Monday, 13 June 2016

روزہ۔ہمارے مسلمان

روزہ۔ہمارے مسلمان
چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ
روزہ اسلام کا تیسرا اور اہم رکن ہے۔عربی میں اسے صوم بھی کہتے ہیں۔صوم کے لغوی معنی ہیں کسی چیز سے رک جانا۔اصطلاح شریعت میں سحری سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے جملہ برائیوں اور مباشرت وغیرہ سے رک جانا روزہ کہلاتا ہے۔نمازحج اور زکوۃکی طرح روزہ بھی ایک عظیم عبادت ہے۔ماہ رمضان میں ہر عافل بالغ تندرست اور مقیم مرد اور عورت کے لیے روزہ رکھنا فرض ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے۔
ترجمہ۔پس تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے وہ ضرور پورے مہینے کے روزے رکھے۔
ارشاد باری تعالی ہے۔
ترجمہ۔ابن آدم کا ہر عمل اس کا ہوتا ہے مگر روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔
آپﷺ نے فرمایا۔
ترجمہ۔جس شخص نے رمضان کے روزے محض اللہ تعالی پر ایمان لاتے ہوئے ثواب سمجھ کر رکھے اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیے گئے۔
رمضان بڑی برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہے اور رمضان میں روزے کی حالت میں انسان کے ہر عمل پر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ثواب ملتا ہے۔روزہ انسان کے لئے بے حد اجر و ثواب کا موجب ہے۔بابرکت مہینے میں شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں۔روزہ دار کی اجرت میں بے پناہ اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ہر وقت اللہ تعالی کی رحمتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے۔
قرآن میں ارشاد باری تعالی ہے۔
ترجمہ۔اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔
یعنی روزہ خالص انسانوں کی بھلائی کے لئے ہے۔پہلی امتوں پر روزہ ایک بوجھ سمجھا جاتا تھا لیکن اسلام اور قرآن نے اس کی اصلاح کی ۔روزہ انسانوں کی بہتری کے لئے چند دنوں کے لئے فرض کیا گیا۔بیماری بڑھاپے اور حالت سفر میں روزہ پورا کرنے کی آسانی کیونکہ روزے کی فرضیت میں اللہ تعالی کو محض انسانیت کی اصلاح اور نجات مقصود ہے۔
ارشاد نبویﷺ ہے۔
ترجمہ۔جوآدمی روزہ رکھنے کے باوجود جھوٹ بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالی کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے سے کوئی سروکار نہیں۔
قارئین لکھنے کو تو روزے پر پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے مگر نہ تو میں کوئی بڑا عالم ہوں نہ ہی ماہر اسلامیات بس تھوڑا بنیادی لکھنا مقصود تھا تا کہ بات کو آگے بڑھا سکوں۔میں ارشاد نبوی ﷺ سے ہی آگے چلتا ہوں۔دوستو روزہ رکھنے کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ صرف اور صرف کھانے پینے سے پرہیز کرنا ۔بلکہ سر سے لے کر پاؤں تک نیز اپنے جسم کے تمام اعضاء کو روزہ کی حالت میں رکھنا ہی روزہ ہے۔یعنی بولو تو سچ بولو۔تمہارے بول سے کسی کا دل نہ دکھے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔تمہارے بول ہر لحاظ سے صاف ہوں۔یعنی زبان کا درست استعمال فحش گوئی و تلخ گوئی سے اجتناب۔اپنی آنکھوں سے فحاشی نہ دیکھو۔تمہارے ہاتھ پاؤں سے کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔یعنی پورے جسم کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھال لو یہی روزہ ہے۔مگر افسوس کہ کے ہمارے آج کے مسلمان سب کچھ جاننے کے باوجود بھی اس پر عمل پیرا نہیں۔جھوٹ و فریب کا بازار گرم ہے۔روزہ رکھ کر جھوٹ بولتے ہیں گالیاں بکتے ہیں ناپ تول میں لوگوں سے فراڈ کرتے ہیں چیزوں میں ملاوٹ کرتے ہیں چیزوں کو زخیرہ کر کے مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔رمضان جیسے بابرکت مہینے کو ہمارے نام نہاد مسلمانوں نے مشکل بنا دیا ہے۔کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر کے غریبوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔خاص کر ہمارے ملک پاکستان میں روزہ رکھ کر لوگ فراڈ اور دھوکے کر رہے ہیں۔یہ وطن ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا اور افسوس کے کہ ہمارے وطن میں نہ ہی لوگوں کو اسلام کے بارے علم ہے اور نہ ہی روزے کے بارے۔ایسے روزے کا کوئی فائدہ نہیں جس میں جھوٹ بولا جائے۔ہر طرف افراتفری کا سماں ہے۔افراتفری تو پہلے بھی تھی مگر ہمارے پاکستانی مسامان بھائیوں نے تو رمضان میں افراتفری کو اور وسعت دے دی۔لوگ رمضان جیسے رحمتوں والے مہینے میں نیکیاں کمانے کی بجائے روپیہ اور دولت کمانے میں مصروف ہیں۔ہمارے حکومتی نمائندوں کو تو اپنی لڑائیوں اور اقتدار کے کھیلوں سے ہی فرصت نہیں۔اور لوگ لوٹ مار کر رہے ہیں۔افسوس کہ اب غیر مسلم کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کابا برکت مہینہ ختم ہوگا تو مہنگائی کم ہو گی پھر ہی ضروریات زندگی حاصل کر سکیں گے۔اور مزید افسوس میں اضافہ ہوتاہے جب پتہ چلتا ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں نے اپنی چیزوں کی قیمتوں پر رمضان میں کمی کی ہے اور مسلمانوں نے قیمتوں میں اضافہ۔میری ان لوگوں سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی روزہ نہ رکھا کریں اگر اسکی پاسداری نہیں کر سکتے ۔کیوں اسلام کا نام خراب کرتے ہو؟اسلام نے توہر چیز کا واضح حکم دیا ہے۔خود کو مسلمان کہلاتے ہو تو حقیقی مسلمان بنو۔اور اللہ کو حاظر ناظر جان کر روزہ رکھو اور اسکی پاسداری کرو۔یہ سب تنقید کرنے کا مقصد حقیقت بتانا ہے۔اور پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں کچھ اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں۔
آج اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شاید
سب کچھ ہے یاد مگر خدا یاد نہیں