Sunday, 25 December 2016

قائد کی ولادت کا دن اور ہم


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

قائداعظم پورا نام محمد علی جناح 25 دسمبر1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔والد کا نام پونجا جناح چمڑے کے بڑے تاجر۔محمد علی جناح بچپن سے ہی اعلی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ابتدائی تعلیم کراچی سے اور برطانیہ سے بائیس سال کی عمر میں بیرسٹر بن کر ہندوستان واپس لوٹے۔وکالت میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچے۔کانگرس سے سیاست کا آغاز کیا بعد ازاں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی۔ہندؤں سے بدزن ہوکر آپ نے مسلمانوں کو حقوق دلانے کا بیڑا اٹھایا ۔چودہ نکات بھی اسی ضمن میں پیش کئے۔مشکل حالات میں ہندوستان میں مسلمانوں کی وکالت مدبرانہ انداز میں کی اور برصغیر میں مسلمانوں کے عظیم لیڈر قرار پائے۔لیڈرانہ صلاحیتوں اور انتھک محنت کی بدولت محمد علی جناح انگریزوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوگئے کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہے۔آخر کار آپکی محنتوں اور کاوشوں کی بدولت 14اگست1947کو ایک اسلامی ملک پاکستان قیام میں آیا۔آپ پاکستان کے سب سے پہلے گورنر جنرل تھے۔ابتدائی مراحل میں آپ نے پاکستانیوں کو متحد کیا۔آپ کے پختہ ایمان اور یقین کی بدولت پاکستان دن رات ترقی کی راہ پر گامزن رہا۔اسی دوران آپ ٹی بی کے عارضے میں مبتلا تھے مگر آپ نے بیماری کی تاب نہ لاتے ہوئے اسے پوشیدہ رکھا اور ملکی خدمت میں گامزن رہے۔کچھ عرصہ علیل رہنے کے بعد آ پ وفات پا گئے۔آپ نے پاکستانیوں کو ہمیشہ ایمان اتحاد اور تنظیم کا درس دیا۔آپ کے جانے کے بعد آپکے افکار کو کوئی سمجھ نہ سکا۔آپ کے بعد پاکستان کو کوئی عظیم لیڈر نہ مل سکا۔وطن آہستہ آہستہ ترقی کی پٹڑیوں سے نیچے اترتا گیا۔بے ایمان حکمرانوں اور جاگیرداروں کے گٹھ جوڑ نے ملکی اتحاد کو نیست و نابود کر دیا۔بد عنوانیوں نے ملک میں جڑیں مضبوط کر لیں انہی بدعنوانیوں کے باعث لوگوں کے ایمان کمزور ہونے لگے۔ملک اور ملکی اداروں میں کرپشن نے زور پکڑ لیا۔لفظ تنظیم کا مفہوم بھی پاکستانیوں کو بھولنے لگا۔ملک سے ہی ملکی دشمن پیدا ہوتے رہے۔سیاستدانوں کی ہٹ دھرمیوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا۔سیاست دانوں اور جاگیر داروں کی چالبا زیوں اور مفادات کے برعکس دہشتگردی نے زور پکڑا۔وطن خون کی ندی بن گیا۔اسی بہادر اور غیور قوم میں غربت کے مارے اور حکومت کے ستائے لوگ ملکی غدار بنے۔وطن پاکستان جو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اسی ملک میں نظریہ پاکستان اور اسلام کو رسوا کیا گیا۔ملک ایسا کھنڈر بنا کے لوگ ایک دوسرے سے ڈرنے لگے۔مسلمانوں سے مسجدوں کو نقصان پہنچنے لگا اور طالب علموں سے مدرسوں کو ۔اساتذہ ملکی غداروں کے حامی نکلنے لگے۔صحافی و سیاست دان ملکی غداری میں نمایاں۔سیاست دانوں کی بدعنوانیوں نے ملک کو کرپشن کا گڑھ بنا دیا۔آہ ۔افسوس۔اے قائد میں کیا لکھوں؟اپنے وطن کی غداریوں کو لکھوں؟یا بے ایمانیوں کو لکھوں؟جھوٹے اور وقتی ولولوں کو لکھوں؟یا لفظی جھوٹ لکھوں؟قائد ہمارے ولولے صرف وقتی ہوتے ہیں۔ہم وقتی شرمندہ ہوتے ہیں۔آج آپ کی ولادت کا دن بھی گزر گیا بڑے وقتی جذبے ظاہر کئے یہ بھی کہا گیا قائد ہم اپنی کرتوتوں سے شرمندہ ہیں ۔مگر پھر جذبوں میں بھی جھوٹ قائد درحقیقت ہم شرمندہ نہیں بلکہ بے ہس بلکہ بے شرم ہیں۔بے شرم لفظ ہماری درست ترجمانی کرتا ہے۔قائد ہم تو وہ قوم بن چکے ہیں جو اپنے محسن کی زندگی اسکے ایمان اور خلوص پر شک کرتے ہیں اور کبھی کبھار جھوٹا بھی قرار دیتے ہیں۔ہم سرکشی کی راہ پر چلنے والے وہ پتلے ہیں جنہیں درست غلط سے سرو کار نہیں بس پیچھے چلنے کے عادی ہیں چاہے کوئی کنویں میں دھکیل دے۔ہماری صلاحتیں زنگ آلود ہو چکی ہیں۔اے قائد ہم تیرے ایمان اتحاد اور تنظیم پر کیا عمل کریں ہم اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کو بھول بیٹھے ہیں۔افسوس اے قائد آج تیرے پاکستانیوں نے تیری ولادت کے دن بڑے پروگرام منعقد کئے بڑی ڈاکومنٹریز چلائی گئیں مگر تیری سچائی تیرے پختہ ایمان تیرے یقین اور تیرے افکار و نظریات کو نہ سمجھا۔ادھر تیرے ولولوں کی لفظی قدریں کیں ادھر تیرے وطن کو تار تار کیا۔اے قائد کیا یہ تیرا پاکستان ہے؟ہر گز نہیں۔یہ فرقہ واریت یہ کرپشن یہ دہشتگردی یہ بے انصافی یہ دہرا معیاریہ قانون کی دھجیاں یہ پلی بارگین یہ کرسی کا لالچ یہ پانامہ یہ ہٹ دھرمی یہ قبضہ مافیا اور وغیرہ وغیرہ کیا یہ سب قائد کا نظریہ ہے نہیں ہر گز نہیں یہ تو کرسیوں پر بیٹھے ان فرنگی غلاموں کے دہرے معیار ہیں انکے ہوس سے لبریز قوانین ہیں۔بلکہ افسوس سے ان فرنگی غلاموں کے غلام ہم سب عوام ۔ہمیں خود کو قائد سے منصوب نہیں کرنا چاہیے۔قائد کی روح کو ٹھیس پہنچے گی۔قائد ہم شرمندہ نہیں بے شرم ہیں۔
اے قائد تجھے ٹھیس تو پہنچی ہوگی
ولادت پہ تیری تیرے نظریات کو کر گئے رسوا
کیا یاد تو فقط چند رسمی لفظوں میں یاد کیا
تیرے اپنوں نے تیرا درس بھلا دیا
اے قائد تجھے ٹھیس تو پہنچی ہوگی
چھپا کر اپنی علالت جس قوم کے لئے کام کیا
اسی کے لوگوں نے تیرے افکار کو تار تار کیا
میرے رہبر قائد تجھے ٹھیس تو پہنچی ہوگی

Sunday, 11 December 2016

سرکار دو جہاں ﷺ


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

آپﷺ کی تاریخ ولادت کے متعلق مختلف روایات میں کچھ علماء 9 ربیع الاول کو درست مانتے ہیں۔مگر زیادہ علماء اکرام کے نزدیک 12 ربیع الاول کو آپﷺ کی ولادت صبح صادق کے وقت ہوئی۔آپﷺ کی پیدائش سے مشرق و مغرب منور ہو گئے۔آپﷺ کا نام محمدﷺ رکھا گیا۔محمدﷺ کا سادہ سا ترجمہ۔جس کی تعریف کے بعد پھر تعریف کی جاتی ہو۔اس سے واضح ہے کہ آپﷺ وہ ذات ہیں جن کی تعریف کا سلسلہ جاری ہے اورہمیشہ جاری رہے گا۔یہ حقیقت ہے کہ جتنا دنیا بھر میں آپﷺ کی شان کے بارے میں لکھا گیا اتنا اور کسی کے بارے میں کبھی لکھا نہیں جا سکتا یہاں تک کہ غیر مسلم بھی آپﷺ کی تعریفوں میں متعدد کتابیں لکھ چکے ہیں۔پیدائش کے بعد آپﷺ کی پرورش حضرت حلیمہ سعدیہ نے کی۔چار سال کی عمر میں آﷺ کو آپ کی حقیقی والدہ حضرت آمنہ کے سپرد کیا گیا۔ابھی آپﷺ چھ برس کے ہوئے تھے کہ حضرت آمنہ انتقال کر گئیں۔اس کے بعد آپﷺ کی پرورش آپﷺ کے دادا حضرت ابومطلب نے کی۔آپﷺ کے دادا آپﷺ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔آپﷺ کی عمر آٹھ سال ہوئی تو آپﷺ کے دادا بھی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔دادا کی وفات کے بعد آپﷺ کو آپکے چچا حضرت ابوطالب نے اپنی کفالت میں لیا۔آپﷺ نے بارہ سال کی عمر میں اپنے چچا کے تجارتی قافلے کے ساتھ ملک شام کا سفر کیا۔اسی سفر کے دوران بحیرہ نامی عیسائی راہب نے آپﷺ کو دیکھا اور کہا آپﷺ سید المرسلینﷺ ہیں۔آپﷺ نے بھی باقی انبیاء کی طرح بکریاں چرائیں۔مکہ میں آپﷺ کو صادق  و امین کے لقب سے لوگ جانتے تھے۔پچیس برس کی عمر میں آپﷺ کی شادی حضرت خدیجہ سے ہوئی۔جب آپﷺ چالیس برس کے ہوئے ایک دن غار حرا میں عبادت میں مصروف تھے۔جبرائیل علیہ اسلام حاضر ہوئے اور کہا۔(پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو قلم کے زریعے علم سکھایا۔)یوں آپﷺ پر وحی کا آغاز ہوا۔آپﷺ نے اس کے بعد احکام الہی کی تبلیغ کا آغار کیا۔آپﷺ نے شروع شروع میں بڑی تکلیفیں برداشت کیں مگر صبر کا دامن نہیں چھوڑا یوں آپﷺ کی تبلیغ سے لوگ جوق در جوق اسلام کے دائرے میں داخل ہوتے گئے۔آپﷺ کے مخالفین بھی آپﷺ کی سچائی کو مانتے تھے۔وحی کے نزول سے پہلے بھی آپﷺ مکہ کے صادق اور امین شخص مانے جاتے تھے۔لوگ آپﷺ کے پاس اپنی امانتیں رکھواتے۔آپﷺ سے فیصلے کرواتے یعنی انصاف کرواتے۔اللہ تعالی نے بچپن سے ہی آپﷺ کو رسالت کی خصوصیات عطا کیں۔آپﷺ دنیا کے آخری نبی ہیں۔آپﷺ کے بعد اس دنیا میں کوئی نبی نہیں آئے گا۔آپﷺ کی امت آخری امت ہے۔اب قیامت تک امت محمدی ہی رہے گی۔آپﷺ پوری دنیا کے رسولﷺ ہیں۔تمام قوموں کے نبی۔آپﷺنے لوگوں کو جینا سکھایا تہذیب سکھائی اسلام جیسا بہترین دین دیا اور قرآن جیسی اعلی کتاب دی۔قرآن اللہ تعالی کی طرف سے بھیجی گئی آخری کتاب ہے۔وہ کتاب جس میں سابق آسمانی کتابوں کا بھی ذکر ہے۔آپﷺ سرکار دوجہاں ہیں۔آپﷺ اللہ کے محبوب اور آخری نبی ہیں۔اس کے باوجود بھی آپﷺ نے اتنی سادہ زندگی بسر کی جو ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے۔آپﷺ کی حیات مبارکہ کا ہر عمل ہمارے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔آپﷺ قیامت کے روز اپنی امت کی شفاعت فرمائیں گے۔قارئین میں نہ تو کوئی بڑا اسکالر ہوں نہ ہی کوئی عالم اور نہ ہی کوئی بڑا رائیٹر میری اتنی اوقات کہاں کے آﷺ کی صفات بیان کر سکوں آپﷺ تو سردار دو عالم ہیں۔لیکن پھر بھی مجھ جیسا کوئی کم ظرف بھی آپﷺ کی حیات طیبہ پر روشنی ڈالے تو کئی کتابوں کا مجموعہ اکٹھا ہو جائے۔خیر اخبار میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے تھوڑا سا لکھا غلطی کوتاہی کو در گزر کیجئے گا۔قارئین ربیع الاول کا مہینہ ہے دنیا بھر میں آپﷺ کی ولادت کی خوشی منائی جا رہی ہے۔لوگ عقیدت میں گلیاں سجا رہے ہیں نیاز بانٹ رہے ہیں محفلیں منعقد کی جا رہی ہیں۔ہر طرف جشن کا سماں ہے اور ایسا سماں ہر سال ہوتا ہے ایسی خوشیاں ایسا سماں تا قیامت رہے گا۔کوئی اولی و اعلی ہمارا نبی پڑھ رہا ہے کوئی تیراکھاواں میں تیرے گیت گاواں جیسی نعتیں پڑھ رہا ہے۔ہر طرف رسولﷺ کی عقیدت میں خوشیاں منائی جارہی ہیں۔یہاں اہل اسلام سے گزارش ہے کہ اس بابرکت ربیع الاول میں ہم سب آپﷺ کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے کا عہد کریں۔قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونے کا عہد کریں۔اللہ کے رسول سے حقیقی محبت کا اظہار کریں۔نوافل ادا کریں۔اپنی غلطیوں کی معافی مانگیں۔ہمیشہ کے لئے رسولﷺ کے احکامات پر عمل کرنے کا عہد کریں۔بددیانتی بے ایمانی جھوٹ اور دوسرے برے کاموں کو ترک کرنے کا عہد کریں۔نماز پڑھنے کا عہد کریں زکواۃ دینے کا عہد کریں روزے رکھنے کا عہد کریں۔قرآن پڑھنے اور سمجھنے کا عہد کریں۔دینی و سیاسی انتشار کو ترک کرنے کا عہد کریں۔انصاف و عدل کو یقینی بنانے کا عہد کریں۔کرپشن کے خاتمے کا عہد کریں۔چوری ڈکیٹی و قتل و غارت کو ترک کرنے کا عہد کریں۔نیز تمام برے افعال کو ترک کرنے کا عہد کریں۔تمام اچھے کام کرنے کا وعدہ کریں۔اپنی زندگی کو اتباع رسول ﷺکے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔افسوس کہ ہمارے سب جذبے وقتی ثابت ہوتے ہیں۔ہر سال ہم محرم رمضان اور ربیع الاول جیسے بابرکت مہینوں میں بڑے جذبا تی ہو جاتے ہیں۔مگر ان کے گزرتے ہی سب جوش سب ولولے مانند پڑ جاتے ہیں اور پھر وہی گناہوں کوتاہیوں والی زندگی۔یا اللہ ہدایت عطا کر۔حقیقی عاشق رسول اور رسول کے احکامات پر عمل کرنے والے امتی بنا دے۔

Sunday, 4 December 2016

قرض مافیا



چوہدری ذوالقرنین ہندل۔ گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی


دنیا بھر میں قرض مافیا نے اپنی جڑیں مضبوط کر رکھی ہیں۔قرض مافیا نے ایسا نظام ایسے قوانین قرض بنا کر رائج کیے ہیں کہ غریب و مفلس اور سیدھے سادھے انسان کے لئے اس کی زد سے بچنا بڑا مشکل بلکہ ناممکن ہے۔قرض میں ظاہری فائدہ لوگوں کو متوجہ کر کے اس مافیا کے رائج قوانین کی زد میں لاتا ہے۔درحقیقت یہ ایک بڑا نقصان ہے۔اسلام میں بھی سود پر قرض سے منع فرمایا گیا ہے۔اسلامی سکالرز اس پر بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔قرض مافیا کی پالیسیاں درحقیقت سود پر منحصر ہوتی ہیں۔کرپشن ایک بنیادی مسئلہ ہے۔جیسے دوسری بدعنوانیاں کرپشن کے باعث جنم لیتی ہیں ایسے ہی کرپشن کی وجہ سے قرض مافیا یعنی سود پر قرض دینے و لینے والوں نے بازار گرم کر رکھا ہے۔کرپشن سے کسی ملک و معاشرے میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے جس کے باعث غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔غربت کی فضا میں منافع خور بنیے غریبوں کو انکی زمین و جائیداد کے کاغذات کے برعکس سود پر قرض دیتے ہیں۔جو قرض سود کی شکل میں ہر سال بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ غریب کی جائیداد بھی ایک دن اسی قرض کی تحویل میں آجاتی ہے۔برصغیر ہندوستان میں تقسیم سے پہلے یہ کام ہندو بنیے کرتے تھے ۔کیونکہ اسلام میں سود حرام ہے جسکی وجہ سے مسلمان ایسے کام پر لعنت بھیجتے تھے۔زمانہ گزرا تاریخ بدلی اور روایات تبدیل ہوگئیں رسم و رواج بدل گئے۔لوگ پڑھ لکھ گئے شعور آگیا۔مگر پڑھنے کے بعد بھی لوگ ان فرسودہ نظام و روائج سے پیجھے نہ ہٹ سکے بلکہ وقت نے ان پڑھے لکھے لوگوں کو اس سازشی اور ذاتی مفادات والے نظام کے پیروکار بنا دیا۔موجودہ دور میں ہم سمجھتے ہیں کہ پڑھ لکھ کر ہم آزاد ہوگئے ہیں۔مگر افسوس کہ کل تک جن کاموں کو ہم گناہ کبیرا سمجھتے تھے آج انہی کو کرتے ہمیں جھجھک بھی محسوس نہیں ہوتی۔در حقیقت ہم بنے بنائے رستوں پر چلنے کے عادی ہوچکے ہیں۔خود اپنے راستے بنانا نہیں جانتے۔یہ ہماری بھول ہے کہ ہم موجودہ دور میں مکمل آزاد ہیں۔درحقیقت ایک مکمل سازش کے تحت ہمیں غلام بنایا جا رہا ہے۔ہم اب پہلے کی نسبت زیادہ سازشوں کے تابع ہیں ۔ہم فالو کرتے۔کسی نہ کسی طرح ہم سازش کی تحویل میں ہیں۔نہ چاہتے ہوئے بھی سود جیسے ممنوع کاموں پر عمل پیرا ہیں۔خیر چھوڑئیے اس پر پھر کبھی تفصیل سے لکھوں گا۔ابھی قرض ماقیا کے بارے میں سنئے۔قرض مافیا ایک مکمل ٹیم ہوتی ہے۔اس میں قرض لینے اور دینے والے بااثر لوگ موجود ہوتے ہیں۔یہ بااثر لوگ کسی نہ کسی طرح اس کھیل اس نظام اور اس بزنس سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔قرض بھی غریب کو غریب تر اور امیر کو مزید امیر کرنے والا سودا ہوتا ہے۔ظاہری متوجہ کا حامل یہ سود پر قرض غریب کو بڑا حسین دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں اسکی تباہی کا سبب ہوتا ہے۔پاکستانی نظام میں بھی یہ قرض و سود سسٹم اپنی جڑیں گاڑھے ہوئے ہے۔بلکہ کئی سالوں سے اس کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔امیر کا جس کام میں فائدہ ہو اس کام کو پاکستان میں بڑی تقویت ملتی ہے۔اسی وجہ سے سود و قرض پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹ چکا ہے اور باقی ماندہ کو بھی چت کرنے کی تگ و دو میں ہے۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہونے کے باوجود بھی سود سے بچاؤ کے لئے کوئی حکمت عملی نہیں کر سکا۔دراصل اس قرض و سود میں حکومت کے رہنماؤں اور وزراء کا کسی نہ کسی طرح مفاد موجود ہے۔پاکستان میں وزراء سیاستدان امراء جاگیردار بزنس مین اور بیوروکریٹس سب قرض مافیا ٹیم کا حصہ ہیں۔سیاستدان و بیوروکریٹس بزنس مینز و امراء کو حکومتی خزانے سے قرض دلواتے ہیں اور پھر وہی قرض معاف کرواتے ہیں اور اسی طرح اپنا حصہ تقسیم کر کے مفاد میں۔اپنے مفادات میں ملکی نقصان کی بھی پروا نہیں کرتے۔انہی قرض مافیا کے حکومت پر قابض ہونے کی وجہ سے ہی ملک بیرونی قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔یہ لوگ ملکی دولت سے خود قرض لے کر معاف کروا لیتے ہیں۔اور دوسری طرف غریب کو با مشکل قرض مل بھی جائے تو قرض کی واپسی میں تاخیر پر انکی جائیداد ضبط کر لی جاتی ہے۔گزشتہ دنوں پارلیمانی کمیٹی نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان سے قرض معاف کروانے والوں کی تفصیل مانگی تو بنک نمائندے نے اسے قانون کے برعکس قرار دے کر تفصیل دینے سے انکار کر دیا۔یقین سے کہتا ہوں کہ اس تفصیل میں بڑے جاگیرداروں بڑے بزنس کے ٹائیکونوں بڑے سیاستدانوں اور بااثر لوگوں کے نام موجود ہوں گے۔جسکی وجہ سے یہ تفصیل پیش نہیں کی جا رہی۔اور یہ قرض مافیا کا پاکستان میں متحرک ہونے کا ثبوت ہے۔اور بااثر لوگوں کے ملوث ہونے کی نشانی ہے۔پاکستان میں سب قوانین سب ادارے غریبوں کے لئے ہوتے ہیں امیر پر اسکی پاسداری لازم نہیں ہوتی۔لیکن قرض معافی جیسے قوانین اور امدادی رقمیں صرف امیروں کے لئے ۔پاکستان میں جو دہرا معیار چلتا آرہا ہے وہ ہر گزرتے دن تقویت پکڑ رہا ہے۔جو ملکی ساکھ و سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔ 2015 میں270 ارب روپے کے قرض معاف کروائے گئے۔ایک بڑی رقم ہے۔جس دور میں ملک کے ہر فرد پر لاکھ سے زائد کا قرض موحود ہو اس دور میں اربوں کے قرض معاف کرنا اور پھر انکی تفصیلات بھی نہ دکھانا ایک مجرمانہ عمل ہے۔ماضی کی طرح عوام کو بے وقوف بنانے کی بجائے بتایا جائے کہ اربوں کا قرض کیوں اور کن کو معاف کیا جاتا ہے۔کیا یہ غریبوں کے لئے سبسڈی ہے؟یا پھر بدعنوانیوں کا کالا چٹھا ہے جسے دکھانے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ملک کے ہر ادارے کا احتساب ہی ملک کو بہتری پر گامزن کر سکتا ہے۔یہ وقت کی ضرورت ہے۔ قرض مافیا کی تفصیلات عوام تک بھی پہنچنی چاہئے اور انکا احتساب بھی ہونا چاہئے۔یہی وقت کی پکار ہے۔احتساب۔

Sunday, 30 October 2016

تلخ حقیقت


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو۔وائس آف سوسائٹی

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان بننے سے لے کر اب تک یعنی آزادی کے ستر سال بعد بھی پاکستان کرپشن سے آزاد نہ ہوسکا۔ملک کا ہر طبقہ کسی نہ کسی طرح کی کرپشن میں ملوث ہے۔بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا جس کا جہاں بس چلتا ہے وہ وہاں کرپشن کا کھیل ضرور کھیلتا ہے۔جیسے ہم انگریزی کا the جہاں موقع ملے لگا لیتے ہیں ایسے پنجابی کا دا بھی پاکستانی موقع دیکھ کر ضرور لگاتے ہیں۔دا بھی کرپشن کی ایک قسم ہے۔معزرت کے ساتھ کرپشن بھی ایک کھیل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے ۔بلکہ میرے نزدیک تو کرپشن ہمارا قومی کھیل بن چکا ہے۔جسے ہمارے لیڈران بڑے شوق سے کھیلتے ہیں۔ہمارے افسران بھی اس کھیل کے دل و جان سے متوالے ہیں۔بیوروکریٹ تو اس کھیل کے بکیے ہیں۔اس کھیل میں امپائر بھی ہیں ۔امپائر بعض اوقات کھیل کو محدود کر دیتے ہیں اور بعض اوقات لمبی اننگز چلنے دیتے ہیں۔پاکستان میں کرپشن کا کھیل ہر سطح پر کھیلا جاتا ہے۔وفاقی سطح پر صوبائی سطح پر اور لوکل سطح پر۔کھیل کے اصول میدان اور آلات سطح کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔جتنی چھوٹی سطح کا کھیل اتنا ہی چھوٹا اور جتنی ہی بڑی سطح کا کھیل اتنا ہی بڑا۔ہر کھیل کی طرح اس کھیل کے کھلاڑیوں کا بھی ایک منفرد اسٹیٹس ہوتا ہے۔کچھ ٹیکنیکل کھیل کھیلتے ہیں کچھ تجربہ کار ہوتے ہیں ۔اسی طرح چھوٹے بڑے کھلاڑی۔تجربہ کار بڑے کھلاڑی ہر حال میں سروائیو کر جاتے ہیں ۔چھوٹے کھلاڑی ہی پکڑ میں آتے ہیں۔اور کپتان کی مرضی سے ان آؤٹ ہوتے رہتے ہیں۔میرے نزدیک کرپشن معاشرے میں موجود برائیوں کی جڑ ہے۔کرپشن کی وجہ سے غربت و نا انصافی پیدا ہوتی ہے۔پھر چوری ڈکیتی قتل و غارت جیسی برائیاں جنم لیتی ہیں۔معاشرہ تباہی کی طرف چلا جاتا ہے۔ہوس و لالچ بھی کرپشن کی پیداوار ہیں۔کرپشن گزشتہ ستر سالوں سے ملک کو کھوکھلا کر رہی ہے۔کھوکھلا ہونے کی صورت میں ملک میں عدم استحکام پھیل رہا ہے۔بد امنی یے ایمانی زور پکڑ رہی ہے۔کرپشن کے بڑے کھلاڑی بڑے چالباز اور چالاک ہیں۔کسی بھی صورت میں قانون کی گرفت میں نہیں آتے کیونکہ قانون کو بھی کھیل کا حصہ بنا لیتے ہیں۔عدلیہ کی کمزوری تو گزشتہ کئی روز سے دیکھ رہا ہوں۔عدالتی احکامات کو حکومت ہوا میں اڑا دیتی ہے۔اپوزیشن بھی اپنی سیاست چمکانے اور اپنی باری کے لالچ میں عدالت کو مذاق سمجھتی ہے۔حکومت اپنا احتساب ہر حال میں ٹالنا چاہتی ہے کیوں کہ وہ ہے ہی کرپٹ۔اپوزیشن احتساب نہیں بلکہ احتساب کے نام پر اپنی سیاسی دکانداری چمکانا چاہتی ہے کیونکہ انہیں بھی بڑی کرسی پر بیٹھ کر بڑے کھیل کھیلنے کے خواب آتے ہیں۔گزستہ چند دنوں کی ملکی صورتحال سے حکومت اور اپوزیشن کی نیت اور مفاد کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔مگر کوئی ماننے کو تیار ہی نہیں کیونکہ سب اس سسٹم کا حصہ ہیں سب کے ذاتی مفادات اسی میں ہیں۔پاکستانی عوام کو کرپٹ عناصر ہمیشہ سے ہی بے وقوف بناتے رہے اور بنا رہے ہیں۔افسوس چھوٹے تین سال کے بچے کے قاتل حکومت اور اپوزیشن بچے کے قتل پر بھی دکانداری چمکا رہے ہیں۔بچے کے غریب اور بے بس باپ کی آواز کسی نے نہیں سنی جو کہہ رہا تھا یہ سب بڑے لوگ ہیں ہم غریب لوگ انہیں کیا کہہ سکتے ہیں۔کسی نہیں سوچا کے تین دن کے بچے کی ماں تو مفلوج ہی ہو گئی ہوگی۔یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ عرصہ دراز سے سیاسی لیڈران ہمیں استعمال کر رہے ہیں اور ہم ہو رہے ہیں۔یہ مفاد پرست کرپٹ اور کرسی کے لالچی عوام کو لڑوا کر خود پھر ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔افسوس کہ سرحدوں پر بھارتی اشتعال انگیزی جاری ہے۔کشمیری بے چارے بے بس ہماری راہ تک رہے ہیں۔سی پیک اور گوادر سولیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔بھارتی خفیہ ایجنسی راہ بلوچستان اور کراچی میں سازشوں میں مصرورف ہے۔اور ہماری حکومت اندرورنی معاملات کو نپٹانے کی بجائے مزید بگاڑ رہی ہے۔ہماری اپوزیشن ملکی سلامتی خطرے میں ڈال کر اپنی دکان داری چمکا رہی ہے۔سب اپنے مفادات اپنے دفاع کے لئے مصروف ہیں۔ملکی سلامتی اور ملکی دفاع کی کسی کو پرواہ نہیں۔پاک آرمی ہی اس وقت پاکستان کی خیر خواہ نظر آرہی ہے۔باقی عوام و حکمران اور باقی لیڈران آج کل تماشوں میں مصروف ہیں۔سب ڈرامے باز ہیں۔ملکی بہتری ان سب کا احتساب مانگتی ہے۔جب ہر عام و خاص احتساب سے گزرے گا تب ہی ملکی بہتری ممکن ہے۔ہمیں موجودہ حالات میں ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں الزام کی ذد میں آنے والے کو فوری معطل کیا جائے اور جس پر الزام ثابت ہوجائے اسے ہمیشہ کے لئے بین کیا جائے۔اور جس پر الزام ثابت نہ ہو اسے فوری بحال کیا جائے۔احتساب کا موسم تو ہے کاش سب کا احتساب ہوجائے۔ کاش سب کرپٹ اور لالچی سلاخوں کے پیچھے ہوں۔کاش اس وطن کی عوام میں شعور آ جائے۔کاش کوئی وطن کا رکھوالا لیڈر آجائے۔یہ سب باتیں ہم کاش میں ہی کہہ سکتے ہیں۔اور دعا کرسکتے ہیں اے ہمارے پالنے والے اس ملک کو سلامت رکھنا ۔اس ملک میں انصاف دلا دے یارب۔اس زرخیز زمین میں کوئی حضرت عمر! جیسا حکمران بنا دے یارب۔

Sunday, 23 October 2016

پنجابیوں کی پنجابی



چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی
میں پنجاب دا باسی آں
مینوں لکھنی پنجابی نہ آوے
میں پنجاب دا باسی آں
مینوں پڑھنی پنجابی نہ آوے
میں پنجاب دا باسی آں
مینوں پیور پنجابی نہ آوے
میں پنجاب دا باسی آں
کوئی اگلی نسل نوں سکھا جاوے
انتہائی افسوس سے میں بھی پنجاب کا ایک ایسا باسی ہوں جسے پنجابی بولنی تو آتی ہے مگر لکھنے اور پڑھنے میں غلطیاں ہزار کرتا ہوں۔شاید بولنے میں بھی غلطیاں ہوں۔میں بھی ایسا پنجابی ہوں جسے سکول میں پنجابی بولنے پر سزا کی وعید سنائی جاتی تھی۔میں بھی انہی پنجابیوں میں سے ایک پنجابی ہوں جس کی گریجوایشن مکمل ہونے کو ہے مگر اب تک پنجابی کا ایک بھی مضمون نہیں پڑھا۔کیوں کہ میں بھی باقی لوگوں کی طرح پنجاب کا پنجابی ہوں۔بعض اوقات مجھے بھی اپنے پنجاب کے پنجابیوں کی پنجابی سن کر ہنسی آ جاتی ہے کیوں کہ موصوف پنجابی میں بھی انگریزی اور ہندی بول رہے ہوتے ہیں اور ایسا کمبی نیشن تیار کرتے ہیں کہ پنجابی جاننے والے کی زبردستی ہنسی نکل جائے۔پنجابی دنیا کی دسویں بڑی زبان ہے۔سو ملین سے زائد لوگ پنجابی بولتے ہیں۔پنجابی زبان کی ابتدا برصغیر سے ہوئی۔برصغیر ہندوستان اور پاکستان بالخصوص پنجاب میں بسنے والے لوگوں کی زبان ہے پنجابی۔بہت مٹھری یعنی خوش اخلاق و متوجہ کرنے والے زبان ہے پنجابی۔صوفیوں اور ولیوں کی زبان ہے پنجابی۔پانچ دریاؤں سے سیراب ہونے والے سر سبز علاقہ کے مکینوں کی زبان ہے پنجابی۔امن کا پیغام ہے پنجابی۔علماء اور صوفیوں ولیوں نے پنجابی زبان میں ہی برصغیر میں اسلام کا امن و بھلائی کا پیغام پہنچایا۔ایسی زبان ہے پنجابی کے بہت سی زبانیں اس میں ضم ہوجائیں۔بہترین پرامن خوشحال کلچر کی پہچان ہے پنجابی۔بہت ہی دلکش اور آسان زبان ہے پنجابی۔ایسی زبان جسے پوری دنیا کے لوگ باآسانی سمجھ جاتے ہیں اور چند ہی دنوں میں سیکھ جاتے ہیں۔خطے میں امن و بھلائی و بھائی چارے کو فروغ دینے والی زبان ہے پنجابی۔ایسی زبان ہے پنجاب کہ دوسری زبان بولنے والے بھی اس کی مٹھاس میں میٹھے ہو جائیں۔پنجابی شاعری یقینی ہر کسی کے دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔دنیا بھر میں پنجابی بولنے والے موجود ہیں۔انڈیا اور پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے پنجابی۔کینیڈا میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے پنجابی۔صوفیوں اور ولیوں نے پنجابی کلام لکھ کر زبان پنجابی کو بہت زیادہ پرموٹ کیا۔بلکہ پنجابی کی مٹھاس کو ہمیشہ کے لئے میٹھا کر دیا۔قوم سکھ نے اس زبان کو اپنے تن من میں ہمیشہ کے لئے جذب کر لیا۔بعد ازاں بہت سے سکھ مسلمان ہوگئے۔مسلمانوں سکھوں عیسائیوں ہندؤں کی ایک بڑی تعداد پنجابی بولتی ہے۔برصغیر کی تقسیم سے پہلے ہی پنجابی زبان کو خطرات لاحق تھے۔تقسیم سے پہلے پنجابی دوسری زبانوں کو سیکھنے پر رضا مند نہ تھے۔انگریزوں کو اپنا بڑا دشمن تصور کرتے تھے۔پنجابیوں نے ہمیشہ انگریزوں کے خلاف کھل کر بغاوت کی۔ایک بہادر اور دلیر قوم کی زبان ہے پنجابی۔پنجابی شروع ہی سے ایک بہادر قوم تصور کی جاتی ہے۔تقسیم کے بعد انگریزی کلچر کے حامیوں نے دونوں ملکوں میں اپنے من پسند کلچر کو پھیلانے اور نمایاں بنانے کے لئے آہستہ آہستہ کام شروع کر دیا۔جو کچھ حد تک اپنے احداف پورے کرتے نظر آیا۔برصغیر کے کلچر اور باقی مقامی زبانوں پر اثر انداز ہوا۔بھارت میں موجود سکھوں کو اپنی ماں بولی زبان خطرے میں لرزتی نظر آئی تو بہت سے سکھوں نے اپنی ماں بولی زبان کی مضبوطی کے لئے اعلی سطح پر اقدامات اٹھائے اور ایسی حکمت عملی ترتیب دی کہ پنجابی تا قیامت لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے۔سکھوں نے دوسرے ملکوں میں جا کر پنجابی کو پرموٹ کیا۔جسکی مثال کینیڈا اور یوکے ہے۔دوسری طرف پاکستان میں موجود پنجابیوں کے پاؤں لڑکھڑاتے ہی نظر آئے۔مغربی کلچر اور زبان لوگوں کے دلوں میں ایسا بیٹھے کہ لوگ اپنی ماں بولی زبان پنجابی کو ہی نشانہ بنانے لگے۔پاکستانی پنجابی بجائے پنجابی کو پرموٹ کرنے کے ڈی پرموٹ کرتے رہے۔فلموں اور گانوں میں پنجابی کو غلط طریقوں سے پیش کیا گیا۔ہر فلم پنجابی زبان کے منہ پر طماچہ ہوتی۔دیکھتے ہی دیکھتے لوگ زبان پنجابی سے بد زن ہونے لگے۔نصاب میں پنجابی کی کتابوں کو ہمیشہ کے لئے غائب کر دیا۔پنجاب پڑھنے والوں کی تعداد کم وہونے لگی۔بڑے افسوس سے جن لوگوں نے اپنے ماں باپ سے پنجابی زبان کو ورثہ میں حاصل کیا۔وہی اپنے بچوں کو پنجابی بولنے سے منع کرنے لگے۔بلکہ طرح طرح کی پابندیاں لگانے لگے۔سکولوں اور کالجوں میں پنجابی بولنے والے سزا کے حقدار ٹھہرنے لگے۔ایک جامع پلان کے تحت مغرب پسند عناصر پنجابی اور پاکستان میں رہنے والے پنجابیوں کو اپنے منتخب کلچر اور زبان میں ضم کرنے لگے۔تاریخ گواہ ہے کہ سکھ پنجابیوں نے مغرب پسند عناصر کو اپنے رنگ میں رنگ دیا۔دوسری طرف پاکستانی پنجابی مغربی رنگوں میں رنگے گئے۔آج ملک بھر میں پنجابی زبان کو ایک جاہلوں والی زبان سمجھا جاتا ہے۔پنجاب میں بسنے والے ہر ماں باپ کی خواہش ہے کہ اسکے بچے پنجابی نہ بولیں بلکہ انگریزی سیکھیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجابی زبان زندہ رہے گی اور مزید پھلے پھولے گی۔مگر افسوس کہ تاریخ کے اوراق میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ پاکستان میں موجود پنجابی اپنی ماں بولی زبان پنجابی کو ختم کرنے کی کوششیں کرتے رہے۔کچھ پاکستان پنجاب کے پنجابی بھی اپنی ماں بولی زبان کی کم ہوتی ساکھ کو دوبارہ سے بحال کرنا چاہتے ہیں۔یہ اچھا قدم ہوگا مگر افسوس کہ ایسے کئی قدم پہلے بھی رک گئے شاید اب کے بار بھی یہ قدم کچھ میٹنگز کے بعد رک جائیں۔ایسی کوششوں پر بہت پہلے ہی عملدرآمد ضروری تھا۔اگرکوئی دوبارہ قدم اٹھا رہا ہے تو سچے پنجابیوں کو اسکا ساتھ دینا ہوگا اورتب تک کوششیں جاری رکھنی چاہئیں جب تک میٹرک تک پنجاب میں پنجابی کو لازمی مضمون نہ قرار دیا جائے۔نصاب میں پنجابی زبان کی واپسی ہی پنجاب میں پنجابی کی مضبوطی ثابت ہوگا۔میرا اور دوسرے پنجابی یھائیوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ پنجابی کو لازمی مضمون کے تور پر نصاب میں شامل کیا جائے۔ساڈا حق ایتھے رکھ۔

Sunday, 16 October 2016

ملکی سالمیت کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

موجودہ ملکی و بین الاقوامی حالات سے نمٹنے کے لئے ہمیں اپنے وطن کی سالمیت کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔بلکہ ملکی سالمیت کو مضبوط کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔پاک آرمی کی دہشتگردی کے خلاف کامیاب کاروائیوں کی وجہ سے ملکی سالمیت مضبوط ہوئی ۔مگر مزید مضبوطی کی ضرورت ہے اتنی مضبوطی کے اس ارض پاک پر کوئی دہشتگرد دوبارہ جنم ہی نہ لے۔شر پسند عناصر اس وطن میں کسی کو دوبارہ اپنا حامی نہ بنا سکیں۔ملکی سالمیت کی مضبوطی ہی ملکی خوشحالی کی ضمانت ہے۔ملکی سالمیت کی مضبوطی کی صورت میں دشمن کا ہر وار الٹا پڑتا ہے۔اور مضبوط ملک کو کھوکھلا کرنے والے خود کھوکھلے ہوجاتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ ملک پاکستان ایک لمبے عرصے کے بعد دوبارہ ایک مضبوط ملک بن کر ابھر رہا ہے۔ماضی میں متعدد حکومتیں اس وطن کی بقا کو اپنے مفادات کی خاطر نقصان پہنچاتی رہیں۔کرپٹ عناصر باری باری ملکی دولت لوٹ کر ملک کو کھوکھلا کرتے رہے۔ملک کی حقیقی عوام درمیانہ طبقہ ہے جو ہر حال میں اپنے ملک میں رہتا ہے۔امراء تو اپنے مفادات کی خاطر کبھی بھی ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔کرپٹ عناصر ہر دور میں متحرک رہے ۔جن کی بدولت ملک کاعام طبقہ ہمیشہ سے ہی مسائل سے دو چار رہا۔جب ملکی دولت ملک پر لگانے کی بجائے بیرون ممالک منتقل کی جائے تو ملک اور ملکی عوام میں عدم استحکام پیدا ہوجاتا ہے۔عوام اپنے چنے ہوئے نمائندوں سے بدذن ہو جاتی ہے۔برائیاں جنم لیتی ہیں۔ناانصافی لا قانونیت غربت مہنگائی اور دوسری برائیاں سب کرپشن کے باعث تقویت پکڑتی ہیں۔جس ملک کی عوام نا انصافی غربت و مہنگائی سے ستائی ہوئی ہو وہاں دشمنوں اور شر پسند عناصر کے لئے اپنے ناپاک عزائم کو عملی جامہ پہنچانا آسان ہوتا ہے۔غربت و افلاس کی ستائی ہوئی عوام کو ملک دشمن عناصر دولت کی لالچ سے اور دین کے نام پر اپنی گرفت میں لا کر ایسی برین واشنگ کرتے ہیں کہ عوام اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچانے کو افضل سمجھتی ہے۔دشمن ملک کے پسماندہ علاقوں میں اپنے پنجے گاڑھ لیتا ہے اور اپنے آقاؤں کے حکم کے مطابق پورے ملک میں دہشگردی جیسی وارداتوں کو یقینی بناتا ہے۔اور ملکی توجہ کو بھی ڈیورٹ کرتا ہے۔پڑھے لکھے طبقے میں ان سازشوں کی آگاہی موجود ہے۔مگر کم تعلیم یافتہ پسماندہ علاقوں کے لوگ شر پسند عناصر کو اپنا خیر خواہ تصور کرتے ہیں۔جو کسی بھی ملک کی سالمیت کی کمزوری کی بڑی مثال ہے۔کرپشن سب کی جڑ ہے اسی کرپشن کی وجہ سے علاقوں کی ترقی میں توازن نہیں اوریہی علاقوں میں دشمنی کی وجہ ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ سیاستدانوں اور آمروں کی کرپشن نے قائداعظم کے ون یونٹ پاکستان کو ون یونٹ نہیں رہنے دیا۔کرپشن کے نت نئے طریقے ایجاد کرنے کے لئے اپنی مرضی سے وزارتیں اور عہدے بڑھانے کے لئے صوبوں میں تقسیم کیا۔ اور مزید تقسیم کرنے کے درپے ہیں۔سیاستدانوں کی بد دیانتی کی وجہ سے مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا۔سیاست دانوں کی بددیانتی کی وجہ سے ہی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جرائم پیشہ عناصر نے جنم لیا۔بار بار لکھنے کا مقصد سیاستدانوں کی ہٹ دھرمیوں کو واضح کرنا اور انکی توجہ ملکی مسائل کی طرف کروانا ہے۔پشاور سکول حملے کے بعد پاکستان آرمی نے دشمن عناصر کو ختم کرنے کا عہد کیا ہے۔جس پر کام جاری ہے اور آخری مراحل میں ہے۔یہ حقیقت ہے کہ پاک آرمی کی خیبرپختونخوا قبائلی علاقہ جات بلوچستان اور کراچی میں بلا تفریق کاروائیوں سے جرائم میں بڑے درجے پر کمی ہوئی۔اس کامیابی پر پاک آرمی مبارکباد کی مستحق ہے۔اب حقیقی عنوان کو واضح کرتے ہیں۔سوچنے کی بات ہے۔کیا شر پسند عناصر ہمیشہ کے لئے ختم ہو رہے ہیں۔؟کیا یہ دوبارہ بھی تقویت پکڑ سکتے ہیں؟۔شر پسند عناصر زیادہ مضبوط ہیں یا ہم زیادہ کھوکھلے؟دہشتگردی سے ہمیشہ کے لئے کیسے بچا جا سکتا ہے۔؟ایسی کئی باتیں سمجھدار لوگوں کے ذہنوں میں گردش کر رہی ہوں گی۔میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں ہمیں اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنے اندرونی مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنی سالمیت کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ہم دہشتگردی کو ختم کر رہے ہیں جس سے ہماری ملکی سالمیت مضبوط ہوئی۔مگر کیا ثبوت کہ دوبارہ دہشتگرد ایکٹو نہیں ہوں گے؟۔کیا ہمارے کھوکھلے پن کا فائدہ اٹھا کر دوبارہ دشمن شر پسند عناصر کو فنڈز نہیں دے گا؟۔ہمیں مزید کھوکھلا کرنے کے لئے ہمارے قریبی ممالک میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔؟دہشتگردوں سے تو ہم لڑ رہے ہیں اس کے ساتھ ہمیں دوسرے ملکی مسائل سے بھی لڑنے کی ضرورت ہے۔ہمیں بلوچستان خیبر پختونخواہ گلگت بلتستان آزاد کشمیر سندھ اور پنجاب کے پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ بنانے کی ضرورت ہے۔ایسے علاقوں میں تعلیم صحت بجلی گیس اور دوسری ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔آج بلوچستان میں لوگ ملک خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ایسے میں ہمیں بلوچستان میں تعلیم کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔بلوچستان کے کئی علاقہ جات پسماندہ ہیں۔وہاں پانی بجلی گیس اور سکول کالج مسجدوں اور سڑکوں کی تعمیر کو یقینی بنانا ہوگا۔اگر عوام کو تمام سہولیات میسر ہوں تو کبھی بھی عوام حکومت اور وطن سے بدزن نہ ہو۔گوادر کی کامیابی اور سی پیک کی کامیابی کے لئے ہمیں عوام کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ کوئی بھی طاقت پراپیگنڈہ نہ کر سکے۔پسماندہ علاقوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پورے وطن کی خوشحالی ہی اس کی مضبوط سالمیت کی مثال ہے۔اور خوشحالی تب ہی ممکن ہے جب کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔ انصاف یقینی ہوگا۔ قوانین سب کے لئے ایک جیسے ہونگے۔غربت کا خاتمہ ہوگا۔روزگاری ہوگی۔ہر کوئی خوش ہوگا ۔وطن کا بچہ بچہ امن کا پیغام پھیلائے گا۔آپ تاریخ دیکھ لیں کمزور سالمیت والے ملک کو سب کھوکھلا کرتے ہیں۔اور مضبوط سالمیت والے ملک کو کھوکھلا کرنے والے خود کھوکھلے ہوجاتے ہیں۔آرمی اپنے فرائض با خوبی انجام دے رہی ہے۔حکومت اور دوسرے اداروں کو بھی اپنے مفادات کو ترک کر کے فرائض کو یاد رکھ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ترقی و خوشحالی میں ہی مضبوطی ہے۔مزید خوشحالی کے لئے عوام کو سہولیات مہیا کرنا اور پسماندہ علاقوں میں ترقی کے لئے کام کرنا بہت ضروری ہے۔عوام خوشحال ہوگی تو دشمن ناکام ہونگے۔

Sunday, 9 October 2016

کسانوں کی چپ کے لئے نئی گولی



چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

کسان بے چارے ہر گزرتے سال کے ساتھ قرض کے بوجھ تلے دبتے چلے جا رہے ہیں۔کسان جو دوسروں کو ضروریات غذا فراہم کرتے ہیں خود اپنی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔چاول کی فصل کی کاشت کا آغاز ہے اور ڈیلروں نے کسانوں کو لوٹنے کے لئے چھریاں تیز کر رکھی ہیں۔دوران نگہداشت فصل بجلی کے بلوں اور کھادوں دواؤں نے پہلے ہی کسانوں کو چھلنی کر رکھا ہے۔کسانوں کو چھلنی کرنے میں محکمہ زراعت بھی برابر کا شریک ہے۔یوں سارے زخموں سے چور چور کسانوں نے لاہور دھرنے دیے تو بہت سے کسانوں کو گرفتار کرلیا گیا۔کسان تنظیموں کے راہنماؤں سے مک مکا کر کے پنجاب حکومت نے معاملہ رفع دفع کیا۔اور وزیر اعلی پنجاب نے کسانوں کو چپ کی گولی دینے کے لئے 100 ارب روپے کے بلا سود قرضے دینے کا اعلان کیا۔کیا اس اعلان پر وزیر اعلی قائم رہیں گے؟۔گزشتہ سال وزیر اعظم کسان پیکج پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔وزیر اعظم کسان پیکج صرف وقتی گولی ثابت ہوا۔پاکستان کا شمار بڑے زرعی ممالک کی لسٹ میں ہوتا ہے۔پاکستان کی 70 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جن کا دارومدار زراعت پر ہے۔زراعت بڑے زرعی ملکوں کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔پاکستان بڑے سکیل پر چاول گندم کپاس اور سبزیاں وغیرہ کاشت کرتا ہے۔پاکستان زرعی اجناس دوسرے ممالک کو بھی فراہم کرتا ہے۔پاکستانی چاول گندم اور آم دنیا بھر میں مشہور ہیں۔چھوٹے کاشتکار دن رات محنت کر کے زرعی اجناس کاشت کرتے ہیں اور کھانے پینے کی اشیاء چاول آٹا دودھ گوشت سبزیاں اور پھل سب انہی کاشتکاروں اور کسانوں کی بدولت ہے۔انسانی زندگی میں غذا بھی آکسیجن سی حیثیت رکھتی ہے۔انسان گاڑی گھر کپڑے جوتوں اور بجلی گیس کے بغیر تو زندہ رہ سکتا ہے مگر غذا کے بغیر زندہ رہنا نا ممکن ہے۔دنیا بھر میں غذا و خوراک کا بندوبست کاشتکار و کسان کرتے ہیں۔کوئی بھوکے کو کھانا فراہم کرے تو بھوکا اسے اپنا محسن سمجھتا ہے۔مگر دنیا بھر میں کسان کو اس کے ہنر و کام کے مطابق کبھی عزت و حیثیت نہیں دی گئی۔کاشت کی ہوئی فصل کے پورے دام بھی نہیں دیے جاتے۔دنیا کو کسانوں کو محسن تسلیم کرنا ہوگا۔یہ حقیقت ہے۔کسان ہر سال اپنی فصل کی بے حرمتی کے باوجود بھی اگلی فصل کاشت کرتا ہے۔بات آج پھر پاکستانی زراعت پر ہوگی۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں بڑے و چھوٹے کاشتکار موجود ہیں۔اسی لئے محکمہ زراعت بھی موجود ہے۔محکمہ زراعت کے ذمے بہت سے کام ہوتے ہیں۔جس میں کھادوں دواؤں کی کوالٹی چیک کرنا اور کمپنی کو مارکیٹنگ کی اجازت دینا یا بین کرنا ۔کھادوں دواؤں کے ریٹ چیک کرنا اور انہیں بیلنس کرنا۔کسانوں کو مفید کاشتکاری کے مشورے دینا۔تمام علاقوں میں کھیتوں کا وزٹ و سروے کرنا۔کسانوں کو زمین کی نوعیت کے حساب سے بیج فراہم کرنا۔فصلوں پر لگے اخراجات اور فصلوں کے ریٹ میں توازن قائم کرنا۔فصلوں میں پھیلتی بیماریوں کی روک تھام کے لئے تجربات کرنا اور لوگوں کو حقائق سے آگاہ کرنا۔ڈائریکٹ کسانوں سے رابطہ قائم کرنا اور انکو مفید مشورے دینا انکے زرعی مسائل کو حل کرنا۔نئی جدید مشینری سے روشناس کروانا اور نئی جدید مشینری تک کسانوں کی رسائی کو یقینی بنانا۔مزید بہت سے کام بھی محکمہ زراعت کے ذمے ہوتے ہیں۔مگر پاکستان میں محکمہ زراعت خود کو ان سب کاموں سے دستبردار سمجھتا ہے۔یہاں محکمہ زراعت کا کام صرف اور صرف مال بنانا ہے۔جعلی کمپنیوں کو روپے کے عوض جعلی ادویات اور ناقص بیج فروخت کرنے دینا۔شاید ہماری سرکار بھی انہیں جعل سازی کے لئے تنخواہیں دیتی ہے۔کسان ہرسال اپنی بے بسی کا رونا روتا ہے۔اورہمیشہ کسانوں کو چپ کی گولی کھلا دی جاتی ہے۔چاول کی فصلیں کاشت ہونی شروع ہو گئی ہیں۔فصلوں کے کم دام کسانوں کو ڈرانے میں مصروف ہیں۔اپنی پریشانی کے باعث کسانوں نے احتجاج بھی کیا۔مگر ہمیشہ کی طرح سرکار نے کسانوں کی پریشانی کا حل نکالنے کی بجائے وقتی چپ کی گولی کا استعمال کیا۔ایسی گولیاں ماضی میں بھی دی جا چکی ہیں۔جس کی مثال وزیراعظم کا 340 ارب کی کسانوں کی امداد کا اعلان تھا۔جو صرف اعلان ہی رہا چند قریبی ساتھیوں کی امداد کے بعد وزیر اعظم پیکج بند ہوگیا اور چپ کروانے کی گولی ثابت ہوا۔بعد ازاں اس رقم کو اورنج لائن پر لگایا گیا۔اب وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے 100 ارب کے بلا سود قرض کسانوں کو دینے کا اعلان کیا ہے۔یہ بھی وقتی گولی ہی ہوسکتی ہے کیونکہ ابھی پنجاب حکومت کے کئی پراجیکٹس زیر تکمیل ہیں اور ان پراجیکٹس کو الیکشن سے پہلے پایہ تکمیل تک پہنچانا حکومت کی مجبوری ہے۔ ایسے میں حکومت کو روپے روپے کی ضرورت ہوگی۔جسکی وجہ سے کسانوں کی سو ارب کی امداد بھی انہی پراجیکٹس کی نظر ہوگی۔کسان ہمیشہ کی طرح ہاتھ ملتے ہی رہ جائیں گے۔اگر کسی کا ہاتھ بھرا بھی تو وہ اثر رسوخ والا ہوگا۔جناب شہباز شریف صاحب کہتے ہیں کہ ماضی میں حکومت زراعت سے منسلک لوگوں کی تھی مگر انہوں نے زراعت کی بہتری کے لئے کوئی کام نہیں کیا۔جناب وزیر اعلی صاحب گزشتہ ق لیگ حکومت نے کسانوں کو مستحکم کیا تھا۔گزشتہ حکومت نے فصل اور کھاد و ادویات کے ریٹ میں توازن قائم کیا تھا۔کسانوں کو فصلوں کے دام ان کی محنت کے مطابق دلائے تھے۔بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ کسانوں کو خود مختار بنایا تھا اسی لئے کسان اس دور کو اب بھی یاد کرتے ہیں۔وزیر اعلی صاحب فرض کریں اگر آپ قرضوں کی فرہمی اور اس میں شفافیت کو بھی یقینی بناتے ہیں۔چھوٹے کسان جن کا بال بال پہلے ہی قرضوں تلے ڈوبا ہوا ہے۔کیاوہ 65 ہزار فی ایکڑ لے کر خوش حال ہو جائیں؟کیا ان کی پریشانیاں کم ہو جائیں گی؟کیا وہ قرض دوبارہ واپس کر پائیں گے؟کیا اس سکیم سے کسان اور قرض تلے نہیں دب جائے گا؟۔محترم وزیر اعلی صاحب اگر آپ واقعی کسانوں کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو مہربانی کر کے انہیں خود مختار بنائیں نا کہ قرض تلے دبائیں۔کسانوں کو ان کی محنت کا صلہ دلوائیں۔انکو انکی فصلوں کے حقیقی دام دلائیں۔مڈل مین اور محکمہ زراعت کی چالاکیوں سے نجات دلائیں۔کھادوں دواؤں کے دام کم کروائیں۔محکمہ زراعت کو نیند سے بیدار کریں اور انہیں انکا کام یاد دلائیں۔کسانوں کو ہر حال میں انکی فصلوں کے صحیح دام دلائیں۔اور بجلی کے بلوں کھادوں اور جڑی مار ادویات کے ریٹ میں توازن فصلوں کے ریٹ کے مطابق ہونا چاہیے ۔تاکہ ہر محنتی کو اس کا صلہ مل جائے۔قرضوں سے کسان دب جائے گا ۔اگر دکھی کسانوں کے ہیرو بننا چاہتے ہیں تو کسانوں کے حقیقی مسائل کو حل کرنے اور کسانوں کو مستحکم کرنے کا عزم کریں۔وگرنہ آپکی ہرا مدادچپ کی گولی ہی تصور کی جائے گی۔اور اسکا خمیازہ الیکشنز میں بھگتنا پڑے گا۔

Sunday, 2 October 2016

بدلتی سیاست میں کون بکھر جائے گا؟


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

خطہ برصغیر میں بلکہ پوری دنیامیں بدلی ہوئی صورتحال سے مختلف تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں ۔کہ کون خطے میں تنہا رہ جائے گا؟ اور کون سا وطن بکھر جائے گا۔؟قارئین آپ بھی حالات حاضرہ پر نظر دوڑا کر اس سوال پر سوچئے گا۔میرے نزدیک جو ملک خطے میں ذاتی نمبرداری یا اثر و رسوخ قائم کرنے کی سیاست کرے گا یا کر رہا ہے جو کسی خطے میں حکمرانی کے خواب دیکھے گا یا حکمرانی حاصل کرنے کے لئے سرمایہ کاری کرے گا یا سازشیں کریگا۔ وہ ملک ماضی میں مستحکم نہیں رہ سکے گا ایک دن آئے گا کہ اس وطن کا شیرازہ بکھر جائے گا۔وہ ملک اتنے ٹکڑوں میں منقسم ہوگا کہ دوبارہ اکٹھا کرنا مشکل ہوجائے گا۔تن تنہا ہونا کسی ملک کے لئے اتنا اذیت ناک نہیں جتنا ٹکڑوں میں بٹنا۔فرض کریں اگر کوئی وطن تن تنہا ہو بھی جائے تو اسکی اذیت کچھ عرصے کی ہوگی مگر ایک وقت کے بعد وہ ملک دنیا میں ایک بڑی طاقت کی صورت میں ابھرے گا۔کیوں کہ اسے خود پر انحصار کرنے کی عادت ہوجائے گی کسی کی مدد پر وہ کبھی انحصار نہیں کرے گا۔برہان وانی کی شہادت کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک ذور پکڑتی جا رہی ہے۔دن بدن کشمیریوں کے دلوں میں آزادی کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔بھارت اس تحریک آزادی کو دبانے کے لئے کشمیریوں پر دن رات نت نئے ظلم و تشدد کر رہا ہے۔بھارتی فوج بزور بندوق کشمیریوں پر روز بروز طرح طرح کی پابندیاں لگا رہی ہے۔شاید بھارتی فوج دنیا کی ظالم ترین فوج ہونے کا ریکارڈ درج کروانا چاہتی ہے۔بہادری کا ٹائٹل تو حاصل نہیں کر سکتی۔گزشتہ کئی روز سے کشمیریوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔پیلٹ گنوں سے شررے برسا کر متعدد کو آنکھوں کی بینائی سے محروم اور زخمی کیا جا رہا ہے۔کشمیریوں کو روز مرہ معمول کے کاموں سے روکا جا رہا ہے۔اخبارات اور انٹرنیٹ پر پابندیاں عائد ہیں۔یہاں تک کے بعض کو مسجدوں میں جانے سے بھی روکا جا رہا ہے۔بھارتی فوج کشمیریوں کے ساتھ قیدیوں سے بھی بدتر سلوک کر رہی ہے۔مقبوضہ کشمیر کو یرغمال بنا کر رکھا ہے۔ کشمیری ظلم برداشت کر لیں گے مگر غلامی کو ہر گز قبول نہیں کریں گے۔کشمیریوں کا جذبہ آزادی صرف آذادی حاصل کر کے ہی ختم ہوگا۔برسوں سے آزادی کے منتظر ہیں۔بار بار کشمیر کا تذکرہ کرنے کا مقصد مسئلہ کشمیر کو اجاگر رکھنا ہے۔سب سے گزارش ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتے رہیں۔عالمی طاقتیں بھی جانتی ہیں کہ بھارت ایک عرصہ سے مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ جمائے ہوئے ہے۔اور بذور بندوق کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کی تگ و دو میں ہے۔افسوس سب جانتے ہوئے بھی عالمی طاقتیں خاموشی سادھے ہوئے ہیں۔گزشتہ دنوں کسی بھی بڑے ملک کی طرف سے کشمیر کے حق میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی برصغیر میں امن کا آغاز ہوگا۔شاید عالمی طاقتیں ہی امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔عالمی طاقتیں تو اپنی آنکھیں بند ظاہر کر رہی ہیں۔مگر سب سے بڑی طاقت اللہ تو دیکھ رہا ہے۔وہ دیکھ رہا ہے کہ کون ظالم ہے اور کون مظلوم اور کون بیٹھا تماشائی بنا ہوا ہے۔آخر کتنے دن ظالم کے ہوں گے ایک دن تو مظلوم کا بھی ہوگا۔وہ بھی بدلہ کی پوزیشن میں ہوگا۔ماضی میں برطانیہ اور روس کی مثال لے لیجئے۔دونوں نے خطے میں ظالمانہ حکمرانی اور قبضوں کی کوششیں کیں کسی حد تک کامیاب بھی ٹھہرے۔مگر جب اللہ نے حکمرانی چھینی تو ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔اتنے ٹکڑے کے دوبارہ سمیٹ نہ سکے۔موجودہ صورتحال میں بھارت پورے براعظم ایشیاء میں حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے۔امریکا انکا حامی یعنی بھارت ایشیاء میں امریکی نمائندگی کرے گا۔ایشیاء میں امریکی ری پری زینٹیٹر بننے کی تیاریوں میں ہے۔اس پلان کے تحت کچھ عرصہ سے امریکہ بھارت کی مالی اور بارودی امداد کر رہا ہے۔امریکہ کا اصل مقصد بھارت کو چین کے مخالف کھڑا کرنا ہے۔جس کی خاطر امریکہ بھارت کو خطے میں عسکری لحاظ سے سب سے زیادہ طاقتور بنانا چاہتا ہے تاکہ چین کو بزریعہ بھارت کھوکھلا کر سکے۔افغانستان اور ایران میں نت نئے پراجیکٹس کا افتتاح بزریعہ بھارت بھی امریکی پلان کا حصہ ہے۔براستہ افغانستان امریکہ و بھارت چین کے سب سے بڑے دوست پاکستان کو بھی کھوکھلا کرنا چاہتا ہے۔جس کے شواہد پاکستان کے پاس موجود ہیں اور مزید امریکہ کی ان ثبوتوں پر خاموشی اس پلان کی صداقت پر مہر ثابت ہو رہی ہے۔خطے میں ایرانی رویے میں تبدیلی بھی امریکہ سے گہرے تعلقات کی تصدیق ہے۔گزشتہ سالوں سے عالمی سیاست میں بدلاؤ آتا جا رہا ہے۔روس بھارت کا سب سے بڑا حامی بھی اپنے نئے دوست بنانے کے در پہ ہے۔اپنا بلاک تبدیل کر رہا ہے۔ماضی میں پاکستان ایشیاء میں امریکہ کا سب سے بڑا حامی تھا۔بذریعہ پاکستان امریکہ نے ایشیاء میں قدم جمائے۔امریکہ نے صرف اور صرف اپنے مفادات کی خاطر پاکستان کو استعمال کیا۔مفادات حاصل کرنے کے بعد تعلقات کو بھی کم کردیا۔شاید پاکستان آج بھی امریکی دوستی کی بدولت دہشتگردوں کی آڑ میں ہے۔پاکستان نے امریکی سیاست سے بڑے نقصانات اٹھائے۔بڑے عرصے کے بعد پاکستان دوبارہ مستحکم ہو رہا ہے۔جس کا کریڈٹ راحیل شریف تمام پاکستانی فورسز اور کسی حد تک حکومت کو بھی جاتا ہے۔سب سے بڑی بات کہ پاکستان خود پر انحصار کرنا سیکھ رہاہے اور اس پر عمل شروع کر دیا ہے۔پاکستان نے جو نقصانات اٹھانے تھے اٹھا چکے۔راہ راست ہمیں مل چکا ہے۔اب کے بار مودی سرکار کی پالیسیوں کی بدولت بھارت کی ناؤ خطرے میں ہے۔بھارت خطے میں حکمرانی و نمبرداری قائم کرنے کی صورت میں افغانستان ایران اور بنگلہ دیش کو فنڈنگ کر رہا ہے۔اس کے بر عکس بھارتی عوام بھوک وافلاس اور طرح طرح کے مسائل سے دو چار ہے۔بھارت اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ جاسوسی کی صورت میں اور مخالفین کو کھوکھلا کرنے کی صورت میں خرچ کر رہا ہے۔اور بھارت میں بھوک کے ستائے ہوئے لوگ انصاف کے متلاشی بھارتی سرکار کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔بھارت مخالف تحریکیں جنم لے رہی ہیں۔خالصتان تحریک ہندوستان کی آزادی کے بعد دوبارہ ذور پکڑ رہی ہے۔اس تحریک کا ذور یونہی رہا تو ایک دن بھارت اپنے صوبہ پنجاب سے محروم ہو جائے گا۔بھارت میں مسلمان عیسائی سکھ بدھ مت دلت بلکہ تمام اقلیتیں انتہا پسند ہندو دہشت گردوں سے اکتائی ہوئی ہیں۔اور بھارتی حکومت ان انتہا پسندوں کی خود پشت پناہی بھی کر رہی ہے۔بھارت کی سب سے بڑی بھول کے وہ کشمیر کو اپنا حصہ سمجھتا ہے ۔کشمیر ایک دن ضرور آزاد ہوگا ۔اور بھارتی شیرازہ بکھرنے کا آغاز ہوگا کشمیر۔اس کے بعد پنجاب پھر بنگال اور دوسرے علاقے بھی بھارت سے آزادی حاصل کر لیں گے۔کشمیر کے آغاز کے بعد بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ایک دفعہ یہ سلسلہ شرع ہو گیا تو تھمے گا نہیں بھارت کے اتنے ٹکڑے ہو جائیں گے سمیٹنا مشکل ہو جائے گا۔3287263 کلو میٹر رقبے پر محیط بھارت کا نقشہ میں سے صرف چالیس فیصد باقی رہ جائے گا۔بھارت کا نیا دوست امریکہ بھی جلد اپنے انجام کو پہنچننے والا ہے۔عنقریب امریکہ بھی بکھر جائے گا۔پاکستان کو صرف اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے ۔اپنے آپ کو اندر سے مضبوط کرنا ہوگا۔اپنے اندرونی معاملات کو نپٹانا ہوگا۔خود پر انحصار کرنا ہوگا عالمی سازشوں کو بھانپنا ہوگا۔اگر ہم مضبوط رہیں۔ تو ہمیں تنہا کرنے والے خود بکھر جائیں گے مگر ہمیں کبھی تنہا نہیں کر پائیں گے

Sunday, 25 September 2016

اپنا قبلہ درست کریں




چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

اپنا قبلہ درست ہو تو کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔دشمن کی ہر سازش الٹی پڑتی ہے۔سازشی خود گرفت میں آ جاتا ہے۔بظاہر پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کو سازشی کہتے ہیں۔دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کو سازشی کہنے کی بجائے اپنا اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ دونوں ملکوں نے ماضی میں بھی متعدد نقصانات اٹھائے۔آزادی سے لے کر آج تک دونوں ملک دشمنی کی آگ میں جل رہے ہیں اوران کی آگ میں کشمیر بھی جل رہا ہے۔برطانیہ نے دونوں ممالک کی تقسیم میں نا انصافی کر کے دونوں ملکوں کو نقصان پہنچایا ہے۔بظاہر مسلمان اکثریتی علاقے بھارت کے حوالے کر کے بھارت کو فائدہ اور پاکستان کو نقصان پہنچایا گیا۔مگر آپ گزشتہ کئی برسوں کی پاک بھارت دشمنی کو دیکھ لیں۔اس غلط تقسیم کی وجہ سے دونوں ملکوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔مسئلہ کشمیر کے معاملے میں صرف بھارت ہی نہیں اقوام متحدہ بھی ہٹ دھرمی دکھاتا رہا اور دکھا رہا ہے۔کشمیر کے معاملے کو کوئی صدق دل سے حل کرنا چاہتا ہے تو وہ پاکستان ہے۔اگر اقوام متحدہ صدق دل سے کشمیر کا حل چاہے تو حل کروا سکتا ہے بھارت پر ذور ڈال کر اس معاملے کا حل یقینی بنا سکتا ہے۔مگر کبھی ایسا چاہے گا نہیں۔دنیا کی بڑی طاقتوں کو ہر گز منظور نہیں کہ برصغیر میں امن قائم ہو۔بظاہر امن کا نعرہ لگانے والے گورے دل کے کھوٹے ہیں انہیں قوموں کو استعمال کرنے کا فن بخوبی آتا ہے اور اس پر عمل پیرا ہیں۔اسی لئے یہ معاملات کو لٹکانا چاہتے ہیں سلجھانا نہیں۔یہ کبھی ایک حریف کے کان بھرتے ہیں اور کبھی دوسرے کے۔پاک بھارت آزادی سے لے کر اب تک ایک محدود سیاست کی گرفت میں ہے۔دونوں ملک ایک دوسرے پر برتری لے جانے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے۔یہ سچ ہے کہ اسلحہ خریدنے میں بھی بھارت نے پہل کی۔پاکستان نے وقت کی ضرورت و دفاع کے لئے ہی اسلحہ کی خریدو فروخت کی۔ماضی میں پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر پر جنگیں لڑی گئیں۔دونوں ملکوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔جنگ کی پہل بھی ہمیشہ بھارت کی طرف سے کی گئی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ نقصان بھی زیادہ بھارت کو ہی اٹھانا پڑا۔بظاہر کوئی بھی شکست کو تسلیم نہیں کرتا مگر بھارت ہمیشہ شکست سے دو چار رہا۔بھارت کے پاس ہمیشہ سے ہی اسلحہ اور افرادی قوت پاکستان سے زیادہ ہے۔مگر ہمت و جذبہ میں ہمیشہ پاکستان برتر رہا۔دوستو پاکستانی فوج وہ فوج ہے جو دشمن کے ٹینکوں کو اڑانے کے لئے اپنے سینوں پر بم باندھ کر دشمنوں کو نیست و نابود کرنے کے لئے اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھتی ہے۔پاکستان کی فوج دنیا کی افواج میں سے بہادر اور نمبر ون فوج ہے۔اسے دنیا بھی تسلیم کرتی ہے۔بلکہ بڑے ملک کی افواج اپنے کیڈٹس کو جذبہ دلانے کے لئے پاک فوج کے کارنامے سناتی ہیں۔صرف فوج ہی نہیں یہ پوری قوم ہی بہادر اور غیور ہے۔پوری قوم میں ملکی دفاع کی صلاحیت موجود ہے۔یہ قو م اپنی سالمیت بچانے کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتی۔گزشتہ کئی دنوں سے بھارتی فوج کی نقل و حرکت کو دیکھا گیا اور بتایا یہ جا رہا ہے کہ بھارت پاکستان پر اٹیک کرنے کا سوچ رہا ہے۔بھارتی میڈیا پر بھی جنگی جنون تاری ہے۔مگر پاکستانی فضائیہ کی مشقوں کو دیکھ کر سارا جنون ممنوع ہوگیا۔شاید بھارتی بنیا جانتا ہے کہ جنگ میں نقصان بھارت کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ سب بھارتی دکھاوہ ہے پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر کمزور کرنے کی سازش ہے۔اڑی سیکٹر حملہ اور پھر پاکستان کو اقوام متحدہ میں دہشتگرد قرار دینا یہ سب بھارت افغان کی پلاننگ کا حصہ تھا۔جو مودی اور اشرف غنی کی ملاقات میں ہوئی۔یہ بھی سچ ہے کہ بھارتی واویلے کی وجہ سے پاکستان کی آواز مدھم ضرور ہوئی لیکن ختم نہیں ہوسکی۔وزیر اعظم نواز شریف نے صحیح معنوں میں جو کشمیر کی آواز اٹھائی بہت سے دلوں پر گہرا اثر کر گئی اور سفارتی سطح پر بھی پاکستان کی جیت ہوئی۔بھارت کی نسبت پاکستان کا قبلہ ہمیشہ ہی درست رہا۔بھارت شروع ہی سے مکاریوں اور چالاکیوں کی کوشش میں رہا۔بھارت نے پاکستان کو بین الاقومی سطح پر تنہا کرنے کی بھی کوششیں کیں۔پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کی کوششیں بھی کیں۔مگر ہمیشہ ناکام رہا۔یہ بھی درست ہے پاکستان اندرونی مسائل سے دو چار ہے۔پاکستان کو فی الفور اپنا اندرونی قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔دوستو بھارت جو پاکستان کو تنہا کرنے کی باتیں کر رہا ہے وہ خود تنہا ہوتا جا رہا ہے اور ایسا صرف ہمارے بیرونی قبلے کے درست ہونے کی وجہ سے ہے۔یعنی بہترین خارجہ پالیسی۔ہماری خارجہ پالیسی میں دوغلا پن نہیں بڑی کلیئر ہے ہماری خاجہ پالیسی۔اسی وجہ سے آج بھارت کے بڑے اتحادی ملک کی فوج پاکستان میں دوستی کے نام سے جنگی مشقیں کر رہی ہے۔آج چین ہمہ وقت ہمارے ساتھ کھڑا ہے ترکی ہمارے سانس کے ساتھ سانس بھرتا ہے۔برطانوی کمانڈر انچیف ہمارے آرمی سربراہ کی تعریفوں پر الفاظ برسا رہا ہے۔نیو یارک ٹائم بھارتی جارہیت کو بیان کر رہا ہے۔یہ سب ہماری بہترین خارجہ پالیسی کی وجہ سے ممکن ہوا ۔ہمیں خود پر انحصار کرنا آگیا۔ہمیں پتہ چل گیا کہ ہمیں اپنا قبلہ درست کرنا ہے۔اگر ہمارا قبلہ درست سے درست ہوتا گیا اور خود پر انحصار بڑھ گیا تو ایک دن دنیا ہماری تعریفوں میں پل باندھا کرے گی۔بھارتی قوم کے لئے مفید مشورہ مکاری چلاکی چھوڑ دیں دوسروں پر بلا وجہ تنقید اور ظلم کرنا چھوڑ دیں۔اپنا قبلہ درست کریں خود پر انحصار کریں مودی جیسے انتہا پسندوں کو آخری صفوں میں دھکیل دیں اقلیتوں کے ساتھ انصاف کریں۔بے جا غیر ملکی مداخلت پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیں۔غاصبانہ قبضوں کو چھوڑ دیں۔اگر ایسا کرنے میں ناکام رہے تو ایک دن باکل تنہا ہو جاؤ گے۔آج امریکہ تمہارے ساتھ ہے تو وہ بھی اپنے مفاد کے بعد تمہیں چھوڑ دے گا تمہارے وطن کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔مودی اسکی پہل ہے۔پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ اپنے اندرونی معاملات کو نمٹانے کی ضرورت ہے۔سیاسی جماعتوں کو آپس کی ذاتی دشمنیوں کو ختم کرنا ہوگا ۔حکومت اور اداروں کے درمیان اعتماد کو قائم کرنا ہوگا۔آرمی اور حکومت کو ایک پیج پر کھڑا ہونا ہوگا۔سب صوبوں میں توازن رکھنا ہوگا ۔اپنے ملکی غداروں کو کٹہرے میں لانا ہوگا۔اندرونی معاملات کو سمجھنا ہوگا۔سمجھنا ہوگا کہ کوئی خود کش بمبار کیوں بنتا ہے۔کوئی بندوق کیوں اٹھاتا ہے اپنوں کے خلاف۔ہمیں بلوچستان پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ہمیں آزاد کشمیر اور گلگت میں خوشیوں کو بکھیرنا ہو گا۔ہمیں مقبوضہ کشمیر کی ہمیشہ کے لئے آواز بننا ہوگا۔پورے وطن میں امن و خوشحالی کو پھیلانا ہوگا۔انصاف کو یقینی بنانا ہوگا۔کرپشن و دہشگردی کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔قانون پر عملدرآمد کرنا اور کروانا ہوگا۔میڈیا کو مثبت پیغام پھیلانا ہوگا۔اپنا تن من مضبوط کرنا ہوگا۔ہمیں اپنے من کو اتنا مضبوط کرنا ہوگا کہ دشمن کا ہر وار الٹا پڑے۔ہمیں پوری قوم کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی کسی دشمن کے بہکاوے میں نا آسکے۔ہمیں اسلام کو پاکستان کو اور انسانیت کو ایسی لڑی میں پرونا ہوگا جسے دشمن کی بڑی سے بڑی سازش و سرمایہ کاری بھی نہ توڑ سکے۔

Sunday, 18 September 2016

کشمیریوں کی آواز بنیں


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ
پھرسے ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم مظلوم کشمیریوں کی آواز بنیں۔ثابت کریں کے ہم انسان ہیں مسلمان ہیں اور پاکستان ہیں۔ہمارے پاس دل ہے وہ دل جو انسانوں کے لئے درد رکھتا ہے جو ظلم کو دیکھ کر دھڑک اٹھتا ہے اور مظلوموں کے غم کا احساس دلاتا ہے۔احساس دلاتا ہے کہ ہم انسان ہیں سب سے بڑھ کر مسلمان ہیں اللہ رب العزت کی پیدا کردہ مخلوق ہیں نبی آخر الزمانﷺ کی امت ہیں۔احساس دلاتا ہے ہم بے حس قوم نہیں کہ اپنے ہی بھائیوں پر ہونے والے ظلم پر خاموش رہیں۔بلکہ ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم دنیا کو بار بار بتائیں کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون۔مجبور کر دیں اس دنیا کی طاقتوں کو کہ وہ حق کا ساتھ دیں۔ہمیں پوری تگ و دو سے کشمیر کی جدوجہد کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔کشمیر حسین وادیوں قدرتی خوبصورتی کی حامل ریاست۔بچپن سے ہی کشمیر کی خوبصورتی کے بارے میں سن رکھا ہے۔مگر کوئی خود جا کر اس حسین وادی کشمیر کو دیکھے تو وہ ضرور جانے کہ جو سنا تھا اس سے بڑھ کر پایا۔ایسا خوبصورت علاقہ کے دیکھنے والا بیان کرتے تھک جائے۔مگر افسوس جس بچپن سے کشمیر کی خوبصورتی کے بارے میں سنتے آ رہے ہیں اسی بچپن سے اس خوبصورت وادی کے خوبصورت لوگوں پر ہوتے ظلم و ستم کی داستانیں بھی سنتے آ رہے ہیں۔خوبصورتی کے لحاظ سے دیکھیں تو کشمیر جیسا خوبصورت علاقہ کوئی بھی نہیں۔اگر ظلم و ستم کے پہلو سے دیکھیں تو یقین مانئے کشمیریوں جیسا مظلوم اور بے بس بھی کوئی نہیں۔مگر اے میرے اللہ یہ کوئی توازن نہیں کہ خوبصورت پہاڑ دریا جھیلیں عنایت کر کے خوبصورت لوگوں کو ظالم و جابر کی گرفت میں رہنے دیا جائے۔اے دنیا و جہاں کے پالنے والے ان مظلوم کشمیریوں پر اپنا خاص کرم کر کہ یہ ہمیشہ کے لئے ظالم و جابر بھارتیوں کے قبضے سے ہمیشہ کے لئے آزاد ہو جائیں۔آزادانہ زندگی بسر کر سکیں۔حسین وادیوں میں حسین لوگ اپنی سریلی آوازوں میں قدرت کے حسین مناظر کو بیان کرنے والے گیت گا سکیں۔اپنے غم اپنی خوشیاں بانٹ سکیں۔ اپنے مذہب اپنی روایات کو یاد کر سکیں اور اس پر بہتر انداز سے عمل پیرا ہو سکیں۔تیری بڑائی کی حمد و ثناء کر سکیں۔قدرت کی اس حسین عنایت کو سراہ سکیں۔اپنے مذہب و روایات کے رنگوں میں رنگ سکیں۔کہہ سکیں کہ ہمارا پیارا وطن امن و سلامتی کا گہوارہ وطن خوبصورتی سے بھرا ہوا وطن قدرت کا عطا کردہ حسین و سرسبز و شاداب یہ وطن۔کشمیر پر دن بدن بڑھتے ہوئے بھارتی مظالم سے ساری دنیا واقف ہے مگر افسوس کہ دنیا آنکھیں تو کھول لیتی ہے مگر ساتھ ہی زبان کو تالا لگا لیتی ہے۔دنیا یعنی عالمی طاقتیں عرصہ دراز سے کشمیر پر بھارتی مظالم سے واقف ہیں مگر بھارت کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتیں نہ ہی بھارت پر کوئی پابندی عائد کی جاتی ہے۔برصغیر میں تقسیم کو کئی سال گزر گئے مگر اس تقسیم میں نا انصافی کی وجہ سے ریاستوں کو آزادانہ حیثیت دینے کے معاملات ابھی بھی لٹکے ہوئے ہیں۔شاید عالمی طاقتیں بر صغیر کو مستحکم نہیں دیکھنا چاہتیں۔اس عالمی سازش میں بھارت اور پاکستان تو جل ہی رہا ہے مگر کشمیریوں کا معاملہ لٹکا کر انکی زندگیاں اجیرن اور عزاب بنانا انتہائی افسوس ناک ہے۔پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی متعدد کوششیں کیں اور کر رہا ہے۔دوسری طرف بھارت شروع ہی سے کشمیر پر قبضہ جمائے ہوئے ہے اور اسی تگ و دو میں رہتا ہے کہ بزور بندوق کشمیر کو بھارت میں ضم کر دیا جائے۔غیور کشمیری غلامی کو بہت بڑا عذاب سمجھتے ہیں اور کبھی غلامی کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی کریں گے۔بھارتی ظلم کے خلاف ہمیشہ سے سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں۔بھارتی خود بھی جانتے ہیں کے وہ کسی صورت بھی کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کم نہیں کر سکتے مگر پھر بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے۔پاکستان نے ماضی میں بھی عالمی طاقتوں پر زور ڈالا کہ کشمیر پر بھارتی ظلم ختم کرایا جائے اور کشمیریوں کو آزادی دلائی جائے۔اب کے بار پھر سے شروع ہونے والے اقوام متحدہ کے اکہترویں اجلاس میں پاکستانی وزیر اعظم محمد نواز شریف کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھائیں گے۔عید الفطر سے لے کر عیدالاضحی تک بھارت نے کشمیریوں پر ظلم جاری رکھا بلکہ ابھی بھی جاری ہے۔جس میں سینکڑوں کشمیری شہید ہوئے متعدد پیلٹ گنوں کی وجہ سے آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوئے۔ایسے میں پاکستان نے بھارت کے ظلم کو دنیا کے سامنے عیاں کیا۔بھارت نے کشمیر میں زندگی کے تمام معاملات پر پابندی عائد کر دی۔یہاں تک کے نماز عید پر پابندی عائد کردی۔ایسے میں بھارتی وزیراعظم کو علم تھا کہ دنیا انکا اصل چہرہ بھی دیکھ چکی ہے۔ اسی ڈر سے مودی نے خود اقوام متحدہ کے اجلاس میں جانے کی بجائے ششمہ سوراج کو بھیجا۔مودی نے ششمہ کے ساتھ افغانی صدر اشرف غنی کو بھی بھارتی ساتھ دینے کا ٹاسک سونپا ہے۔ذرائع کے مطابق ششمہ اور اشرف غنی کو ہٹ دھرمی دکھانے اور الٹا پاکستان کو دہشتگردوں کا پشت پناہ ثابت کرنے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ بھارت پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے اربوں کی سرمایہ کاری افغانستان اور اس کے قریبی ممالک میں کر رہا ہے۔ہمیں مودی کی جگہ ششمہ سوراج کا اقوام متحدہ کے اجلاس میں جانے کو اپنی کامیابی نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ میاں نواز شریف کو مودی اور غنی کی ملی بھگت کو سمجھ کر دلیرانہ طریقے سے بھارتی ہٹ دھرمیوں سے اقوام متحدہ میں پردہ اٹھانا چاہئے۔انکی سازش کو مد نظر رکھ کر لائحہ عمل طے کرنا چاہئے۔میاں صاحب کو ہر صورت کشمیریوں کی جدوجہد کو اقوام متحدہ کے سامنے اجاگر کرنا ہے۔میاں صاحب کے پاس موقع ہے کہ وہ بہتر حکمت عملی دکھا کر اپنے سیاسی مخالفین کا نعرہ مودی کا یار غلط ثابت کر دیں۔ 1998 میں میاں صاحب نے عوام سے رجوع کر کے جو عزت پائی ویسی عزت دوبارہ حاصل کرنے کا وقت ہے۔اگر گزشتہ کی طرح تمام عالمی دباؤ کو پرے رکھ کر میاں صاحب کشمیر کی جدوجہد آزادی اور بھارتی ہٹ دھرمیوں سے پردہ اٹھانے میں کامیاب ہو گئے تو عوام کی نظروں میں بھی سرخرو ہو جائیں گے۔میاں صاحب کی سیاست کا نازک موڑ ہے۔اپنی ساکھ ختم بھی کر سکتے ہیں اور اپنی عزت بحال بھی کرسکتے ہیں۔مخالف جماعتوں کو بھی مخالفت پرے رکھ کر حکومت کا کشمیر کے معاملے پر ساتھ دینا چاہئے بلکہ بہتر مشوروں سے بھی نوازنا چاہئے۔بطور پاکستانی مسلمان اور انسان ہم سب کو کشمیر کی آواز بننے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہر پلیٹ فارم پر چاہے اخبار و پرنٹ میڈیا چاہے ٹی وی چینل و آن لائن میڈیا چاہے سوشل میڈیا ان سب کے ذریعے ہر فرد کو مظلوم کشمیریوں کی آواز پوری دنیا تک پہنچانی چاہئے۔کشمیریوں کی جدوجہد اور بھارتی ظلم کو اجاگر کرنے کا دوبارہ وقت آگیا ہے۔اگر ہم اس بار کشمیریوں کی جدوجہد کو اجاگر کرنے میں کامیاب ہوگئے تو بھارت اور اسکے ہامیوں کو انکی ہٹ دھرمیوں اور چالاکیوں کا بہترین جواب مل جائے گا اور اگر ہم پورے ولولے سے کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کرتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب کشمیر آزاد ہو جائے گا۔پاکستان اور پاکستانیوں کو بہتر حکمت عملی سے کشمیر کی آواز کو اونچا کرنا ہے اگر پاکستان کشمیر کی جدوجہد اور بھارتی ہٹ دھرمی کو دنیا کے سامنے لے آئے اور دنیا کو یقین دلائے کے کشمیری ظالم و جابر کی قید میں ہیں تو یہ پاکستان کی فتح اور بھارت کی شکست ہوگی۔آخر میں سب سے گزارش ہے کہ صدق دل سے کشمیریوں کی آواز بنیں اللہ اجر عطا کرے گا۔

Sunday, 11 September 2016

قربانی پر اپنی انا کو قربان کر دیں


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

اناومیں۔ہمارے اندر رچ بس چکی ہے۔جو ہم ظاہری دکھاوے والی قربانی کرتے ہیں اس سے زیادہ ہمیں صدق دل سے اپنی انا و میں کو قربان کرنے کی ضرورت ہے۔اس عید پر اپنی اناو میں کو قربان کرکے دیکھیں کتنا سکون ملے گا تسکین ہو گی۔اتنی تسکین کبھی بھی ظاہری و نمائشی قربانی سے نہیں پہنچے گی۔ انا و میں کو ایک طرف رکھ کر خالص اللہ کی رضا کی خاطر قربانی کر کے محسوس کیجئے کہ کتنا سکون ملتا ہے کیسی راحت اور کیسی تسکین حاصل ہوتی ہے۔ ذوالحج کا چاند نکلتے ہی مسلمانوں میں بھاگ دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔ہر کوئی اپنی مصروفیات میں مصروف نظر آتا ہے۔کوئی حج کا فریضہ ادا کرنے کے لئے مصروف اور کوئی قربانی کی تلاش میں مصروف کوئی گھر کے سازو سامان کی خرید میں مصروف اور کوئی شاپنگ یعنی نئے کپڑوں نئے جوتوں وغیرہ کی خرید میں مصروف۔سب کی بھاگ دوڑ لگی ہوتی ہے۔سب بہتر سے بہتر بننے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں۔قارئین آپ سب جانتے ہیں کہ قربانی حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی سنت ہے۔اللہ تعالی کے محبوب پیغمبر نے اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنے اکلوتے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ اسلام کو بھی قربان گاہ لے گئے۔آنکھوں پر پٹی باندھے اپنے پیارے اسماعیل کی گردن پر چھری چلانے لگے مگر چھری حضرت اسماعیل کی گردن پر نہ چل سکی کیوں کہ اللہ رب العزت کا چھری کو چلنے کاحکم نہیں تھا۔اللہ کے نزدیک تقوی افضل ہے۔اللہ تعالی نے اس چھری کے نیچے آسمانی دنھبے کو رکھ دیا یوں اسی واقعے پر قربانی کی روایت چلی آرہی ہے۔مسلمان ہر سال اللہ تعالی کی رضا کی خاطر جانور قربان کرتے ہیں۔موجودہ دور میں دنیا بھر میں لاکھوں جانور قربان ہوتے ہیں۔لوگ بڑھ چڑھ کر بڑے جوش و خروش سے جانوروں کو خریدتے ہیں۔مویشی منڈیوں میں ہر طرف رش ہی رش ہوتا ہے۔ہر جانور اپنی ہی خوبصورتی میں نظر آتا ہے مالکان ان کی زیب و آرائش پر خصوصی توجہ دیتے ہیں فن سکھاتے ہیں۔لوگ خصوصی بچے جانوروں کے فن اور خوبصورتی کو دیکھ کر سراہتے ہیں اور اپنے والدین سے اپنا من پسند جانور خریدنے پر ذور ڈالتے ہیں۔جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں جو عام آدمی کی دسترس سے بالکل باہر۔واقعی غریب اس عید پر ایک عدد مرغ ہی ذبح کریں گے۔یہ بڑھتی ہوئی قیمتیں امیروں کے لئے تفریح اور غریبوں کے لئے ناسور بن کر رہ گئی ہیں۔میرا آج کا عنوان قربانی پر اپنی انا کو قربان کر دیں۔جی دوستو یقین مانو واقعی انا و میں کو قربان کرنے کی اشد ضرورت ہے نہیں تو معاشرہ برباد ہو جائے گا۔ہمارے وطن اور معاشرے میں انا و میں کی بھینٹ سینکڑوں لوگ چڑھ رہے ہیں۔ہمارے وطن میں دو گز زمیں پر قتل گاڑی سٹینڈ کی پرچی پر قتل اور متعد واقعات پر جان کا خاتمہ۔معاشرے کو انا و میں کے خاتمے کی اشد ضرورت ہے۔یہاں ہر کوئی اپنی انا و میں ہی میں پھنے خاں بنا پھرتا ہے اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے۔لفظ میں اور انا ہر شخص میں رچ بس چکا ہے چاہے وہ چھوٹا ہے بڑا ہے بوڑھا ہے غریب ہے امیر ہے سیاستدان ہے حکمران ہے مذہبی اسکالر ہے صحافی ہے پولیس آفیسر ہے حتی کہ ہر کسی میں مالک ہو یا ملازم کوئی شرط نہیں میں و انا سب میں موجود ہے۔یہ میں و انا تو عرصہ سے ہی چلی آرہی ہے۔مگر گزشتہ کچھ عرصہ سے میں و انا پر قتل و غارت جیسے بیانک واقعات میرے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑ رہے تھے سوچا تھا کبھی موقع ملا تو ضرور لکھوں گا۔کل سوسائٹی میں بچوں کو قربانی کے بکروں سے کھیلتے ہوئے دیکھا تو انکی طرف متوجہ ہو گیا اچانک بچے کھیلتے کھیلتے اس بحث میں لگ گئے کہ میرا بکرا بڑا ہے نہیں میرا۔میرا بکرا زیادہ خوبصورت ہے نہیں میرا۔چھوٹے چھوٹے قریب پانچویں جماعت کے طالب علم اچانک بحث بحث میں اوقات اور ذات پر آن پہنچے۔تمہاری اتنی اوقات نہیں کے تم اچھا بکرا خرید سکو۔میں بڑا حیران ہوا کہ چھوٹے چھوٹے ننے منے بچے اور اتنی زیادہ اکڑ اور انا ۔بیٹھے بٹھائے مجھے میرا عنوان مل گیا۔قربانی کا موسم ہے سوچا قربانی سے ہی منصوب کر دوں۔دوستو سچے دل سے سوچئے گا کہ ہماری قربانی اللہ کے نزدیک قابل قبول ہے یا نہیں۔یہ اللہ رب العزت پر ہے کہ وہ ہماری قربانی قبول کرے یا نا کرے مگر ہم بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے ناقابل قبول بنانے کے لئے۔قربانی کا اصل مقصد اللہ تعالی کی رضا اور تقوی ہے۔مگر ہم لوگ دکھاوے کے لئے اپنی انا کو اونچا کرنے کے لئے قربانی خریدتے ہیں۔کبھی دل سے اللہ کی رضا اور سنت ابراہیم کے لئے نہیں سوچا۔بس یہ سوچتے ہیں شیخ صاحب نے اونٹ لیا ہے تو ہم کیوں پیچھے رہیں فلاں نے دس لاکھ کا جانور خریدا ہم اس سے کم تو نہیں۔قربانی کو بھی انا اور دکھاوے کے کھیل میں نمائش بنا کر رکھ دیا ہے۔اللہ نے غریبوں سے ہمدردی کے لئے قربانی جیسا فریضہ انجام دینے پر نیکیاں رکھی ہیں نا کہ ظاہری نمائش اور انا بڑھانے کے لئے۔لاکھوں کے جانور خرید کر بھی اللہ کی رضا نہ حاصل کر سکو تو اس قربانی کا کوئی فائدہ نہیں۔افسوس کہ ہمارے ہاں اس مقدس قربانی جیسے فریضے میں بھی ظاہری انا اور دکھاوہ ہر سال سر فہرست ہوتا ہے۔حج میں بھی اکثر لوگ انا و دکھاوے کو سرفہرست رکھتے ہیں۔جس کی مثال سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور سیلفیاں ہیں۔انا پرستی کی ایک اور مثال سنو بھائی ہم قربانی تو کرلیتے ہیں مگر گوشت غریبوں کی بجائے اپنے حریفوں اور رشتہ داروں ہمساؤں کو بھیجتے ہیں تاکہ انہیں پتہ چل سکے کہ اونٹ کا کیسا ذائقہ ہے حتی کے انہوں نے بھی قربانی کی ہوتی ہے۔اگر کوئی غریبوں میں تقسیم کر بھی دے تو اچھا گوشت علیحدہ اور ہڈیاں غریبوں میں تقسیم۔قربانی کر کے اپنے ہی فریج و فریزر بھرنا ایسا ہی ہے جیسے بازار سے گوشت خرید کر لائے چاہے وہ کھوتے کا ہے یا کسی بھی جانور کا۔دوستو بات انا کی ہے۔انا ومیں ہمارے معاشرے میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے جس کو کبھی دوبارہ تفصیل سے ضرور لکھوں گا۔مفتیان کرام سے گزارش ہے کہ روشنی ڈالیں کیا آپس میں ہی بار بار گوشت بانٹنا جائز ہے؟سب دوستوں سے گزارش ہے کہ اگر اللہ نے عطا کیا ہے تو اپنی انا اور دکھاوے کو پرے رکھ کر حقیقی قربانی کے جذبے سے گوشت غرباء میں تقسیم کریں اور عید کے موقع پر ہو سکے تو کسی کی مالی امداد بھی کر دیں۔کھالیں بھی حقیقی حقدار اداروں کے پاس پہنچنی چاہیے۔ملک کے حکومتی اداروں اور تمام سیاسی اداروں سے گزارش ہے کہ خدارا اس عید پر اپنی انا و میں کو قربان کردیں تاکہ ملک پاکستان بھی اس انا و میں کی لڑائی سے باہر آئے اور ترقی کی راہ پر گامزن رہے۔جو سچے دل سے اپنی انا ومیں کو قربان کرنے کی کوشش کرے گا اللہ اسے شاید قربانی سے بھی زیادہ اجر عطا کر دے۔یہ بھی ایک بڑی قربانی ہوگی۔قادری صاحب کے امن کے حق میں بیان پر بڑی خوشی محسوس ہوئی کسی کے گھر کا محاسبہ درست نہیں۔آخر میں سب دوستوں کو دلی عید مبارک۔خوش و آباد رہیں۔

Sunday, 4 September 2016

سیاسی کھیل


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ

کھیل بہت سے ہیں کچھ میدان میں کھیلے جانے والے اور کچھ سیاست کے میدان میں کھیلے جانے والے۔میں آج سیاسی کھیلوں کے بارے میں اپنی رائے لکھ رہا ہوں۔میرا خیال ہے بہت سے لوگ سیاسی کھیلوں کے بارے میں جانتے ہیں۔سیاسی کھیلوں کی بھی متعدد اقسام ہیں۔کچھ لوگ اپنے ذاتی مفادات کے لئے اپنے اسٹیٹس کے لئے اپنے مقام کے لئے کھیلتے ہیں۔اور کچھ اپنے ملک کے مفادات ملک کے اسٹیٹس اور ملک کے مقام کے لئے کھیلتے ہیں۔موجودہ دور میں بلکہ ماضی میں بھی اپنے مفادات کے لئے ہی زیادہ کھلاڑی کھیلتے۔زمین پر جب سے انسان نے قدم رکھے ہیں تب سے ہی سیاسی چالبازیاں بھی شروع کر رکھی ہیں۔بعض اوقات چالباز خود اپنی ہی چال کی گرفت میں جکڑا جاتا ہے اور بعض اوقات بازی لے جاتا ہے۔کھیل کے دو ہی پہلو ہوتے ہیں۔ہار یا جیت۔مگر سیاسی کھیل میں اتنی لچک ہوتی ہے کہ ہارنے والا کبھی اپنی ہار کو تسلیم نہیں کرتا۔اور بعض اوقات اپنی شکست کو چھپانے یا بدلہ لینے کے لئے کسی بھی حد تک پہنچ جاتا ہے اور یہی حال جیت حاصل کرنے والوں کا بھی ان کی جیت میں کوئی بھی رکاوٹ ہو وہ اسے عبور کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جاتے ہیں۔یوں تو سیاسی کھیل ہر سطح پر کھیلا جاتا ہے۔نچلی درمیانی اور اوپر والی۔مگر یہ کھیل نچلی اور درمیانی سطح پر نچلا یعنی چھوٹا اور درمیانہ ہی ہوتا ہے۔یوں کہیے کہ نچلی سطح اور درمیانی سطح پر زیادہ گھناؤنا نہیں ہوتا۔مگر نچلی سطح کے کھلاڑیوں کی مکاری پکڑی جائے تو انجام بہت برا ہوتا ہے۔نچلی سطح میں غریب اور درمیانی سطح میں مجھ جیسے درمیانے لوگ ہوتے ہیں۔اور اب بات کرتے ہیں اوپر والی سطح کی جو صدیوں سے ہی بہت شاطر ہے۔اس سطح کے کھلاڑی بہت منجھے ہوئے سیاسی چالباز ہوتے ہیں۔جن کے لئے شکست جیت اور کھیل میں خرابہ زیادہ پچھتاوے کا باعث نہیں بنتا کیوں کہ انہیں اگلی باری کی امید ہوتی ہے کہ جیت انہی کی ہوگی۔اس سطح کے کھلاڑی کسی بھی قسم کے بدعنوانی کے کھیل میں پکڑے جائیں تو انجام تک نہیں پہنچتے۔یہ ہر میدان میں ہر رنگ میں دوبارہ اٹھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔مگر درمیانے اور نچلے طبقے کے کھلاڑی ایک دو کھیل کے بعد ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں۔اب اس اوپر والی سطح سے بھی اگلی سطح کے کھیل اور کھلاڑی بھی ہوتے ہیں۔یہ وہ کھلاڑی ہوتے ہیں جو بین الاقوامی سطح پر کھیل کھیلتے ہیں۔یہ ملکی کھیل ہوتے ہیں۔اس کھیل کا بھی انجام ہوتا ہے۔ہار کی صورت میں بڑا ملکی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔اوپر والی سطح پر ملکوں کو نقصان پہنچتا ہے کسی بھی اوپر والی سطح کے کھلاڑی کو کبھی نقصان نہیں پہنچا۔شاید ماضی میں ایسا ہوتا ہوکہ نقصان پہنچا ہو۔سرمایہ کار اور انٹیلی جینس ادارے انکے سپانسرز ہوتے ہیں۔ بیوروکریٹس تجزیہ کار اور بڑے صحافی انکے کوچ ہوتے ہیں۔یوں یہ سپانسرز اور کوچ بھی سطح کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔کھیل پر کچھ زیادہ ہی لکھ ڈالا اب اصل بات پر آتا ہوں۔دوستو پاکستان ان سب کھیلوں کی آڑ میں ہے چھوٹے و بڑے۔بین الاقوامی کھیل ملکی کھیل صوبائی کھیل اور اسی طرح ڈویژنل ضلعی سٹی اور یونین کونسل کی حد تک۔سب کھیل ملک کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔بین الاقوامی طاقتیں پاکستان میں عدم استحکام پھیلا کر پاکستان کی غم خوار بن کر پاکستان پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتی ہیں۔جن میں امریکہ اور روس قابل زکر ہیں باقی چین کی نیت کو میں ابھی سمجھ نہیں پایا۔بھارت جو خود کو ایشیاء کا بادشاہ سمجھتا ہے۔اس کی اس خواہش میں چین اور پاکستان کھٹکتے ہیں۔چین میں بھارت مداخلت نہیں کر سکتا اور پاکستان میں غداری و بدامنی پھیلانے کے لئے اربوں کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔روپ کے عوض بھارت نے ہمارے کئی آس پاس کے ہمسائیوں کو خرید رکھا ہے۔اب ملکی سیاسی کھیل وزیر اعظم کی کرسی اور وفاق کی تمام کرسیوں کا کھیل ہے۔اس کھیل کے لئے کوئی بھی کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ملکی ترجیحات کی تمام ٹیمیں صرف باتیں ہی کرتی ہیں لیکن حقیقت میں سب کے لئے اپنی ترجیحات اور اپنے مفاد ہی اہم ہیں۔یہ کھیل دن بدن گھناؤنا ہوتا جا رہا ہے۔ملک عین وقت بین الاقوامی سازشوں کی زد میں ہے اور یہاں وفاق کو اپنی برتری کی اور اپوزیشنز کو اپنی برتری کی پڑی ہوئی ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ کون کتنا بڑا اور بہتر ہے وہ الگ بات ہے کہ ہم لوگ میسنے ہو گئے ہیں۔اسی طرح صوبوں ڈویژنوں سٹی اور یونین لیول تک کھیل کھیلا جا رہا ہے ذاتی مفاد اور ذاتی برتری کا۔ہاں کھیل ضرور کھیلیں مگر صاف ستھرا اصولوں والا۔آپ سب جانتے ہیں کہ ہر کھیل کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔اور کھلاڑیوں کو اصولوں کا پابند ہونا پڑتا ہے۔اور جو کھلاڑی یا ٹیم پابند نہیں ہوتی انہیں پابندیوں کا سامنہ کرنا پڑتا ہے جرمانہ اور متعدد سزاؤں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔مگر ہمارے پابندیاں لگانے والے بھی اسی بد اصول کھیل کی گرفت میں ہیں۔دوستو صدق دل سے اپنے آس پاس کے سیاسی کھلاڑیوں پر ایک نظر دوڑاؤ ۔کیا وہ سیاسی کھیل کے اصولوں پر پابند ہیں؟یا وہ سزا کے اہل ہیں؟اور انہیں سزا کون دلائے گا؟جہاں تک میرا خیال ہے کوئی بھی کھلاڑی اور ٹیم ایسی نہیں جو اصولوں کی پابند ہو۔البتہ دو یا تین فیصد کھلاڑی کچھ اصولوں پر عمل پیرا ہیں۔ماضی میں بھی یوں اصولوں سے انکاری کھلاڑیوں اور ٹیموں کی کمی نہ تھی۔یہ سلسلہ بڑی دیر سے چلتا آرہا ہے۔ملک پاکستان ہر سطح پر سیاسی مفادات کے کھیلوں میں جکڑا ہوا ہے۔مگر اس کے باوجود بھی اللہ تعالی کی ذات نے اس وطن کو مستحکم رکھا ہوا ہے۔خدارا میرے وطن کے سیاسی کھلاڑیو !اپنے مفادات کے کھیل میں ملک میں افراتفری و بدامنی نہ پھیلاؤ۔اس کو اپنا حقیقی وطن سمجھو۔تمام اقتتدار اور کرسی کی باتیں مل بیٹھ کر حل کرو۔لوگوں کی ملک پاکستان کی زندگی اجیرن نہ بناؤ۔کارکنوں کو یوں شب روز استعمال نہ کرو ۔اگر ایسے ہی اندرونی شازشوں اور مفادات میں لگے رہے تو دشمن ممالک کو پاکستان کو کھوکھلا کرنے کا موقع مل جائے گا۔اس پاکستان میں اتنی دیر تک کوئی انقلاب کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جب تک نچلی سطح تک انصاف تعلیم صحت اورتمام اختیارات فراہم نہیں ہوتے۔تب ہوگی تبدیلی جب جاگیردار اور بزنس مین کے بیٹے کی بجائے ایک غریب مسکین کا پڑھا لکھا بیٹا حاکم ہوگا۔سب مل کر ملکی سلامتی اورملکی مضبوطی کا کھیل کھیلو دنیا و آخرت میں سرخرو ہو جاؤ گے۔پہلے اندرونی مسائل و سازشوں کا فوری خاتمہ وطن کی ضرورت ہے پھر ہی پاکستان غیر ملکی سازشوں کو بے نقاب کرنے کے قابل ہوگا۔ہمیں وقت کو سمجھنا ہوگا۔اور سیاسی کھیل میں اصولوں کو اپنانا ہوگا۔تبھی کامیابی حاصل ہوگی۔

Sunday, 28 August 2016

کراچی کو آزاد ہونے دو


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ

پیارے کراچی کو آزاد ہونے دو
ختم لقب بھائی الطاف ہونے دو
جی ہاں مہربانی کرو میرے وطن کے سیاستدانوں اور دانشورو اب تو کراچی کو آزاد ہونے دو۔آزاد ہونے دو میرے وطن کے شہر کراچی اور اس میں رہنے والے بہن بھائیوں کو ۔آزاد ہونے دو انہیں الطاف نام کے خوف سے متحدہ کے خوف سے ٹارگٹ کلنگ کے خوف سے بھتے کے خوف سے۔آزاد ہونے دو انہیں لفظ مہاجر سے ۔وہ پاکستانی ہیں اور محب وطن پاکستانی ہیں۔آزاد ہونے دو انہیں جان و مال کے خوف سے ۔آزاد ہونے دو انہیں بے وجہ کی پابندیوں سے۔آزاد ہونے دو انہیں دن و رات کی فضول تقریروں و جلسوں سے ۔انہیں آزادی سے زندگی بسر کرنے دو ۔پاک آرمی نے انکی آزادی کا مشن شروع کیا ہے تو اسے پایا تکمیل تک پہنچنے دو۔متحدہ کے قائد نے اپنی بربادی کو خود چنا ہے تو اسے اسکی جماعت کو برباد ہونے دو ۔سلگتی چنگاری کو سلگتا نہ چھوڑو نہیں تو دوبارہ آگ بڑھک اٹھے گی ۔کراچی قائد اعظم محمد علی جناح کا شہر۔ وہ شہر جو پاکستان کا سب سے پہلا کیپیٹل تھا۔پاکستان کا سب سے بڑا شہر بلکہ دنیا کے کئی ممالک سے بھی بڑا شہر کراچی ۔پاکستانی تجارت کا مر کز کراچی۔اردو ادب سیاست صحافت موسیقی اداکاری اور کھیل سے وابستہ کئی عظیم ناموں کا تعلق کراچی سے ہے۔پاکستان کا دل ہے کراچی بلکہ جند جان ہے کراچی۔افسوس کہ پاکستان کے اس پیارے شہر کو دشمن عناصر تاریکی کی طرف دھکیلتے رہے۔اور پورا پاکستان تماشائی بنا رہا۔آخر کیوں؟ کیا ہم بے حس ہیں؟۔کیا یہ دہرا معیار نہیں؟ ہم خود کو پاکستانی کہتے ہیں مگر کبھی پاکستانیت کو سمجھا ہی نہیں۔قائداعظم محمد علی جناح کا پاکستان جو ون یونٹ تھا۔نہ سندھی نہ بلوچی نہ پٹھان نہ پنجابی سب سے پہلے پاکستانی پاکستان اور پاکستانیت۔تاریخ گواہ ہے کہ متحدہ کے قائد الطاف حسین کے ملک خلاف بیانات پہلی دفعہ منظر عام پر نہیں آئے بلکہ اس سے پہلے بھی متعدد بار وہ پاکستان کو کھوکھلا کرنے کی کوشش میں زبان درازی کرتا رہا۔سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ وہ بار بار ملک کے خلاف غلط الفاظ اگلتا ہے ۔کیا کوئی اسے روکنے والا نہیں؟۔ آپ سب کو اپنے بچپن کے دن تو یاد ہوں گے کوئی ایک غلط کام کرنے پر اتنی سرزنش ہوتی کہ دوبارہ کوئی غلط کام انجام نہ دیتے بلکہ جرئات ہی نہ ہوتی۔ذرا سوچئے ایک ملک دشمن بار بار ملک کے خلاف بولتا ہے اور اسے کوئی روکنے والا ہی نہیں ۔آخر کیوں؟ماضی میں اگر سخت ایکشن لیا ہوتا تو بار بار ایسے الفاظ سے ملکی عزت مجروح نہ کرتا۔آخر کوئی تو خامی ہے ہمارے اندر ہماری حکومتوں کے اندر ہماری تنظیموں کے اندر؟۔آخر کوئی تو عنصر ہے ؟جس کی جڑیں پاکستان میں مضبوط ہیں مگر وہ پاکستان سے مطابقت نہیں رکھتا۔بہت افسوس سے کیا یہ مسلمانوں کا وطن ہے؟ ۔کیا ہم پاکستانی ہیں؟۔کیا مسلمانوں کی قومیں بھی غدار ہوتی ہیں؟۔کیا ہم پاکستانیوں پر غداری کی مہر لگانے جا رہے ہیں؟۔یہ کیا ہے اور کیوں ہے؟۔ہمیں سوچنا ہوگا ۔بیرونی سازشوں کو سمجھنا ہوگا۔ہر شخص کو بذات خود سوچنا ہوگا کہ وہ پاکستانی کہلانے کے لائق ہے کہ نہیں۔بالکل نہیں نہ ہی ہم مسلمانی پر نہ ہی پاکستانیت پر پورا اترتے ہیں۔کوئی ہماری شناخت ہمارے مذہب ہماری ثقافت حتہ کہ ہمارے مکمل وطن پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔ہمیں یہ سب روکنا ہوگا اور اپنے مذہب کو اپنے پاکستان کو خود آگے لے کر چلنا ہوگا کوئی فرشتہ اتر کر بیرونی سازشوں سے نہیں بچائے گا۔جی کراچی پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی شروع سے ہی جاگیرداروں کے قبضے میں رہا پھر الطاف بھائی او جاگیر دارا اور مہاجر کا نعرہ لگا کر بڑے منظم طریق سے کراچی پر راج کرنے لگا۔الطاف راج بعد ازاں اپنے اصل مقاصد پر آ پہنچا کراچی کو ایک سوچے سمجھے اور بڑے منظم منصوبے کے تحت آہستہ آہستہ کھوکھلا کرنا شروع کر دیا ۔وقت گزرا کراچی کی زندگی اجیرن بن گئی۔الطاف کا حامی ہی خوش رہنے لگا ۔باقی سب بھتہ کی زد میں آنے لگے۔الطاف نے بہت مضبوط عسکری ونگ قائم کیا۔جو جب چاہتا کراچی کے حالات خراب کرتا۔الطاف نے اپنے مقاصد کے لئے کراچی کو استعمال کیا بعد ازاں لندن میں بیٹھ کر رموٹ کے زریعے کراچی چلاتا رہا ۔جب دل چاہا کراچی میں بد امنی پھیلا دی جب دل چاہا قتل و غارت۔اسی دوران الطاف کے اپنی ساتھی بھی اس کے خلاف بولنا چاہے مگر انجام موت پائی ۔یوں الطاف راج اور الطاف بھائی نام کا خوف لوگوں کے دلوں میں گردش کرتا ۔کراچی میں تاجر اور دوسرے لوگ دوسرے شہروں اور ملکوں میں ہجرت پر مجبور ہوگئے۔کاروبار تباہ لوگ بھتے کے ڈر سے کراچی چھوڑکر جاتے رہے۔بوری بند نعشیں دن و رات میں قتل و غارت کی واردات عام ہو گئیں۔کراچی بھائی کے خوف میں گردش کرنے لگا۔اتنا سب کچھ ہوتا رہا کئی سالوں سے الطاف راج قائم ہے۔ایسے میں ہماری حکومتیں اور ادار بے بس نظر آئے۔الطاف کو خوش کرنے کے لئے ہماری حکومتیں اپنے نمائندگان مقر رکرتی رہیں۔مثال رحمان ملک۔یوں ایک لمبا عرصہ کراچی اور اس کے لوگوں کو الطاف حسین مہاجر کے نام سے بے وقوف بناتا رہا۔اور ایک عرصہ کراچی خوف کی گرفت میں قید رہا۔رینجرز نے اس کو خوف کو کم کیا اور مزید کم کرنے کی کوشش میں ہے۔گزشتہ الطاف کے رینجرز کے خلاف اور پاکستان کے خلاف بیانات نے مزید عیاں کر دیا ہے کہ الطاف حسین کٹر پاکستانی دشمن ہے اور رینجرز اس دشمن کی راہ میں رکاوٹ۔رینجر اہلکار اس بیان کے بعد سختی سے متحدہ کے خلاف ایکشن لے رہی ہے۔تو کئی سیاستدانوں اور دانشوروں کو برا لگ رہا ہے۔افسوس کہ ملک دشمن کے خلاف کاروائی پر بھی ہماری قوم متحد نہیں۔بہت سے سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کے بیانات سن کر افسوس ہوا کہ متحدہ کو چلنے دو اس کے کارکنوں کو گرفتار نہ کرو۔ایسا بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا۔آج ہم کشمیر کے معاملے میں مضبوط ہیں تو ایسے بیانات الطاف کی طرف سے کراچی میں بد امنی پھیلانے اور پاکستان کی توجہ کشمیر سے کراچی پر ڈیورٹ کرنے کی کوشش ہے۔ کہیں دوبارہ ایسی سازش نہ ہو جائے۔ اگر متحدہ کو قائم رکھنا چاہتے ہو تو الطاف کا نام ہمیشہ کے لئے پاکستان اور متحدہ سے ختم کر دو اگر ایسا نہیں کر سکتے تو متحدہ ہی ختم کر دو۔تا کہ دوبارہ کراچی میں بد امنی اور دشمنوں کی زبان کوئی بھی نہ بھول سکے۔ایک عرصہ کراچی خوف کی گرفت میں رہا اب آزادی چاہتا ہر خوف سے۔خدارا اب آزاد ہونے دو۔سلگھتی چنگاری کو سلگھتا ہوا چھوڑو گے تو وہ دوبارہ آگ بن جائے گی ۔اب قائد الطاف بھائی کی چنگاری کو ہمیشہ کے لئے راخ کر دو۔لندن حکومت کبھی بھی الطاف آپ کے حوالے نہیں کرے گی ۔ہمارے اداروں کو خود ہی ایکشن لینا ہوگا۔
پرانی متحدہ سے الطاف مائنس ناممکن ہے ۔متحدہ پاکستان کے نام سے کوئی نئی پارٹی قائم کرنا ضروری ہے۔یا پی ایس پی میں ضم کر دو۔
سلطان جی کچھ تو یہاں کیجئے
غداروں کو بھی کوئی سزا دیجئے

Sunday, 21 August 2016

مودی اپنا بھارت سنوارو


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ

بھارت کی سلامتی خطرے میں ہے اور مودی اس خطرے کی گھنٹی ہے۔بھارتی عوام جو سمجھ بوجھ کی حامل ہے اس عوام کے دل میں ایک خوف بھارتی سا لمیت کے بکھرنے کا خوف بھارت میں بدعنوانیوں کے بڑھنے کا خوف بلکہ بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا خوف بھی گردش کر رہا ہے۔بھارت میں ایسی کئی آوازیں ایسے کئی نعرے بلند ہو چکے ہیں کہ مودی اپنا بھارت سنوارو دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرو۔اپنے اس ٹوٹتے ہوئے وطن کو تو سنوارو کہیں دوسروں کے معاملات میں روڑے اٹکاتے ہوئے اپنے وطن کے ٹکڑے ٹکڑے نہ کر بیٹھو۔۔مودی خود کو بین الاقوامی سطح کا سیاستدان تصور کرتا ہے یہ اس کی بھول ہے۔مودی جس کا پورا نام نریندر مودی ہے بھارت کا ایک انتہا پسند ہندو کارکن تھا۔جو اپنی انتہا پسندی کی وجہ سے ہندؤں میں مقبول ہوا اور بعد ازاں ان انتہا پسند ہندؤں نے اپنے مفادات اور انتہا پسندی کو مزید تقویت دینے کے لئے مودی کو فنڈنگ کر کے سیاست میں اتارا اور پھر انہیں انتہا پسند ہندؤں کی مدد سے مودی وزیر اعلی اور اب وزیر اعظم کی کرسی پر موجود ہے۔یوں انتہا پسندوں نے اپنے نمائندے کو ملک بھارت کا سربراہ بھی بنا لیا تاکہ انتہا پسندی کو تقویت مل سکے اور اقلیتوں کو ڈرا دھمکا کر اپنا غلام بنا کر جب دل چاہے ان پر تشدد کیا جا سکے۔موجودہ کئی انتہا پسندی کے واقعات اس کا ثبوت ہیں۔ایسے کئی گھناؤنے مقاصد کی خاطر انتہا پسندوں نے اپنے نمائندے مودی کو یہاں تک پہنچایا۔سمجھ بوجھ رکھنے والے بھارتی یہ سب سمجھتے ہیں۔مودی سے اتنی جلدی یہ سب ہضم نہیں ہو رہا کہ وہ اتنے بڑے ملک بھارت کا سربراہ ہے۔خود کو اتنے بڑے عہدے پر براجمان پا کر سمجھتا ہے کہ وہ برصغیر کا بادشاہ بن بیٹھا ہے۔جس کے نتیجہ میں مودی کے کئی کارنامے بھی نظر آئے۔مودی سرکار کی برصغیر پر بادشاہی کے نشے کو صرف پاکستان ہی اتارتا ہے۔پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کے ایٹمی ہتھیار بھارت سے زیادہ ایکٹو اور فعال ہیں۔بھارت نے بنگلہ دیش افغانستان اور دوسرے کئی چھوٹے ممالک تو روپے کے عوض اپنی مٹھی میں کر رکھے ہیں۔اربوں کھربوں کی سرمایہ کاری لگا کر بھارت نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے مراسم خراب کئے ماضی میں پاکستان سے بنگلہ دیش کی علیحدگی کا ذمہ دار بھی بھارت ہے۔افغانستان جن کا سب سے بڑا خیر خواہ پاکستان ہے۔اور جنہیں پاکستانیوں نے اپنے بھائیوں کی طرح سمجھا۔بھارت نے اسی افغانستان میں کھربوں روپے کے عوض اپنی ساکھ قائم کی اور افغانستان کو مکمل اپنے کنٹرول میں کیا اور پاکستان کے خلاف افغانستان اور افغانیوں کو استعمال کر رہا ہے۔یہ غیور پٹھان صرف روپے کے عوض بھارتی قابو میں نہ آئے بلکہ مکمل منصوبے کے تحت بھارتی خفیہ ایجنسی راء کی سالوں کی برین واشنگ کام کر رہی ہے۔بھارتی میڈیا بھی اس گھناؤنے کر دار کا حصہ ہے۔پھر مودی سرکار کے اچانک ایران کے ساتھ اچھے مراسم اور ایران میں سرمایہ کاری پراجیکٹس صرف اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر پاکستان مخالف استعمال کیا جائے اور پاکستان کو کوکھلا کیا جائے۔بھارتی سرکار ایسے کئی منصوبے تشکیل دے رہی ہے جن سے ابھی ہم آگاہ نہیں۔مودی سرکار سے پہلے بھی بھارتی سرکار کے ہمیشہ ایسے ہی وچار رہے مگر مودی پاکستان مخالفت میں کچھ زیادہ ہی ایکٹو نظر آتا ہے۔دوستو آج ملک پاکستان جو متعدد مشکلات کا شکار ہے یہ کوئی فٹا فٹ مشکلات کے بھنور میں نہیں پھنسا بلکہ بھارت کی کئی سالوں کی منصوبہ بندی اسکے پیچھے ہے۔بھارتی خفیہ ایجنسی راء کے افسران کا پاکستان سے گرفتار ہونا اس کا ثبوت ہے۔بھارت پاکستان میں دہشتگردی بھی بھارت براستہ افغانستان کروا رہا ہے۔بھارت سالانہ اربوں روپیہ پاکستان میں غدار تنظیمیں پیدا کرنے میں لگا رہا ہے۔بلوچستان گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں افراتفری پھیلانے کے لئے بھارت نے ان علاقوں میں اپنے خفیہ ایجنٹس بھیج رکھے ہیں جو لوگوں کو پاکستان مخالف کرنے میں آہستہ آہستہ اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کر رہے تھے اور ہیں۔جن میں سے متعدد پاکستان کی بہادر اور غیور فورسز نے پکڑ لئے ہیں اور امید کرتے ہیں باقی سب بھی پکڑے جائیں گے۔آرمی پبلک سکول لاہور گلشن اقبال اور موجودہ بچوں کا اغواء بھی بھارتی پشت پناہی کا حصہ ہیں۔ان سب کے پیچھے افغانستان کے تانے بانے ملتے ہیں ۔اور سمجھدار باخوبی سمجھتے ہیں افغانستان مطلب کہ بھارت کی کارستانی۔بھارت ایسی کارستانیاں کر کے پاکستان کی توجہ اصل مقاصد سے ہٹانا چاہتا ہے جس میں کشمیر کا مسئلہ اور پاک چائنہ کوریڈور بھی ہیں۔بھارت کی مزید کارستانیاں لکھنے سے قاصر ہوں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ بھارت برصغیر میں امن و سلامتی کو کچلنا چاہتا ہے اور پاکستان امن و سلامتی کو فروغ دیتا ہے۔جی وہ کہتے ہیں نہ کر بھلا ہو بھلا۔بھارت کے ساتھ کر برا ہو برا جیسا ہوا۔اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔مودی سرکار کو علم نہیں تھا کہ دوسروں کے ٹکڑے کرتے کرتے کبھی کبھار اپنا گھر بھی بکھر جاتا ہے۔مودی سرکار اپنے گھناؤنے مقاصد کے لئے برصغیر میں سرمایہ کاری تو کر رہی ہے۔کھربوں روپے کا اسلحہ۔مگر اپنا وطن بھارت غربت افلاس نا انصافی بد اخلاقی انتہا پسندی قتل و غارت نیز ہر قسم کی بد عنوانی کا شکار ہے۔ایسی ایسی بد عنوانیاں کہ آپ لکھتے ہوئے اور پڑھتے ہوئے کانوں کو ہاتھ لگا لیں۔انتہا پسند ہندؤں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے وہ جب چاہیں ہندوستان میں مقیم سکھوں مسلمانوں عیسائیوں دلتوں اور بدھ متوں کو زندہ جلا دیں انکی بستیاں اجاڑ دیں ان کی عزتوں کو اچھالیں۔ان غریب بے آسرا اور ستائی ہوئی اقلیتوں نے ہندوستان سرکار سے علیحدہ ریاستوں کا مطالبہ کیا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کا یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہ مطالبہ تھم نہیں سکتا ایسا مطالبہ ہی بیسویں صدی میں تھا جو اب ایک عرصہ کے بعد دوبارہ تقویت پکڑ رہا ہے اور یہ ہندوستان کی ساکھ کے لئے بہت نقصان دہ ہے۔اور زیادہ چانسسز ہیں کہ عنقریب ہندوستان اپنی غلط پالیسیوں اور ہٹ دھرمیوں سے بعض نہ آیا تو خود کے ٹکڑے ٹکڑے کر بیٹھے گا۔اتنے ٹکڑے کہ سمیٹنے بھی مشکل ہو جائیں گے۔یہی خوف ہندوستان میں اب بول رہا ہے اور سمجھدار ہندوستانی مودی کے خلاف بول رہے ہیں کہ مودی اپنا بھارت سنوارو نہ کہ دوسروں کے معالات میں ٹانگ اٹکاؤ۔بھارتی میڈیا اگر اپنے وطن کی سلامتی چاہتا ہے تو وطن کو بچانے کے لئے اپنی حکومت کی حقیقی غلط پالیسیوں سے عوام کو آگاہ کرے۔نہیں تو اس سیاسی کھیل میں بھارت کا اپنا ہی شیرازہ بکھر جائے گا۔پاکستانی میڈیا اور حکومت سے درخواست ہے کہ کشمیریوں کی آواز پوری دنیا تک صدق دل سے پورے جذبے سے پہنچائیں تا کہ دنیا کشمیر کو اسکا حق دلانے کے لئے اقدامات کرے۔

Sunday, 14 August 2016

یاد ہو کہ نہ یاد ہو

ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ
ہم کون ہیں کیا ہیں با خدا یاد نہیں
اپنے اسلاف کی کوئی بھی ادا یاد نہیں
ہے اگر یاد تو کافر کے ترانے ہی بس
ہے اگر نہیں یاد تو مسجد کی صدا یاد نہیں
آج اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شاید
سب کچھ ہے یاد مگر خدا نہیں
علامہ محمد اقبال کے یہ اشعار ہماری اور ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔چودہ اگست یوم آزادی کے دن کا سورج بھی غروب ہو چکا ہے۔یہ آزادی کا دن تھا ۔دن کچھ مصروف گزرا مصروفیت ایسی کہ سوسائیٹی میں چھوٹے بچوں سے ملا جو کہ پاکستانی جھنڈوں والے بہترین کپڑوں میں ملبوس تھے۔جنکے چہروں پر پاکستانی جھنڈوں کی پینٹنگ بنی ہوئی تھی ہاتھوں میں جھنڈ اور کپڑوں پر اسٹیکرز لگے ہوئے تھے۔بچوں سے کچھ سوالات کئے مگر مایوسی ملی کیونکہ بچوں کو پاکستان کی تاریخ بارے کچھ علم نہیں تھا سوائے کچھ رٹے ہوئے جوابات کے۔کچھ عرصہ و سال پہلے بچے بزرگوں سے پاکستان کی تاریخ پر کہانیاں سنا کرتے تھے جو برسوں یاد رہتیں اور زہن میں حقیقی نقشہ کھینچتیں۔نہ تو وہ پرانے بزرگ رہے اور نہ ہی ویسے بچے ۔وقت نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا روایات رسم و رواج بدل گئے بلکہ دوسر ے طاقتور ملک اپنی روایات کو ترقی پذیر ممالک میں بھی رائج کر چکے۔خیر چھوڑئیے بچے تو بچے ہوتے ہیں۔بڑوں کی محفل میں بیٹھا اور ما یوس ہوا ۔آزادی کے متعلق کوئی لفظ نہ سنا پلاٹس کے ریٹ اور گاڑیوں کی قیمت کے بارے سنا۔اچانک سوچتے سوچتے مجھے ایک دوست کی باتیں یاد آگئیں۔موصوف خود کو کافی لبرل و آزاد خیال اور دانشور سمجھتے ہیں۔ایک سیاسی لیڈر پر بحث تھی جناب کو وہ لیڈر بہت پسند ہیں ۔میں نے بات کاٹ کر قائداعظم محمد علی جناح کا حوالہ دیا اور بتایا کہ ایسے ہوتے ہیں لیڈر۔جناب نے میری ساری دلیلوں کو رد کر کے کہہ دیا کہ جناح انگریزوں کا ہم خیال تھا۔جناح نے ہندوستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے ہم ہندوستان میں ہوتے تو آج دنیا میں زیادہ مقام ہوتا۔یقین مانئے دل تو چاہا کہ اس شخص کو زناٹے دار دو چار تھپڑ رسید کروں مگر ایسا کر نہ پایا۔دل میں غصہ لئے میں نے اس شخص کو آزادی کتنی بڑی نعمت ہے کی دلیلیں دیں مگر وہ جنونی و پاگل شخص قائداعظم کو لیڈر ماننے کو تیار نہ تھا پاکستان کی عزت کو پامال کرتا جا رہا تھا۔میرا غصہ بھانپ کر یہ کہہ کر رخصت ہوگیا کہ یہ ہے پاکستان جہاں تم خود محفوظ نہیں جہاں تمہارا جان و مال خطرے میں ہے۔میرا بس چلتا تو اسے اسی وقت پاکستان سے چلتا کرتا۔مگر پاکستان ایک آزاد ریاست ہے میں ایسا نہ کر سکا۔ ایسے لوگوں کی کثیر تعداد ہمارے معاشرے میں موجود ہے جو کرتے کچھ ہیں ان کی زبان کچھ کہتی ہے۔رہتے پاکستان میں ہیں لیکن سوچ کسی اور وطن کی عکاسی کر رہی ہوتی ہے۔یہ لوگ پاکستان کا کھاتے ہیں پاکستان کا پیتے ہیں اور پاکستان کا ہی پہنتے ہیں مگر زبان دوسروں کی بولتے ہیں۔انہیں غدار کہنا مناسب ہوگا۔اب ہم سب کو بھانپنا ہوگا کہ کون غدار اور کون پاکستانی۔ایسے لوگوں کے لئے لکھ رہا ہوں کہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔واقعی تمہیں کچھ علم نہیں ۔تمہیں سبز ہلالی پرچم کی پہچان نہیں ۔تم نہیں جانتے کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے۔تم نہیں جانتے کہ کیوں پاکستان آزاد ہوا۔ہر گز نہیں تم کچھ نہیں جانتے تمہیں تاریخ کی حقیقت کا کوئی علم نہیں۔تم بنی بنائی سازشی کتابوں کی زد میں ہو۔تمہاری رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں۔اللہ سے دعا کرو کے سیدھا رستہ دکھائے۔تم لفظ آزادی سے آشنا نہیں کہ آزادی کیا ہے۔کیونکہ تمہیں کبھی کسی مصیبت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے جسے شاید میں بھی بیان نہ کر سکوں۔آزادی ایک ایسی نعمت ہے جس کو جھٹلانا بھی کفر سمجھتا ہوں۔آج ہم پاکستان میں آزادانہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔مگر یاد نہیں علم نہیں کہ اس آزادی کے حصول کے لئے کتنی قربانیاں دینا پڑیں۔لاکھوں لوگوں(اپنوں) کا خون ہے اس آزادی کے پیچھے۔یوں آسانی سے یہ وطن حاصل نہیں ہوا۔بڑی تحریکیں چلانا پڑیں۔دن رات ایک کرنا پڑا۔متعدد سالوں کی سخت محنت سے حاصل ہوا یہ وطن۔ہمیں کیا علم آزادی کیا ہے۔ہم گھروں میں بیٹھے صرف ٹیلی ویژن پر ہی آزادی کو بھانپ سکتے ہیں۔آزادی کا تو فلسطین والوں سے پوچھئے آزادی کا مفہوم کشمیریوں سے دریافت کیجئے۔وہ بتائیں آپکو کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے۔آج ہم اپنے گھروں میں بیٹھ کر لوگوں کو برا بھلا کہتے ہیں ہمیں کوئی روکنے والا نہیں کیوں کہ ہم آزاد ہیں۔مگر افسوس کہ جس شخص قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی بیماری کو پس پشت رکھ کر دن رات وطن عزیز پاکستان کے لئے محنت کی جس کی وجہ سے آج ہم آزاد ہیں اور منہ بڑھا کر جو مرضی بول دیتے ہیں اسے ہی برا بھلا کہتے ہیں کیوں کہ اس نے ہمیں آزادی دلائی۔علامہ محمد اقبال جس نے دو قومی نظریہ پیش کیا جس نے پاکستان ایک آزاد ریاست کا خواب دیکھا اس کو بھی برا بھلا کہتے ہیں اور اپنے اندر جھانکتے ہی نہیں کہ جن کے بار ے ہم باتیں کر رہے ہیں کیا ہم ان کے متعلق کچھ کہنے کے لائق بھی ہیں کہ نہیں۔ہمیں اپنے محسنوں کی پہچان نہیں رہی۔سن لو آزاد خیال لوگو تمہارے سامنے تمہارے خاندان کے کوئی ٹکڑے ٹکڑے کر دے اور تم کچھ نہ کر سکو تو تم جانو کہ آزادی کس نعمت کا نام ہے۔ہمارے بزرگوں نے اپنے خاندان گھر بار زمین و جائیداد سب کچھ آزادی کی خاطر قربان کر دیامگر غلامی کو تسلیم نہ کیا تاکہ ان کی آنے والی نسلیں بہتر زندگی گزار سکیں۔ہندوستان میں رہتے تو غلامی ہی تمہارا مقدر ٹھہرتی۔آزادی کتنی عظیم نعمت ہے ہندوستان میں مقیم مسلمانوں سکھوں عیسائیوں اور دلتوں سے دریافت کرو ۔ کس طرح ظالم انتہا پسند ہندو انہیں ذلیل کر رہے ہیں انکی عزتیں اچھال رہے ہیں اور ان ظالموں کو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں۔ان سے پوچھو تو تمہیں بتائیں کہ آج انہیں ایک اور جناح کی کتنی ضرورت ہے۔آج وہ آزادی کے لئے کتنا ترستے ہیں۔اے نام نہاد پاکستانیو نہیں تمہیں کچھ یاد نہیں۔تم اپنا مذہب اپنی روایات اپنا مان اپنی عزت سب بھول چکے ہو۔تم احسان فراموش ہو چکے ہو۔تم باتوں میں ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہو اور حقیقت میں زمین پر قدم رکھنے کے لائق بھی نہیں۔تمہیں یاد نہیں علم نہیں کہ گاندھی اور نہرو نے مسلمانوں کو مشکلات میں ڈالنے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا۔عورتوں کی عزتیں اچھالیں بچوں کو تلوارں پر سسکایا مردوں کو زندہ جلایا۔ظلم کی انتہا کر دی انتہا پسندوں نے۔آسانی سے وطن حاصل نہیں ہوا ۔بزرگوں بڑوں عورتوں اور بچوں کی قربانیوں نے اس آزادی کی دیوار کو قائم کیا ہے۔تم لوگ بلکہ ہم سب جن کے ہم خیال بننا چاہتے ہیں۔وہ تو ابھی بھی پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں شاید ہمیں یاد نہیں وہ ازل سے ہی ہمارے دشمن ہیں۔وہ اپنے میڈیا کے زریعے ہم جیسے احسان فراموش لوگوں کو بہکانا چاہتے ہیں۔اور ہمیں غدار بنانا چاہتے ہیں۔آج ہمارا وطن مشکلات سے دو چار ہے صرف ان ملک دشمنوں اور ان کے ہم خیالوں کی وجہ سے۔ہم اپنے انٹیلی جنس اداروں اپنے محافظوں کو برا بھلا کہہ دیتے ہیں مگر اپنے ارد گرد غداروں کو نہیں پہنچانتے۔اپنے اندر نہیں جھانکتے کہ آیا ہم کس سمت میں چل رہے ہیں؟ ہمارا فرض بحثیتپاکستانی کیا ہے؟۔ہمیں کس سمت چلنا چاہیے؟۔آج ہم نام کے مسلمان کیوں ہیں؟۔ ہم اسلام سے دور کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟۔افسوس کہ ہم احتساب کا نام تو لیتے ہیں مگر کبھی اپنا اپنی ذات کا احتساب نہیں کرتے؟۔ہمیں خود کے اندر جھانکنا ہوگا سب سے پہلے اپنا احتساب کر نا ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ آیا ہم محب وطن پاکستانی ہیں؟۔کیا ہم سچے مسلمان ہیں؟یا ہمارے اندر کوئی خامی ہے؟ اسے دور کرنا ہوگا۔ہمیں اپنی حالت خود بدلنی ہوگی آسمان سے کوئی فرشتہ اتر کر ہماری حالت نہیں بدلے گا۔اللہ رب العزت بھی انکی مدد کرتا ہے جو قومیں اپنی مدد آپ کریں۔ہمیں اپنی تاریخ کا کوئی بھی حصہ بلکہ کچھ بھی یاد نہیں۔ہمیں یاد کرنا ہوگا اور اپنی نسل تک منتقل کرنا ہوگا۔یوں قومیں اپنی تاریخ و روایات نہیں بھولتیں۔

Sunday, 7 August 2016

بچو اور بچاؤ


بچو اور بچاؤ

چوہدری ذوالقرنین ہندل ۔گوجرانوالہ
بہت کٹھن وقت آن پہنچا ہے۔کوئی کسی پر بھروسا ہی نہیں کر سکتا ۔نہ جانے کون کب آپ کے ساتھ ہاتھ کر جائے۔کون کب آپ کو دھوکا دے جائے۔کب اپنا ہی وہشت پر اتر آئے اور آپ کو کسی دلدل میں دھکیل دے۔کسی دوست کسی عزیز و رشتہ دار حتی کہ اپنے سگوں پر بھی بھروسا کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ایسا دور آن پہنچا ہے کہ آپ اپنے سب سے بڑے دشمن کو ہی اپنا سب سے بڑا دوست تصور کرتے ہیں مگر وہ ایک دن آپ کو ایسا تباہ کرتا ہے کہ آپ دوبارہ آباد نہیں ہوتے۔ہمیں اس موجودہ دور میں بہت سنبھل کر چلنا ہوگا خود بھی ایسے عناصر سے بچنا ہوگا اور اپنے بال بچوں گھر والوں و دوستوں کو بھی ایسے عناصر سے بچانا ہوگا۔
کبھی ایسا وقت بھی ہوا کرتا تھا کہ سب آزادانہ زندگی بسر کیا کرتے۔دکھ فکر غم اور ڈر انسان سے کوسوں دور رہتا ۔زندگی سہل تھی۔پریشانیاں کم تھیں۔لوگ کم تھے سہولتیں نہ تھیں بلکہ لفظ سہولت سے لوگ آشنا ہی نہ تھے۔مشقت کی زندگی تھی۔مگر سکون تھا۔جو جتنی زیادہ مشقت کر لیتا اتنا زیادہ اچھا کھانا کھا لیتا۔دولت نام کی کوئی چیز نہ تھی لوگ عالم نہ تھے۔اتنی سادگی تھی کہ ہم تصور ہی نہیں کر سکتے۔وقت گزرتا گیا لوگوں میں محنت و مشقت کا جذبہ پیدا ہوا۔جو جتنی زیادہ محنت کر لیتا اتنی ہی بہتر زندگی بسر کرلیتا۔آہستہ آہستہ لوگوں میں مقابلہ بازی شروع ہو گئی۔مگر زندگی بہتر بنانے کے مقابلوں میں کبھی ذاتی دشمنی کو پروان نہ چڑھنے دیا۔لوگ سادہ تھے لڑائی جگھڑا بہت کم تھا۔انسان اکٹھے ہو کر دوسری بالاؤں کا مقابلہ کرتے۔انسانوں میں اتفاق تھا۔وقت گزرا بالائیں ٹلیں تو انسان آپس میں لڑنا شروع ہوئے۔وقت کے ساتھ ساتھ لڑائیاں بڑھتی گئیں۔زمین پر انسانوں کی بڑھتی تعداد کے ساتھ ساتھ کئی جرم بھی بڑھے۔حتی کہ یہاں تک نوبت آن پہنچی کہ انسان اپنا مال و زر بھی بڑی احتیاط سے رکھنے لگا صدیاں گزریں مال وزر کو فتنا بنتے دیکھا گیا۔انسان نے اپنے مال ودولت کو محفوظ رکھنے کے لئے کئی اقدامات کئے مگر محفوظ نہ رکھ سکا۔گھر سے باہر نکلتے وقت کوئی اپنے پاس زیادہ رقم نہ رکھتا کہ چھن نہ جائے۔اپنے مال کی حفاظت کے لئے انسان پریشان رہنے لگا۔مگر گزشتہ کئی سالوں سے انسانوں کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا۔جب سے انسانی اسمگلنگ کے واقعات سامنے آئے تب سے انسان خود کو کہیں بھی محفوظ نہیں سمجھتا۔گھر سے باہر جاتے ہر کوئی ڈرتا ہے کہ کہیں کوئی مجھے ہی نہ اٹھا لے۔پوری دنیا میں ایسے واقعات سامنے آئے انسانوں کو انسان ہی اٹھا لے جاتے ہیں۔میں جانتا ہوں ایسے لوگوں کو انسان کہنا گناہ ہے۔لیکن معذرت کے ساتھ یہ انسانی اسمگلر اور اغواء کار بھی ہم جیسے ہی ہیں کوئی اور مخلوق نہیں ہم میں سے ہی ہیں انکے بھی ہماری طرح عزیز و اقارب بھی ہیں۔پوری دنیا میں انسانی اسمگلنگ کئی طریقوں سے کی جاتی ہے۔جن میں نشہ آور چیزوں کے استعمال سے اغوا سب سے زیادہ ہے۔جہاں دنیا بھر میں انسانی قدروں کا خاتمہ ہوا انسانیت کو پامال کیا گیا وہیں پاکستان بھی کسی سے پیچھے نہ رہا۔گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں بھی انسانی اسمگلنگ کے کئی واقعات سامنے آئے۔بچوں بڑوں بوڑھوں اور عورتوں کو بھی اغواء کیا جاتا رہا۔انسانی اسمگلر لوگوں کو اغوا کر کے روپے کے عوض فروخت کر دیتے۔با اثر لوگ انسانوں کو خرید کر ان سے طرح طرح کے دھندے کرواتے ہیں۔کچھ اسمگلرز انسانوں کو اغواء کر کے انکے جسمانی اعضاء نکال کر فروخت کرتے ہیں ایسے لوگوں کے ساتھ ڈاکٹرز بھی ملوث ہیں۔کچھ اغوا کار روپے(تاوان) حاصل کر کے مغوی لوگوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔جن کے چھوٹنے پر ہمارے ادارے اپنا جعلی کریڈٹ لے جاتے ہیں۔گزشتہ کئی روز سے پنجاب بھر میں بچوں کے اغواء کے کئی واقعات سامنے آئے۔سینکڑوں بچے پنجاب سے اغوا ہوئے جن میں سے زیادہ کو بازیاب کروا لیا گیا مگر ابھی بھی بہت زیادہ غائب ہیں۔یہ سلسلہ تھما نہیں ہر گزرتے دن کے ساتھ بچوں کے اغواء میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے۔بہت سے سوالات ہیں جو لوگوں کے دل و دماغ میں گردش کر رہے ہیں۔اغوا کار کون ہیں کیوں اغوا کرتے ہیں؟بچے آسانی سے کیسے اغوا ہوتے ہیں ؟اغوا کے واقعات کو روکا کیوں نہیں جاتا؟اور حکومت اسکی روک تھام ک لئے کیا کر رہی ہے؟آخر کہاں ہے وہ میڈیا اور سیاسی و سماجی نمائندگان جو وزیر اعظم گورنر اور چیف جسٹس کے بیٹے کے اغواء پر تو چیختے ہیں مگر عام غریب لوگوں کی آواز کیوں نہیں بنتے؟کسی بھی معاشر میں غربت و جہالت ایسے فیکٹر ہیں جو انسان کو برائی کے کسی بھی درجے پر لے جاتے ہیں۔غربت و جہالت انسان کو انسانیت کے درجے سے گرا کر شیطان کے برابر بھی کھڑا کر سکتی ہے۔پاکسان میں غربت جہالت و عدم انصاف کی وجہ سے کئی جرم پروان چڑھے جس میں اغواء کاری چوری ڈکیتی جسم فروشی قتل و غارت بہت عام ہیں۔اغواء کار بھی روپے کے لالچ میں ایسے گناؤنے کام کو انجام دے رہے ہیں۔غربت و جہالت ان لوگوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔غربت کے ستائے ہوئے یہ لوگ بااثر اسمگلروں ک ہتھے چڑھ کر روپے کے عوض اپنے اور دوسروں کے گھر اجاڑ رہے ہیں۔ روپے کے لالچ میں اپنا انجام بھول بیٹھے ہیں کہ دنیا و آخرت میں انہیں سخت سزاؤں سے کوئی بچا نہیں سکے گا ۔چھوٹے بچے انکا آسان ہدف ہوتے ہیں۔کیونکہ پاکستان میں لوگ بچوں کو جنم دے کر بھول جاتے ہیں کہ انکا خیال بھی رکھنا ہے۔سکول داخل کروا کر بھول جاتے ہیں کہ بچہ سکول بھی جاتا ہے اور اغواء کار بچوں کو کھانے کے لالچ میں نشا آور اشیاء کھلا کر سکولوں گلی محلوں سے با آسانی اٹھا کر اپنے غلط مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔اغواء کے واقعات کو اس لئے روکا نہیں جا سکا کیوں کہ ہمارے ادارے سوئے ہوئے ہیں کوئی بھی ادارہ اپنے فرض سے واقف نہیں۔ہمارے سیکورٹی اداروں کے اہلکار حکومتی نمائندوں کی خدمت میں مصروف و معمور ہوتے ہیں اور عام شہریوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں کہ ان کے ساتھ کیا کچھ ہو رہا ہے۔یقین مانئے بے حد افسوس ہوتا ہے ایسے دہرے معیار پر حکومتی وسیاسی اور سماجی نمائندوں کی بے حسی پر جونامور شخصیات کے بچوں کے اغواء پر دن رات چیختے رہتے ہیں مگر عام شہریوں کے بچوں کے اغواء پر خاموش بیٹھے ہیں۔یہ دہرا معیار کیوں؟آخر کب اسکا خاتمہ ہوگا؟ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ روپے کے عوض راگ الاپتے ہیں یا پھر انسانی اسمگلروں سے ان کے اچھے مراسم ہیں۔ہمیں ان ماؤں کے غم کا کیا پتہ جن کے معصوم پھول مر جھا گئے جن کی آنکھوں کے آنسو اور روشنی ختم ہوگئی جو اپنے پیاروں کی شکل دیکھنے کو تڑپ رہی ہیں۔ہمیں اس باپ کے غم کا کیا علم جس کے سامنے اس کے بچوں کو اغواء کیا گیا اور وہ کچھ نہ کر سکا وہ ساری زندگی کیسے جی سکے گا۔آہ ان عورتوں کو کون پوچھے گا جن کو اغواء کر کے بھی زندہ رکھا گیا آہ یہ بے حس معاشرہ۔ہمیں کسی کے غم کا کیا اندازا کسی اپنے بلکہ جگر کے ٹکڑے کے چھن جانے کا کیا غم ہے۔کیا یہ وہی پاکستان ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا جہاں لوگ اپنی آزادانہ زندگی بسر کر سکتے کبھی بھی نہیں میں اسے اسلام سے کیسے منصوب کر دوں جہاں کوئی کسی کا درد بھانٹنے والا نہیں جہاں اخوت نہیں انصاف نہیں قانون نہیں۔جہاں ہر کوئی دولت کے لالچ میں ڈوبا ہوا ہے کیسے وہ اسلامی ملک ہو سکتا ہے۔خدارا خود بھی بچو اور دوسروں کو بھی بچاؤ۔آج کسی کا بیٹا اغواء کرو گے تو کل کوئی تمہارا اغواء کرے گا۔آج تمہیں کسی کے غم کی کوئی پروا نہیں تو کل کو اللہ نہ کرے تمہارے ساتھ ایسا ہوجائے تو کسی کو تمہارے غم کی بھی کوئی پروا نہیں ہوگی۔یاد رکھو جو بیج بویا جائے گا اسی کو کاشت کرو گے۔حکمرانوں اور اداروں سے امیدیں وابستہ کرنا چھوڑ دیں یہ آپ کے زخموں پر نمک ہی چھڑک سکتے ہیں۔خود ایک اچھا معاشرہ بن جاؤ ایک دوسرے کے ہاتھ بن جاؤ اتنے مضبوط ہاتھ کے کوئی تمہاری طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہ سکے۔دوسروں کی مدد کر کے ان کو بچائیں اور اللہ کے حضور خود بھی بچیں یعنی بخشش پائیں۔