Sunday, 9 July 2017

قومی سلامتی اور سازشی عناصر


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔مکینیکل انجینئر۔سی ای او ،وائس آف سوسائٹی۔گوجرانوالہ

پاکستانی سلامتی کو جتنا خطرہ بیرونی سازشوں سے ہے ان سے کہیں زیادہ خطرات اندرونی سازشوں سے ہیں،جن میں مختلف این جی اوز مختلف تنظیمیں اور مختلف گروہ سرگرم ہیں۔افسوس ہم بے چارے سادہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پڑھ لکھ کر آزاد ہوگئے ہیں مگر بہت سے عناصر انٹرنیٹ،سوشل میڈیا کے زریعے ہمیں استعمال کر رہے جن میں دین کے نام پر آزادی کے نام پر اور بہت سے طریقوں سے عوام کو ٹریپ کیا جا رہا ہے۔اور ہم بے چارے لوگ ہیں کہ ہمیں ملکی سلامتی پس پردہ ڈال کر ان سازشوں کے بنائے ہوئے کھیل پر ناچنا پڑتا ہے۔حقیقت میں ہم اصلاحی کام کررہے ہوتے ہیں مگر بعض اوقات جزباتی طور پر ملکی سلامتی اور خودمختاری کی دجھیاں ہم سے جانے انجانے اڑ ہی جاتی ہیں۔خیر اس میں عوام کا کوئی زیادہ قصور نہیں ہوتا بلکہ سازشی گروپ اور ان کے کنٹرول پینل اتنے مضبوط اور جامع ہوتے ہیں کہ ہر کوئی ان کی گرفت میں آجائے۔حکومت پاکستان کو اس کی اصلاح کے لئے مزید کام کرنا ہوگا اورایسے عناصر کو بے نقاب کرنے کیلئے کوششیں کرنی ہوں گی۔ملکی سلامتی عرصہ دراز سے زیر بحث ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کی عسکری و سول قیادت نے ملکی سلامتی کو سب سے زیادہ مقدم جانا ،ملکی بقاء کی خاطر مشکل حالات میں طرح طرح کی سازشوں کا مقابلہ کیا۔بعض غلطیاں بھی سر زد ہوئیں، بعض اوقات سازشی عناصر کوغلبہ حاصل رہا اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سازشی عناصر کی تشخیص نہ ہونا۔جیسے مرض کی تشخیص ہوجائے تو علاج کرنا آسان ہوتا ہے اسی طرح ملکی سلامتی کے خلاف ہونے والی سازشوں کی تشخیض بہت ہی ضروری اور اہم ہے اس ضمن میں حکومت کو ایک کمیٹی تشکیل دینی چاہئے جس میں مختلف ڈیپارٹمنٹ کے فلاسفر موجود ہوں جو ہر وقت ملک میں ہونے والی سازشوں کو بھانپیں اور متعلقہ اداروں کو ان کے بارے آگاہ کریں۔ملک پاکستان کی سلامتی سے جڑے چند ممالک قابل زکر ہیں۔بھارت، افغانستان،ایران،چین،امریکہ اور روس وغیرہ۔موجودہ صورتحال سے باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ روس اور چائنہ پاکستان کے قریب سے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔اور ہمسایہ ممالک بھارت ایران اور افغانستان سے تعلقات میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔امریکہ جو کہ ایشیاء میں اثر رسوخ کے لئے پاکستان کا استعمال کرتا رہا اس کے نا روا رویے اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو بھانپتے ہوئے پاکستان کا جھکاؤ چائنہ کی طرف بڑھ گیا ہے اور امریکہ سے تعلقات کافی حد تک کم ہوچکے ہیں۔مختلف مفکرین و تجزیہ کاروں کے مطابق چائنہ پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتا ہے اور روس امریکہ کی جگہ پاکستان کا استعمال چاہتا ہے ۔چائنہ پاکستان کا خیر خواہ اس لئے ہے کہ دونوں کا بڑا دشمن بھارت ہے اور اس کے علاوہ چائنہ براستہ پاکستان وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی چاہتا ہے سی پیک اسی ضمن میں جاری ہے۔دوسری طرف امریکہ بھارت کا بڑا حامی ہے اور بیک وطن بھارت اور پاکستان کو استعمال کرنا چاہتا ہے سازشوں کی دنیا کا بادشاہ ملک ہے امریکہ۔جبکہ بھارت تو پاکستان کا ازل سے ہی دشمن ہے اس کی بڑی وجہ کشمیر ہے۔افسوس ناک امر ہے کہ ایران و افغانستان مسلمان ممالک ہوتے ہوئے بھی پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اسکی بڑی وجہ شاید بھارت اور اسکی خفیہ ایجنسی را ہے۔بھارت ایران میں چار بہار بندرگاہ کے لئے خطیر رقم خرچ کر رہا ہے تاکہ وہ ایران کی حمایت حاصل کرکے پاکستان کو خطے میں تنہا کرسکے۔ایران اور افغانستان پاکستان کے ہمسایہ ملک ہیں اسی لئے سازشی و مکار بھارت نے ان پر اپنا اثر ورسوخ بڑھا لیا ہے تاکہ پاکستان کی سلامتی کو ٹھیس پہنچا سکے اس کی مثالیں بھی سامنے آچکی ہیں۔جیسے کلبھوشن یادیو۔پاکستان اور چین کے مفادات ایک دوسرے سے منسلک ہیں باقی تمام ملک صرف سازشی عناصر کا کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں جن کے ماسٹر مائینڈ خود امریکہ و بھارت ہیں۔پاکستان کو اب امریکہ نواز پالیسیوں سے باہر نکلنا ہوگا اور اپنی خودمختاری کو سر فہرست لانا ہوگا تاکہ ہماری سلامتی کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔پاکستان کو بیک وقت افغانستان پر اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کی ضرورت ہے اوراس میں چین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور مسئلہ کشمیر کو مزید اجاگر کرنا ہوگا ۔گزشتہ دن وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سول و عسکری قیادت نے شرکت کی۔جس میں ملکی سلامتی امن اور کشمیر سمیت کلبھوشن کیس پر تبادلہ خیال ہوا۔ اجلاس میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ سازشی ملک بھارت کو دنیا میں بے نقاب کریں گے ۔ملکی قیادت نے فیصلہ کیا کہ بھارت کی ہر سازش کا بروقت اور موئثر جواب دیا جائے گا۔میں سلامتی کمیٹی کی ان کاوششوں کو سراہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ سول قیادت سفارتی سطح پر سازشی عناصر کو لگام ڈالے گی۔ امید کرتا ہوں کہ اندرونی سازشوں کی تشخیص کے لئے بھی کوئی موئثر اقدام کیا جائے گا۔متعدد بار لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کو اپنی خودمختاری عزیز ہونی چاہئے پاکستان خودمختار اور ثابت قدم ہوجائے تو بھارت تو خود ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا جس میں متعدد علیحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں۔موجودہ صورتحال پاکستان کے سامنے ہے اب پاکستان کو بھانپنا ہوگا کہ ان کے لئے غلط و درست کیا ہے اور یہ کام جتنا جلد ہوجائے اتنا ہی بہتر ہے۔