Sunday, 30 October 2016

تلخ حقیقت


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو۔وائس آف سوسائٹی

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان بننے سے لے کر اب تک یعنی آزادی کے ستر سال بعد بھی پاکستان کرپشن سے آزاد نہ ہوسکا۔ملک کا ہر طبقہ کسی نہ کسی طرح کی کرپشن میں ملوث ہے۔بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا جس کا جہاں بس چلتا ہے وہ وہاں کرپشن کا کھیل ضرور کھیلتا ہے۔جیسے ہم انگریزی کا the جہاں موقع ملے لگا لیتے ہیں ایسے پنجابی کا دا بھی پاکستانی موقع دیکھ کر ضرور لگاتے ہیں۔دا بھی کرپشن کی ایک قسم ہے۔معزرت کے ساتھ کرپشن بھی ایک کھیل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے ۔بلکہ میرے نزدیک تو کرپشن ہمارا قومی کھیل بن چکا ہے۔جسے ہمارے لیڈران بڑے شوق سے کھیلتے ہیں۔ہمارے افسران بھی اس کھیل کے دل و جان سے متوالے ہیں۔بیوروکریٹ تو اس کھیل کے بکیے ہیں۔اس کھیل میں امپائر بھی ہیں ۔امپائر بعض اوقات کھیل کو محدود کر دیتے ہیں اور بعض اوقات لمبی اننگز چلنے دیتے ہیں۔پاکستان میں کرپشن کا کھیل ہر سطح پر کھیلا جاتا ہے۔وفاقی سطح پر صوبائی سطح پر اور لوکل سطح پر۔کھیل کے اصول میدان اور آلات سطح کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔جتنی چھوٹی سطح کا کھیل اتنا ہی چھوٹا اور جتنی ہی بڑی سطح کا کھیل اتنا ہی بڑا۔ہر کھیل کی طرح اس کھیل کے کھلاڑیوں کا بھی ایک منفرد اسٹیٹس ہوتا ہے۔کچھ ٹیکنیکل کھیل کھیلتے ہیں کچھ تجربہ کار ہوتے ہیں ۔اسی طرح چھوٹے بڑے کھلاڑی۔تجربہ کار بڑے کھلاڑی ہر حال میں سروائیو کر جاتے ہیں ۔چھوٹے کھلاڑی ہی پکڑ میں آتے ہیں۔اور کپتان کی مرضی سے ان آؤٹ ہوتے رہتے ہیں۔میرے نزدیک کرپشن معاشرے میں موجود برائیوں کی جڑ ہے۔کرپشن کی وجہ سے غربت و نا انصافی پیدا ہوتی ہے۔پھر چوری ڈکیتی قتل و غارت جیسی برائیاں جنم لیتی ہیں۔معاشرہ تباہی کی طرف چلا جاتا ہے۔ہوس و لالچ بھی کرپشن کی پیداوار ہیں۔کرپشن گزشتہ ستر سالوں سے ملک کو کھوکھلا کر رہی ہے۔کھوکھلا ہونے کی صورت میں ملک میں عدم استحکام پھیل رہا ہے۔بد امنی یے ایمانی زور پکڑ رہی ہے۔کرپشن کے بڑے کھلاڑی بڑے چالباز اور چالاک ہیں۔کسی بھی صورت میں قانون کی گرفت میں نہیں آتے کیونکہ قانون کو بھی کھیل کا حصہ بنا لیتے ہیں۔عدلیہ کی کمزوری تو گزشتہ کئی روز سے دیکھ رہا ہوں۔عدالتی احکامات کو حکومت ہوا میں اڑا دیتی ہے۔اپوزیشن بھی اپنی سیاست چمکانے اور اپنی باری کے لالچ میں عدالت کو مذاق سمجھتی ہے۔حکومت اپنا احتساب ہر حال میں ٹالنا چاہتی ہے کیوں کہ وہ ہے ہی کرپٹ۔اپوزیشن احتساب نہیں بلکہ احتساب کے نام پر اپنی سیاسی دکانداری چمکانا چاہتی ہے کیونکہ انہیں بھی بڑی کرسی پر بیٹھ کر بڑے کھیل کھیلنے کے خواب آتے ہیں۔گزستہ چند دنوں کی ملکی صورتحال سے حکومت اور اپوزیشن کی نیت اور مفاد کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔مگر کوئی ماننے کو تیار ہی نہیں کیونکہ سب اس سسٹم کا حصہ ہیں سب کے ذاتی مفادات اسی میں ہیں۔پاکستانی عوام کو کرپٹ عناصر ہمیشہ سے ہی بے وقوف بناتے رہے اور بنا رہے ہیں۔افسوس چھوٹے تین سال کے بچے کے قاتل حکومت اور اپوزیشن بچے کے قتل پر بھی دکانداری چمکا رہے ہیں۔بچے کے غریب اور بے بس باپ کی آواز کسی نے نہیں سنی جو کہہ رہا تھا یہ سب بڑے لوگ ہیں ہم غریب لوگ انہیں کیا کہہ سکتے ہیں۔کسی نہیں سوچا کے تین دن کے بچے کی ماں تو مفلوج ہی ہو گئی ہوگی۔یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ عرصہ دراز سے سیاسی لیڈران ہمیں استعمال کر رہے ہیں اور ہم ہو رہے ہیں۔یہ مفاد پرست کرپٹ اور کرسی کے لالچی عوام کو لڑوا کر خود پھر ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔افسوس کہ سرحدوں پر بھارتی اشتعال انگیزی جاری ہے۔کشمیری بے چارے بے بس ہماری راہ تک رہے ہیں۔سی پیک اور گوادر سولیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔بھارتی خفیہ ایجنسی راہ بلوچستان اور کراچی میں سازشوں میں مصرورف ہے۔اور ہماری حکومت اندرورنی معاملات کو نپٹانے کی بجائے مزید بگاڑ رہی ہے۔ہماری اپوزیشن ملکی سلامتی خطرے میں ڈال کر اپنی دکان داری چمکا رہی ہے۔سب اپنے مفادات اپنے دفاع کے لئے مصروف ہیں۔ملکی سلامتی اور ملکی دفاع کی کسی کو پرواہ نہیں۔پاک آرمی ہی اس وقت پاکستان کی خیر خواہ نظر آرہی ہے۔باقی عوام و حکمران اور باقی لیڈران آج کل تماشوں میں مصروف ہیں۔سب ڈرامے باز ہیں۔ملکی بہتری ان سب کا احتساب مانگتی ہے۔جب ہر عام و خاص احتساب سے گزرے گا تب ہی ملکی بہتری ممکن ہے۔ہمیں موجودہ حالات میں ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں الزام کی ذد میں آنے والے کو فوری معطل کیا جائے اور جس پر الزام ثابت ہوجائے اسے ہمیشہ کے لئے بین کیا جائے۔اور جس پر الزام ثابت نہ ہو اسے فوری بحال کیا جائے۔احتساب کا موسم تو ہے کاش سب کا احتساب ہوجائے۔ کاش سب کرپٹ اور لالچی سلاخوں کے پیچھے ہوں۔کاش اس وطن کی عوام میں شعور آ جائے۔کاش کوئی وطن کا رکھوالا لیڈر آجائے۔یہ سب باتیں ہم کاش میں ہی کہہ سکتے ہیں۔اور دعا کرسکتے ہیں اے ہمارے پالنے والے اس ملک کو سلامت رکھنا ۔اس ملک میں انصاف دلا دے یارب۔اس زرخیز زمین میں کوئی حضرت عمر! جیسا حکمران بنا دے یارب۔

Sunday, 23 October 2016

پنجابیوں کی پنجابی



چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی
میں پنجاب دا باسی آں
مینوں لکھنی پنجابی نہ آوے
میں پنجاب دا باسی آں
مینوں پڑھنی پنجابی نہ آوے
میں پنجاب دا باسی آں
مینوں پیور پنجابی نہ آوے
میں پنجاب دا باسی آں
کوئی اگلی نسل نوں سکھا جاوے
انتہائی افسوس سے میں بھی پنجاب کا ایک ایسا باسی ہوں جسے پنجابی بولنی تو آتی ہے مگر لکھنے اور پڑھنے میں غلطیاں ہزار کرتا ہوں۔شاید بولنے میں بھی غلطیاں ہوں۔میں بھی ایسا پنجابی ہوں جسے سکول میں پنجابی بولنے پر سزا کی وعید سنائی جاتی تھی۔میں بھی انہی پنجابیوں میں سے ایک پنجابی ہوں جس کی گریجوایشن مکمل ہونے کو ہے مگر اب تک پنجابی کا ایک بھی مضمون نہیں پڑھا۔کیوں کہ میں بھی باقی لوگوں کی طرح پنجاب کا پنجابی ہوں۔بعض اوقات مجھے بھی اپنے پنجاب کے پنجابیوں کی پنجابی سن کر ہنسی آ جاتی ہے کیوں کہ موصوف پنجابی میں بھی انگریزی اور ہندی بول رہے ہوتے ہیں اور ایسا کمبی نیشن تیار کرتے ہیں کہ پنجابی جاننے والے کی زبردستی ہنسی نکل جائے۔پنجابی دنیا کی دسویں بڑی زبان ہے۔سو ملین سے زائد لوگ پنجابی بولتے ہیں۔پنجابی زبان کی ابتدا برصغیر سے ہوئی۔برصغیر ہندوستان اور پاکستان بالخصوص پنجاب میں بسنے والے لوگوں کی زبان ہے پنجابی۔بہت مٹھری یعنی خوش اخلاق و متوجہ کرنے والے زبان ہے پنجابی۔صوفیوں اور ولیوں کی زبان ہے پنجابی۔پانچ دریاؤں سے سیراب ہونے والے سر سبز علاقہ کے مکینوں کی زبان ہے پنجابی۔امن کا پیغام ہے پنجابی۔علماء اور صوفیوں ولیوں نے پنجابی زبان میں ہی برصغیر میں اسلام کا امن و بھلائی کا پیغام پہنچایا۔ایسی زبان ہے پنجابی کے بہت سی زبانیں اس میں ضم ہوجائیں۔بہترین پرامن خوشحال کلچر کی پہچان ہے پنجابی۔بہت ہی دلکش اور آسان زبان ہے پنجابی۔ایسی زبان جسے پوری دنیا کے لوگ باآسانی سمجھ جاتے ہیں اور چند ہی دنوں میں سیکھ جاتے ہیں۔خطے میں امن و بھلائی و بھائی چارے کو فروغ دینے والی زبان ہے پنجابی۔ایسی زبان ہے پنجاب کہ دوسری زبان بولنے والے بھی اس کی مٹھاس میں میٹھے ہو جائیں۔پنجابی شاعری یقینی ہر کسی کے دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔دنیا بھر میں پنجابی بولنے والے موجود ہیں۔انڈیا اور پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے پنجابی۔کینیڈا میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے پنجابی۔صوفیوں اور ولیوں نے پنجابی کلام لکھ کر زبان پنجابی کو بہت زیادہ پرموٹ کیا۔بلکہ پنجابی کی مٹھاس کو ہمیشہ کے لئے میٹھا کر دیا۔قوم سکھ نے اس زبان کو اپنے تن من میں ہمیشہ کے لئے جذب کر لیا۔بعد ازاں بہت سے سکھ مسلمان ہوگئے۔مسلمانوں سکھوں عیسائیوں ہندؤں کی ایک بڑی تعداد پنجابی بولتی ہے۔برصغیر کی تقسیم سے پہلے ہی پنجابی زبان کو خطرات لاحق تھے۔تقسیم سے پہلے پنجابی دوسری زبانوں کو سیکھنے پر رضا مند نہ تھے۔انگریزوں کو اپنا بڑا دشمن تصور کرتے تھے۔پنجابیوں نے ہمیشہ انگریزوں کے خلاف کھل کر بغاوت کی۔ایک بہادر اور دلیر قوم کی زبان ہے پنجابی۔پنجابی شروع ہی سے ایک بہادر قوم تصور کی جاتی ہے۔تقسیم کے بعد انگریزی کلچر کے حامیوں نے دونوں ملکوں میں اپنے من پسند کلچر کو پھیلانے اور نمایاں بنانے کے لئے آہستہ آہستہ کام شروع کر دیا۔جو کچھ حد تک اپنے احداف پورے کرتے نظر آیا۔برصغیر کے کلچر اور باقی مقامی زبانوں پر اثر انداز ہوا۔بھارت میں موجود سکھوں کو اپنی ماں بولی زبان خطرے میں لرزتی نظر آئی تو بہت سے سکھوں نے اپنی ماں بولی زبان کی مضبوطی کے لئے اعلی سطح پر اقدامات اٹھائے اور ایسی حکمت عملی ترتیب دی کہ پنجابی تا قیامت لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے۔سکھوں نے دوسرے ملکوں میں جا کر پنجابی کو پرموٹ کیا۔جسکی مثال کینیڈا اور یوکے ہے۔دوسری طرف پاکستان میں موجود پنجابیوں کے پاؤں لڑکھڑاتے ہی نظر آئے۔مغربی کلچر اور زبان لوگوں کے دلوں میں ایسا بیٹھے کہ لوگ اپنی ماں بولی زبان پنجابی کو ہی نشانہ بنانے لگے۔پاکستانی پنجابی بجائے پنجابی کو پرموٹ کرنے کے ڈی پرموٹ کرتے رہے۔فلموں اور گانوں میں پنجابی کو غلط طریقوں سے پیش کیا گیا۔ہر فلم پنجابی زبان کے منہ پر طماچہ ہوتی۔دیکھتے ہی دیکھتے لوگ زبان پنجابی سے بد زن ہونے لگے۔نصاب میں پنجابی کی کتابوں کو ہمیشہ کے لئے غائب کر دیا۔پنجاب پڑھنے والوں کی تعداد کم وہونے لگی۔بڑے افسوس سے جن لوگوں نے اپنے ماں باپ سے پنجابی زبان کو ورثہ میں حاصل کیا۔وہی اپنے بچوں کو پنجابی بولنے سے منع کرنے لگے۔بلکہ طرح طرح کی پابندیاں لگانے لگے۔سکولوں اور کالجوں میں پنجابی بولنے والے سزا کے حقدار ٹھہرنے لگے۔ایک جامع پلان کے تحت مغرب پسند عناصر پنجابی اور پاکستان میں رہنے والے پنجابیوں کو اپنے منتخب کلچر اور زبان میں ضم کرنے لگے۔تاریخ گواہ ہے کہ سکھ پنجابیوں نے مغرب پسند عناصر کو اپنے رنگ میں رنگ دیا۔دوسری طرف پاکستانی پنجابی مغربی رنگوں میں رنگے گئے۔آج ملک بھر میں پنجابی زبان کو ایک جاہلوں والی زبان سمجھا جاتا ہے۔پنجاب میں بسنے والے ہر ماں باپ کی خواہش ہے کہ اسکے بچے پنجابی نہ بولیں بلکہ انگریزی سیکھیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجابی زبان زندہ رہے گی اور مزید پھلے پھولے گی۔مگر افسوس کہ تاریخ کے اوراق میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ پاکستان میں موجود پنجابی اپنی ماں بولی زبان پنجابی کو ختم کرنے کی کوششیں کرتے رہے۔کچھ پاکستان پنجاب کے پنجابی بھی اپنی ماں بولی زبان کی کم ہوتی ساکھ کو دوبارہ سے بحال کرنا چاہتے ہیں۔یہ اچھا قدم ہوگا مگر افسوس کہ ایسے کئی قدم پہلے بھی رک گئے شاید اب کے بار بھی یہ قدم کچھ میٹنگز کے بعد رک جائیں۔ایسی کوششوں پر بہت پہلے ہی عملدرآمد ضروری تھا۔اگرکوئی دوبارہ قدم اٹھا رہا ہے تو سچے پنجابیوں کو اسکا ساتھ دینا ہوگا اورتب تک کوششیں جاری رکھنی چاہئیں جب تک میٹرک تک پنجاب میں پنجابی کو لازمی مضمون نہ قرار دیا جائے۔نصاب میں پنجابی زبان کی واپسی ہی پنجاب میں پنجابی کی مضبوطی ثابت ہوگا۔میرا اور دوسرے پنجابی یھائیوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ پنجابی کو لازمی مضمون کے تور پر نصاب میں شامل کیا جائے۔ساڈا حق ایتھے رکھ۔

Sunday, 16 October 2016

ملکی سالمیت کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

موجودہ ملکی و بین الاقوامی حالات سے نمٹنے کے لئے ہمیں اپنے وطن کی سالمیت کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔بلکہ ملکی سالمیت کو مضبوط کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔پاک آرمی کی دہشتگردی کے خلاف کامیاب کاروائیوں کی وجہ سے ملکی سالمیت مضبوط ہوئی ۔مگر مزید مضبوطی کی ضرورت ہے اتنی مضبوطی کے اس ارض پاک پر کوئی دہشتگرد دوبارہ جنم ہی نہ لے۔شر پسند عناصر اس وطن میں کسی کو دوبارہ اپنا حامی نہ بنا سکیں۔ملکی سالمیت کی مضبوطی ہی ملکی خوشحالی کی ضمانت ہے۔ملکی سالمیت کی مضبوطی کی صورت میں دشمن کا ہر وار الٹا پڑتا ہے۔اور مضبوط ملک کو کھوکھلا کرنے والے خود کھوکھلے ہوجاتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ ملک پاکستان ایک لمبے عرصے کے بعد دوبارہ ایک مضبوط ملک بن کر ابھر رہا ہے۔ماضی میں متعدد حکومتیں اس وطن کی بقا کو اپنے مفادات کی خاطر نقصان پہنچاتی رہیں۔کرپٹ عناصر باری باری ملکی دولت لوٹ کر ملک کو کھوکھلا کرتے رہے۔ملک کی حقیقی عوام درمیانہ طبقہ ہے جو ہر حال میں اپنے ملک میں رہتا ہے۔امراء تو اپنے مفادات کی خاطر کبھی بھی ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔کرپٹ عناصر ہر دور میں متحرک رہے ۔جن کی بدولت ملک کاعام طبقہ ہمیشہ سے ہی مسائل سے دو چار رہا۔جب ملکی دولت ملک پر لگانے کی بجائے بیرون ممالک منتقل کی جائے تو ملک اور ملکی عوام میں عدم استحکام پیدا ہوجاتا ہے۔عوام اپنے چنے ہوئے نمائندوں سے بدذن ہو جاتی ہے۔برائیاں جنم لیتی ہیں۔ناانصافی لا قانونیت غربت مہنگائی اور دوسری برائیاں سب کرپشن کے باعث تقویت پکڑتی ہیں۔جس ملک کی عوام نا انصافی غربت و مہنگائی سے ستائی ہوئی ہو وہاں دشمنوں اور شر پسند عناصر کے لئے اپنے ناپاک عزائم کو عملی جامہ پہنچانا آسان ہوتا ہے۔غربت و افلاس کی ستائی ہوئی عوام کو ملک دشمن عناصر دولت کی لالچ سے اور دین کے نام پر اپنی گرفت میں لا کر ایسی برین واشنگ کرتے ہیں کہ عوام اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچانے کو افضل سمجھتی ہے۔دشمن ملک کے پسماندہ علاقوں میں اپنے پنجے گاڑھ لیتا ہے اور اپنے آقاؤں کے حکم کے مطابق پورے ملک میں دہشگردی جیسی وارداتوں کو یقینی بناتا ہے۔اور ملکی توجہ کو بھی ڈیورٹ کرتا ہے۔پڑھے لکھے طبقے میں ان سازشوں کی آگاہی موجود ہے۔مگر کم تعلیم یافتہ پسماندہ علاقوں کے لوگ شر پسند عناصر کو اپنا خیر خواہ تصور کرتے ہیں۔جو کسی بھی ملک کی سالمیت کی کمزوری کی بڑی مثال ہے۔کرپشن سب کی جڑ ہے اسی کرپشن کی وجہ سے علاقوں کی ترقی میں توازن نہیں اوریہی علاقوں میں دشمنی کی وجہ ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ سیاستدانوں اور آمروں کی کرپشن نے قائداعظم کے ون یونٹ پاکستان کو ون یونٹ نہیں رہنے دیا۔کرپشن کے نت نئے طریقے ایجاد کرنے کے لئے اپنی مرضی سے وزارتیں اور عہدے بڑھانے کے لئے صوبوں میں تقسیم کیا۔ اور مزید تقسیم کرنے کے درپے ہیں۔سیاستدانوں کی بد دیانتی کی وجہ سے مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا۔سیاست دانوں کی بددیانتی کی وجہ سے ہی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جرائم پیشہ عناصر نے جنم لیا۔بار بار لکھنے کا مقصد سیاستدانوں کی ہٹ دھرمیوں کو واضح کرنا اور انکی توجہ ملکی مسائل کی طرف کروانا ہے۔پشاور سکول حملے کے بعد پاکستان آرمی نے دشمن عناصر کو ختم کرنے کا عہد کیا ہے۔جس پر کام جاری ہے اور آخری مراحل میں ہے۔یہ حقیقت ہے کہ پاک آرمی کی خیبرپختونخوا قبائلی علاقہ جات بلوچستان اور کراچی میں بلا تفریق کاروائیوں سے جرائم میں بڑے درجے پر کمی ہوئی۔اس کامیابی پر پاک آرمی مبارکباد کی مستحق ہے۔اب حقیقی عنوان کو واضح کرتے ہیں۔سوچنے کی بات ہے۔کیا شر پسند عناصر ہمیشہ کے لئے ختم ہو رہے ہیں۔؟کیا یہ دوبارہ بھی تقویت پکڑ سکتے ہیں؟۔شر پسند عناصر زیادہ مضبوط ہیں یا ہم زیادہ کھوکھلے؟دہشتگردی سے ہمیشہ کے لئے کیسے بچا جا سکتا ہے۔؟ایسی کئی باتیں سمجھدار لوگوں کے ذہنوں میں گردش کر رہی ہوں گی۔میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں ہمیں اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنے اندرونی مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنی سالمیت کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ہم دہشتگردی کو ختم کر رہے ہیں جس سے ہماری ملکی سالمیت مضبوط ہوئی۔مگر کیا ثبوت کہ دوبارہ دہشتگرد ایکٹو نہیں ہوں گے؟۔کیا ہمارے کھوکھلے پن کا فائدہ اٹھا کر دوبارہ دشمن شر پسند عناصر کو فنڈز نہیں دے گا؟۔ہمیں مزید کھوکھلا کرنے کے لئے ہمارے قریبی ممالک میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔؟دہشتگردوں سے تو ہم لڑ رہے ہیں اس کے ساتھ ہمیں دوسرے ملکی مسائل سے بھی لڑنے کی ضرورت ہے۔ہمیں بلوچستان خیبر پختونخواہ گلگت بلتستان آزاد کشمیر سندھ اور پنجاب کے پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ بنانے کی ضرورت ہے۔ایسے علاقوں میں تعلیم صحت بجلی گیس اور دوسری ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔آج بلوچستان میں لوگ ملک خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ایسے میں ہمیں بلوچستان میں تعلیم کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔بلوچستان کے کئی علاقہ جات پسماندہ ہیں۔وہاں پانی بجلی گیس اور سکول کالج مسجدوں اور سڑکوں کی تعمیر کو یقینی بنانا ہوگا۔اگر عوام کو تمام سہولیات میسر ہوں تو کبھی بھی عوام حکومت اور وطن سے بدزن نہ ہو۔گوادر کی کامیابی اور سی پیک کی کامیابی کے لئے ہمیں عوام کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ کوئی بھی طاقت پراپیگنڈہ نہ کر سکے۔پسماندہ علاقوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پورے وطن کی خوشحالی ہی اس کی مضبوط سالمیت کی مثال ہے۔اور خوشحالی تب ہی ممکن ہے جب کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔ انصاف یقینی ہوگا۔ قوانین سب کے لئے ایک جیسے ہونگے۔غربت کا خاتمہ ہوگا۔روزگاری ہوگی۔ہر کوئی خوش ہوگا ۔وطن کا بچہ بچہ امن کا پیغام پھیلائے گا۔آپ تاریخ دیکھ لیں کمزور سالمیت والے ملک کو سب کھوکھلا کرتے ہیں۔اور مضبوط سالمیت والے ملک کو کھوکھلا کرنے والے خود کھوکھلے ہوجاتے ہیں۔آرمی اپنے فرائض با خوبی انجام دے رہی ہے۔حکومت اور دوسرے اداروں کو بھی اپنے مفادات کو ترک کر کے فرائض کو یاد رکھ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ترقی و خوشحالی میں ہی مضبوطی ہے۔مزید خوشحالی کے لئے عوام کو سہولیات مہیا کرنا اور پسماندہ علاقوں میں ترقی کے لئے کام کرنا بہت ضروری ہے۔عوام خوشحال ہوگی تو دشمن ناکام ہونگے۔

Sunday, 9 October 2016

کسانوں کی چپ کے لئے نئی گولی



چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

کسان بے چارے ہر گزرتے سال کے ساتھ قرض کے بوجھ تلے دبتے چلے جا رہے ہیں۔کسان جو دوسروں کو ضروریات غذا فراہم کرتے ہیں خود اپنی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔چاول کی فصل کی کاشت کا آغاز ہے اور ڈیلروں نے کسانوں کو لوٹنے کے لئے چھریاں تیز کر رکھی ہیں۔دوران نگہداشت فصل بجلی کے بلوں اور کھادوں دواؤں نے پہلے ہی کسانوں کو چھلنی کر رکھا ہے۔کسانوں کو چھلنی کرنے میں محکمہ زراعت بھی برابر کا شریک ہے۔یوں سارے زخموں سے چور چور کسانوں نے لاہور دھرنے دیے تو بہت سے کسانوں کو گرفتار کرلیا گیا۔کسان تنظیموں کے راہنماؤں سے مک مکا کر کے پنجاب حکومت نے معاملہ رفع دفع کیا۔اور وزیر اعلی پنجاب نے کسانوں کو چپ کی گولی دینے کے لئے 100 ارب روپے کے بلا سود قرضے دینے کا اعلان کیا۔کیا اس اعلان پر وزیر اعلی قائم رہیں گے؟۔گزشتہ سال وزیر اعظم کسان پیکج پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔وزیر اعظم کسان پیکج صرف وقتی گولی ثابت ہوا۔پاکستان کا شمار بڑے زرعی ممالک کی لسٹ میں ہوتا ہے۔پاکستان کی 70 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جن کا دارومدار زراعت پر ہے۔زراعت بڑے زرعی ملکوں کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔پاکستان بڑے سکیل پر چاول گندم کپاس اور سبزیاں وغیرہ کاشت کرتا ہے۔پاکستان زرعی اجناس دوسرے ممالک کو بھی فراہم کرتا ہے۔پاکستانی چاول گندم اور آم دنیا بھر میں مشہور ہیں۔چھوٹے کاشتکار دن رات محنت کر کے زرعی اجناس کاشت کرتے ہیں اور کھانے پینے کی اشیاء چاول آٹا دودھ گوشت سبزیاں اور پھل سب انہی کاشتکاروں اور کسانوں کی بدولت ہے۔انسانی زندگی میں غذا بھی آکسیجن سی حیثیت رکھتی ہے۔انسان گاڑی گھر کپڑے جوتوں اور بجلی گیس کے بغیر تو زندہ رہ سکتا ہے مگر غذا کے بغیر زندہ رہنا نا ممکن ہے۔دنیا بھر میں غذا و خوراک کا بندوبست کاشتکار و کسان کرتے ہیں۔کوئی بھوکے کو کھانا فراہم کرے تو بھوکا اسے اپنا محسن سمجھتا ہے۔مگر دنیا بھر میں کسان کو اس کے ہنر و کام کے مطابق کبھی عزت و حیثیت نہیں دی گئی۔کاشت کی ہوئی فصل کے پورے دام بھی نہیں دیے جاتے۔دنیا کو کسانوں کو محسن تسلیم کرنا ہوگا۔یہ حقیقت ہے۔کسان ہر سال اپنی فصل کی بے حرمتی کے باوجود بھی اگلی فصل کاشت کرتا ہے۔بات آج پھر پاکستانی زراعت پر ہوگی۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں بڑے و چھوٹے کاشتکار موجود ہیں۔اسی لئے محکمہ زراعت بھی موجود ہے۔محکمہ زراعت کے ذمے بہت سے کام ہوتے ہیں۔جس میں کھادوں دواؤں کی کوالٹی چیک کرنا اور کمپنی کو مارکیٹنگ کی اجازت دینا یا بین کرنا ۔کھادوں دواؤں کے ریٹ چیک کرنا اور انہیں بیلنس کرنا۔کسانوں کو مفید کاشتکاری کے مشورے دینا۔تمام علاقوں میں کھیتوں کا وزٹ و سروے کرنا۔کسانوں کو زمین کی نوعیت کے حساب سے بیج فراہم کرنا۔فصلوں پر لگے اخراجات اور فصلوں کے ریٹ میں توازن قائم کرنا۔فصلوں میں پھیلتی بیماریوں کی روک تھام کے لئے تجربات کرنا اور لوگوں کو حقائق سے آگاہ کرنا۔ڈائریکٹ کسانوں سے رابطہ قائم کرنا اور انکو مفید مشورے دینا انکے زرعی مسائل کو حل کرنا۔نئی جدید مشینری سے روشناس کروانا اور نئی جدید مشینری تک کسانوں کی رسائی کو یقینی بنانا۔مزید بہت سے کام بھی محکمہ زراعت کے ذمے ہوتے ہیں۔مگر پاکستان میں محکمہ زراعت خود کو ان سب کاموں سے دستبردار سمجھتا ہے۔یہاں محکمہ زراعت کا کام صرف اور صرف مال بنانا ہے۔جعلی کمپنیوں کو روپے کے عوض جعلی ادویات اور ناقص بیج فروخت کرنے دینا۔شاید ہماری سرکار بھی انہیں جعل سازی کے لئے تنخواہیں دیتی ہے۔کسان ہرسال اپنی بے بسی کا رونا روتا ہے۔اورہمیشہ کسانوں کو چپ کی گولی کھلا دی جاتی ہے۔چاول کی فصلیں کاشت ہونی شروع ہو گئی ہیں۔فصلوں کے کم دام کسانوں کو ڈرانے میں مصروف ہیں۔اپنی پریشانی کے باعث کسانوں نے احتجاج بھی کیا۔مگر ہمیشہ کی طرح سرکار نے کسانوں کی پریشانی کا حل نکالنے کی بجائے وقتی چپ کی گولی کا استعمال کیا۔ایسی گولیاں ماضی میں بھی دی جا چکی ہیں۔جس کی مثال وزیراعظم کا 340 ارب کی کسانوں کی امداد کا اعلان تھا۔جو صرف اعلان ہی رہا چند قریبی ساتھیوں کی امداد کے بعد وزیر اعظم پیکج بند ہوگیا اور چپ کروانے کی گولی ثابت ہوا۔بعد ازاں اس رقم کو اورنج لائن پر لگایا گیا۔اب وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے 100 ارب کے بلا سود قرض کسانوں کو دینے کا اعلان کیا ہے۔یہ بھی وقتی گولی ہی ہوسکتی ہے کیونکہ ابھی پنجاب حکومت کے کئی پراجیکٹس زیر تکمیل ہیں اور ان پراجیکٹس کو الیکشن سے پہلے پایہ تکمیل تک پہنچانا حکومت کی مجبوری ہے۔ ایسے میں حکومت کو روپے روپے کی ضرورت ہوگی۔جسکی وجہ سے کسانوں کی سو ارب کی امداد بھی انہی پراجیکٹس کی نظر ہوگی۔کسان ہمیشہ کی طرح ہاتھ ملتے ہی رہ جائیں گے۔اگر کسی کا ہاتھ بھرا بھی تو وہ اثر رسوخ والا ہوگا۔جناب شہباز شریف صاحب کہتے ہیں کہ ماضی میں حکومت زراعت سے منسلک لوگوں کی تھی مگر انہوں نے زراعت کی بہتری کے لئے کوئی کام نہیں کیا۔جناب وزیر اعلی صاحب گزشتہ ق لیگ حکومت نے کسانوں کو مستحکم کیا تھا۔گزشتہ حکومت نے فصل اور کھاد و ادویات کے ریٹ میں توازن قائم کیا تھا۔کسانوں کو فصلوں کے دام ان کی محنت کے مطابق دلائے تھے۔بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ کسانوں کو خود مختار بنایا تھا اسی لئے کسان اس دور کو اب بھی یاد کرتے ہیں۔وزیر اعلی صاحب فرض کریں اگر آپ قرضوں کی فرہمی اور اس میں شفافیت کو بھی یقینی بناتے ہیں۔چھوٹے کسان جن کا بال بال پہلے ہی قرضوں تلے ڈوبا ہوا ہے۔کیاوہ 65 ہزار فی ایکڑ لے کر خوش حال ہو جائیں؟کیا ان کی پریشانیاں کم ہو جائیں گی؟کیا وہ قرض دوبارہ واپس کر پائیں گے؟کیا اس سکیم سے کسان اور قرض تلے نہیں دب جائے گا؟۔محترم وزیر اعلی صاحب اگر آپ واقعی کسانوں کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو مہربانی کر کے انہیں خود مختار بنائیں نا کہ قرض تلے دبائیں۔کسانوں کو ان کی محنت کا صلہ دلوائیں۔انکو انکی فصلوں کے حقیقی دام دلائیں۔مڈل مین اور محکمہ زراعت کی چالاکیوں سے نجات دلائیں۔کھادوں دواؤں کے دام کم کروائیں۔محکمہ زراعت کو نیند سے بیدار کریں اور انہیں انکا کام یاد دلائیں۔کسانوں کو ہر حال میں انکی فصلوں کے صحیح دام دلائیں۔اور بجلی کے بلوں کھادوں اور جڑی مار ادویات کے ریٹ میں توازن فصلوں کے ریٹ کے مطابق ہونا چاہیے ۔تاکہ ہر محنتی کو اس کا صلہ مل جائے۔قرضوں سے کسان دب جائے گا ۔اگر دکھی کسانوں کے ہیرو بننا چاہتے ہیں تو کسانوں کے حقیقی مسائل کو حل کرنے اور کسانوں کو مستحکم کرنے کا عزم کریں۔وگرنہ آپکی ہرا مدادچپ کی گولی ہی تصور کی جائے گی۔اور اسکا خمیازہ الیکشنز میں بھگتنا پڑے گا۔

Sunday, 2 October 2016

بدلتی سیاست میں کون بکھر جائے گا؟


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

خطہ برصغیر میں بلکہ پوری دنیامیں بدلی ہوئی صورتحال سے مختلف تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں ۔کہ کون خطے میں تنہا رہ جائے گا؟ اور کون سا وطن بکھر جائے گا۔؟قارئین آپ بھی حالات حاضرہ پر نظر دوڑا کر اس سوال پر سوچئے گا۔میرے نزدیک جو ملک خطے میں ذاتی نمبرداری یا اثر و رسوخ قائم کرنے کی سیاست کرے گا یا کر رہا ہے جو کسی خطے میں حکمرانی کے خواب دیکھے گا یا حکمرانی حاصل کرنے کے لئے سرمایہ کاری کرے گا یا سازشیں کریگا۔ وہ ملک ماضی میں مستحکم نہیں رہ سکے گا ایک دن آئے گا کہ اس وطن کا شیرازہ بکھر جائے گا۔وہ ملک اتنے ٹکڑوں میں منقسم ہوگا کہ دوبارہ اکٹھا کرنا مشکل ہوجائے گا۔تن تنہا ہونا کسی ملک کے لئے اتنا اذیت ناک نہیں جتنا ٹکڑوں میں بٹنا۔فرض کریں اگر کوئی وطن تن تنہا ہو بھی جائے تو اسکی اذیت کچھ عرصے کی ہوگی مگر ایک وقت کے بعد وہ ملک دنیا میں ایک بڑی طاقت کی صورت میں ابھرے گا۔کیوں کہ اسے خود پر انحصار کرنے کی عادت ہوجائے گی کسی کی مدد پر وہ کبھی انحصار نہیں کرے گا۔برہان وانی کی شہادت کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک ذور پکڑتی جا رہی ہے۔دن بدن کشمیریوں کے دلوں میں آزادی کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔بھارت اس تحریک آزادی کو دبانے کے لئے کشمیریوں پر دن رات نت نئے ظلم و تشدد کر رہا ہے۔بھارتی فوج بزور بندوق کشمیریوں پر روز بروز طرح طرح کی پابندیاں لگا رہی ہے۔شاید بھارتی فوج دنیا کی ظالم ترین فوج ہونے کا ریکارڈ درج کروانا چاہتی ہے۔بہادری کا ٹائٹل تو حاصل نہیں کر سکتی۔گزشتہ کئی روز سے کشمیریوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔پیلٹ گنوں سے شررے برسا کر متعدد کو آنکھوں کی بینائی سے محروم اور زخمی کیا جا رہا ہے۔کشمیریوں کو روز مرہ معمول کے کاموں سے روکا جا رہا ہے۔اخبارات اور انٹرنیٹ پر پابندیاں عائد ہیں۔یہاں تک کے بعض کو مسجدوں میں جانے سے بھی روکا جا رہا ہے۔بھارتی فوج کشمیریوں کے ساتھ قیدیوں سے بھی بدتر سلوک کر رہی ہے۔مقبوضہ کشمیر کو یرغمال بنا کر رکھا ہے۔ کشمیری ظلم برداشت کر لیں گے مگر غلامی کو ہر گز قبول نہیں کریں گے۔کشمیریوں کا جذبہ آزادی صرف آذادی حاصل کر کے ہی ختم ہوگا۔برسوں سے آزادی کے منتظر ہیں۔بار بار کشمیر کا تذکرہ کرنے کا مقصد مسئلہ کشمیر کو اجاگر رکھنا ہے۔سب سے گزارش ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتے رہیں۔عالمی طاقتیں بھی جانتی ہیں کہ بھارت ایک عرصہ سے مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ جمائے ہوئے ہے۔اور بذور بندوق کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کی تگ و دو میں ہے۔افسوس سب جانتے ہوئے بھی عالمی طاقتیں خاموشی سادھے ہوئے ہیں۔گزشتہ دنوں کسی بھی بڑے ملک کی طرف سے کشمیر کے حق میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی برصغیر میں امن کا آغاز ہوگا۔شاید عالمی طاقتیں ہی امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔عالمی طاقتیں تو اپنی آنکھیں بند ظاہر کر رہی ہیں۔مگر سب سے بڑی طاقت اللہ تو دیکھ رہا ہے۔وہ دیکھ رہا ہے کہ کون ظالم ہے اور کون مظلوم اور کون بیٹھا تماشائی بنا ہوا ہے۔آخر کتنے دن ظالم کے ہوں گے ایک دن تو مظلوم کا بھی ہوگا۔وہ بھی بدلہ کی پوزیشن میں ہوگا۔ماضی میں برطانیہ اور روس کی مثال لے لیجئے۔دونوں نے خطے میں ظالمانہ حکمرانی اور قبضوں کی کوششیں کیں کسی حد تک کامیاب بھی ٹھہرے۔مگر جب اللہ نے حکمرانی چھینی تو ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔اتنے ٹکڑے کے دوبارہ سمیٹ نہ سکے۔موجودہ صورتحال میں بھارت پورے براعظم ایشیاء میں حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے۔امریکا انکا حامی یعنی بھارت ایشیاء میں امریکی نمائندگی کرے گا۔ایشیاء میں امریکی ری پری زینٹیٹر بننے کی تیاریوں میں ہے۔اس پلان کے تحت کچھ عرصہ سے امریکہ بھارت کی مالی اور بارودی امداد کر رہا ہے۔امریکہ کا اصل مقصد بھارت کو چین کے مخالف کھڑا کرنا ہے۔جس کی خاطر امریکہ بھارت کو خطے میں عسکری لحاظ سے سب سے زیادہ طاقتور بنانا چاہتا ہے تاکہ چین کو بزریعہ بھارت کھوکھلا کر سکے۔افغانستان اور ایران میں نت نئے پراجیکٹس کا افتتاح بزریعہ بھارت بھی امریکی پلان کا حصہ ہے۔براستہ افغانستان امریکہ و بھارت چین کے سب سے بڑے دوست پاکستان کو بھی کھوکھلا کرنا چاہتا ہے۔جس کے شواہد پاکستان کے پاس موجود ہیں اور مزید امریکہ کی ان ثبوتوں پر خاموشی اس پلان کی صداقت پر مہر ثابت ہو رہی ہے۔خطے میں ایرانی رویے میں تبدیلی بھی امریکہ سے گہرے تعلقات کی تصدیق ہے۔گزشتہ سالوں سے عالمی سیاست میں بدلاؤ آتا جا رہا ہے۔روس بھارت کا سب سے بڑا حامی بھی اپنے نئے دوست بنانے کے در پہ ہے۔اپنا بلاک تبدیل کر رہا ہے۔ماضی میں پاکستان ایشیاء میں امریکہ کا سب سے بڑا حامی تھا۔بذریعہ پاکستان امریکہ نے ایشیاء میں قدم جمائے۔امریکہ نے صرف اور صرف اپنے مفادات کی خاطر پاکستان کو استعمال کیا۔مفادات حاصل کرنے کے بعد تعلقات کو بھی کم کردیا۔شاید پاکستان آج بھی امریکی دوستی کی بدولت دہشتگردوں کی آڑ میں ہے۔پاکستان نے امریکی سیاست سے بڑے نقصانات اٹھائے۔بڑے عرصے کے بعد پاکستان دوبارہ مستحکم ہو رہا ہے۔جس کا کریڈٹ راحیل شریف تمام پاکستانی فورسز اور کسی حد تک حکومت کو بھی جاتا ہے۔سب سے بڑی بات کہ پاکستان خود پر انحصار کرنا سیکھ رہاہے اور اس پر عمل شروع کر دیا ہے۔پاکستان نے جو نقصانات اٹھانے تھے اٹھا چکے۔راہ راست ہمیں مل چکا ہے۔اب کے بار مودی سرکار کی پالیسیوں کی بدولت بھارت کی ناؤ خطرے میں ہے۔بھارت خطے میں حکمرانی و نمبرداری قائم کرنے کی صورت میں افغانستان ایران اور بنگلہ دیش کو فنڈنگ کر رہا ہے۔اس کے بر عکس بھارتی عوام بھوک وافلاس اور طرح طرح کے مسائل سے دو چار ہے۔بھارت اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ جاسوسی کی صورت میں اور مخالفین کو کھوکھلا کرنے کی صورت میں خرچ کر رہا ہے۔اور بھارت میں بھوک کے ستائے ہوئے لوگ انصاف کے متلاشی بھارتی سرکار کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔بھارت مخالف تحریکیں جنم لے رہی ہیں۔خالصتان تحریک ہندوستان کی آزادی کے بعد دوبارہ ذور پکڑ رہی ہے۔اس تحریک کا ذور یونہی رہا تو ایک دن بھارت اپنے صوبہ پنجاب سے محروم ہو جائے گا۔بھارت میں مسلمان عیسائی سکھ بدھ مت دلت بلکہ تمام اقلیتیں انتہا پسند ہندو دہشت گردوں سے اکتائی ہوئی ہیں۔اور بھارتی حکومت ان انتہا پسندوں کی خود پشت پناہی بھی کر رہی ہے۔بھارت کی سب سے بڑی بھول کے وہ کشمیر کو اپنا حصہ سمجھتا ہے ۔کشمیر ایک دن ضرور آزاد ہوگا ۔اور بھارتی شیرازہ بکھرنے کا آغاز ہوگا کشمیر۔اس کے بعد پنجاب پھر بنگال اور دوسرے علاقے بھی بھارت سے آزادی حاصل کر لیں گے۔کشمیر کے آغاز کے بعد بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ایک دفعہ یہ سلسلہ شرع ہو گیا تو تھمے گا نہیں بھارت کے اتنے ٹکڑے ہو جائیں گے سمیٹنا مشکل ہو جائے گا۔3287263 کلو میٹر رقبے پر محیط بھارت کا نقشہ میں سے صرف چالیس فیصد باقی رہ جائے گا۔بھارت کا نیا دوست امریکہ بھی جلد اپنے انجام کو پہنچننے والا ہے۔عنقریب امریکہ بھی بکھر جائے گا۔پاکستان کو صرف اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے ۔اپنے آپ کو اندر سے مضبوط کرنا ہوگا۔اپنے اندرونی معاملات کو نپٹانا ہوگا۔خود پر انحصار کرنا ہوگا عالمی سازشوں کو بھانپنا ہوگا۔اگر ہم مضبوط رہیں۔ تو ہمیں تنہا کرنے والے خود بکھر جائیں گے مگر ہمیں کبھی تنہا نہیں کر پائیں گے