Sunday, 14 August 2016

یاد ہو کہ نہ یاد ہو

ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ
ہم کون ہیں کیا ہیں با خدا یاد نہیں
اپنے اسلاف کی کوئی بھی ادا یاد نہیں
ہے اگر یاد تو کافر کے ترانے ہی بس
ہے اگر نہیں یاد تو مسجد کی صدا یاد نہیں
آج اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شاید
سب کچھ ہے یاد مگر خدا نہیں
علامہ محمد اقبال کے یہ اشعار ہماری اور ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔چودہ اگست یوم آزادی کے دن کا سورج بھی غروب ہو چکا ہے۔یہ آزادی کا دن تھا ۔دن کچھ مصروف گزرا مصروفیت ایسی کہ سوسائیٹی میں چھوٹے بچوں سے ملا جو کہ پاکستانی جھنڈوں والے بہترین کپڑوں میں ملبوس تھے۔جنکے چہروں پر پاکستانی جھنڈوں کی پینٹنگ بنی ہوئی تھی ہاتھوں میں جھنڈ اور کپڑوں پر اسٹیکرز لگے ہوئے تھے۔بچوں سے کچھ سوالات کئے مگر مایوسی ملی کیونکہ بچوں کو پاکستان کی تاریخ بارے کچھ علم نہیں تھا سوائے کچھ رٹے ہوئے جوابات کے۔کچھ عرصہ و سال پہلے بچے بزرگوں سے پاکستان کی تاریخ پر کہانیاں سنا کرتے تھے جو برسوں یاد رہتیں اور زہن میں حقیقی نقشہ کھینچتیں۔نہ تو وہ پرانے بزرگ رہے اور نہ ہی ویسے بچے ۔وقت نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا روایات رسم و رواج بدل گئے بلکہ دوسر ے طاقتور ملک اپنی روایات کو ترقی پذیر ممالک میں بھی رائج کر چکے۔خیر چھوڑئیے بچے تو بچے ہوتے ہیں۔بڑوں کی محفل میں بیٹھا اور ما یوس ہوا ۔آزادی کے متعلق کوئی لفظ نہ سنا پلاٹس کے ریٹ اور گاڑیوں کی قیمت کے بارے سنا۔اچانک سوچتے سوچتے مجھے ایک دوست کی باتیں یاد آگئیں۔موصوف خود کو کافی لبرل و آزاد خیال اور دانشور سمجھتے ہیں۔ایک سیاسی لیڈر پر بحث تھی جناب کو وہ لیڈر بہت پسند ہیں ۔میں نے بات کاٹ کر قائداعظم محمد علی جناح کا حوالہ دیا اور بتایا کہ ایسے ہوتے ہیں لیڈر۔جناب نے میری ساری دلیلوں کو رد کر کے کہہ دیا کہ جناح انگریزوں کا ہم خیال تھا۔جناح نے ہندوستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے ہم ہندوستان میں ہوتے تو آج دنیا میں زیادہ مقام ہوتا۔یقین مانئے دل تو چاہا کہ اس شخص کو زناٹے دار دو چار تھپڑ رسید کروں مگر ایسا کر نہ پایا۔دل میں غصہ لئے میں نے اس شخص کو آزادی کتنی بڑی نعمت ہے کی دلیلیں دیں مگر وہ جنونی و پاگل شخص قائداعظم کو لیڈر ماننے کو تیار نہ تھا پاکستان کی عزت کو پامال کرتا جا رہا تھا۔میرا غصہ بھانپ کر یہ کہہ کر رخصت ہوگیا کہ یہ ہے پاکستان جہاں تم خود محفوظ نہیں جہاں تمہارا جان و مال خطرے میں ہے۔میرا بس چلتا تو اسے اسی وقت پاکستان سے چلتا کرتا۔مگر پاکستان ایک آزاد ریاست ہے میں ایسا نہ کر سکا۔ ایسے لوگوں کی کثیر تعداد ہمارے معاشرے میں موجود ہے جو کرتے کچھ ہیں ان کی زبان کچھ کہتی ہے۔رہتے پاکستان میں ہیں لیکن سوچ کسی اور وطن کی عکاسی کر رہی ہوتی ہے۔یہ لوگ پاکستان کا کھاتے ہیں پاکستان کا پیتے ہیں اور پاکستان کا ہی پہنتے ہیں مگر زبان دوسروں کی بولتے ہیں۔انہیں غدار کہنا مناسب ہوگا۔اب ہم سب کو بھانپنا ہوگا کہ کون غدار اور کون پاکستانی۔ایسے لوگوں کے لئے لکھ رہا ہوں کہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔واقعی تمہیں کچھ علم نہیں ۔تمہیں سبز ہلالی پرچم کی پہچان نہیں ۔تم نہیں جانتے کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے۔تم نہیں جانتے کہ کیوں پاکستان آزاد ہوا۔ہر گز نہیں تم کچھ نہیں جانتے تمہیں تاریخ کی حقیقت کا کوئی علم نہیں۔تم بنی بنائی سازشی کتابوں کی زد میں ہو۔تمہاری رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں۔اللہ سے دعا کرو کے سیدھا رستہ دکھائے۔تم لفظ آزادی سے آشنا نہیں کہ آزادی کیا ہے۔کیونکہ تمہیں کبھی کسی مصیبت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے جسے شاید میں بھی بیان نہ کر سکوں۔آزادی ایک ایسی نعمت ہے جس کو جھٹلانا بھی کفر سمجھتا ہوں۔آج ہم پاکستان میں آزادانہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔مگر یاد نہیں علم نہیں کہ اس آزادی کے حصول کے لئے کتنی قربانیاں دینا پڑیں۔لاکھوں لوگوں(اپنوں) کا خون ہے اس آزادی کے پیچھے۔یوں آسانی سے یہ وطن حاصل نہیں ہوا۔بڑی تحریکیں چلانا پڑیں۔دن رات ایک کرنا پڑا۔متعدد سالوں کی سخت محنت سے حاصل ہوا یہ وطن۔ہمیں کیا علم آزادی کیا ہے۔ہم گھروں میں بیٹھے صرف ٹیلی ویژن پر ہی آزادی کو بھانپ سکتے ہیں۔آزادی کا تو فلسطین والوں سے پوچھئے آزادی کا مفہوم کشمیریوں سے دریافت کیجئے۔وہ بتائیں آپکو کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے۔آج ہم اپنے گھروں میں بیٹھ کر لوگوں کو برا بھلا کہتے ہیں ہمیں کوئی روکنے والا نہیں کیوں کہ ہم آزاد ہیں۔مگر افسوس کہ جس شخص قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی بیماری کو پس پشت رکھ کر دن رات وطن عزیز پاکستان کے لئے محنت کی جس کی وجہ سے آج ہم آزاد ہیں اور منہ بڑھا کر جو مرضی بول دیتے ہیں اسے ہی برا بھلا کہتے ہیں کیوں کہ اس نے ہمیں آزادی دلائی۔علامہ محمد اقبال جس نے دو قومی نظریہ پیش کیا جس نے پاکستان ایک آزاد ریاست کا خواب دیکھا اس کو بھی برا بھلا کہتے ہیں اور اپنے اندر جھانکتے ہی نہیں کہ جن کے بار ے ہم باتیں کر رہے ہیں کیا ہم ان کے متعلق کچھ کہنے کے لائق بھی ہیں کہ نہیں۔ہمیں اپنے محسنوں کی پہچان نہیں رہی۔سن لو آزاد خیال لوگو تمہارے سامنے تمہارے خاندان کے کوئی ٹکڑے ٹکڑے کر دے اور تم کچھ نہ کر سکو تو تم جانو کہ آزادی کس نعمت کا نام ہے۔ہمارے بزرگوں نے اپنے خاندان گھر بار زمین و جائیداد سب کچھ آزادی کی خاطر قربان کر دیامگر غلامی کو تسلیم نہ کیا تاکہ ان کی آنے والی نسلیں بہتر زندگی گزار سکیں۔ہندوستان میں رہتے تو غلامی ہی تمہارا مقدر ٹھہرتی۔آزادی کتنی عظیم نعمت ہے ہندوستان میں مقیم مسلمانوں سکھوں عیسائیوں اور دلتوں سے دریافت کرو ۔ کس طرح ظالم انتہا پسند ہندو انہیں ذلیل کر رہے ہیں انکی عزتیں اچھال رہے ہیں اور ان ظالموں کو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں۔ان سے پوچھو تو تمہیں بتائیں کہ آج انہیں ایک اور جناح کی کتنی ضرورت ہے۔آج وہ آزادی کے لئے کتنا ترستے ہیں۔اے نام نہاد پاکستانیو نہیں تمہیں کچھ یاد نہیں۔تم اپنا مذہب اپنی روایات اپنا مان اپنی عزت سب بھول چکے ہو۔تم احسان فراموش ہو چکے ہو۔تم باتوں میں ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہو اور حقیقت میں زمین پر قدم رکھنے کے لائق بھی نہیں۔تمہیں یاد نہیں علم نہیں کہ گاندھی اور نہرو نے مسلمانوں کو مشکلات میں ڈالنے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا۔عورتوں کی عزتیں اچھالیں بچوں کو تلوارں پر سسکایا مردوں کو زندہ جلایا۔ظلم کی انتہا کر دی انتہا پسندوں نے۔آسانی سے وطن حاصل نہیں ہوا ۔بزرگوں بڑوں عورتوں اور بچوں کی قربانیوں نے اس آزادی کی دیوار کو قائم کیا ہے۔تم لوگ بلکہ ہم سب جن کے ہم خیال بننا چاہتے ہیں۔وہ تو ابھی بھی پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں شاید ہمیں یاد نہیں وہ ازل سے ہی ہمارے دشمن ہیں۔وہ اپنے میڈیا کے زریعے ہم جیسے احسان فراموش لوگوں کو بہکانا چاہتے ہیں۔اور ہمیں غدار بنانا چاہتے ہیں۔آج ہمارا وطن مشکلات سے دو چار ہے صرف ان ملک دشمنوں اور ان کے ہم خیالوں کی وجہ سے۔ہم اپنے انٹیلی جنس اداروں اپنے محافظوں کو برا بھلا کہہ دیتے ہیں مگر اپنے ارد گرد غداروں کو نہیں پہنچانتے۔اپنے اندر نہیں جھانکتے کہ آیا ہم کس سمت میں چل رہے ہیں؟ ہمارا فرض بحثیتپاکستانی کیا ہے؟۔ہمیں کس سمت چلنا چاہیے؟۔آج ہم نام کے مسلمان کیوں ہیں؟۔ ہم اسلام سے دور کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟۔افسوس کہ ہم احتساب کا نام تو لیتے ہیں مگر کبھی اپنا اپنی ذات کا احتساب نہیں کرتے؟۔ہمیں خود کے اندر جھانکنا ہوگا سب سے پہلے اپنا احتساب کر نا ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ آیا ہم محب وطن پاکستانی ہیں؟۔کیا ہم سچے مسلمان ہیں؟یا ہمارے اندر کوئی خامی ہے؟ اسے دور کرنا ہوگا۔ہمیں اپنی حالت خود بدلنی ہوگی آسمان سے کوئی فرشتہ اتر کر ہماری حالت نہیں بدلے گا۔اللہ رب العزت بھی انکی مدد کرتا ہے جو قومیں اپنی مدد آپ کریں۔ہمیں اپنی تاریخ کا کوئی بھی حصہ بلکہ کچھ بھی یاد نہیں۔ہمیں یاد کرنا ہوگا اور اپنی نسل تک منتقل کرنا ہوگا۔یوں قومیں اپنی تاریخ و روایات نہیں بھولتیں۔

Sunday, 7 August 2016

بچو اور بچاؤ


بچو اور بچاؤ

چوہدری ذوالقرنین ہندل ۔گوجرانوالہ
بہت کٹھن وقت آن پہنچا ہے۔کوئی کسی پر بھروسا ہی نہیں کر سکتا ۔نہ جانے کون کب آپ کے ساتھ ہاتھ کر جائے۔کون کب آپ کو دھوکا دے جائے۔کب اپنا ہی وہشت پر اتر آئے اور آپ کو کسی دلدل میں دھکیل دے۔کسی دوست کسی عزیز و رشتہ دار حتی کہ اپنے سگوں پر بھی بھروسا کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ایسا دور آن پہنچا ہے کہ آپ اپنے سب سے بڑے دشمن کو ہی اپنا سب سے بڑا دوست تصور کرتے ہیں مگر وہ ایک دن آپ کو ایسا تباہ کرتا ہے کہ آپ دوبارہ آباد نہیں ہوتے۔ہمیں اس موجودہ دور میں بہت سنبھل کر چلنا ہوگا خود بھی ایسے عناصر سے بچنا ہوگا اور اپنے بال بچوں گھر والوں و دوستوں کو بھی ایسے عناصر سے بچانا ہوگا۔
کبھی ایسا وقت بھی ہوا کرتا تھا کہ سب آزادانہ زندگی بسر کیا کرتے۔دکھ فکر غم اور ڈر انسان سے کوسوں دور رہتا ۔زندگی سہل تھی۔پریشانیاں کم تھیں۔لوگ کم تھے سہولتیں نہ تھیں بلکہ لفظ سہولت سے لوگ آشنا ہی نہ تھے۔مشقت کی زندگی تھی۔مگر سکون تھا۔جو جتنی زیادہ مشقت کر لیتا اتنا زیادہ اچھا کھانا کھا لیتا۔دولت نام کی کوئی چیز نہ تھی لوگ عالم نہ تھے۔اتنی سادگی تھی کہ ہم تصور ہی نہیں کر سکتے۔وقت گزرتا گیا لوگوں میں محنت و مشقت کا جذبہ پیدا ہوا۔جو جتنی زیادہ محنت کر لیتا اتنی ہی بہتر زندگی بسر کرلیتا۔آہستہ آہستہ لوگوں میں مقابلہ بازی شروع ہو گئی۔مگر زندگی بہتر بنانے کے مقابلوں میں کبھی ذاتی دشمنی کو پروان نہ چڑھنے دیا۔لوگ سادہ تھے لڑائی جگھڑا بہت کم تھا۔انسان اکٹھے ہو کر دوسری بالاؤں کا مقابلہ کرتے۔انسانوں میں اتفاق تھا۔وقت گزرا بالائیں ٹلیں تو انسان آپس میں لڑنا شروع ہوئے۔وقت کے ساتھ ساتھ لڑائیاں بڑھتی گئیں۔زمین پر انسانوں کی بڑھتی تعداد کے ساتھ ساتھ کئی جرم بھی بڑھے۔حتی کہ یہاں تک نوبت آن پہنچی کہ انسان اپنا مال و زر بھی بڑی احتیاط سے رکھنے لگا صدیاں گزریں مال وزر کو فتنا بنتے دیکھا گیا۔انسان نے اپنے مال ودولت کو محفوظ رکھنے کے لئے کئی اقدامات کئے مگر محفوظ نہ رکھ سکا۔گھر سے باہر نکلتے وقت کوئی اپنے پاس زیادہ رقم نہ رکھتا کہ چھن نہ جائے۔اپنے مال کی حفاظت کے لئے انسان پریشان رہنے لگا۔مگر گزشتہ کئی سالوں سے انسانوں کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا۔جب سے انسانی اسمگلنگ کے واقعات سامنے آئے تب سے انسان خود کو کہیں بھی محفوظ نہیں سمجھتا۔گھر سے باہر جاتے ہر کوئی ڈرتا ہے کہ کہیں کوئی مجھے ہی نہ اٹھا لے۔پوری دنیا میں ایسے واقعات سامنے آئے انسانوں کو انسان ہی اٹھا لے جاتے ہیں۔میں جانتا ہوں ایسے لوگوں کو انسان کہنا گناہ ہے۔لیکن معذرت کے ساتھ یہ انسانی اسمگلر اور اغواء کار بھی ہم جیسے ہی ہیں کوئی اور مخلوق نہیں ہم میں سے ہی ہیں انکے بھی ہماری طرح عزیز و اقارب بھی ہیں۔پوری دنیا میں انسانی اسمگلنگ کئی طریقوں سے کی جاتی ہے۔جن میں نشہ آور چیزوں کے استعمال سے اغوا سب سے زیادہ ہے۔جہاں دنیا بھر میں انسانی قدروں کا خاتمہ ہوا انسانیت کو پامال کیا گیا وہیں پاکستان بھی کسی سے پیچھے نہ رہا۔گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں بھی انسانی اسمگلنگ کے کئی واقعات سامنے آئے۔بچوں بڑوں بوڑھوں اور عورتوں کو بھی اغواء کیا جاتا رہا۔انسانی اسمگلر لوگوں کو اغوا کر کے روپے کے عوض فروخت کر دیتے۔با اثر لوگ انسانوں کو خرید کر ان سے طرح طرح کے دھندے کرواتے ہیں۔کچھ اسمگلرز انسانوں کو اغواء کر کے انکے جسمانی اعضاء نکال کر فروخت کرتے ہیں ایسے لوگوں کے ساتھ ڈاکٹرز بھی ملوث ہیں۔کچھ اغوا کار روپے(تاوان) حاصل کر کے مغوی لوگوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔جن کے چھوٹنے پر ہمارے ادارے اپنا جعلی کریڈٹ لے جاتے ہیں۔گزشتہ کئی روز سے پنجاب بھر میں بچوں کے اغواء کے کئی واقعات سامنے آئے۔سینکڑوں بچے پنجاب سے اغوا ہوئے جن میں سے زیادہ کو بازیاب کروا لیا گیا مگر ابھی بھی بہت زیادہ غائب ہیں۔یہ سلسلہ تھما نہیں ہر گزرتے دن کے ساتھ بچوں کے اغواء میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے۔بہت سے سوالات ہیں جو لوگوں کے دل و دماغ میں گردش کر رہے ہیں۔اغوا کار کون ہیں کیوں اغوا کرتے ہیں؟بچے آسانی سے کیسے اغوا ہوتے ہیں ؟اغوا کے واقعات کو روکا کیوں نہیں جاتا؟اور حکومت اسکی روک تھام ک لئے کیا کر رہی ہے؟آخر کہاں ہے وہ میڈیا اور سیاسی و سماجی نمائندگان جو وزیر اعظم گورنر اور چیف جسٹس کے بیٹے کے اغواء پر تو چیختے ہیں مگر عام غریب لوگوں کی آواز کیوں نہیں بنتے؟کسی بھی معاشر میں غربت و جہالت ایسے فیکٹر ہیں جو انسان کو برائی کے کسی بھی درجے پر لے جاتے ہیں۔غربت و جہالت انسان کو انسانیت کے درجے سے گرا کر شیطان کے برابر بھی کھڑا کر سکتی ہے۔پاکسان میں غربت جہالت و عدم انصاف کی وجہ سے کئی جرم پروان چڑھے جس میں اغواء کاری چوری ڈکیتی جسم فروشی قتل و غارت بہت عام ہیں۔اغواء کار بھی روپے کے لالچ میں ایسے گناؤنے کام کو انجام دے رہے ہیں۔غربت و جہالت ان لوگوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔غربت کے ستائے ہوئے یہ لوگ بااثر اسمگلروں ک ہتھے چڑھ کر روپے کے عوض اپنے اور دوسروں کے گھر اجاڑ رہے ہیں۔ روپے کے لالچ میں اپنا انجام بھول بیٹھے ہیں کہ دنیا و آخرت میں انہیں سخت سزاؤں سے کوئی بچا نہیں سکے گا ۔چھوٹے بچے انکا آسان ہدف ہوتے ہیں۔کیونکہ پاکستان میں لوگ بچوں کو جنم دے کر بھول جاتے ہیں کہ انکا خیال بھی رکھنا ہے۔سکول داخل کروا کر بھول جاتے ہیں کہ بچہ سکول بھی جاتا ہے اور اغواء کار بچوں کو کھانے کے لالچ میں نشا آور اشیاء کھلا کر سکولوں گلی محلوں سے با آسانی اٹھا کر اپنے غلط مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔اغواء کے واقعات کو اس لئے روکا نہیں جا سکا کیوں کہ ہمارے ادارے سوئے ہوئے ہیں کوئی بھی ادارہ اپنے فرض سے واقف نہیں۔ہمارے سیکورٹی اداروں کے اہلکار حکومتی نمائندوں کی خدمت میں مصروف و معمور ہوتے ہیں اور عام شہریوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں کہ ان کے ساتھ کیا کچھ ہو رہا ہے۔یقین مانئے بے حد افسوس ہوتا ہے ایسے دہرے معیار پر حکومتی وسیاسی اور سماجی نمائندوں کی بے حسی پر جونامور شخصیات کے بچوں کے اغواء پر دن رات چیختے رہتے ہیں مگر عام شہریوں کے بچوں کے اغواء پر خاموش بیٹھے ہیں۔یہ دہرا معیار کیوں؟آخر کب اسکا خاتمہ ہوگا؟ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ روپے کے عوض راگ الاپتے ہیں یا پھر انسانی اسمگلروں سے ان کے اچھے مراسم ہیں۔ہمیں ان ماؤں کے غم کا کیا پتہ جن کے معصوم پھول مر جھا گئے جن کی آنکھوں کے آنسو اور روشنی ختم ہوگئی جو اپنے پیاروں کی شکل دیکھنے کو تڑپ رہی ہیں۔ہمیں اس باپ کے غم کا کیا علم جس کے سامنے اس کے بچوں کو اغواء کیا گیا اور وہ کچھ نہ کر سکا وہ ساری زندگی کیسے جی سکے گا۔آہ ان عورتوں کو کون پوچھے گا جن کو اغواء کر کے بھی زندہ رکھا گیا آہ یہ بے حس معاشرہ۔ہمیں کسی کے غم کا کیا اندازا کسی اپنے بلکہ جگر کے ٹکڑے کے چھن جانے کا کیا غم ہے۔کیا یہ وہی پاکستان ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا جہاں لوگ اپنی آزادانہ زندگی بسر کر سکتے کبھی بھی نہیں میں اسے اسلام سے کیسے منصوب کر دوں جہاں کوئی کسی کا درد بھانٹنے والا نہیں جہاں اخوت نہیں انصاف نہیں قانون نہیں۔جہاں ہر کوئی دولت کے لالچ میں ڈوبا ہوا ہے کیسے وہ اسلامی ملک ہو سکتا ہے۔خدارا خود بھی بچو اور دوسروں کو بھی بچاؤ۔آج کسی کا بیٹا اغواء کرو گے تو کل کوئی تمہارا اغواء کرے گا۔آج تمہیں کسی کے غم کی کوئی پروا نہیں تو کل کو اللہ نہ کرے تمہارے ساتھ ایسا ہوجائے تو کسی کو تمہارے غم کی بھی کوئی پروا نہیں ہوگی۔یاد رکھو جو بیج بویا جائے گا اسی کو کاشت کرو گے۔حکمرانوں اور اداروں سے امیدیں وابستہ کرنا چھوڑ دیں یہ آپ کے زخموں پر نمک ہی چھڑک سکتے ہیں۔خود ایک اچھا معاشرہ بن جاؤ ایک دوسرے کے ہاتھ بن جاؤ اتنے مضبوط ہاتھ کے کوئی تمہاری طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہ سکے۔دوسروں کی مدد کر کے ان کو بچائیں اور اللہ کے حضور خود بھی بچیں یعنی بخشش پائیں۔

Sunday, 31 July 2016

چلو اب کارکردگی دکھاؤ

چلو اب کارکردگی دکھاؤ
چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔03424652269

سب جماعتوں و سیاسی پارٹیوں میں جو وفاقی یا صوبائی حکومتوں میں ہیں ’چلو اب کارکردگی دکھاؤ‘ مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔آپ سب جانتے ہیں کہ موجودہ حکومتی مدت میں صرف بائیس ماہ کا وقت باقی بچا ہے۔اور سب کی کارکردگی بھی آپ کے سامنے ہے کوئی بھی پارٹی کرپشن اور دوسری بدعنوانیوں سے پاک نہیں۔سب کے سب اپنے اپنے منشور و وعدوں سے خاصے دور نظر آئے۔بعض نے تو اپنے مفادات کی خاطر موقع کی مناسبت سے منشور ہی بدل ڈالے۔2013سے اب تک کوئی بھی پارٹی اپنے حامیوں کے علاوہ باقی عوام کو متاثر نہ کر سکی بلکہ عوام کے دل نہ جیت سکی۔اس گزرے وقت میں سیاسی پارٹیوں کے کچھ اپنے حامی بھی نالاں نظر آئے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ عوام کی ناراضگی کے باوجود بھی سیاسی پارٹیاں اور انکے وزراء صرف اپنے مشن میں ہی مگن رہے عوام کو صرف وقفوں میں ٹرخاتے رہے۔اب حکومتی مدت میں تھوڑا عرصہ باقی ہے اور سیاسی سربراہ جانتے ہیں کہ عوام انکی کتنی قدر کرتی ہے اس لئے اب2018 کے الیکشنزکی تیاریوں اور عوام کی حمایت کے لئے سب پارٹیوں کے سربراہان نے اپنے اپنے نمائندوں کو حکم جاری کر دیا ہے کہ چلو اب کارکردگی دکھاؤ۔سوچنے کی بات ہے کہ 2013 سے اب تک اس مہم کا آغاز کیوں نہیں کیا گیا۔دوستو آپ ذرا اس پر سوچئے گا۔پاکستان 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا۔آج پاکستان کو آزاد ہوئے67 سال کے قریب کا عرصہ ہو گیا ہے۔مگراپنے وطن کی حالت آپ کے سامنے ہے۔جب پاکستان آزاد ہوا تو پاکستان کی شرح خواندگی بہت کم تھی۔مگر لوگوں میں آگے بڑھنے کی ہمت و جذبہ تھا۔کام کرنے کی لگن تھی۔پاکستان نے آزادی کے کچھ عرصہ بعد ہی ترقی کی راہ چن لی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے حالات بہتر ہوئے لوگوں نے پڑھنا لکھنا شروع کیا اور پاکستان کو دنیا نے تسلیم کرلیا۔مگر پتہ نہیں کیوں اور کس کی نظر پاکستان کو لگی اور اکسویں صدی میں پاکستان بدعنوانیوں کا شکار رہا۔ملک میں کرپشن لوٹ مار اور دہشتگردی جیسی جڑوں نے مظبوطی پکڑ لی۔افسوس کے اکیسویں صدی میں شرح خواندگی میں اضافہ ہوا مگر لوگوں کے ولولے اور ہمت دم توڑ گئی۔لوگوں میں کام کرنے کی لگن ختم ہوگئی۔آج بھی پاکستان میں غربت کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ملک دشمن غربت سے ستائے لوگوں کو استعمال کرنے لگے۔دیہاتوں میں غربت کی شرح 60فیصداور شہروں میں 10فیصد ہے۔گزشتہ سیلابوں نے دیہاتوں اور دیہاتیوں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔افسوس کے ہر سال سیلاب کی روک تھام کے لئے تعلیم کے لئے صحت کے لئے رقم مختص ہوتی ہے مگر صرف کاغذی کاروائی تک ۔گزشتہ کئی حکومتوں نے دیہاتیوں کے روپے کھائے ہیں۔حکومتی کرپشنز کی وجہ سے بہت سی بد عنوانیوں نے جنم لیا ہے۔میں دیہاتیوں کی پسماندگی کی وجہ کرپٹ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے با شعور لوگوں کو بھی ٹھہراتا ہوں جو دیہاتیوں کی آواز نہیں بنتے۔پاکستان میں جتنی بھی حکومتیں آئیں سب پر کرپشن کے الزامات ہیں۔مگر افسوس کے ہم پھر بار بار انہیں لوگوں کو اقتتدار میں لاتے ہیں۔کیا ہم بے حس ہیں؟کیا ہمارے اندر شعور نہیں؟یا پھر ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں؟کب پاکستان ان بدعنوانیوں سے چھٹکارا حاصل کر سکے گا؟کون سچائی کی مشعل لے کر آگ بڑھے گا؟آخر کون!؟کیا ہماری عوام میں کسی چیز کی کمی ہے؟آخر کس چیز کی کمی ہے!ہمیں سوچنا ہوگا۔جی قارئین آپ نے گزشتہ دنوں سے دیکھا ہوگا کہ سندھ حکومت میں اچانک ایک تبدیلی لائی گئی ۔سابق وزیر اعلی قائم علی شاہ کو اقتدار سے الگ کر کے مراد علی شاہ کو نیا وزیر اعلی سندھ مقرر کر دیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ صوبائی کابینہ میں صوبائی وزارتوں میں بھی تبدیلیاں کر دی گئیں۔اور ہمیشہ کی طرح سندھ حکومت میں اس تبدیلی کا فیصلہ بھی آصف علی زرداری نے کیا۔عوام کو اچانک کی تبدیلی سمجھ میں نہ آئی۔مگر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ’ چلو اب کارکردگی دکھاؤ‘ مہم کا ہی ایک شاخسانہ ہے۔ورنہ اس سے قبل یہ تبدیلی یاد نہ آ جاتی۔کچھ کے نزدیک مراد علی شاہ بھی گزشتہ کرپشنز کی ری ہیسلز کر چکے ہیں اور انکے خیال میں مراد علی شاہ کو وزیر اعلی تعین کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اپنے مفادات بھی حاصل ہوتے رہیں اور لوگوں کو بھی کچھ تبدیلی نظر آتی رہے۔یعنی زرداری صاحب پھر ایک تیر سے دو شکار کھیلنے کے لئے میدان میں ہیں۔جی قارئین اسی طرح وفاق صوبہ پنجاب اور صوبہ بلوچستان میں بر سر اقتتدار پارٹی مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف صاحب کی گزشتہ مری میں بریفنگ سے پتہ چل ہی گیا ہو گا کہ ’چلو اب کار کردگی دکھاؤ‘ مہم کا حکم مسلم لیگ ن کے سربراہان و وزراء کو بھی جاری کر دیا گیا ہے۔اور ساتھ میں یہ اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ جو کار کردگی نہیں دکھائے گا اس کا حال بھی قائم علی شاہ جیسا ہوگا۔اور حکم جاری کیا کہ زیر تکمیل پرجیکٹس عین انتخابات سے قبل مکمل ہو جانے چا ہیے۔اور اب ان پراجیکٹس کی نگرانی خود میاں نواز شریف کریں گے۔اسی طرح خیبر پختونخوا میں زیر اقتدار تحریک انصاف میں بھی کار کردگی دکھاؤ مہم کے اثرات نظر آرہے ہیں۔ِ عمران خان نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ اب کارکردگی میں تاخیر برداشت نہیں ہوگی۔اور خیبر پختونخوا حکومت میں بھی تبدیلیاں متوقع ہیں۔لوگ حکومتوں کی کار کردگی میں تیزی پر انہیں سراہ رہے ہیں سراہنا بھی چاہئے۔دیر آئے درست آئے کچھ نہ کرنے سے تو بہتر ہے کہ باقی بائیس مہینوں میں ہی اپنے وطن کے لئے کچھ کرنے کا ارادہ تو کیا۔اور یہ صرف عوام کی بدولت ہے یعنی اب عوام کو پیسے سے خریدنے کا دور ختم اثر و رسوخ سے ووٹ ختم۔اب کار کردگی کی بنا پر ووٹ ملیں گے۔ مگر افسوس کے کار کردگی الیکشنز کے قریب آنے پر ہی کیوں یاد آتی ہے۔میں ایک بار پھر کہہ رہا ہوں جب تک تمام ادارے آزادانہ سیاسی مداخلت کے بغیر کا م نہیں کر سکیں گے تب تک یہ لوگ نت نئے طریقوں سے ہمیں اور ہمارے وطن کو لوٹتے رہیں گے۔اب انہیں عوامی خدمت یاد آ گئی ہے صرف اور صرف ووٹ کی خاطر ۔ذرا سوچئے جو لوگ انکی کرپشن کی وجہ سے بد عنوانیوں کا شکار ہوئے انکا ذمہ دار کون ہے؟ جن کے گھر غربت سے اجڑ گئے انکا ذمہ دار کون ہے ۔؟

Sunday, 24 July 2016

مقبوضہ جموں کشمیر؟؟

مقبوضہ جموں کشمیر؟؟

چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ
آخر بے چارے کشمیریوں کو کب آزادی ملے گی؟۔کب تک وہ بھارتی ظلم و ستم کا شکار بنتے رہیں گے؟۔کیوں کشمیریوں کا کوئی درد بھانٹنے والا نہیں کیوں؟۔کیوں کشمیریوں کو انسان نہیں سمجھا جاتا؟۔آخر کب کشمیری اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں گے؟۔آخر کب ؟کشمیر کو عرصہ دراز سے بلکہ کئی دہائیوں سے ہی سوالیہ نشان بنایا گیا ہے۔ کوئی بھی صدق دل سے کشمیر کے معاملات کو حل کرنے کے لئے تیار نہیں۔انگریز حکومت کے دور میں انگریزوں نے کشمیر کو چند لاکھوں کے عوض ایک سکھ راجہ کو فروخت کر دیا ایک عرصہ تک سکھوں نے وہاں حکومت کی اور کشمیری مسلمانوں پر ظلم و جبر کی کئی تاریخیں قائم کیں۔کشمیر آبادی کے لحاظ سے ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست تھی اور جغرافیائی لحاظ سے بھی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل۔1947 کی تقسیم سے پہلے ہی کشمیر کو حاصل کرنے کے لئے گاندھی اور جناح نے کوششیں شروع کر دیں۔کشمیر میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔اسی لئے کشمیریوں نے پاکستان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔مگر سکھ راجہ نے بھارت کے ساتھ مل کر کشمیریوں کی آواز کچلنے کی کوشش کی ۔بھارت جعلی الحاق کی دستاویزات بنا کر اپنی فوجیں کشمیر میں بھیجنے لگا جو دن بدن بڑھتی ہی گئیں۔کشمیری مسلمانوں نے متعدد بار بھارتی مظالم کے خلاف آوازیں بلند کیں مگر ہمیشہ ہی انہیں کچلنے کی کوشش کی گئی ۔کشمیری مجاہدین نے اپنی جدوجہد کی بدولت بھارتی فوج کے ساتھ جنگ لڑی اور کشمیر کا کچھ علاقہ و حصہ آزاد کروا لیا۔جسے آج آزاد کشمیر کہا جاتا ہے۔یہ دیکھ کر بھارت کے اوسان خطا ہو گئے اور بھارت اقوام متحدہ میں پہنچ گیا۔اقوام متحدہ میں رو کر بھارت نے جنگ بندی تو کروا لی مگر اپنے وعدوں سے مکر گیا نہ ہی ریفرنڈم کروایا نہ ہی اپنی فوجیں واپس بلائیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بھارت بھاگتا ہوا اقوام متحدہ تک نہ جاتا تو آج پورا کا پورا کشمیر آزاد ہوتا۔کشمیر کا جو حصہ بھارتی قبضہ میں ہے اسے مقبوضہ کشمیر کہتے ہیں۔بھارتی فوج اس علاقہ میں ظلم و ستم کی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔معصوم بچوں عورتوں اور بوڑھوں پر بھی ظلم کیا جاتا ہے۔بھارت کی اس ہٹ دھرمی و گیم میں لاکھوں کی تعداد میں کشمیریوں کے گھر اجڑ چکے ہیں۔کئی یتیم بے آسراء اور بے سہارا ہوئے ہیں۔واقعی میں عرصہ سے مقبوضہ کشمیر کو سوالیہ نشان بنا کر رکھ دیا ہے اور بنایا جا رہا ہے۔اور اس میں شامل بھارت کے ساتھ اقوام متحدہ بھی ہے۔اقوام متحدہ نے کئی بار کشمیر میں استصواب رائے یعنی ریفرینڈم کروانے پر قرار دادیں منظور کیں مگر اقوام متحدہ ایسا کروانے میں ناکام رہا ۔بھارت کی ہٹ دھرمیوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ نے بھی ماضی میں اپنی ہٹ دھرمی کے کئی ثبوت پیش کئے ہیں۔بہت افسوس کی بات ہے کہ عالمی طاقتوں کو یورپ میں ایک قتل پر ایک عرصہ افسوس رہتا ہے مگر کشمیر میں ہر گزرتے دن کئی زندگیاں بج رہی ہیں مگر عالمی طاقتیں خاموشی سادھے ہوئے ہیں۔آخر یہ دہرا معیار کیوں؟کیا کشمیری بے جان ہیں؟ مقبوضہ کشمیر میں انسان نہیں رہتے؟بھارتی اور اقوام متحدہ کی ہٹ دھرمی سے لگتا ہے کہ کشمیری ان کے نزدیک انسان نہیں بلکہ بے جان ہیں۔وہ بھی انسان ہیں۔انسانیت کی پامالی کی جا رہی ہے اور اس میں کہیں نہ کہیں انسانیت کے نمبردار بھی ملوث ہیں۔گزشتہ روز میاں محمد نواز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا اس اجلاس میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشیدہ صورتحال کو وہاں کی حکومت کی طرف سے اندرونی معاملات قرار دینا بین الاقوامی قوانین اور کشمیر کے معاملات پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی شدید خلاف ورزی ہے۔اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ بھارت کا یہ دعوی کہ یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے دراصل حقائق کے برعکس ہے۔اجلاس میں حریت پسند رہنما برہان وانی کی شہادت اور اس کے بعد احتجاج کرنے والوں پر بھارتی فوج کے مظالم کی شدید مذمت کی گئی۔اور اجلاس میں یہ کہا گیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل سے رابطے کر کے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی بھجوانے کا کہے گا۔ تاکہ وہ کشمیریوں کے قتل عام اور ان پر ظلم و جبر کے واقعات کی تحقیقات کرے۔اور اجلاس میں بین الاقوامی برادری پر زور دیا کے وہ بھارتی مظالم کی مذمت کرے اور کشمیری عوام سے وعدے کے مطابق انہیں استصواب رائے کا حق دینے پر زور دے۔بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے اسلام آباد کو آزاد کشمیر خالی کرنے کی گیدڑ بھبھکی اس بات کی علامت ہے کہ وہ بو کھلا چکا ہے۔آزاد کشمیر میں آج بھی کوئی پاکستانی باشندہ جائیداد نہیں خرید سکتا البتہ بھارت دن بدن مقبوضہ کشمیر میں اپنے فوجیوں کے گھر بسا رہا ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں انتہا پسند ہندؤں اور ایسے کئی عناصر اور پنڈتوں سمیت سابق فوجیوں کے گھر اور بستیاں بسا رہا ہے۔جوکہ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی خلاف ورزی ہے۔متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کی ہیئت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا نہ ہی وہاں غیر کشمیریوں کو بسایا جا سکتا ہے۔کیونکہ رائے شماری میں صرف ریاستی باشندے ہی حصہ لے سکتے ہیں۔بھارت جانتا ہے کہ کشمیری عوام پاکستان کے حق میں ووٹ دے گی اسی لئے بھارت ایسے اقدامات کرکے اپنا اسر و رسوخ بڑھانے کی سازشیں کر رہا ہے زبردستی اپنی فوجیں اتار کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس سب کے باوجود دن بدن بھارت کشمیریوں کے دلوں میں اپنی نفرت میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔مکروہ بھارت آزاد کشمیر کے الیکشن دیکھ کر اندازہ لگا لے کہ کیسے منظم انتخابت تھے اور دوسری طرف مقبوضہ جموں و کشمیر میں زبردستی ڈنڈے کے زور پر کٹھ پتلی حکومت کا قیام بھارتی ظلم کا منہ برلتا ثبوت ہے۔بھارت اور اقوام متحدہ مزید کشمیریوں کو سوالیہ نشان بنانا بند کرے۔سن لو بھارتی سورمو۔ اگر اپنی ہٹ دھرمیوں سے باز نہ آئے تو اللہ رب العزت ایک دن تمہارے ٹکڑ ٹکڑے کر دے گا۔کشمیر کی اس ظلم و ستم کی تاریخ میں ہم پاکستانی بھی اپنا کردار ادا نہیں کرسکے ہم کشمیر کی آواز صحیح طریقے سے دنیا تک نہیں پہنچا رہے ہمیں یہ کرنا ہوگا ۔روز قیامت کیا کہیں گے کہ ہمارے سامنے ہی ہمارے مسلمان بھائیوں بہنوں پر ظلم کیا جاتا رہا اور ہم اپنے ہی کاموں اپنی ہی موج مستیوں میں مگن رہے۔پاکستان حکومت کو بین الاقوامی طاقتوں کوبھارت کی اصل سازشوں سے آگاہ کرنا چاہئے ۔صرف مذمت کے بیانات سے کچھ نہیں ہونے والا ہمیں اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں پر کشمیر کے حل کے لئے پریشر ڈالنا ہوگا۔

Sunday, 17 July 2016

سب سے بڑی طاقت عوام مگر!


سب سے بڑی طاقت عوام مگر!

چوہدری ذوالقرنین ہندل .گوجرانوالہ
افسوس سب سے بڑی طاقت عوام ہے مگر ہم عوام ہیں یا بھیڑ بکریاں؟کوئی نہیں جانتا۔گزشتہ جمعہ کی شب ترکی ساری رات فوجی بغاوت کی وجہ سے متشدد کاروائیوں کا شکار رہا۔ترکی فوج کے ایک مخصوص گروہ نے حکومتی تختہ الٹنے کی کوشش کی۔ترکی کی بہادر عوام اپنے صدر طیب اردوان کے کہنے پر گھروں سے باہر نکل آئی اور باغیوں کے راستے کی رکاوٹ بننا شروع کر دیا۔ترک عوام نے اپنی حکومت اور اپنے صدر رجب طیب اردوان کے خلاف فوجی بغاوت کے سامنے سینہ سپر ہو کر قومی شعور اور ملکی آئین اور جمہوری عمل کے ساتھ وابستگی کا مظاہرہ کیا۔ترکی گزشتہ 1960۔1971۔اور1980 میں بھی فوجی انقلاب کا شکار رہا مگر چوتھی دفعہ عوام نے فوج کو مسترد کر دیا۔1932 سے جدید ترکی کا آغاز ہوا مگر ترقی میں ہر حکومت کے ساتھ بدلاؤ آتا گیا۔مگر گزشتہ پندرہ سالوں سے ترکی دنیا کی نظر میں اپنا لوہا منوانے میں کامیاب رہا۔جس میں رجب طیب اردوان اور اسکی حکومت کے اقدامات قابل قدر ہیں۔طیب رجب اردوان تین دفعہ وزیر اعظم منتخب ہوئے اور اب صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔یہ شخص شروع ہی سے دین اسلام کی طرف مائل تھا سب س پہلے استنبول کا میئر منتخب ہو کر عوام کی خدمت کی اور استنبول کو ایک بہتر شہر کے تور پر نمودار کیا۔عوام کا بھروسا اور یقین اردوان کے لئے اور بڑھا اور اگلی بار اسے وزیر اعظم منتخب کردیا یہ سب عوامی طاقت کی بدولت ہوا۔اس بہادر لیڈر نے عالمی سطح تک خود کو متعارف کروایا۔پوری دنیا میں مسلمانوں کی مدد کو پہنچا اور دنیا کے ساتھ اپنے وطن میں بھی مخالفین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور عوامی دلوں پر چھایا رہا۔جی قارئین کہتے ہیں سب سے بڑی طاقت عوام ہے! آپ نے گزشتہ کئی ایسے واقعات بھی دیکھے ہونگے کہ جب عوام یکجا ہو جائے تو پھر صرف اور صرف عوام کا ہی لوہا مانا جاتا ہے۔عوام میں بڑی طاقت ہوتی ہے کیونکہ عوام جب اکٹھی ہوتی ہے تو پورے دل و جان سے اکٹھی ہوتی ہے۔گزشتہ رات ترکی کو مارشل لاء سے بچانے والی عوام ہے۔اردوان کے مخالفین نے عوام کو اردوان کے خلاف کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے اور بلا آخر فوجی بغاوت کے زریعے حکومت کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر عوام نے اس بغاوت کو یکساں مسترد کر دیا اور اپنے لیڈر کی آواز پر لبیک کہا۔ اردوان کی عوام میں مقبولیت صرف اور صرف اس کے حقیقی لیڈر ہونے کی وجہ سے ہے نہ کبھی اردوان پر کرپشن کا کوئی کیس ثابت ہوا نہ کبھی کسی بدعنوانی میں نام آیا۔اور سب سے بڑی بات وہ عوامی نمائندہ ہے اردوان اور اسکی حکومت عوامی سطح تک تعلقات استوار کئے ہوئے ہے۔بلدیاتی ادارے بہت مضبوط ہیں۔لیڈرشپ براہ راست عوام سے منسلک ہے تبھی تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اپنے صدر کے کہنے پر بغاوت کو کچل گیا۔وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ترک صدر کو اپناہم منصب سمجھتے ہیں۔مگر میرے خیال سے ان دونوں میں بہت سی چیزیں مختلف ہیں۔میاں محمد نواز شریف عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکے ہیں مگر اردوان کی مقبولیت کا اندازہ آپکو ہو چکا ہے۔ہمارے ہاں عوام اور حکمران جمہوریت کے بڑے بڑے راگ الاپتے ہیں۔مگر حقیقت اس کے برعکس اور تکلیف دہ ہے۔میرے خیال میں پاکستان میں حقیقی معنوں میں ابھی تک کوئی جمہوری پارٹی نمودار نہیں ہوئی۔سب کے سب جمہوریت کی ایک اپنی ہی تعریف بنائے ہوئے ہیں۔اور اس میں موقعے کی مناسبت سے تبدیلیاں کرتے ہیں۔بلا شبہ گزشتہ شب ترک عوام اور حکومت کے لئے ایک کڑا امتحان تھا مگر ان کے حوصلے پست نہیں نہ ہی کسی کے دل میں باغیوں کے لئے کوئی سافٹ کارنر موجود تھا نہ ہی کوئی باغیوں کی حمایت میں نکلا کیونکہ ان کے دل صاف تھے کسی کے دل میں ذاتی مفاد اور کھوٹ موجود نہیں تھی وہ لوگ ون یونٹ تھے۔ اور ملکی مفاد کی خاطر گھروں سے باہر نکلے۔ادھر پاکستان میں سارے کا سارا آوا ہی بگھڑا ہے۔ہر پارٹی کا اپنا مفاد ہے اپنے ذاتی مفادات کے لئے قوم کو توڑتے ہیں کبھی وطن کی عوام کو ون یونٹ نہیں رہنے دیا۔عوام کو اسٹیبلشمنٹ بیروکریسی سیاسی پارٹیوں عدلیہ دوسرے اداروں کا اور اپنا باخوبی علم ہے کہ ملک کی بقاء کے لئے کسی نے کیا کردار ادا کیا ہے۔اگر کسی کو اپنی وطن کے ساتھ بے وفائی پر شک ہے تو ذرا خود کو پرکھو اور دیکھو کے ہمارے اندر اور ترکی کے عوام کے اندر کیا فرق ہے۔کیوں ہماری عوام ون یونٹ نہیں ہوتی؟ کیونکہ ہمارے ہاں اردوان جیسے لیڈر موجود نہیں؟۔کیوں ہم بار بار کرپٹ لوگوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں؟۔کیوں ہماری افواج اپنے کام سے ہٹ کر سیاست میں دخل اندازی کرتی ہے؟۔کیوں ہماری عدلیہ انصاف کے علاوہ باقی سب کاموں میں ماہر؟ کیوں ہمارے وزیر نا اہل؟ کیوں ہماری اپوزیشن جماعتیں اپنے مفادات کی خاطر کسی بھی حد کو جانے کو تیار ہیں چاہے ملکی نقصان ہی کیوں نہ ہو؟ ۔کیوں ہم سب صرف اپنے مفادات کا سوچتے ہیں اور دوسروں کے مفادات کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں؟۔کیوں ہمارے اندر ہٹ دھرمی آچکی ہے؟۔کیا ہم مسلمان ہیں؟۔کیا ہم عوام ہیں یا بھیڑ بکریاں؟۔کیوں ہم باتوں میں تو دنیا فتح کرلیتے ہیں مگر حقیقت میں ناہل ہیں ؟کیوں آخر کیوں؟ ۔ذرا سوچئے۔ترکی پر جو گزشتہ شب قیامت ٹوٹی اس سے با خوبی نمٹنے کے لئے ترک عوام کی عظمت کو سلام بلا شبہ دنیا کی تاریخ کا یہ بہت بڑا واقع ہے ترکیوں نے ثابت کر دیا کہ انہیں اپنے اچھے برے کی تمیز ہے انہوں نے اپنے لئے اچھے لیڈروں کو چنا۔ انہوں نے بیرونی سازشوں کو بے نقاب کیا اور مسترد کیا۔ترک عوام ہماری عوام کے لئے مشعل راہ ہے۔ کچھ سیکھئے۔سیاستدانوں سے گزارش ہے کہ عوام کو سمجھیں عوام کو پرکھیں اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے کام کریں اگر عوام آپ کے ساتھ ہے تو سمجھ لو تم بڑے مضبوط ہو کیوں کہ عوام سب سے بڑی طاقت ہے۔