Monday, 7 March 2016

Samj Sy Balatar By Zulqarnain Hundal

سمجھ سے بالاتر۔دہرا معیار۔۔۔۔ تحریر: چوہدری ذوالقرنین ہندل،گوجرانوالہ

اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر زمین پراتارا ہے۔ اور بنی نوع انسان کا بھی فرض ہے کہ وہ اللہ تعالی کے احکا مات کے مطابق زندگی گزارے اور اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا ثبوت دے۔ خیر چھوڑئیے دنیا میں انسان تو مختلف رنگوں میں پائے جاتے ہیں۔ مجھے آج پاکستانی عوام پہ بات کرنی ہے۔ یہ کہنا بجا ہو گا کہ ہماری عوام سمجھ سے بالاتر ہے۔ میں ایک عرصہ سے عوام پر نظر لگائے بیٹھا ہوں۔ میں نے لوگوں کو بہت تولا۔ ناپا۔ جانچا اور پرکھا لیکن جب میری باری آئی تومجھے ترازو ہی نہیں ملا کیونکہ مجھ سے اپنے گریبان میں جھانکا نہیں جاتا مگر دوسروں کے گریبان سے نظر نہیں ہٹتی ۔ یہی ہماری عوام کا المیہ ہے۔ کہ خود میں چاہے لاکھ خامیاں خرابیاں ہوں۔مگر خود کو دوسروں سے افضل جانتے ہیں۔ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں۔ کسی ایک بات پر کسی ایک معیار پر اکتفاء نہیں کرتے۔ ہرروز اپنی رائے بدلتے ہیں۔ اپنی ہر خامی خرابی دوسروں پر ڈالتے ہیں۔ خود کو پاک دامن تصور کرتے ہیں اور دوسروں کو کم تر ۔زندگی کا کوئی معیار نہیں۔ معیار لوگوں کی دولت کے مطابق ہے۔ دولت کے مطابق معیار۔ خیر پانچوں انگلیاں برابر تو نہیں ہوتی۔کچھ اچھے لوگ بھی موجود ہیں جو واقعی دین دار ہیں اور انسانیت کوسمجھتے ہیں۔ جنہوں نے اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھاما ہے۔ جو مذہب وطن کو اپنے مفاد کے لیئے استعمال نہیں کرتے۔افسوس کے ایسے انسانوں۔ مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ کثرت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جوخود کو عامل اور باعمل سمجھتے ہیں مگر عمل انسے کوسوں دور ہوتا ہے۔ اور خود کو بہتر جانتے ہوئے انہوں نے دوسروں کی زندگی اجیرن کرر کھی ہے۔ صرف انکا مقصد تنقید کرناہے۔دوسرے کو کم تر دکھا نا ۔ خود کو افضل دکھانا خیر چھوڑئیے ایسی عوام پہ تو تبصرہ ہوتا رہے گا ۔ آخری ہفتہ جو گزرا ہے اپنے ساتھ بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے۔قارئین جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں ۔گزشتہ سو موار کو ممتاز حسین قادری صاحب کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔یہ خبر سن کر میں بھی ششدر رہ گیا۔ عوام کافی ہلچل میں رہی۔ ممتاز حسین قادری صاحب کو سابقہ گورنر سامان تاثیر کے قتل کے جرم میں سزا دی گئی۔ممتاز حسین قادری صاحب نے سلمان تا ثیر کو بار باراسلام مخالف بیانات اور توہین رسالت کی مجرم آسیہ کی ہمدردی اور اسلام کے قانون کو کالا قانون کہنے کی وجہ سے ممتاز قادری نے انہیں قتل کیا ۔اچھا کیایا غلط یہ تو اللہ تعالی بہتر جانتے ہیں لیکن انسان اپنے حذبات پر قابو نہیں پا سکتا جب کوئی اسکے مذہب کے بارے میں غلط کہے۔اور میرے نزدیک ممتاز قادری شہید بھی اپنے جذبات پر قابو نہیں پا سکا وہ ایک سچا عاشق رسول تھا۔ اس بات کا یقین سب کو ہے۔ جب تختے پر لٹکایا گیا تو اس عاشق رسول کے ہاتھ پاؤں نہ کانپے اور نہ ہی اسکے دل میں خوف اور مایوسی تھی۔ بلکہ ممتاز قادری نے خوشی خوشی اپنی جان دے دی۔افسوس ہے۔ایسے انصاف والوں پر اور ایسی عوام پر جن کے پاس دہرا معیار ہے۔ اور ایسے حکمرانوں پر آج بہت سی تنظیموں اور پارٹیوں اور لوگوں کی طرف سے احتجاج کیئے جارہے ہیں۔جبکہ اب ممتاز قادری اپنے خالق حقیقی کو جا ملے ہیں۔ ان لوگوں سے میرا ایک سوال ہے کہ کہاں تھے لوگ جب ممتاز قادری کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ تب کوئی سامنے نہیں آیا جب ممتاز قادری جیل میں قید تھے۔کہاں تھی یہ نعرہ بازی۔ کہاں تھے یہ اسلام والے جو آج اپنے مفادوں کی وجہ سے یا اپنی اپنی سیاسی دکانیں چمکانے میں لگے ہوئے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ ہرگز کوئی بھی اسکا درست جواب نہیں دے گا۔ کیونکہ ان سب میں دہرا معیار ہے۔ اگر ان لوگوں نے اتنے احتجاج اور جلوس پہلے قادری صاحب کے حق میں کئے ہوتے اور سب نے مل کر ممتاز قادری صاحب کی رہائی کے لےئے حکومت سے اپیل کی ہوتی ان کے لےئے ایک اچھا وکیل کیا ہوتا مگر افسوس تب یہ سب سوئے ہوئے تھے۔ اب اپنے مفادوں کو ترجیح دینے یہ وطن میں توڑ پھوڑ کروا رہے ہیں۔دوسری مایوسی مجھے حکومت اور انصاف کرنے والوں پہ ہے۔ خیر ان لوگوں سے تو ایسی ہی توقع کی جا سکتی ہے ۔کیونکہ انکی نظر میں انصاف کا معیار ایک نہیں۔ صدر اور وزیراعظم آج چپ بیٹھے ہیں۔کیا یہ ایسے کریٹیکل معاملے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے تھے۔فیصلہ کر سکتے تھے مگر نہیں کیا کیونکہ انہیں عاشق رسول کی کوئی پروا نہیں بلکہ ایک سیاستدان کی پرواہ ہے۔ میرا سوال ہے کہ کیوں سب کے لےئے انصاف کا معیار اور ہے؟ کیوں ریمنڈڈیوس کو پھانسی نہیں دی گئی؟ کیوں شارخ جتوئی زندہ ہے ۔کیوں مصطفی کانجو اور گیلانی صاحب کے بیٹے زندہ ہیں۔کیا انکی باری انصاف کامعیار اور ہے۔ ہمارے وطن میں متعدد لوگوں کو عمر قید کی سزائیں بھی سنائیں گئی ہیں ایسے بہت سے واقعات ہیں کہ قتل کے جرم میں ۸’۷’۱۰ سال کی سزا کے بعد مجرم کو رہا کر دیا گیا ہے۔کیا ممتاز قادری کی باری ان پر کوئی دباؤ تھا یا ذاتی رکھ رکھاؤ کو قائم رکھا۔ یہ پاکستان ہے۔یہ اسلام کے نام پر حاصل کیاگیاہے۔پھر اس میں انصاف بھی سب کے لئے ایک ہونا چاہیے۔ ایسی قومیں تباہ ہو جاتی ہیں جہاں انصاف کا معیار دہرا ہوتا ہے۔ پاکستان میں انصاف کا فقدان عرصہ دراز سے ہے۔ اسی لئے آج ہم افراتفری کی قید میں جکڑے جا چکے ہیں۔ ہماری حکمرانوں کی نظر میں دہرا معیار ہماری عوام کی نظر میں دہرا معیار ہم سب افرا تفری کی قید میں قابو ہیں۔ہمیں صرف اپنی فکر ہے۔ دوسروں کے لئے کوئی سوچتا بھی نہیں نہ مذہب کی پاسداری نہ وطن کی۔ صرف مفاد پر ستی رہ گئی ہے۔ یہ سب اسلام دین سے دوری کے باعث ہے۔ ہمیں خود کو بدلنا ہو گا۔ ہم سمجھ سے بالاتر ہوتے جارہے ہیں۔
کہتا ہے زمانے سے یہ درویش جواں مرد
جاتا ہے جدھر بندہ حق تو بھی ادھر جا