقصانات سے بچانا ہے۔سبھی رشتوں کے لیئے دن منائے جائے ہیں۔کاش کوئی روٹی ڈے بھی ہوتا بھو کے لوگ پیٹ بھر کے روٹی تو کھا تے کاش کوئی کوئی کپڑا ڈے بھی ہوتا۔تو ٹھنڈ سے ٹھٹھرتے غریب لوگ بھی کپڑے پہنتے کاش کوئی انسانیت ڈے بھی ہوتا۔ تو لوگوں کو سمجھ آتی کہ انسانیت کیا ہوتی ہے۔اور انسانیت میں اتحاد کتنا ضروری ہے۔ 
دیادرس ہے اسلام نے انسانیت کا
رہے نہ اب کے مسلمان متحد 
اسی میں ہندل ہے فائدہ انسانیت کا 
کے رہیں ہر قدم انسان متحد