Sunday, 26 February 2017

سی پیک کے ثمرات سب کے لئے


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

سی پیک اکنامک کوریڈور کا معاہدہ پاکستان اور چائنہ کے اشتراک سے 2015میں طے ہوا۔جس میں اقتصادی راہداری کے روٹ اور گوادر سمیت بہت سے منصوبے شامل ہیں۔اس منصوبے پر کام جاری و ساری ہے جو قریب چند سالوں میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔سی پیک اکنامک کوریڈور صرف ایک راہداری کا نام نہیں بظاہر نام سے یہ ایک راہداری ہی لگتا ہے لیکن اس منصوبے کے تحت پاکستان میں توانائی سمیت بہت سے پراجیکٹس پر کام کیا جائے گا۔جس میں بجلی وگیس سر فہرست ہیں۔سی پیک منصوبہ کے تحت چائنہ پاکستان میں مختلف پراجیکٹس پر 46بلین ڈالرز خرچ کرے گا۔جس میں سے 35بلین ڈالرز توانائی اور دیگر صوبائی مسائل کے لئے خرچ ہوں گے۔باقی 10بلین ڈالرز پاکستان اپنے افراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لئے مختلف مقامات پر استعمال کرسکے گا۔یہ 46 بلین ڈالرز کی رقم براہ راست پاکستانی حکومت کو نہیں دی جائے گی بلکہ چائنہ خود اپنی زیرنگرانی یہ رقم مختلف پراجیکٹس پر خرچ کر رہا ہے۔فقط کچھ چھوٹے پراجیکٹس و مقامات پر ہی پاکستانی حکومت کی رقوم تک رسائی ہے۔زیادہ تر بڑے پراجیکٹس کی نگرانی چائنہ خود ہی کر رہا ہے۔اسی بنا پر اس راہداری منصوبے میں کرپشن کے چانسسز بہت کم ہیں۔جہاں تک بات صوبوں کی ہے تو سب صوبوں کو انکے حصے اور مواقعوں کے مطابق ہی راہداری میں شامل کیا گیا ہے۔تاہم صوبائی حکومتیں اپنی پھرتی کی بنا پر کچھ وافر کام بھی لے سکتی ہیں۔اس پھرتی میں پنجاب کا نام سر فہرست ہے۔سندھ بھی کوششوں میں مصروف ہے۔یہ بتانے کا مقصد ہے کہ وفاق جن کی زیادہ اکثریت پنجاب میں ہے کسی ناانصافی پر عمل نہیں کرسکتی۔کیوں کہ سی پیک کے ثمرات سب کے لئے ہیں۔چائنہ اس راہداری پر صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے ہی کام کر رہا ہے۔میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ راہداری منصوبے کے ثمرات تمام صوبوں تک پہنچیں گے۔جن پر کام جاری و ساری ہے۔سی پیک کے ثمرات سے سب سے زیادہ مستفید بلوچستان اور خیبر پختونخواہ ہوں گے۔صوبوں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر تک بھی اس کے ثمرات پہنچیں گے۔سی پیک کے زریعے ملک کے مختلف علاقوں میں ہائیڈرل پاور پراجیکٹس کوئلے سے بجلی بنانے کے پلانٹس ہوا سے بجلی بنانے والے ونڈ ٹربائینز اور سورج سے بجلی بنانے والے سولر پاور پلانٹس لگائے جائیں گے جن میں سے چند پر کام بھی جاری ہے۔میرے خیال سے تمام صوبائی حکومتوں کوسی پیک سے پوری طرح سے مستفید ہونے کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور چائنہ کو توانائی کے بہترین مواقعوں سے آگاہ کرنا چاہئے تاکہ ایسے منصوبوں پر عملدرآمد ہو سکے جہاں کم وسائل سے زیادہ مستفید ہوا جا سکے۔جیسے سولر پاور پلانٹس پاکستان میں بہت کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔پاکستان اس راہداری کے زریعہ بلوچستان اور دور دراز کے علاقوں میں بجلی گیس اور سڑکوں کے جال بھی بچھا رہا ہے۔انٹرنیٹ کی سہولت کے لئے فائبر آپٹکس کے جال بھی اسی منصوبہ کے زریعہ بچھائے جا رہے ہیں۔پاکستان کے بہتر ہوتے انفراسٹرکچر کو دیکھ کر ہی دوسرے ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔سی پیک منصوبے کے تحت گوادر اور اس کے قریبی علاقہ میں پاکستانی دفاع کو مزید مضبوط اور بہتر بنانے کے لئے بھی بھاری رقم استعمال کی جا رہی ہے۔گزشتہ بحری مشقیں بھی دفاع کو بہتر بنانے کے لئے کی گئیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں سی پیک کی شکل میں بیج بویا جا رہا ہے جو مکمل ہو کر پاکستان کے لئے میٹھا پھل ہی ثابت ہوگا۔بلاشبہ اس کی تکمیل سے پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے گا روز گار کے مواقع بڑھیں گے۔فوری وقت لاکھوں پاکستانی مزدور بھی سی پیک سے مستفید ہو رہے ہیں۔قارئین جہاں پاکستان اس سے مستفید ہوگا وہیں دوسرے ممالک تک بھی اس کے ثمرات پہنچیں گے۔چائنہ کو ایک آسان اور شارٹ کٹ راستہ مل جائے گا وہ آسانی سے دوسرے ممالک تک رسائی حاصل کرسکے گا۔برآمدات اور درآمدات میں باآسانی اضافہ کرسکے گا۔اس منصوبے سے روس افغانستان ایران جاپان کوریا دوسرے وسطی ممالک قازکستان ازبکستان وغیرہ اورمغربی حتی کہ بھارت بھی مستفید ہو سکتے ہیں ان سب کے لئے یہ آسان تجارتی راستہ ہوگا۔لیکن بھارت کو ہرگز گوارا نہیں کہ وہ پاکستان کو خطے میں ایک اقتصادی نمبردار کی حیثیت سے دیکھ سکے۔اسی لئے وہ سی پیک کو نقصان پہنچانے کے لئے سرگرمیوں میں ملوث ہے۔پاکستان بھارت کو بھی اس منصوبے میں شرکت کی دعوت دے چکا ہے۔لیکن بھارت شامل ہونے کی بجائے افغانستان براستہ پاکستانی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔بھارت اس منصوبے میں شامل ہوکر خطے میں اپنی اقتصادی پوزیشن کو بہتر کرسکتا ہے۔اپنی برآمدات و درآمدات میں اضافہ کر سکتا ہے۔لیکن مسلسل بھارت منصوبے کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔جو کسی روز اسے اپنے نقصان کی شکل میں چکانا پڑے گا۔اب افغانستان جو براہ راست سی پیک کا حصہ ہے اسے بھارت کی گود کا سہارا چھوڑ کر خود کو مستحکم کرنا چاہئے کیونکہ یہی ایک موقع ہے کہ افغانستان بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔برصغیر ایشیاء کا یہ خطہ سی پیک کی تکمیل سے بہت سے ثمرات سمیٹے گا اور اسکا سہرا پاکستان کے سر ہے۔پاکستان کو اپنی اندرونی معاملات فوری حل کرنے چاہئے تاکہ سی پیک کی کامیابی پر توجہ مرکوز رہے۔اور بیرون ممالک اپنی سرمایہ کاری پاکستان میں کرنے سے گریز نہ کریں بلکہ کھلے دل سے سرمایہ کاری کریں۔اگر سی پیک پر کام پوری توجہ اور محنت سے کیا جائے تو سی پیک پراجیکٹ پر لگنے والی سرمایہ کاری مزید بڑھ سکتی ہے دوسرے ممالک بھی اس پر سرمایہ کاری کرسکتے ہیں کیوں کہ اس میں ہی سب کے فوائد و ثمرات ہیں۔واقعی یہ خطے کے لئے گیم چینجر ہے دنیا اس سے آگاہ ہے اور جو آگاہ نہیں انہیں بھی چند سالوں میں علم ہو جائے گا

Sunday, 19 February 2017

دہشتگردی سی پیک اور دشمن


چوہدری ذوالقرنین ہندل ۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی


گزشتہ پانچ دنوں میں دہشتگردی کے نو واقعات نے پورے پاکستان کو حیران و پریشان کر دیا ہے ہر طرف سوگواری ہے۔افسوس کی لہر دوڑ رہی ہے۔گزشتہ دنوں لاہور ،کوئٹہ ،پشاور ، مہمندایجنسی، ڈیرہ اسماعیل، آواران، اور سیہون شریف میں لال شہباز قلندر کے مزار پر دہشتگردی کے واقعات پیش آئے۔جو انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہیں۔دہشتگردی کے ان واقعات میں ایک سو تیس سے زائد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ان واقعات نے جہاں پورے پاکستان کو حیران و پریشان کیا ہے وہیں ہمارے انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں پر بھی سوالیہ نشان اٹھایا ہے۔آخر ہمارے سیکورٹی و انٹیلی جنس ادارے اتنے کمزور اور لاعلم کیوں؟ اگر علم تھا تو کوئی عملدرآمد اور روک تھام کیوں نہیں؟ماضی میں بھی متعدد بار دہشتگردی کے واقعات ہونے تک ہمارے حکمران اور ادارے سوئے رہے۔جب تک کوئی بڑی دہشتگردی نہ ہو جائے کوئی حرکت سامنے نہیں آتی ۔آخر کیوں؟آخر ہم دشمنوں کے مقاصد جاننے کے باوجود بھی ہر وقت دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے چوکنا کیوں نہیں ہوتے۔؟اگر چوکنا ہیں تو یہ واقعات کیسے اور کیوں؟یہ ایک بڑا سوال ہے جس کا جواب کوئی بھی نہیں دیتا۔جن کے سگے جان سے بھی پیارے دہشتگردی کا نشانہ بنے ہیں انکی دلی کیفیت سے ہم ہر گز واقف نہیں۔معصوم چہرے غم زدہ آنکھیں اور ساکت زبان ہمارے اداروں سے حکمرانوں سے سوال کر رہی ہیں کہ آخر ہم نے کسی کا کیا بگاڑا ہے ہمار قصور کیا ہے؟کیوں ہمارے باغوں کی کلیوں پھولوں اور پھلوں کو چھلنی کیا جاتا ہے؟آخر کیوں؟ان سوالوں کے جواب بھی کسی کے پاس نہیں۔قارئین گزشتہ چند عرصے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ایک چیز واضح ہو جاتی ہے کہ ملک دشمن سی پیک کی ناکامی کے لئے مسلسل متعدد کوششوں میں مصروف ہیں۔دشمن ہماری نظریں کشمیر اور سی پیک سے ہٹا کر افراتفری پھیلانا چاہتا ہے۔کبھی آزاد کشمیر کے بارڈر پر الجھایا جاتا ہے کبھی افغانستان کے راستہ الجھایا جاتا ہے۔کبھی سرجیکل سٹرائیک کے جھوٹے دعوے کئے جاتے ہیں۔کبھی ہمارے جاسوس کبوتر پکڑے جاتے ہیں۔کبھی ہمیں تنہا کرنے کے دعوے کئے جاتے ہیں۔دشمن مسلسل افراتفری پھیلانے کی کوششوں میں مصروف رہتا ہے۔میں یہ بات پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ موجودہ دہشتگردی کے واقعات بھی اسی کڑی سے جا ملتے ہیں۔گزشتہ دنوں پاکستان اور دوسرے غیر ملکی ممالک کی مشترکہ بحری مشقیں اور پی ایس ایل جس میں غیر ملکی کھلاڑی بھی شامل ہیں جاری تھے۔دہشتگردی کے واقعات عین وقت اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمن پاکستان کو دنیا کے سامنے غیر محفوظ اور دہشتگرد ملک قرار دینا چاہتا ہے۔سی پیک جو کہ بہت سے ممالک کے لئے بڑی معاشی ترقی کی اہمیت کا حامل ہے۔جسکی بدولت دنیا اپنی نظریں پاکستان پر مرکوز کئے ہوئے ہے۔ایسے میں دشمن کا جھلن کے باعث کڑھ جانا اور اپنی کم ہوتی اہمیت سے تنگ آکر پاکستان میں سی پیک کی ناکامی کے لئے جتن کرنا ہی اصل وجہ ہے۔دشمن نے دہشتگردی کا یہ وقت اس لئے چنا کیوں کہ ہمہ وقت بحری مشقوں اور پی ایس ایل میں موجود فوجیوں اور کھلاڑیوں تک اس کی گونج پہنچے اور غیر محفوظ پاکستان کا تاثر پہنچے۔فوجی اور کھلاڑی بیرون ملک دونوں ہی ملکی سفیر سا درجہ رکھتے ہیں۔افسوس کہادارے دشمن کی چالاکیوں سے علم رکھتے ہوئے بھی چوکنا نہیں رہے۔ہمارے ادارے اور حکمران اپنے کاموں میں مگن تھے۔کوئی حکومت گرا رہا تھا کوئی حکومت بچا رہا تھا۔پاک فوج کی توجہ بھارت بارڈر پر اٹکائی گئی تھی۔افسوس کہ دشمن پھر اپنی چالاکیوں میں کامیاب رہا۔یہ دشمن وہی انتہا پسند بھارت ہے جسکا اپنا گھر بکھرنے کے درپے ہے اور وہ دوسروں پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے۔بھارت پاکستان کو تنہا کرنا چاہتا ہے اور بیک وقت پاکستان کو کئی الجھنوں میں الجھائے ہوئے ہے۔جن میں افغانستان بارڈر اور دہشتگردی سرفہرست ہیں۔افغانستان کے ساتھ برے تعلقات پاکستان کی ماضی میں ناکام پالیسیوں کی بدولت ہیں۔پاکستان کا امن اتنی دیر تک ممکن نہیں جب تک افغانستان پاکستان کے ساتھ مخلص اور پر امن نہ ہوجائے۔متعدد بار لکھ چکا ہوں کہ اپنی اندرونی معاملات کو فوری نمٹا کر اپنا اندرون مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔دہشتگردی کے واقعات ہمارے اداروں پر سوالیہ نشان ہیں۔ہمارے اداروں کو ہر وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے نہ کہ افراتفری کے عالم میں بے گناہوں کو پکڑ کر مزید بدامنی پھیلانے کی۔ہمیں قوم میں مثبت سوچ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔موجودہ صورتحال میں پاکستان کو ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے۔ثابت قدمی کے ساتھ ہمارا اندرون مضبوط ہوجائے تو دشمن خود ہی بکھر جائیں گے اور پاکستان سی پیک کی تکمیل سے ایک بڑا اقتصادی و معاشی ملک بن کر ابھرے گا۔دہشتگردی کے واقعات دشمن کے آخرے ہتھکنڈے ہیں پاکستان کو دشمن کی کاروائیوں کا واضح جواب دینے کے ساتھ مثبت سوچ ثابت قدمی اور نئی واضح خارجہ پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔تاکہ ایک نئے نظریے کے ساتھ پاکستان موجودہ چیلنجز کا سامنہ کرتے ہوئے سی پیک کی پایہ تکمیل تک پہنچ جائے۔

Sunday, 12 February 2017

پاک بحریہ امن مشقیں اور بھارت


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

مل جل کر ارض پاک کو رشک چمن کریں 
کچھ کام آپ کیجئے کچھ کام ہم کریں
گزشتہ روز دس فروری سے پاکستان بحریہ کی دوسرے ممالک کے ساتھ پانچویں مجموعی امن مشقوں کا آغاز ہوگیا ہے۔جو دس روز تک جاری رہے گا۔پاکستان نے ان امن مشقوں کا آغاز 2007 میں کیا۔2017 امن مشقوں کی خاص بات یہ ہے کہ اس بار دنیا کے 37 ممالک کی بہترین بحری افواج اپنے لڑاکا جہازوں کے ساتھ شریک ہورہی ہیں۔جن میں امریکہ روس چین برطانیہ جاپان سعودی عرب آسٹریلیاء اٹلی سری لنکاء بحرین اور دیگر کئی ممالک شریک ہیں۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا پاکستان کی امن کوششوں کو سراہتی ہے اور پاکستان کے ساتھ مل کر امن کے حوالے سے کام کرنے کے لئے تیار ہے۔پاکستان بحر یہ امن مشقیں ہر دو سال بعد کرواتی ہے۔ روس پہلی مرتبہ اپنے تین بڑے بحری جہازوں سمیت شرکت کر رہا ہے۔پاکستان میں اس وقت سی پیک اور گوادر بندرگاہ پر کام جاری ہے جو پاکستان اور پاکستانی معیشت کے لئے ایک بڑی اہمیت رکھتا ہے۔بعض مخالفین کو پاکستان کی یہ اقتصادی ترقی ہضم نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے یہ مخالفین راہداری منصوبے میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں۔اور پاکستان میں سازشی کاروائیوں میں مصروف ہیں۔پاکستان کا اندرون اور بیرون ماضی کی نسبت بہت مضبوط ہے اور انشاء اللہ دن بدن مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔مخالفین صرف حسد میں جلتے رہیں گے۔گوادر بندر گاہ پاک چین سمیت بہت سے مشرقی و مغربی ممالک کے لئے بھی تجارت کا مرکز بن رہا ہے۔موجودہ وقت میں اسی بنا پر پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں چاہیں دشمنی کی ہوں یا دوستی کی۔یہی وجہ ہے کہ برطانیہ جیسا عظیم ملک بھی پاکستان چائنہ راہداری میں شریک ہونا چاہتا ہے اور ساتھ مل کر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ 2017 امن مشقیں بھی اسی بنا پر بہت اہمیت کی حامل ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان پوری دنیا کو محفوظ بحری راستہ مہیا کرنا چاہتا ہے۔یہ بحری راستہ صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا راستہ ہے اور اسکی حفاظت بھی پوری دنیا پر فرض ہے۔امن مشقیں مختلف بحری مشکلات اور رکاوٹوں سے مل کر نمٹنے کے لئے کی جا رہی ہیں۔جس میں 37ممالک کی بہترین بحری فوجیں اپنے اپنے تجربات شیئر کریں گی۔جس سے تمام ممالک کی افواج کو مل جل کر تجربات سے سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ہر ملک کی فوج کا ایک اپنا تجربہ ہے اور دیکھا جائے تو سب کے تجربات ملا کر قریب ایک ہزار سال سے زائد کا تجربہ بنتا ہے۔یونہی مل جل کر امن مشقوں سے تمام بحری فوجوں کو ایک ہزار سال سے زائد کے تجربات سے مفید ہونے کا موقع ملا ہے۔اس کا سہرا پاک بحریہ کے سر جاتا ہے جو پل کی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔مخالفین کو علم ہونا چاہئے کہ پاکستان کسی بھی بحری جارحیت کے خلاف نمٹنے کے لئے ہراول دستے کا کردار ادا کرے گا۔ہر گزرتے دن کے ساتھ دنیا کو پاکستان کی امن کوششیں واضح ہورہی ہیں اور دوسری طرف بھارت کی انتہا پسندانہ سوچ سے بھی دنیا آگاہ ہو رہی ہے۔بھارت نے اپنا دفاعی بجٹ گزشتہ سال سے بڑھا کر 45کھرب کرلیا جو پاکستان سمیت بہت سے ملکوں کے مجموعی بجٹ سے بھی بہت زیادہ ہے۔بھارت دنیا میں خطرات کی بگل بجائے جا رہا ہے ۔بھارت تھرمونیوکلیئر بم جوکہ ایٹم بم سے بھی دو گنازیادہ تباہی پھیلا سکتا ہے کو بنانے میں مصروف ہے۔عالمی برادری کو فوری بھارت کو روکناہوگا اور پابندیاں عائد کرنی ہوں گی۔تاکہ دنیا کسی بھی بڑی تباہی سے کوسوں دور رہے۔یوں تو بھارت پاکستان کے وجود سے ہی جلتا ہے مگر گزشتہ دن شروع ہونے والی امن مشقوں سے بھی بھارت کو خاصی تکلیف پہنچی ۔جس کے جواب میں بھارتی نیوی کے چیف سنیل لانباہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں امن مشقیں کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتیں یہ معمول کی مشقیں ہیں اور اس میں صرف سولہ ممالک شریک ہو رہے ہیں۔بھارت اپنی انتہا پسندانہ سوچ اور آمرانہ خواہش کی بدولت دن بدن نقصان کی طرف جا رہا ہے ایسا نقصان جس کی تلافی برسوں پوری نہیں ہو سکے گی۔بھارتی عوام بھوک و افلاس اور بہت سی پچیدگیوں میں مبتلا ہے اور حکومت اسلحے کی دوڑ میں بھاگے جا رہی ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ انتہا پسندانہ سوچ ہمیشہ بکھیر دیتی ہے اور ایسا بکھیرتی ہے کہ سنبھلنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔بھارت اپنی ملکی سلامتی بکھیرنے کی طرف جا رہا ہے جس میں بھارتی حکومت کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا اور دانشوروں کا بھی پورا ہاتھ ہے۔اگر بھارت اپنی نمبرداری سے بعض نہ آیا تو ایک دن بھارتی ٹکڑے یقینی ہیں اور یہ ٹکڑے انکی اپنی ریاستوں سے شروع ہوں گے۔وقت ہے کہ گزر جاتا ہے مگر واپس نہیں آتا۔ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ بھارتی دانشور ہاتھ ملتے رہ جائیں گے اور ملامت کریں گے کہ عوام کو حقیقت سے کیوں دور رکھا کیوں تاریخ بدلنے کی کوشش کی۔پاکستانی عوام اور حکومت کو ثابت قدمی اور مزید محنت کی ضرورت ہے۔پاکستان کو فی الفور اپنے اندرونی معاملات سے نمٹنا چاہئے جو کہ وقت کی بڑی ضرورت ہے۔ اگر اندرون مضبوط ہوگا تو مخالف ٹکرا کر خود گر جائے گا۔پاکستان کو پوری دنیا کے سامنے اپنا مثبت موقف پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ثابت قدمی محنت واہ2030کا پاکستان کتنا حسین اور بڑا اقتصادی ملک نظر آرہا ہے ہر طرف خوشیاں ہیں بے روزگاری دور چلی گئی ہے۔انتہا پسندی اور آمرانہ سوچ آہ 2030کا بھارت بکھر چکا ہے افلاس نے جکڑ لیا ہے۔

Sunday, 5 February 2017

ثابت قدمی اور بھارتی ٹکڑے


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔ گوجرانوالہ۔ چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی


بھارت بہت عرصہ سے برصغیر پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے اور اپنے اس خواب کی تعبیر کے لئے جتن اور کوششوں میں مصروف ہے۔بھارتی خواب کی راہ میں پاکستان رکاوٹ کا کردار ادا کرتا ہے۔بھارت اپنی سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کے خلاف متعدد منصوبہ بندیاں کر چکا ہے اور کرنے میں مصروف ہے۔بھارت کو حکمرانی کی لت لگانے والا ملک امریکہ ہے ۔امریکہ بھارت کو خطے میں مضبوط دیکھنا چاہتا ہے تا کہ وہ ابھرتی ہوئی سپر پاور چین کو روک سکے۔اس سارے کھیل میں پاکستان ایک بڑے مہرے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے ۔جو سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ۔پاکستان نظریاتی لحاظ سے چین کے زیادہ قریب ہے مگر امریکہ سے بھی اپنے تعلقات ختم کرنا نہیں چاہتا۔چین اور روس پاکستان کو سی پیک کی صورت میں مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ انکا حریف امریکہ بھارت کو خطے میں ان کے سامنے کھڑا نہ کر سکے۔بھارت ایک انتہا پسند ملک ہے پوری دنیا بھارتی تنگ نظری سے واقف ہے اور دنیا جانتی ہے کہ بھارتی حکمرانی دنیا کے لئے بڑا خطرہ ہے۔بھارت حکمرانی کے نشے میں ایسا دھت ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف بہت سے ملکوں کے ذریعے تخریب کاریوں میں مصروف عمل ہے۔ثابت قدمی ایک بہت بڑا عمل ہے جو صبر کے معنوں میں آتا ہے۔زندگی میں ثابت قدمی کو بہت سی کامیابیوں کی ضمانت تصور کیا جاتا ہے۔بے شک ثابت قدمی بھی خدا داد صلاحیت ہے۔مگر انسان اپنے ماضی کی مشکلات و پریشانیوں سے بھی سیکھ کر ثابت قدمی کا دامن تھام لیتا ہے۔اسلام میں بھی ثابت قدمی کی کئی مثالیں موجود ہیں جنگ کا محاذ ہو یاکوئی دوسرا۔میں جب سے اپنے ہوش و حواس میں ہوں تب سے اب تک پاکستانی حکومتوں میں ثابت قدمی کے فقدان کو بہت محسوس کیا۔5 فروری یوم یکجہتی کشمیر بھی ہمیشہ کی طرح گزر گیا سب نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں جو شاید دو دن بعد بھول بھی جائیں عملدرآمد نہ ہونے کے باعث اگلے سال ممکن ہے پھر پیش کی جائیں۔پاکستان اقوام متحدہ کی طرف سے مسئلہ کشمیر کا اہم ترین فریق ہے۔مگر گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے مضبوطی سے پیش نہیں کرسکا جسکی ضرورت تھی۔اور نہ ہی پاکستان بھارتی اصلیت کو دنیا کے سامنے آشکار کر سکا۔ایک طرف بھارت پاکستان پر الزام تراشی کر کے پاکستان کو تنہا کرنے کی سازشوں میں مصروف ہوتا ہے پاکستان کو دہشتگرد ملک ٹھہرانے کی کوشش میں مصروف پاکستانی کھلاڑیوں پاکستانی فنکاروں پر پابندیاں اور مزید پابندیوں میں مصروف ہوتا ہے اور دوسری طرف پاکستانی حکومت اپنے اہم ریاستی رہنماؤں کی گرفتاریوں بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت اور بھارت سے دوستی کی تگ و دو مصروف ہوتے ہیں۔بھارت آبی جارہیت کرتا ہے اور سندھ تاس معاہدے کی خلاف ورزی بھی اور پاکستان کی طرف سے کوئی بھی ٹھوس اقدام نہیں اٹھائے جاتے۔آخر کیوں؟یہ کیا ہے؟کیوں ہے؟عوام اس کے جوابات چاہتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ بھارت اپنی نمبرداری کے چکر میں دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اسکے اپنے ملک کی کئی ریاستیں وفاق سے بدذن ہیں اور آزادی چاہتی ہیں۔اسی سلسلے میں متعدد تنظیموں و تحریکوں نے جنم لیا ہے اور دن بدن فعال بھی ہوتی جا رہی ہیں۔بھارتی اقلیتیں تحفظ کے لئے ترس رہی ہیں۔غربت و افلاس میں انسانی قدروں کی پامالی ہورہی ہے۔عورتوں کی عصمتیں محفوظ نہیں۔عصمت ریزی میں بھارت کا بڑا نام ہے۔انسانیت کی دھجیاں بکھیرنا معمول کا کام بن چکا ہے۔بھارت خطے میں نمبر داری کے چکر میں اپنی عزت کا جنازہ نکال چکا ہے اور بھارتی میڈیا بھی اس کا ذمہ دار ہے۔بھارتی میڈیا اپنے عوام کو حقیقت سے باخبر رکھ کر بھارتی شیرازہ بکھیرنے کی طرف گامزن ہے۔بھارتی نمبرداری کے خواب کو پاکستان چکنا چور کرتا ہے بھارت اپنے اس بڑے حریف کو مات دینے کے لئے مختلف طریقوں سے خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے تخریب کاریوں میں مصروف ہے۔پاکستان کے پاس اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔پاکستان کی موجودہ حکومت بھی گزشتہ کی طرح سست روی کا شکار ہے۔بہت سے معاملات میں سستی دکھائی جارہی ہے ۔مسئلہ کشمیر سر فہرست افغانستان امریکہ اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی وغیرہ۔ان سب معاملات کو فوری حل ہونا چاہئے۔موجودہ وقت میں خطے کی صورتحال بہت تیزی سے بدل رہی ہے دو اتحاد سامنے آ رہے ہیں جن میں چین روس اور پاکستان اور دوسری طرف امریکہ اسرائیل اور بھارت۔پاکستانی قیادت شاید اس تبدیلی سے صحیح طرح سے آگاہ نہیں یا ہونا نہیں چاہتی۔پاکستانی حکومت بیک وقت دو کشتیوں کی سواری کرنا چاہتی ہے جو نا ممکن ہے۔یعنی چین اور امریکہ۔جسکی بدولت ملک اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچا ہے اور پہنچ رہا ہے۔پاکستان کو فوری ایک وزیر خارجہ کو منتخب کرنا ہوگا اور خطے کی بدلتی صورتحال دیکھ کر ایک واضح خارجہ پالیسی تشکیل دیناہوگی۔پاکستان کو ماضی کی طرح اکھڑے قدموں کی بجائے ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے ۔سی پیک کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اپنے اندرونی معاملات کو نمٹایا جائے۔قارئین بھارت گھر کا ایسا چوہدری ہے جس کی چوہدراہٹ اس کے اپنے گھر کو ہی نقصان پہنچا رہی ہے۔اور ایک دن ایسے چوہدری کی ساکھ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہے اپنے گھر والے ہی بندوق تانے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ملک پاکستان اپنی پالیسیاں واضح کر کے ان پر ثابت قدم رہے تو بھارت کے متعدد ٹکڑے یقینی ہیں۔پاکستان کو فی الفور مسئلہ کشمیر پر اپنا طاقتور اور مثبت مؤقف پیش کرنے کی ضرورت ہے۔کشمیر کی آزادی بھارتی ٹکڑوں کا آغاز ہوگا۔پاکستان کو دنیا کے سامنے بھارتی چالبازیوں اور ہٹ دھرمیوں کو پیش کرنا ہوگا تا کہ دنیا تنگ نظر بھارت کی حقیقت کو جان سکے۔پاکستان کو افغانستان سے اپنے تعلقات باقاعدہ طے کرنا چاہیں۔پاکستان کو بھارتی آبی خلاف ورزیوں کیخلاف جلد از جلد ٹھوس اقدامات اٹھانا چاہیے۔گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان اور پاکستانی سالمیت کو صرف غیر واضح پالیسیوں اور ثابت قدمی سے کوسوں دور رہنے کی وجہ سے نقصان پہنچا۔دو کشتیوں کی سواری بھی پاکستانی ساکھ کو متاثر کرتی رہی۔حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر کچھ ٹھوس اقدامات جلد اٹھائے جائیں۔خاجہ امور کی وزارت قائم کی جائے واضح خاجہ پالیسی تشکیل دی جائے۔خطے میں دباؤ کو مسترد کرکے کھل کر ثابت قدمی سے سامنے آیا جائے۔اندرونی معاملات کو نمٹا کر ملک کی مضبوطی میں اضافہ کیا جائے تاکہ دشمن ہماری سلامتی سے کھیلتے خود بکھر جائے