Sunday, 29 January 2017

مردم شماری


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹو وائس آف سوسائٹی

آبادی و اعدادوشمار کے لحاظ سے کسی بھی وطن کے لئے مردم شماری بہت ہی ضروری ہے۔مردم شماری سے شرح خواندگی اور ناخوندگی کا اندازہ ہوتا ہے۔مردم شماری سے ہی بڑھتی آبادی پر کنٹرول وسائل کی تقسیم اور علاقوں کی تقسیم ممکن ہے۔مردم شماری سے ہی آبادی کی معلومات حاصل کی جاتی ہیں اور پھر آبادی کے حساب سے ہی علاقوں میں ترقیاتی کام کروائے جاتے ہیں۔سکول کالج ہسپتال وغیرہ سب آبادی کی معلومات سے ہی ممکن ہوتا ہے۔مردم شماری سے صوبوں شہروں قصبوں بلکہ ہر سطح کی آبادی کا اندازہ ہوتا ہے۔مردم شماری سے آبادی کے درست اعدادو شمار ملتے ہیں۔مختلف زبانیں بولنے والوں کی تعداد بلکہ آبادی کے حوالے سے تمام اعدادو شمار۔مختلف ممالک میں مردم شماری بڑے جدید اور ڈیجیٹل سسٹم کے زریعے کی جاتی ہے۔اکثریت ممالک میں گھر گھر جاکر کاغذی طریقہ کار سے ہی مردم شماری عمل میں آتی ہے۔یہ طریقہ خاصہ کٹھن مگر پائیدار ہے۔پاکستان سمیت مخلف ممالک میں مردم شماری ٹیموں کو متعدد مصیبتوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔کئی ممالک میں مردم شماری میں تاخیر بھی اسی وجہ سے سامنے آئی۔پاکستان میں مردم شماری میں تاخیر کی کئی وجوہات ہیں۔جن میں حکومتوں کی غیر سنجیدگی اور سیکیورٹی سر فہرست ہیں۔اکثر ممالک میں ہر دس سال یا اس کے قریبی عرصہ کے بعد مردم شماری کروائی جاتی ہے۔پاکستانی آئین کے مطابق بھی ہر دس سال بعد مردم شماری کروانا ضروری ہے۔مگر افسوس سے پاکستان میں شروع ہی سے اس میں تاخیر کی جاتی رہی اور آخری دفعہ پانچویں مردم شماری 1998 میں ہوئی۔اٹھارہ سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور مردم شماری میں ابھی بھی تاخیر کی جارہی ہے۔بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک مردم شمار ی میں تاخیر بھی کرپشن کے ذمر میں آتی ہے۔اور اس کرپشن میں بھی ہماری حکومتیں ملوث رہیں۔بعض بڑی سیاسی جماعتیں اس وجہ سے مردم شماری کو لٹکانا چاہتی ہیں کہ کہیں انکا ووٹ بینک نہ کم ہو جائے۔گزشتہ کئی سالوں سے اندازہ سسٹم ہی چل رہا ہے۔اندازوں کی بدولت ہی فنڈز کی تقسیم اور دوسرے معاملات چلائے جا رہے ہیں۔جو انتہائی افسوس ناک عمل ہے۔صوبائی اور علاقائی تعصب کی بڑی وجہ بھی مردم شماری میں تاخیر ہے۔بہت سے علاقے اپنے اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر بتاتے ہیں۔محض مردم شماری میں تاخیر کی وجہ سے پاکستان میں بہت سے نظام متاثر ہو رہے ہیں۔ترقیاتی منصوبوں میں منصفانہ تقسیم بھی بروقت مردم شماری سے ہی ممکن ہے۔مردم شماری پر بہت سے فیکٹرز منحصر ہیں۔صوبائی ڈویژن ڈسٹرکٹ سٹی حتی کہ یونین کونسل تک کی حد بندیاں بھی مردم شماری سے ممکن ہیں۔علاقوں کی تقسیم درست ہوگی تو ہی فنڈز کی تقسیم درست ہوگی۔مردم شماری سے ہی عورتوں مردوں کی تعداد معلوم کی جا سکتی ہے۔خواجہ سراؤں کی تعداد معلوم کر کے انہیں بھی نمائندگی دی جا سکتی ہے۔ملک میں موجود اقلیتوں کو نمائندگی بھی مردم شماری سے ممکن ہے۔پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی نمائندگی بھی مردم شماری سے ہی طے کی جا سکتی ہے۔میں اپنے پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ گزشتہ کئی سالوں سے متعدد غلطیاں مردم شماری میں تاخیر کی وجہ سے ہوئی ہوں گی۔مردم شماری میں مزید تاخیر ملکی ترقی میں رکاوٹ ہے اسی لئے مردم شماری جلد از جلد مکمل ہونی چاہئے۔یہ بھی وقت کی بڑی ضرورت ہے۔مردم شماری ہمیں خوانداہ اور ناخواندہ کے اعداد و شماربھی مہیا کرتی ہے جس سے بے روزگاری پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔گزشتہ کئی سالوں سے سیکیورٹی کی عدم دستیابی کو مردم شماری میں تاخیر کی وجہ ٹھہرایا جاتا رہا۔مگر جنرل قمر جاوید باجوہ نے دو لاکھ فوجی جوان مردم شماری کے لئے مختص کرنے کا حکم جاری کردیا۔فوجی جوان مردم شماری ٹیموں کے ساتھ مختلف فرائض انجام دیں گے جن میں سیکیورٹی سر فہرست ہے۔اب ان لوگوں کے پاس کوئی جواز نہیں بچا جو مسلسل مردم شماری میں تاخیر چاہتے تھے۔امید کرتے ہیں کہ مقررہ وقت پندرہ مارچ کو ہی ملک میں چھٹی مردم شماری کا آغاز ہوگا اور اسے جلد از جلد مکمل کیا جائیگا۔مختلف پسماندہ علاقوں کے مکینوں کے پاس قومی شناختی کارڈ موجود نہیں ان میں احساس محرومیت پیدا ہوسکتاہے۔جن میں بلوچستان اور دوسر صوبوں کے کچھ علاقے بھی ہیں۔ویسے نادرا ایک پرائیویٹ ادارہ ہے مگر نادرا کی سست روی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حکومتی اداروں سے بھی گیاگزرا ہے۔دیہی اور دور دراز کے علاقوں میں نادرا کا کوئی سسٹم موجود نہیں۔شہروں میں قطاروں کا رش کم نہیں ہوتا ۔کارڈ کے حصول کے لئے لوگوں کو دھکے مل رہے ہیں۔حکومت کو فوری اس طرف توجہ کرنی ہوگی تا کہ لوگ خوش اسلوبی سے شناختی کارڈ بنوا کر ملکی مردم شماری اور ملکی انتخابات میں حصہ لے سکیں۔دیکھا جائے تو ایک بڑی تعداد ووٹ کے حق سے صرف شناختی کارڈ کی وجہ سے محروم ہے۔آخر میں حکومت اور عوام سے گزارش ہے کہ مردم شماری کی ٹیموں کی ہر ممکنہ مدد کی جائے۔تاکہ مردم شماری جیسا اہم کام خوش اسلوبی سے مکمل ہو جائے۔ملک پاکستان مزید ترقیاں سمیٹ سکے۔حکومت کو اب دل سے مردم شماری میں انٹرسٹ لینا ہوگا۔اور حکومت کو مردم شماری سے آگاہی کے اشتہارات بھی چلانے چاہیے تا کہ لوگً مردم شماری میں آسانی سے اپنا کردار ادا کرسکیں۔امید کرتے ہیں کہ مردم شماری سے ملکی اعدادو شمار کا درست اندازہ جلد مکمل ہوجائے گا۔

Sunday, 1 January 2017

ہیپی نیو ائیر



چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

ویسے تو گزرا ہوا ایک پل بھی لوٹ کر نہیں آتا۔گزشتہ سال ہمیشہ کے لئے دفن ہو گیا۔سال دو ہزار سولہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔ بس روز قیامت اس سال کا حساب ہوگا۔نئے سال کا آغاز ہو چکا ہے۔گزشتہ رات گیارہ بج کر انسٹھ منٹ اور پچاس سیکنڈز پر پاکستان کے بچوں نوجوانوں اور بڑوں نے بڑی خوشی اور جوش کے ساتھ اگلے سال کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع کر دیا تھا۔صبح بارہ بجے پورے پاکستان میں ہیپی نیو ائیر کی صدائیں گونجنے لگیں۔آتش بازی کی آوازوں اور روشنیوں نے سماں باندھ دیا۔مختلف رنگوں اور مختلف طریقوں سے نئے سال کو خوش آمدید کہا گیا۔میں نے گزشتہ کے برعکس تنہائی میں نئے سال کو ویلکم کہا۔ دل ہی میں گزشتہ سال کی کوتاہیوں پر اللہ سے معافی مانگی اور گزشتہ خوشیوں کو دہرا کر خوش بھی ہوا۔خدا سے راہ راست بھی مانگا۔خیر نئے سال کی آمد پر لوگ بہت پرجوش دکھائی دے رہے ہیں۔بعض نے آتشبازی اور فائرنگ سے نئے سال کو خوش آمدید کہا بعض نے نوافل اور دعاؤں سے آغاز کیا۔سب نے اپنی سوچ اپنی تسکین اور خواہش کے مطابق نئے سال کا آغاز کیا۔اسلام میں تو اسلامی کلینڈر کے مطابق نئے سال کا آغاز ہوتا ہے۔مگر ہمارے ہاں عیدیں شب بارات وغیرہ ہی اسلامی کلینڈر کے مطابق منائی جاتی ہیں باقی سب انگریزی کلینڈر کے مطابق چلتا ہے۔حدیث کی کتابوں میں ہے۔جب نیا سال شروع ہوتا تو صحابہ اکرام ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے۔(اے اللہ اس کو ہم پر امن و ایمان سلامتی اور اسلام کے ساتھ رحمن کی خوشنودی اور شیطان سے حفاظت کے ساتھ لائیے)۔ہمیں بھی صحابہ اکرام کی طرح اللہ رب العزت سے سلامتی کی دعائیں مانگنی چاہئیے۔نئے سال کی خوشیاں ضرور منانی چاہئیں مگر اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ سال کی کوتاہیوں اور غلطیوں کو یاد کر کے ان پر قابو پانے کی کوشش بھی کرنی چاہئیے۔اللہ سے گزشتہ گناہوں پر صدق دل سے معافی مانگنی چاہیے۔نئے سال راہ راست پر چلنے کی دعا مانگنی چاہیے۔2016 اچھی اور بری یادوں کو سمیٹے تاریخ کا حصہ بن گیا۔مجموعی طور پر بہت سی چیزیں پہلے جیسی رہیں۔جیسے کرپشن نا انصافی دہرا معیار زندگی مغربی تقلید قرض پہلے سے بڑھ گئے اور خومختاری کی دھجیاں اور بہت کچھ۔کچھ چیزوں میں بدلاؤ بھی آیا۔ملکی حالات میں قدرے بہتری آئی امن و امان بحال ہوا دہشتگردی کم ہوئی۔کچھ دلسوز واقعات نے لرزہ کر رکھ دیا۔کوئٹہ حملہ بلوچستان بار کی قتل و غارت باچا خاں یونیورسٹی حملہ گلشن اقبل لاہور دھماکہ امجد صابری کا قتل سال کے آخر میں پی آئی اے کا حادثہ 47 جانوں کا خاتمہ اور معروف نعت خواں جنید جمشید کا حادثے میں شہید ہونا اور مزید بہت کچھ۔سیاسی ماحول بھی گرم رہا۔ایم کیو ایم کی تقسیم الطاف اجارہ داری کا خاتمہ پانامہ لیکس ڈان لیکس دھرنے آصف زرداری کی وطن واپسی۔گزشتہ سال کی سب سے اچھی خبر سی پیک کے حوالے سے پاک چائنا اقتصادی راہداری یقین سے خطے کے لئے معاشی ترقی میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔اس حوالے سے پڑوسی ملک کی شر انگیزیاں بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کا پکڑا جانا۔ضرب عضب کی کامیابیاں جنرل راحیل کی ریٹائرمنٹ اور فوج کی کمان جنرل قمر باجوہ کے ہاتھ میں۔برطانوی جریدے کے مطابق پاکستان میں امن کی بحالی اور بہت کچھ جو میں نہ لکھ سکا۔درست بات ہے کہ نہ دن بدلتے ہیں نہ راتیں نہ ہی مہینے۔نہ ہی آسمان بدلتا ہے نہ ہی زمین۔صرف ہندسے بدلتے ہیں۔مگر یہ بھی درست ہے کہ ہندسوں کے بدلنے سے احساسات بھی بدل جاتے ہیں۔سوچ بدل جاتی ہے۔گزشتہ کی محرومیاں موجودہ کی خواہشات بن جاتی ہیں۔جن پر عملدرآمد نئے سرے سے ہوتا ہے۔کمیوں کوتاہیوں اور غلطیوں کو ختم کرنے اور ان پر قابو پانے کا عزم پیدا ہوتا ہے۔تھکا ہارا تکلیفوں کا مارا وقت کا روندا ہوا گمنام انسان ایک بار پھر دوبارہ سے اپنی قسمت کو بہتر بنانے اور تقدیر کو بدلنے کے لئے نیا راستہ چنتا ہے نیا ولولہ لاتا ہے اور نئے عزم کے ساتھ وہ اپنے نئے و پرانے خواب پورے کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہو جاتا ہے۔ماضی سے شکست خوردہ انسان پہلے سے زیادہ عزم اور ولولے کے ساتھ اپنی جستجو اور کوشش میں مگن ہوتا ہے ۔نئی بنیادوں کی مضبوطی میں مگن ہوجاتا ہے نئی بنیادیں وہی لوگ بھر سکتے ہیں جو اس راز سے واقف ہوں کہ پرانی بنیادیں کیوں بیٹھ گئیں۔یہ انسان کی اپنی چاہت ہے کہ وہ ہندسے بدلتا ہے وہ ماضی میں دفن ہوتا ہے یا پھر ماضی کی محرومیوں کو پورا کرتا ہے حال میں جیتا ہے۔انسان کو ماضی کی شکست سے آزاد ہونے ک لئے روڈ میپ بنانا چاہیے اپنا ٹارگٹ فٹ کرنا چاہیے اور پھر تجسس جیسی خصوصیات کے ساتھ لگن اور جستجو کو بھی تھام لینا چاہیے۔دنیا کے خالق اور مالک کی تعریف و توحید بھی کامیابی ہے۔2016 پیچھے کھڑا ہے2017 آگے اب آپ پر منحصر ہے کہ 2017 کو بہتر بنائیں یا گزشتہ کی طرح مایوسی میں سال گزار دیں۔یاد رکھئیے نیا سال ہے نیا عزم نیا ولولہ نیا حوصلہ نیا صبر نئی جستجو نئی لگن نئی کوشش اور نئی خوشیوں بھری زندگی آ پکی منتظر ہے۔اللہ ہمارے نیک ارادے پورے کرے اور ہمیں حوصلہ و عزم عطا کرے۔دعا ہے کہ نیا سال دنیا اور پاکستان کے لئے بہترین ثابت ہو انصاف رواداری برابری مساوات معاشرے کا حصہ بن جائیں اور ظلم ناانصافی دہشتگردی بے ایمانی غداری کا خاتمہ ہو۔اللہ کرے اس سال سب کی نیک تمنائیں پوری ہوں لوگوں کے قرض ختم ہوں رزق میں کشادگی آئے دلوں میں اخلاق اور چہروں پر مسکراہٹ ہو خوبصورت پھول اور کلیاں پیدا ہوں معاشرہ امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے ہر طرف سبزہ ہو اور امن کی مہک دنیا میں پھیل جائے۔ہیپی نیو ائیر۔سال نو مبارک ہو۔
مانا دن وہی رات وہی بدلاؤ ہے صرف ہندسوں کا
مگر یہ جستجو یہ عزم یہ تجسس کہاں سے آیا ہے
مانا یہ گزشتہ سال بھی تھا بہت سی تلخ خامیوں کا
مگر یہ سال بھی تو ساتھ اپنے مواقع ہزار لایا ہے