Sunday, 9 October 2016

کسانوں کی چپ کے لئے نئی گولی



چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

کسان بے چارے ہر گزرتے سال کے ساتھ قرض کے بوجھ تلے دبتے چلے جا رہے ہیں۔کسان جو دوسروں کو ضروریات غذا فراہم کرتے ہیں خود اپنی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔چاول کی فصل کی کاشت کا آغاز ہے اور ڈیلروں نے کسانوں کو لوٹنے کے لئے چھریاں تیز کر رکھی ہیں۔دوران نگہداشت فصل بجلی کے بلوں اور کھادوں دواؤں نے پہلے ہی کسانوں کو چھلنی کر رکھا ہے۔کسانوں کو چھلنی کرنے میں محکمہ زراعت بھی برابر کا شریک ہے۔یوں سارے زخموں سے چور چور کسانوں نے لاہور دھرنے دیے تو بہت سے کسانوں کو گرفتار کرلیا گیا۔کسان تنظیموں کے راہنماؤں سے مک مکا کر کے پنجاب حکومت نے معاملہ رفع دفع کیا۔اور وزیر اعلی پنجاب نے کسانوں کو چپ کی گولی دینے کے لئے 100 ارب روپے کے بلا سود قرضے دینے کا اعلان کیا۔کیا اس اعلان پر وزیر اعلی قائم رہیں گے؟۔گزشتہ سال وزیر اعظم کسان پیکج پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔وزیر اعظم کسان پیکج صرف وقتی گولی ثابت ہوا۔پاکستان کا شمار بڑے زرعی ممالک کی لسٹ میں ہوتا ہے۔پاکستان کی 70 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جن کا دارومدار زراعت پر ہے۔زراعت بڑے زرعی ملکوں کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔پاکستان بڑے سکیل پر چاول گندم کپاس اور سبزیاں وغیرہ کاشت کرتا ہے۔پاکستان زرعی اجناس دوسرے ممالک کو بھی فراہم کرتا ہے۔پاکستانی چاول گندم اور آم دنیا بھر میں مشہور ہیں۔چھوٹے کاشتکار دن رات محنت کر کے زرعی اجناس کاشت کرتے ہیں اور کھانے پینے کی اشیاء چاول آٹا دودھ گوشت سبزیاں اور پھل سب انہی کاشتکاروں اور کسانوں کی بدولت ہے۔انسانی زندگی میں غذا بھی آکسیجن سی حیثیت رکھتی ہے۔انسان گاڑی گھر کپڑے جوتوں اور بجلی گیس کے بغیر تو زندہ رہ سکتا ہے مگر غذا کے بغیر زندہ رہنا نا ممکن ہے۔دنیا بھر میں غذا و خوراک کا بندوبست کاشتکار و کسان کرتے ہیں۔کوئی بھوکے کو کھانا فراہم کرے تو بھوکا اسے اپنا محسن سمجھتا ہے۔مگر دنیا بھر میں کسان کو اس کے ہنر و کام کے مطابق کبھی عزت و حیثیت نہیں دی گئی۔کاشت کی ہوئی فصل کے پورے دام بھی نہیں دیے جاتے۔دنیا کو کسانوں کو محسن تسلیم کرنا ہوگا۔یہ حقیقت ہے۔کسان ہر سال اپنی فصل کی بے حرمتی کے باوجود بھی اگلی فصل کاشت کرتا ہے۔بات آج پھر پاکستانی زراعت پر ہوگی۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں بڑے و چھوٹے کاشتکار موجود ہیں۔اسی لئے محکمہ زراعت بھی موجود ہے۔محکمہ زراعت کے ذمے بہت سے کام ہوتے ہیں۔جس میں کھادوں دواؤں کی کوالٹی چیک کرنا اور کمپنی کو مارکیٹنگ کی اجازت دینا یا بین کرنا ۔کھادوں دواؤں کے ریٹ چیک کرنا اور انہیں بیلنس کرنا۔کسانوں کو مفید کاشتکاری کے مشورے دینا۔تمام علاقوں میں کھیتوں کا وزٹ و سروے کرنا۔کسانوں کو زمین کی نوعیت کے حساب سے بیج فراہم کرنا۔فصلوں پر لگے اخراجات اور فصلوں کے ریٹ میں توازن قائم کرنا۔فصلوں میں پھیلتی بیماریوں کی روک تھام کے لئے تجربات کرنا اور لوگوں کو حقائق سے آگاہ کرنا۔ڈائریکٹ کسانوں سے رابطہ قائم کرنا اور انکو مفید مشورے دینا انکے زرعی مسائل کو حل کرنا۔نئی جدید مشینری سے روشناس کروانا اور نئی جدید مشینری تک کسانوں کی رسائی کو یقینی بنانا۔مزید بہت سے کام بھی محکمہ زراعت کے ذمے ہوتے ہیں۔مگر پاکستان میں محکمہ زراعت خود کو ان سب کاموں سے دستبردار سمجھتا ہے۔یہاں محکمہ زراعت کا کام صرف اور صرف مال بنانا ہے۔جعلی کمپنیوں کو روپے کے عوض جعلی ادویات اور ناقص بیج فروخت کرنے دینا۔شاید ہماری سرکار بھی انہیں جعل سازی کے لئے تنخواہیں دیتی ہے۔کسان ہرسال اپنی بے بسی کا رونا روتا ہے۔اورہمیشہ کسانوں کو چپ کی گولی کھلا دی جاتی ہے۔چاول کی فصلیں کاشت ہونی شروع ہو گئی ہیں۔فصلوں کے کم دام کسانوں کو ڈرانے میں مصروف ہیں۔اپنی پریشانی کے باعث کسانوں نے احتجاج بھی کیا۔مگر ہمیشہ کی طرح سرکار نے کسانوں کی پریشانی کا حل نکالنے کی بجائے وقتی چپ کی گولی کا استعمال کیا۔ایسی گولیاں ماضی میں بھی دی جا چکی ہیں۔جس کی مثال وزیراعظم کا 340 ارب کی کسانوں کی امداد کا اعلان تھا۔جو صرف اعلان ہی رہا چند قریبی ساتھیوں کی امداد کے بعد وزیر اعظم پیکج بند ہوگیا اور چپ کروانے کی گولی ثابت ہوا۔بعد ازاں اس رقم کو اورنج لائن پر لگایا گیا۔اب وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے 100 ارب کے بلا سود قرض کسانوں کو دینے کا اعلان کیا ہے۔یہ بھی وقتی گولی ہی ہوسکتی ہے کیونکہ ابھی پنجاب حکومت کے کئی پراجیکٹس زیر تکمیل ہیں اور ان پراجیکٹس کو الیکشن سے پہلے پایہ تکمیل تک پہنچانا حکومت کی مجبوری ہے۔ ایسے میں حکومت کو روپے روپے کی ضرورت ہوگی۔جسکی وجہ سے کسانوں کی سو ارب کی امداد بھی انہی پراجیکٹس کی نظر ہوگی۔کسان ہمیشہ کی طرح ہاتھ ملتے ہی رہ جائیں گے۔اگر کسی کا ہاتھ بھرا بھی تو وہ اثر رسوخ والا ہوگا۔جناب شہباز شریف صاحب کہتے ہیں کہ ماضی میں حکومت زراعت سے منسلک لوگوں کی تھی مگر انہوں نے زراعت کی بہتری کے لئے کوئی کام نہیں کیا۔جناب وزیر اعلی صاحب گزشتہ ق لیگ حکومت نے کسانوں کو مستحکم کیا تھا۔گزشتہ حکومت نے فصل اور کھاد و ادویات کے ریٹ میں توازن قائم کیا تھا۔کسانوں کو فصلوں کے دام ان کی محنت کے مطابق دلائے تھے۔بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ کسانوں کو خود مختار بنایا تھا اسی لئے کسان اس دور کو اب بھی یاد کرتے ہیں۔وزیر اعلی صاحب فرض کریں اگر آپ قرضوں کی فرہمی اور اس میں شفافیت کو بھی یقینی بناتے ہیں۔چھوٹے کسان جن کا بال بال پہلے ہی قرضوں تلے ڈوبا ہوا ہے۔کیاوہ 65 ہزار فی ایکڑ لے کر خوش حال ہو جائیں؟کیا ان کی پریشانیاں کم ہو جائیں گی؟کیا وہ قرض دوبارہ واپس کر پائیں گے؟کیا اس سکیم سے کسان اور قرض تلے نہیں دب جائے گا؟۔محترم وزیر اعلی صاحب اگر آپ واقعی کسانوں کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو مہربانی کر کے انہیں خود مختار بنائیں نا کہ قرض تلے دبائیں۔کسانوں کو ان کی محنت کا صلہ دلوائیں۔انکو انکی فصلوں کے حقیقی دام دلائیں۔مڈل مین اور محکمہ زراعت کی چالاکیوں سے نجات دلائیں۔کھادوں دواؤں کے دام کم کروائیں۔محکمہ زراعت کو نیند سے بیدار کریں اور انہیں انکا کام یاد دلائیں۔کسانوں کو ہر حال میں انکی فصلوں کے صحیح دام دلائیں۔اور بجلی کے بلوں کھادوں اور جڑی مار ادویات کے ریٹ میں توازن فصلوں کے ریٹ کے مطابق ہونا چاہیے ۔تاکہ ہر محنتی کو اس کا صلہ مل جائے۔قرضوں سے کسان دب جائے گا ۔اگر دکھی کسانوں کے ہیرو بننا چاہتے ہیں تو کسانوں کے حقیقی مسائل کو حل کرنے اور کسانوں کو مستحکم کرنے کا عزم کریں۔وگرنہ آپکی ہرا مدادچپ کی گولی ہی تصور کی جائے گی۔اور اسکا خمیازہ الیکشنز میں بھگتنا پڑے گا۔

Sunday, 2 October 2016

بدلتی سیاست میں کون بکھر جائے گا؟


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

خطہ برصغیر میں بلکہ پوری دنیامیں بدلی ہوئی صورتحال سے مختلف تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں ۔کہ کون خطے میں تنہا رہ جائے گا؟ اور کون سا وطن بکھر جائے گا۔؟قارئین آپ بھی حالات حاضرہ پر نظر دوڑا کر اس سوال پر سوچئے گا۔میرے نزدیک جو ملک خطے میں ذاتی نمبرداری یا اثر و رسوخ قائم کرنے کی سیاست کرے گا یا کر رہا ہے جو کسی خطے میں حکمرانی کے خواب دیکھے گا یا حکمرانی حاصل کرنے کے لئے سرمایہ کاری کرے گا یا سازشیں کریگا۔ وہ ملک ماضی میں مستحکم نہیں رہ سکے گا ایک دن آئے گا کہ اس وطن کا شیرازہ بکھر جائے گا۔وہ ملک اتنے ٹکڑوں میں منقسم ہوگا کہ دوبارہ اکٹھا کرنا مشکل ہوجائے گا۔تن تنہا ہونا کسی ملک کے لئے اتنا اذیت ناک نہیں جتنا ٹکڑوں میں بٹنا۔فرض کریں اگر کوئی وطن تن تنہا ہو بھی جائے تو اسکی اذیت کچھ عرصے کی ہوگی مگر ایک وقت کے بعد وہ ملک دنیا میں ایک بڑی طاقت کی صورت میں ابھرے گا۔کیوں کہ اسے خود پر انحصار کرنے کی عادت ہوجائے گی کسی کی مدد پر وہ کبھی انحصار نہیں کرے گا۔برہان وانی کی شہادت کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک ذور پکڑتی جا رہی ہے۔دن بدن کشمیریوں کے دلوں میں آزادی کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔بھارت اس تحریک آزادی کو دبانے کے لئے کشمیریوں پر دن رات نت نئے ظلم و تشدد کر رہا ہے۔بھارتی فوج بزور بندوق کشمیریوں پر روز بروز طرح طرح کی پابندیاں لگا رہی ہے۔شاید بھارتی فوج دنیا کی ظالم ترین فوج ہونے کا ریکارڈ درج کروانا چاہتی ہے۔بہادری کا ٹائٹل تو حاصل نہیں کر سکتی۔گزشتہ کئی روز سے کشمیریوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔پیلٹ گنوں سے شررے برسا کر متعدد کو آنکھوں کی بینائی سے محروم اور زخمی کیا جا رہا ہے۔کشمیریوں کو روز مرہ معمول کے کاموں سے روکا جا رہا ہے۔اخبارات اور انٹرنیٹ پر پابندیاں عائد ہیں۔یہاں تک کے بعض کو مسجدوں میں جانے سے بھی روکا جا رہا ہے۔بھارتی فوج کشمیریوں کے ساتھ قیدیوں سے بھی بدتر سلوک کر رہی ہے۔مقبوضہ کشمیر کو یرغمال بنا کر رکھا ہے۔ کشمیری ظلم برداشت کر لیں گے مگر غلامی کو ہر گز قبول نہیں کریں گے۔کشمیریوں کا جذبہ آزادی صرف آذادی حاصل کر کے ہی ختم ہوگا۔برسوں سے آزادی کے منتظر ہیں۔بار بار کشمیر کا تذکرہ کرنے کا مقصد مسئلہ کشمیر کو اجاگر رکھنا ہے۔سب سے گزارش ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتے رہیں۔عالمی طاقتیں بھی جانتی ہیں کہ بھارت ایک عرصہ سے مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ جمائے ہوئے ہے۔اور بذور بندوق کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کی تگ و دو میں ہے۔افسوس سب جانتے ہوئے بھی عالمی طاقتیں خاموشی سادھے ہوئے ہیں۔گزشتہ دنوں کسی بھی بڑے ملک کی طرف سے کشمیر کے حق میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی برصغیر میں امن کا آغاز ہوگا۔شاید عالمی طاقتیں ہی امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔عالمی طاقتیں تو اپنی آنکھیں بند ظاہر کر رہی ہیں۔مگر سب سے بڑی طاقت اللہ تو دیکھ رہا ہے۔وہ دیکھ رہا ہے کہ کون ظالم ہے اور کون مظلوم اور کون بیٹھا تماشائی بنا ہوا ہے۔آخر کتنے دن ظالم کے ہوں گے ایک دن تو مظلوم کا بھی ہوگا۔وہ بھی بدلہ کی پوزیشن میں ہوگا۔ماضی میں برطانیہ اور روس کی مثال لے لیجئے۔دونوں نے خطے میں ظالمانہ حکمرانی اور قبضوں کی کوششیں کیں کسی حد تک کامیاب بھی ٹھہرے۔مگر جب اللہ نے حکمرانی چھینی تو ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔اتنے ٹکڑے کے دوبارہ سمیٹ نہ سکے۔موجودہ صورتحال میں بھارت پورے براعظم ایشیاء میں حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے۔امریکا انکا حامی یعنی بھارت ایشیاء میں امریکی نمائندگی کرے گا۔ایشیاء میں امریکی ری پری زینٹیٹر بننے کی تیاریوں میں ہے۔اس پلان کے تحت کچھ عرصہ سے امریکہ بھارت کی مالی اور بارودی امداد کر رہا ہے۔امریکہ کا اصل مقصد بھارت کو چین کے مخالف کھڑا کرنا ہے۔جس کی خاطر امریکہ بھارت کو خطے میں عسکری لحاظ سے سب سے زیادہ طاقتور بنانا چاہتا ہے تاکہ چین کو بزریعہ بھارت کھوکھلا کر سکے۔افغانستان اور ایران میں نت نئے پراجیکٹس کا افتتاح بزریعہ بھارت بھی امریکی پلان کا حصہ ہے۔براستہ افغانستان امریکہ و بھارت چین کے سب سے بڑے دوست پاکستان کو بھی کھوکھلا کرنا چاہتا ہے۔جس کے شواہد پاکستان کے پاس موجود ہیں اور مزید امریکہ کی ان ثبوتوں پر خاموشی اس پلان کی صداقت پر مہر ثابت ہو رہی ہے۔خطے میں ایرانی رویے میں تبدیلی بھی امریکہ سے گہرے تعلقات کی تصدیق ہے۔گزشتہ سالوں سے عالمی سیاست میں بدلاؤ آتا جا رہا ہے۔روس بھارت کا سب سے بڑا حامی بھی اپنے نئے دوست بنانے کے در پہ ہے۔اپنا بلاک تبدیل کر رہا ہے۔ماضی میں پاکستان ایشیاء میں امریکہ کا سب سے بڑا حامی تھا۔بذریعہ پاکستان امریکہ نے ایشیاء میں قدم جمائے۔امریکہ نے صرف اور صرف اپنے مفادات کی خاطر پاکستان کو استعمال کیا۔مفادات حاصل کرنے کے بعد تعلقات کو بھی کم کردیا۔شاید پاکستان آج بھی امریکی دوستی کی بدولت دہشتگردوں کی آڑ میں ہے۔پاکستان نے امریکی سیاست سے بڑے نقصانات اٹھائے۔بڑے عرصے کے بعد پاکستان دوبارہ مستحکم ہو رہا ہے۔جس کا کریڈٹ راحیل شریف تمام پاکستانی فورسز اور کسی حد تک حکومت کو بھی جاتا ہے۔سب سے بڑی بات کہ پاکستان خود پر انحصار کرنا سیکھ رہاہے اور اس پر عمل شروع کر دیا ہے۔پاکستان نے جو نقصانات اٹھانے تھے اٹھا چکے۔راہ راست ہمیں مل چکا ہے۔اب کے بار مودی سرکار کی پالیسیوں کی بدولت بھارت کی ناؤ خطرے میں ہے۔بھارت خطے میں حکمرانی و نمبرداری قائم کرنے کی صورت میں افغانستان ایران اور بنگلہ دیش کو فنڈنگ کر رہا ہے۔اس کے بر عکس بھارتی عوام بھوک وافلاس اور طرح طرح کے مسائل سے دو چار ہے۔بھارت اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ جاسوسی کی صورت میں اور مخالفین کو کھوکھلا کرنے کی صورت میں خرچ کر رہا ہے۔اور بھارت میں بھوک کے ستائے ہوئے لوگ انصاف کے متلاشی بھارتی سرکار کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔بھارت مخالف تحریکیں جنم لے رہی ہیں۔خالصتان تحریک ہندوستان کی آزادی کے بعد دوبارہ ذور پکڑ رہی ہے۔اس تحریک کا ذور یونہی رہا تو ایک دن بھارت اپنے صوبہ پنجاب سے محروم ہو جائے گا۔بھارت میں مسلمان عیسائی سکھ بدھ مت دلت بلکہ تمام اقلیتیں انتہا پسند ہندو دہشت گردوں سے اکتائی ہوئی ہیں۔اور بھارتی حکومت ان انتہا پسندوں کی خود پشت پناہی بھی کر رہی ہے۔بھارت کی سب سے بڑی بھول کے وہ کشمیر کو اپنا حصہ سمجھتا ہے ۔کشمیر ایک دن ضرور آزاد ہوگا ۔اور بھارتی شیرازہ بکھرنے کا آغاز ہوگا کشمیر۔اس کے بعد پنجاب پھر بنگال اور دوسرے علاقے بھی بھارت سے آزادی حاصل کر لیں گے۔کشمیر کے آغاز کے بعد بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ایک دفعہ یہ سلسلہ شرع ہو گیا تو تھمے گا نہیں بھارت کے اتنے ٹکڑے ہو جائیں گے سمیٹنا مشکل ہو جائے گا۔3287263 کلو میٹر رقبے پر محیط بھارت کا نقشہ میں سے صرف چالیس فیصد باقی رہ جائے گا۔بھارت کا نیا دوست امریکہ بھی جلد اپنے انجام کو پہنچننے والا ہے۔عنقریب امریکہ بھی بکھر جائے گا۔پاکستان کو صرف اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے ۔اپنے آپ کو اندر سے مضبوط کرنا ہوگا۔اپنے اندرونی معاملات کو نپٹانا ہوگا۔خود پر انحصار کرنا ہوگا عالمی سازشوں کو بھانپنا ہوگا۔اگر ہم مضبوط رہیں۔ تو ہمیں تنہا کرنے والے خود بکھر جائیں گے مگر ہمیں کبھی تنہا نہیں کر پائیں گے

Sunday, 25 September 2016

اپنا قبلہ درست کریں




چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

اپنا قبلہ درست ہو تو کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔دشمن کی ہر سازش الٹی پڑتی ہے۔سازشی خود گرفت میں آ جاتا ہے۔بظاہر پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کو سازشی کہتے ہیں۔دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کو سازشی کہنے کی بجائے اپنا اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ دونوں ملکوں نے ماضی میں بھی متعدد نقصانات اٹھائے۔آزادی سے لے کر آج تک دونوں ملک دشمنی کی آگ میں جل رہے ہیں اوران کی آگ میں کشمیر بھی جل رہا ہے۔برطانیہ نے دونوں ممالک کی تقسیم میں نا انصافی کر کے دونوں ملکوں کو نقصان پہنچایا ہے۔بظاہر مسلمان اکثریتی علاقے بھارت کے حوالے کر کے بھارت کو فائدہ اور پاکستان کو نقصان پہنچایا گیا۔مگر آپ گزشتہ کئی برسوں کی پاک بھارت دشمنی کو دیکھ لیں۔اس غلط تقسیم کی وجہ سے دونوں ملکوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔مسئلہ کشمیر کے معاملے میں صرف بھارت ہی نہیں اقوام متحدہ بھی ہٹ دھرمی دکھاتا رہا اور دکھا رہا ہے۔کشمیر کے معاملے کو کوئی صدق دل سے حل کرنا چاہتا ہے تو وہ پاکستان ہے۔اگر اقوام متحدہ صدق دل سے کشمیر کا حل چاہے تو حل کروا سکتا ہے بھارت پر ذور ڈال کر اس معاملے کا حل یقینی بنا سکتا ہے۔مگر کبھی ایسا چاہے گا نہیں۔دنیا کی بڑی طاقتوں کو ہر گز منظور نہیں کہ برصغیر میں امن قائم ہو۔بظاہر امن کا نعرہ لگانے والے گورے دل کے کھوٹے ہیں انہیں قوموں کو استعمال کرنے کا فن بخوبی آتا ہے اور اس پر عمل پیرا ہیں۔اسی لئے یہ معاملات کو لٹکانا چاہتے ہیں سلجھانا نہیں۔یہ کبھی ایک حریف کے کان بھرتے ہیں اور کبھی دوسرے کے۔پاک بھارت آزادی سے لے کر اب تک ایک محدود سیاست کی گرفت میں ہے۔دونوں ملک ایک دوسرے پر برتری لے جانے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے۔یہ سچ ہے کہ اسلحہ خریدنے میں بھی بھارت نے پہل کی۔پاکستان نے وقت کی ضرورت و دفاع کے لئے ہی اسلحہ کی خریدو فروخت کی۔ماضی میں پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر پر جنگیں لڑی گئیں۔دونوں ملکوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔جنگ کی پہل بھی ہمیشہ بھارت کی طرف سے کی گئی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ نقصان بھی زیادہ بھارت کو ہی اٹھانا پڑا۔بظاہر کوئی بھی شکست کو تسلیم نہیں کرتا مگر بھارت ہمیشہ شکست سے دو چار رہا۔بھارت کے پاس ہمیشہ سے ہی اسلحہ اور افرادی قوت پاکستان سے زیادہ ہے۔مگر ہمت و جذبہ میں ہمیشہ پاکستان برتر رہا۔دوستو پاکستانی فوج وہ فوج ہے جو دشمن کے ٹینکوں کو اڑانے کے لئے اپنے سینوں پر بم باندھ کر دشمنوں کو نیست و نابود کرنے کے لئے اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھتی ہے۔پاکستان کی فوج دنیا کی افواج میں سے بہادر اور نمبر ون فوج ہے۔اسے دنیا بھی تسلیم کرتی ہے۔بلکہ بڑے ملک کی افواج اپنے کیڈٹس کو جذبہ دلانے کے لئے پاک فوج کے کارنامے سناتی ہیں۔صرف فوج ہی نہیں یہ پوری قوم ہی بہادر اور غیور ہے۔پوری قوم میں ملکی دفاع کی صلاحیت موجود ہے۔یہ قو م اپنی سالمیت بچانے کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتی۔گزشتہ کئی دنوں سے بھارتی فوج کی نقل و حرکت کو دیکھا گیا اور بتایا یہ جا رہا ہے کہ بھارت پاکستان پر اٹیک کرنے کا سوچ رہا ہے۔بھارتی میڈیا پر بھی جنگی جنون تاری ہے۔مگر پاکستانی فضائیہ کی مشقوں کو دیکھ کر سارا جنون ممنوع ہوگیا۔شاید بھارتی بنیا جانتا ہے کہ جنگ میں نقصان بھارت کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ سب بھارتی دکھاوہ ہے پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر کمزور کرنے کی سازش ہے۔اڑی سیکٹر حملہ اور پھر پاکستان کو اقوام متحدہ میں دہشتگرد قرار دینا یہ سب بھارت افغان کی پلاننگ کا حصہ تھا۔جو مودی اور اشرف غنی کی ملاقات میں ہوئی۔یہ بھی سچ ہے کہ بھارتی واویلے کی وجہ سے پاکستان کی آواز مدھم ضرور ہوئی لیکن ختم نہیں ہوسکی۔وزیر اعظم نواز شریف نے صحیح معنوں میں جو کشمیر کی آواز اٹھائی بہت سے دلوں پر گہرا اثر کر گئی اور سفارتی سطح پر بھی پاکستان کی جیت ہوئی۔بھارت کی نسبت پاکستان کا قبلہ ہمیشہ ہی درست رہا۔بھارت شروع ہی سے مکاریوں اور چالاکیوں کی کوشش میں رہا۔بھارت نے پاکستان کو بین الاقومی سطح پر تنہا کرنے کی بھی کوششیں کیں۔پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کی کوششیں بھی کیں۔مگر ہمیشہ ناکام رہا۔یہ بھی درست ہے پاکستان اندرونی مسائل سے دو چار ہے۔پاکستان کو فی الفور اپنا اندرونی قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔دوستو بھارت جو پاکستان کو تنہا کرنے کی باتیں کر رہا ہے وہ خود تنہا ہوتا جا رہا ہے اور ایسا صرف ہمارے بیرونی قبلے کے درست ہونے کی وجہ سے ہے۔یعنی بہترین خارجہ پالیسی۔ہماری خارجہ پالیسی میں دوغلا پن نہیں بڑی کلیئر ہے ہماری خاجہ پالیسی۔اسی وجہ سے آج بھارت کے بڑے اتحادی ملک کی فوج پاکستان میں دوستی کے نام سے جنگی مشقیں کر رہی ہے۔آج چین ہمہ وقت ہمارے ساتھ کھڑا ہے ترکی ہمارے سانس کے ساتھ سانس بھرتا ہے۔برطانوی کمانڈر انچیف ہمارے آرمی سربراہ کی تعریفوں پر الفاظ برسا رہا ہے۔نیو یارک ٹائم بھارتی جارہیت کو بیان کر رہا ہے۔یہ سب ہماری بہترین خارجہ پالیسی کی وجہ سے ممکن ہوا ۔ہمیں خود پر انحصار کرنا آگیا۔ہمیں پتہ چل گیا کہ ہمیں اپنا قبلہ درست کرنا ہے۔اگر ہمارا قبلہ درست سے درست ہوتا گیا اور خود پر انحصار بڑھ گیا تو ایک دن دنیا ہماری تعریفوں میں پل باندھا کرے گی۔بھارتی قوم کے لئے مفید مشورہ مکاری چلاکی چھوڑ دیں دوسروں پر بلا وجہ تنقید اور ظلم کرنا چھوڑ دیں۔اپنا قبلہ درست کریں خود پر انحصار کریں مودی جیسے انتہا پسندوں کو آخری صفوں میں دھکیل دیں اقلیتوں کے ساتھ انصاف کریں۔بے جا غیر ملکی مداخلت پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیں۔غاصبانہ قبضوں کو چھوڑ دیں۔اگر ایسا کرنے میں ناکام رہے تو ایک دن باکل تنہا ہو جاؤ گے۔آج امریکہ تمہارے ساتھ ہے تو وہ بھی اپنے مفاد کے بعد تمہیں چھوڑ دے گا تمہارے وطن کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔مودی اسکی پہل ہے۔پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ اپنے اندرونی معاملات کو نمٹانے کی ضرورت ہے۔سیاسی جماعتوں کو آپس کی ذاتی دشمنیوں کو ختم کرنا ہوگا ۔حکومت اور اداروں کے درمیان اعتماد کو قائم کرنا ہوگا۔آرمی اور حکومت کو ایک پیج پر کھڑا ہونا ہوگا۔سب صوبوں میں توازن رکھنا ہوگا ۔اپنے ملکی غداروں کو کٹہرے میں لانا ہوگا۔اندرونی معاملات کو سمجھنا ہوگا۔سمجھنا ہوگا کہ کوئی خود کش بمبار کیوں بنتا ہے۔کوئی بندوق کیوں اٹھاتا ہے اپنوں کے خلاف۔ہمیں بلوچستان پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ہمیں آزاد کشمیر اور گلگت میں خوشیوں کو بکھیرنا ہو گا۔ہمیں مقبوضہ کشمیر کی ہمیشہ کے لئے آواز بننا ہوگا۔پورے وطن میں امن و خوشحالی کو پھیلانا ہوگا۔انصاف کو یقینی بنانا ہوگا۔کرپشن و دہشگردی کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔قانون پر عملدرآمد کرنا اور کروانا ہوگا۔میڈیا کو مثبت پیغام پھیلانا ہوگا۔اپنا تن من مضبوط کرنا ہوگا۔ہمیں اپنے من کو اتنا مضبوط کرنا ہوگا کہ دشمن کا ہر وار الٹا پڑے۔ہمیں پوری قوم کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی کسی دشمن کے بہکاوے میں نا آسکے۔ہمیں اسلام کو پاکستان کو اور انسانیت کو ایسی لڑی میں پرونا ہوگا جسے دشمن کی بڑی سے بڑی سازش و سرمایہ کاری بھی نہ توڑ سکے۔

Sunday, 18 September 2016

کشمیریوں کی آواز بنیں


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ
پھرسے ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم مظلوم کشمیریوں کی آواز بنیں۔ثابت کریں کے ہم انسان ہیں مسلمان ہیں اور پاکستان ہیں۔ہمارے پاس دل ہے وہ دل جو انسانوں کے لئے درد رکھتا ہے جو ظلم کو دیکھ کر دھڑک اٹھتا ہے اور مظلوموں کے غم کا احساس دلاتا ہے۔احساس دلاتا ہے کہ ہم انسان ہیں سب سے بڑھ کر مسلمان ہیں اللہ رب العزت کی پیدا کردہ مخلوق ہیں نبی آخر الزمانﷺ کی امت ہیں۔احساس دلاتا ہے ہم بے حس قوم نہیں کہ اپنے ہی بھائیوں پر ہونے والے ظلم پر خاموش رہیں۔بلکہ ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم دنیا کو بار بار بتائیں کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون۔مجبور کر دیں اس دنیا کی طاقتوں کو کہ وہ حق کا ساتھ دیں۔ہمیں پوری تگ و دو سے کشمیر کی جدوجہد کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔کشمیر حسین وادیوں قدرتی خوبصورتی کی حامل ریاست۔بچپن سے ہی کشمیر کی خوبصورتی کے بارے میں سن رکھا ہے۔مگر کوئی خود جا کر اس حسین وادی کشمیر کو دیکھے تو وہ ضرور جانے کہ جو سنا تھا اس سے بڑھ کر پایا۔ایسا خوبصورت علاقہ کے دیکھنے والا بیان کرتے تھک جائے۔مگر افسوس جس بچپن سے کشمیر کی خوبصورتی کے بارے میں سنتے آ رہے ہیں اسی بچپن سے اس خوبصورت وادی کے خوبصورت لوگوں پر ہوتے ظلم و ستم کی داستانیں بھی سنتے آ رہے ہیں۔خوبصورتی کے لحاظ سے دیکھیں تو کشمیر جیسا خوبصورت علاقہ کوئی بھی نہیں۔اگر ظلم و ستم کے پہلو سے دیکھیں تو یقین مانئے کشمیریوں جیسا مظلوم اور بے بس بھی کوئی نہیں۔مگر اے میرے اللہ یہ کوئی توازن نہیں کہ خوبصورت پہاڑ دریا جھیلیں عنایت کر کے خوبصورت لوگوں کو ظالم و جابر کی گرفت میں رہنے دیا جائے۔اے دنیا و جہاں کے پالنے والے ان مظلوم کشمیریوں پر اپنا خاص کرم کر کہ یہ ہمیشہ کے لئے ظالم و جابر بھارتیوں کے قبضے سے ہمیشہ کے لئے آزاد ہو جائیں۔آزادانہ زندگی بسر کر سکیں۔حسین وادیوں میں حسین لوگ اپنی سریلی آوازوں میں قدرت کے حسین مناظر کو بیان کرنے والے گیت گا سکیں۔اپنے غم اپنی خوشیاں بانٹ سکیں۔ اپنے مذہب اپنی روایات کو یاد کر سکیں اور اس پر بہتر انداز سے عمل پیرا ہو سکیں۔تیری بڑائی کی حمد و ثناء کر سکیں۔قدرت کی اس حسین عنایت کو سراہ سکیں۔اپنے مذہب و روایات کے رنگوں میں رنگ سکیں۔کہہ سکیں کہ ہمارا پیارا وطن امن و سلامتی کا گہوارہ وطن خوبصورتی سے بھرا ہوا وطن قدرت کا عطا کردہ حسین و سرسبز و شاداب یہ وطن۔کشمیر پر دن بدن بڑھتے ہوئے بھارتی مظالم سے ساری دنیا واقف ہے مگر افسوس کہ دنیا آنکھیں تو کھول لیتی ہے مگر ساتھ ہی زبان کو تالا لگا لیتی ہے۔دنیا یعنی عالمی طاقتیں عرصہ دراز سے کشمیر پر بھارتی مظالم سے واقف ہیں مگر بھارت کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتیں نہ ہی بھارت پر کوئی پابندی عائد کی جاتی ہے۔برصغیر میں تقسیم کو کئی سال گزر گئے مگر اس تقسیم میں نا انصافی کی وجہ سے ریاستوں کو آزادانہ حیثیت دینے کے معاملات ابھی بھی لٹکے ہوئے ہیں۔شاید عالمی طاقتیں بر صغیر کو مستحکم نہیں دیکھنا چاہتیں۔اس عالمی سازش میں بھارت اور پاکستان تو جل ہی رہا ہے مگر کشمیریوں کا معاملہ لٹکا کر انکی زندگیاں اجیرن اور عزاب بنانا انتہائی افسوس ناک ہے۔پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی متعدد کوششیں کیں اور کر رہا ہے۔دوسری طرف بھارت شروع ہی سے کشمیر پر قبضہ جمائے ہوئے ہے اور اسی تگ و دو میں رہتا ہے کہ بزور بندوق کشمیر کو بھارت میں ضم کر دیا جائے۔غیور کشمیری غلامی کو بہت بڑا عذاب سمجھتے ہیں اور کبھی غلامی کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی کریں گے۔بھارتی ظلم کے خلاف ہمیشہ سے سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں۔بھارتی خود بھی جانتے ہیں کے وہ کسی صورت بھی کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کم نہیں کر سکتے مگر پھر بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے۔پاکستان نے ماضی میں بھی عالمی طاقتوں پر زور ڈالا کہ کشمیر پر بھارتی ظلم ختم کرایا جائے اور کشمیریوں کو آزادی دلائی جائے۔اب کے بار پھر سے شروع ہونے والے اقوام متحدہ کے اکہترویں اجلاس میں پاکستانی وزیر اعظم محمد نواز شریف کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھائیں گے۔عید الفطر سے لے کر عیدالاضحی تک بھارت نے کشمیریوں پر ظلم جاری رکھا بلکہ ابھی بھی جاری ہے۔جس میں سینکڑوں کشمیری شہید ہوئے متعدد پیلٹ گنوں کی وجہ سے آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوئے۔ایسے میں پاکستان نے بھارت کے ظلم کو دنیا کے سامنے عیاں کیا۔بھارت نے کشمیر میں زندگی کے تمام معاملات پر پابندی عائد کر دی۔یہاں تک کے نماز عید پر پابندی عائد کردی۔ایسے میں بھارتی وزیراعظم کو علم تھا کہ دنیا انکا اصل چہرہ بھی دیکھ چکی ہے۔ اسی ڈر سے مودی نے خود اقوام متحدہ کے اجلاس میں جانے کی بجائے ششمہ سوراج کو بھیجا۔مودی نے ششمہ کے ساتھ افغانی صدر اشرف غنی کو بھی بھارتی ساتھ دینے کا ٹاسک سونپا ہے۔ذرائع کے مطابق ششمہ اور اشرف غنی کو ہٹ دھرمی دکھانے اور الٹا پاکستان کو دہشتگردوں کا پشت پناہ ثابت کرنے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ بھارت پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے اربوں کی سرمایہ کاری افغانستان اور اس کے قریبی ممالک میں کر رہا ہے۔ہمیں مودی کی جگہ ششمہ سوراج کا اقوام متحدہ کے اجلاس میں جانے کو اپنی کامیابی نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ میاں نواز شریف کو مودی اور غنی کی ملی بھگت کو سمجھ کر دلیرانہ طریقے سے بھارتی ہٹ دھرمیوں سے اقوام متحدہ میں پردہ اٹھانا چاہئے۔انکی سازش کو مد نظر رکھ کر لائحہ عمل طے کرنا چاہئے۔میاں صاحب کو ہر صورت کشمیریوں کی جدوجہد کو اقوام متحدہ کے سامنے اجاگر کرنا ہے۔میاں صاحب کے پاس موقع ہے کہ وہ بہتر حکمت عملی دکھا کر اپنے سیاسی مخالفین کا نعرہ مودی کا یار غلط ثابت کر دیں۔ 1998 میں میاں صاحب نے عوام سے رجوع کر کے جو عزت پائی ویسی عزت دوبارہ حاصل کرنے کا وقت ہے۔اگر گزشتہ کی طرح تمام عالمی دباؤ کو پرے رکھ کر میاں صاحب کشمیر کی جدوجہد آزادی اور بھارتی ہٹ دھرمیوں سے پردہ اٹھانے میں کامیاب ہو گئے تو عوام کی نظروں میں بھی سرخرو ہو جائیں گے۔میاں صاحب کی سیاست کا نازک موڑ ہے۔اپنی ساکھ ختم بھی کر سکتے ہیں اور اپنی عزت بحال بھی کرسکتے ہیں۔مخالف جماعتوں کو بھی مخالفت پرے رکھ کر حکومت کا کشمیر کے معاملے پر ساتھ دینا چاہئے بلکہ بہتر مشوروں سے بھی نوازنا چاہئے۔بطور پاکستانی مسلمان اور انسان ہم سب کو کشمیر کی آواز بننے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہر پلیٹ فارم پر چاہے اخبار و پرنٹ میڈیا چاہے ٹی وی چینل و آن لائن میڈیا چاہے سوشل میڈیا ان سب کے ذریعے ہر فرد کو مظلوم کشمیریوں کی آواز پوری دنیا تک پہنچانی چاہئے۔کشمیریوں کی جدوجہد اور بھارتی ظلم کو اجاگر کرنے کا دوبارہ وقت آگیا ہے۔اگر ہم اس بار کشمیریوں کی جدوجہد کو اجاگر کرنے میں کامیاب ہوگئے تو بھارت اور اسکے ہامیوں کو انکی ہٹ دھرمیوں اور چالاکیوں کا بہترین جواب مل جائے گا اور اگر ہم پورے ولولے سے کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کرتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب کشمیر آزاد ہو جائے گا۔پاکستان اور پاکستانیوں کو بہتر حکمت عملی سے کشمیر کی آواز کو اونچا کرنا ہے اگر پاکستان کشمیر کی جدوجہد اور بھارتی ہٹ دھرمی کو دنیا کے سامنے لے آئے اور دنیا کو یقین دلائے کے کشمیری ظالم و جابر کی قید میں ہیں تو یہ پاکستان کی فتح اور بھارت کی شکست ہوگی۔آخر میں سب سے گزارش ہے کہ صدق دل سے کشمیریوں کی آواز بنیں اللہ اجر عطا کرے گا۔

Sunday, 11 September 2016

قربانی پر اپنی انا کو قربان کر دیں


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

اناومیں۔ہمارے اندر رچ بس چکی ہے۔جو ہم ظاہری دکھاوے والی قربانی کرتے ہیں اس سے زیادہ ہمیں صدق دل سے اپنی انا و میں کو قربان کرنے کی ضرورت ہے۔اس عید پر اپنی اناو میں کو قربان کرکے دیکھیں کتنا سکون ملے گا تسکین ہو گی۔اتنی تسکین کبھی بھی ظاہری و نمائشی قربانی سے نہیں پہنچے گی۔ انا و میں کو ایک طرف رکھ کر خالص اللہ کی رضا کی خاطر قربانی کر کے محسوس کیجئے کہ کتنا سکون ملتا ہے کیسی راحت اور کیسی تسکین حاصل ہوتی ہے۔ ذوالحج کا چاند نکلتے ہی مسلمانوں میں بھاگ دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔ہر کوئی اپنی مصروفیات میں مصروف نظر آتا ہے۔کوئی حج کا فریضہ ادا کرنے کے لئے مصروف اور کوئی قربانی کی تلاش میں مصروف کوئی گھر کے سازو سامان کی خرید میں مصروف اور کوئی شاپنگ یعنی نئے کپڑوں نئے جوتوں وغیرہ کی خرید میں مصروف۔سب کی بھاگ دوڑ لگی ہوتی ہے۔سب بہتر سے بہتر بننے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں۔قارئین آپ سب جانتے ہیں کہ قربانی حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی سنت ہے۔اللہ تعالی کے محبوب پیغمبر نے اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنے اکلوتے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ اسلام کو بھی قربان گاہ لے گئے۔آنکھوں پر پٹی باندھے اپنے پیارے اسماعیل کی گردن پر چھری چلانے لگے مگر چھری حضرت اسماعیل کی گردن پر نہ چل سکی کیوں کہ اللہ رب العزت کا چھری کو چلنے کاحکم نہیں تھا۔اللہ کے نزدیک تقوی افضل ہے۔اللہ تعالی نے اس چھری کے نیچے آسمانی دنھبے کو رکھ دیا یوں اسی واقعے پر قربانی کی روایت چلی آرہی ہے۔مسلمان ہر سال اللہ تعالی کی رضا کی خاطر جانور قربان کرتے ہیں۔موجودہ دور میں دنیا بھر میں لاکھوں جانور قربان ہوتے ہیں۔لوگ بڑھ چڑھ کر بڑے جوش و خروش سے جانوروں کو خریدتے ہیں۔مویشی منڈیوں میں ہر طرف رش ہی رش ہوتا ہے۔ہر جانور اپنی ہی خوبصورتی میں نظر آتا ہے مالکان ان کی زیب و آرائش پر خصوصی توجہ دیتے ہیں فن سکھاتے ہیں۔لوگ خصوصی بچے جانوروں کے فن اور خوبصورتی کو دیکھ کر سراہتے ہیں اور اپنے والدین سے اپنا من پسند جانور خریدنے پر ذور ڈالتے ہیں۔جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں جو عام آدمی کی دسترس سے بالکل باہر۔واقعی غریب اس عید پر ایک عدد مرغ ہی ذبح کریں گے۔یہ بڑھتی ہوئی قیمتیں امیروں کے لئے تفریح اور غریبوں کے لئے ناسور بن کر رہ گئی ہیں۔میرا آج کا عنوان قربانی پر اپنی انا کو قربان کر دیں۔جی دوستو یقین مانو واقعی انا و میں کو قربان کرنے کی اشد ضرورت ہے نہیں تو معاشرہ برباد ہو جائے گا۔ہمارے وطن اور معاشرے میں انا و میں کی بھینٹ سینکڑوں لوگ چڑھ رہے ہیں۔ہمارے وطن میں دو گز زمیں پر قتل گاڑی سٹینڈ کی پرچی پر قتل اور متعد واقعات پر جان کا خاتمہ۔معاشرے کو انا و میں کے خاتمے کی اشد ضرورت ہے۔یہاں ہر کوئی اپنی انا و میں ہی میں پھنے خاں بنا پھرتا ہے اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے۔لفظ میں اور انا ہر شخص میں رچ بس چکا ہے چاہے وہ چھوٹا ہے بڑا ہے بوڑھا ہے غریب ہے امیر ہے سیاستدان ہے حکمران ہے مذہبی اسکالر ہے صحافی ہے پولیس آفیسر ہے حتی کہ ہر کسی میں مالک ہو یا ملازم کوئی شرط نہیں میں و انا سب میں موجود ہے۔یہ میں و انا تو عرصہ سے ہی چلی آرہی ہے۔مگر گزشتہ کچھ عرصہ سے میں و انا پر قتل و غارت جیسے بیانک واقعات میرے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑ رہے تھے سوچا تھا کبھی موقع ملا تو ضرور لکھوں گا۔کل سوسائٹی میں بچوں کو قربانی کے بکروں سے کھیلتے ہوئے دیکھا تو انکی طرف متوجہ ہو گیا اچانک بچے کھیلتے کھیلتے اس بحث میں لگ گئے کہ میرا بکرا بڑا ہے نہیں میرا۔میرا بکرا زیادہ خوبصورت ہے نہیں میرا۔چھوٹے چھوٹے قریب پانچویں جماعت کے طالب علم اچانک بحث بحث میں اوقات اور ذات پر آن پہنچے۔تمہاری اتنی اوقات نہیں کے تم اچھا بکرا خرید سکو۔میں بڑا حیران ہوا کہ چھوٹے چھوٹے ننے منے بچے اور اتنی زیادہ اکڑ اور انا ۔بیٹھے بٹھائے مجھے میرا عنوان مل گیا۔قربانی کا موسم ہے سوچا قربانی سے ہی منصوب کر دوں۔دوستو سچے دل سے سوچئے گا کہ ہماری قربانی اللہ کے نزدیک قابل قبول ہے یا نہیں۔یہ اللہ رب العزت پر ہے کہ وہ ہماری قربانی قبول کرے یا نا کرے مگر ہم بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے ناقابل قبول بنانے کے لئے۔قربانی کا اصل مقصد اللہ تعالی کی رضا اور تقوی ہے۔مگر ہم لوگ دکھاوے کے لئے اپنی انا کو اونچا کرنے کے لئے قربانی خریدتے ہیں۔کبھی دل سے اللہ کی رضا اور سنت ابراہیم کے لئے نہیں سوچا۔بس یہ سوچتے ہیں شیخ صاحب نے اونٹ لیا ہے تو ہم کیوں پیچھے رہیں فلاں نے دس لاکھ کا جانور خریدا ہم اس سے کم تو نہیں۔قربانی کو بھی انا اور دکھاوے کے کھیل میں نمائش بنا کر رکھ دیا ہے۔اللہ نے غریبوں سے ہمدردی کے لئے قربانی جیسا فریضہ انجام دینے پر نیکیاں رکھی ہیں نا کہ ظاہری نمائش اور انا بڑھانے کے لئے۔لاکھوں کے جانور خرید کر بھی اللہ کی رضا نہ حاصل کر سکو تو اس قربانی کا کوئی فائدہ نہیں۔افسوس کہ ہمارے ہاں اس مقدس قربانی جیسے فریضے میں بھی ظاہری انا اور دکھاوہ ہر سال سر فہرست ہوتا ہے۔حج میں بھی اکثر لوگ انا و دکھاوے کو سرفہرست رکھتے ہیں۔جس کی مثال سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور سیلفیاں ہیں۔انا پرستی کی ایک اور مثال سنو بھائی ہم قربانی تو کرلیتے ہیں مگر گوشت غریبوں کی بجائے اپنے حریفوں اور رشتہ داروں ہمساؤں کو بھیجتے ہیں تاکہ انہیں پتہ چل سکے کہ اونٹ کا کیسا ذائقہ ہے حتی کے انہوں نے بھی قربانی کی ہوتی ہے۔اگر کوئی غریبوں میں تقسیم کر بھی دے تو اچھا گوشت علیحدہ اور ہڈیاں غریبوں میں تقسیم۔قربانی کر کے اپنے ہی فریج و فریزر بھرنا ایسا ہی ہے جیسے بازار سے گوشت خرید کر لائے چاہے وہ کھوتے کا ہے یا کسی بھی جانور کا۔دوستو بات انا کی ہے۔انا ومیں ہمارے معاشرے میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے جس کو کبھی دوبارہ تفصیل سے ضرور لکھوں گا۔مفتیان کرام سے گزارش ہے کہ روشنی ڈالیں کیا آپس میں ہی بار بار گوشت بانٹنا جائز ہے؟سب دوستوں سے گزارش ہے کہ اگر اللہ نے عطا کیا ہے تو اپنی انا اور دکھاوے کو پرے رکھ کر حقیقی قربانی کے جذبے سے گوشت غرباء میں تقسیم کریں اور عید کے موقع پر ہو سکے تو کسی کی مالی امداد بھی کر دیں۔کھالیں بھی حقیقی حقدار اداروں کے پاس پہنچنی چاہیے۔ملک کے حکومتی اداروں اور تمام سیاسی اداروں سے گزارش ہے کہ خدارا اس عید پر اپنی انا و میں کو قربان کردیں تاکہ ملک پاکستان بھی اس انا و میں کی لڑائی سے باہر آئے اور ترقی کی راہ پر گامزن رہے۔جو سچے دل سے اپنی انا ومیں کو قربان کرنے کی کوشش کرے گا اللہ اسے شاید قربانی سے بھی زیادہ اجر عطا کر دے۔یہ بھی ایک بڑی قربانی ہوگی۔قادری صاحب کے امن کے حق میں بیان پر بڑی خوشی محسوس ہوئی کسی کے گھر کا محاسبہ درست نہیں۔آخر میں سب دوستوں کو دلی عید مبارک۔خوش و آباد رہیں۔