Sunday, 21 October 2018

سنگین افغان صورتحال


چوہدری ذوالقرنین ہندل:لکھاری گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں،مکینیکل انجینیئر اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔

افغانستان پہاڑوں سے گھرا ہوا خشکی کا خطہ ہے۔جو ایشیاء کے جنوب۔وسط میں واقع ہے۔جس کی 99فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔جس کے ہمسایہ ممالک میں پاکستان،ایران، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان اور چائنہ شامل ہیں۔
یوں تو صدیوں سے ہی جنگوں اور لڑائیوں کا سلسلہ چلا آرہا ہے۔افغانستان بھی ایسا ملک ہے، جو موجودہ جدید دور میں بھی خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے۔گزشتہ چالیس برس کی طویل خانہ جنگی نے افغانستان کی زمین کو سرخ کر دیا ہے۔خطے میں دہشت طاری ہے۔ان گنت جانوں کا نقصان، جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔اس جنگی صورتحال کا آغاز 1978میں ہوا۔جب کیمیونسٹ حامی گروپ کی بغاوت سامنے آئی۔تاہم اس سے پہلے بھی افغانوں میں قبیلوں کی لڑائیاں ،برسوں سے لڑی در لڑی چلتی آرہی تھیں۔انہیں بغاوتوں اور لڑائیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے1979کو سویت یونین نے افغانستان میں اپنی فوجی مداخلت شروع کردی۔خانہ جنگی دن بدن بڑھتی چلی گئی۔افغان گروپ متحرک ہوکر روسیوں اور اتحادیوں کے خلاف لڑنے لگے۔تاہم اس افغانی لڑائی میں افغانیوں کو امریکہ ،پاکستان، اور سعودیہ کی مدد حاصل تھی۔امریکی جدید اسلحے کی بدولت افغانی دوبارہ اپنے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے لگے۔جہاں افغانستان کی تاریخ خون سے رنگی جا رہی تھی، وہیں سویت یونین بھی اپنی بدترین شکست کی طرف گامزن تھی۔اس خونی جنگ میں لاکھوں افغانیوں نے پاکستان ہجرت کی۔ایک لمبی خونی جنگ کے بعد روسیوں اور اتحادیوں کو ہار تسلیم کرنا پڑی ،اور سویت یونین نے 1989میں افغانستان سے اپنی فوجوں کو نکال لیا۔
تاہم بات ادھر ہی ختم نہیں ہوتی۔امریکہ جس نے سویت یونین کو شکست دینے کے لئے افغانیوں کی مدد کی ،انہیں استعمال کیا ،افغانستان کو اپنے اسلحے سے لیس کر کے بے یارو مددگار چھوڑ گیا۔افغانستان میں مختلف گروہ اپنی بالادستی کے لئے آپس میں لڑنے لگے۔آپسی جنگوں کے بعد افغان طالبان کی حکومت سامنے آئی ۔جس میں شریعت کا قانون نافذ کیا گیا۔پاکستان افغان طالبان کا حامی تھا۔مگر امریکہ و دیگر اس حکومت سے خائف تھے۔پھر ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت نائن الیون کا واقع رونما ہوتا ہے۔جسے القاعدہ کے ذمہ ڈالا جاتا ہے۔امریکہ دنیا بھر کی ہمدردیاں سمیٹتا ہے۔مسلمان دنیا بھر میں ذلیل و رسوا ہونے لگتے ہیں۔امریکہ اپنی ہمدردیوں کی بدولت نیٹو اتحاد کے زریعے 2001کو افغانستان میں اپنی فوجیں اتاردیتا ہے۔مکمل کنٹرول حاصل کرتا ہے۔طالبان اور اتحادیوں کی حکومت کا خاتمہ کرتا ہے۔طالبان اور اتحادی دوبارہ جنگی محاذوں پر آ کھڑے ہوتے ہیں۔امریکہ حامد کرزئی کی کٹھ پتلی حکومت قائم کرتا ہے۔پاکستان بھی امریکی نان نیٹو اتحادی کی صورت میں امریکہ کو ہر طرح کی مدد فراہم کرتا ہے۔پاکستانی چیف ایگزیکٹیو مشرف امریکیوں کو افغانستان میں سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے ہر ممکن راستہ فراہم کرتا ہے۔بہت سے افغانی گروہ پاکستان مخالف ہو جاتے ہیں۔جس کی بدولت پاکستان میں بھی دہشتگردی کی گونج سنائی دیتی ہے۔امریکہ اسی دہشتگردی کی آڑ میں پاکستان میں ڈراؤن اٹیک کی صورت میں مداخلت کرتا ہے۔پھر وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرتا ہے۔اسی دوران اسامہ بن لادن کی موت کا ڈرامہ بھی رچایا جاتا ہے۔
امریکہ کو اس جنگ سے پہلے اور درمیان میں بہت سے زرائع نے خبر دار کیا تھا کہ، افغانستان میں مداخلت سے باز رہو۔افغانستان میں فتح حاصل کرنا جتنا آسان ہے، فتح برقرار رکھنا اتنا ہی مشکل ہے۔بہت سے زرائع نے مذاکرات کے زریعے معاملے کو حل کرنے کی بھی تجویز دی۔پاکستان بھی مذاکرات کا حامی ہے۔تاہم امریکہ اپنی طاقت کے نشے میں چور تھا۔امریکہ طاقت کے نشے میں وہ احداف حاصل کرنا چاہتا تھا ،جو وہ ظاہر نہیں کرتا ۔وقت گزرتا گیا ۔امریکہ اپنے اصل احداف جن کی بدولت افغانستان پر قابض تھا نہ حاصل کر سکا۔درحقیت امریکہ براسطہ افغانستان خطے کو کنٹرول نہ کرسکا۔نہ ہی پاکستان پر نہ ہی ایران پر اس طرح سے اثر انداز ہو سکا ،جو اس کے اصل احداف میں شامل تھا۔امریکہ کو اس جنگ میں پسپائی نظر آرہی ہے۔اوپر سے خطے میں ہونے والی تبدیلیوں اور شراکت داریوں نے امریکہ کو پریشان کر رکھا ہے۔امریکہ اس طرح سے ابھرتی ہوئی طاقتوں کو کاؤنٹر نہیں کر پا رہا، جس طرح اس کی چاہ ہے۔امریکہ اپنے حصے میں آنے والی شکست سے خائف ہے۔اور چاہتاہے کہ، سویت یونین کی طرح اسے نقصان نہ اٹھانا پڑے۔کسی درمیانے طریقے سے نکل جائے۔بالادستی اور عزت بھی قائم رہے۔درحقیت دنیا کو مختلف محاذوں پر الجھانے والا امریکہ خود اس خطے میں الجھن کا شکار بن گیا ہے۔یہی وجہ ہے گزشتہ سالوں سے طرح طرح کے تجربات کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔کبھی پاکستان کو اپنا بڑا اتحادی گردانتے ہوئے تعریفوں کے پل باندھتا ہے۔کبھی پاکستان کو ڈو مور کا حکم دیتا ہے۔کبھی پاکستان کو سنگین دھمکیاں دیتا ہے۔کبھی پابندیاں عائد کرتا ہے۔کبھی افغانستان میں بم باری کرتا ہے۔کبھی مذکرات کو ترجیح دیتا ہے۔کبھی بھارت کو افغانستان میں سرگرمیاں تیز کرنے کی تنبیہ کرتا ہے۔وغیرہ وغیرہ۔گزشتہ امریکی ردو بدل سے صاف ظاہر ہوتا ہے ۔امریکہ بھی اب کے بار بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔افغانستان سے انخلاء چاہتا ہے ،مگر اپنی انا پر سمجھوتا نہیں کر سکتا۔امریکہ جیسی سپر پاور کے طرف سے مذاکرات کے اشارے افغان امن کے لئے نہایت ضروری ہیں۔امید کرتے ہیں کہ ان مذکرات کی بدولت افغانستان میں امن و امان کی صورتحال بہتری کی طرف گامزن ہوگی۔گزشتہ روز افغان طالبان کی طرف سے گورنر ہاؤس میں منعقدہ اجلاس کے بعد امریکی کمانڈر اور گورنرز پر جو حملہ کیا گیا ،نہایت تشویش ناک ہے۔جب مذاکرات کی راہ نکل رہی ہو۔ ایسے میں جان لیوا حملے مذکرات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اور معاملات مزید بگھڑ سکتے ہیں۔دونوں گروہوں کو صبر سے کام لینا چاہئے۔تاہم امریکہ سے کوئی زیادہ امیدیں وابسطہ نہیں رکھنی چاہئیں۔امریکہ ماضی میں بھی سویت یونین کے خلاف جنگ کے بعد افغانستان کو بے یارو مددگار چھوڑ کر چلا گیا تھا۔جس کا خمیازہ پاکستان اور افغانستان کو بھگتنا پڑا۔اب کے بار بھی امریکہ اسی موقعے کی تلاش میں ہے۔امریکہ اب کی بار پھر افغانیوں کو یوں ہی چھوڑ کر چلا گیا ، تو یہ پھر گروہوں میں بھٹ کر خانہ جنگی کو فروغ دیں گے۔جس سے افغانستان کے حالات مزید سنگین تر سنگین ہو جائیں گے۔جس سے نبردآزما ہونے کے لئے پاکستان کو زہنی لحاظ سے تیار رہنا چاہئے۔جتنا جلد ہوسکے بارڈر مینجمنٹ کو مکمل کیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ، پاکستان امریکہ اور اتحادیوں کو امن امان کی صورتحال بہتر ہونے تک، انخلاء نہ کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔امریکہ کو پاکستان سے ایسی امیدیں وابسطہ نہیں رکھنی چاہئیں، جس پر ان کا اختیار ہی نہیں۔امریکہ مسلسل پاکستان کو الجھانے کی تگ و دو کر رہا ہے۔جہاں تک ہوسکے گا، پاکستان امن کے فروغ کے لئے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا۔کیوں کہ خطے کا امن ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔پاکستان کو اپنا مؤقف قائم رکھنا چاہئے۔اور کسی بہلاوے کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔یہی مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔

Sunday, 14 October 2018

قابل تعریف اقدامات ،مگر نامناسب منصوبہ بندی

چوہدری ذوالقرنین ہندل:لکھاری گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں ،مکینیکل انجینیئر اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف نے جب سے حکومت سنبھالی ہے، لگاتار مشکلات کا شکار ہے۔الیکشن سے قبل برسر اقتدار جماعت کی طرف سے بلند و بانگ دعوے کئے گئے تھے۔شاید ایسے دعوؤں کو فی الفور عملی جامہ پہنچانا، صرف مشکل ہی نہیں ہے۔بلکہ ناممکن کے قریب ترین ہے۔تاہم وقت کے ساتھ ساتھ، مناسب منصوبہ بندی کے تحت، حکومت عوام کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کو پورا کرسکتی ہے۔برسر اقتدار آنے کے بعد جہاں حکومت مشکلات سے دو چار ہے۔ وہیں اس میں حکومت کی اپنی ناتجربہ کاری اور گزشتہ حکومتوں کی نامناسب منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔موجودہ حکومت کی ایمانداری پر عوام کو ابھی شک نہیں کرنا چاہئے۔انہیں مناسب منصوبہ بندی کا وقت دینا چاہئے۔برسراقتدار حکومت لگاتر اچھے اقدامات اٹھا رہی ہے۔جو واقعی قابل تعریف ہیں۔جیسے کلین اینڈ گرین پاکستان،تجاوزات کا خاتمہ، ہاؤسنگ سکیم ،ٹریفک قوانین کی پابندی اور احتساب وغیرہ۔ تاہم سارے اقدامات نامناسب منصوبہ بندی اور جلد سازی کی نظر ہورہے ہیں۔
گزشتہ روز سے یہ خبر سر گرم عمل ہے ،کہ 20اکتوبر کے بعد پی ٹی اے سے غیر تصدیق شدہ موبائل فون قابل استعمال نہیں رہیں گے۔موبائل صارفین کو 8484نمبر کی طرف سے پیغامات وصول ہو رہے ہیں ،کہ20اکتوبر کے بعد پی ٹی اے سے غیر تصدیق شدہ موبائل فون بند کر دیئے جائیں گے۔تفصیلات جاننے کے لئے 8484پر اپنا IMEIنمبر بھیجیں۔تاہم مختلف موبائل فونز کی طرف سے نمبر بھیجنے پر کوئی خاطر خواہ تفصیلات موصول نہیں ہوتیں۔جواب موصول ہوتا ہے کہ ،کوئی تفصیل موجود نہیں براہ کرم دوبارہ کوشش کیجئے۔یقین مانئے حاکم وقت یا متعلقہ ادارے کی طرف سے یہ نہایت ہی اچھا اور قابل تعریف اقدام ہے۔تاہم اس اقدام کے پیچھے مناسب منصوبہ سازی نظر نہیں آتی۔یہ اقدام بھی دوسرے اقدامات کی طرح جلد بازی کا شاخسانہ نظر آرہا ہے۔لوگوں کو موبائل فون بند کرنے کے پیغامات تو بھیج دیئے گئے ہیں۔مگر چند چیزیں مد نظر نہیں رکھی گئیں۔آیا حکومت یا متعلقہ ادارے کو، لوگوں میں پی ٹی اے،آئی ایم ای آئی نمبر وغیرہ بارے آگاہی نہیں دینی چاہئے؟کیا متعلقہ ادارے کو پہلے ایسے زرائع کو کنٹرول نہیں کرنا چاہئے جہاں سے پی ٹی اے سے غیر تصدیق شدہ موبائل آتے ہیں؟ہونا تو یہ چاہئے تھا حکومت ایسے موبائل فونوں کے امپورٹ پر پابندی لگاتی۔لوگوں میں موبائل فونوں کی خریداری بارے آگاہی پھیلاتی۔پہلے سے موجود لوگوں کے پاس موبائل فونوں کو رجسٹرڈ ہونے کا موقع فراہم کرتی۔یقین سے یہ موقع فراہم کیا جا رہا ہے ۔مگر عوام اس سے بے خبر کیوں ہے؟۔کیا کوئی آگاہی اشتہار جاری نہیں کرنا چاہئے؟۔فقط چند ویب سائٹس پر معلومات سے عام لوگوں تک خبر نہیں پہنچ پاتی۔ایسی معلومات کوسماجی ویب سائٹس اور ٹیلی ویژن پر عام کرنا چاہئے۔پھر جا کر کہیں موبائل فونوں کی بندش کا عندیہ دیا جانا چاہئے تھا۔حکومت اپنے ہر آغاز ہی کو اختتام گردانتی ہے۔حکومت کی طرف سے جلد بازی میں کئے گئے یک طرفہ اقدامات، جس میں عوام کو ہر صورت نقصان ہی پہنچے ،یا پریشانی کا سبب بنے۔ کسی صورت قابل قبول نہیں۔موبائل فونوں کی بندش کے فوری اقتدامات پر حکومت کو نظر ثانی کرنا ہوگی۔اور ایسا کرنے سے پہلے آگاہی پھیلانا ہوگی۔حکومت کو زمینی حقائق و مسائل اور عوام کی بھلائی کو مد نظر رکھ کر پالیسیاں مرتب کرنی چاہئیں۔حکومت کا کام عوام کو سہولیات میسر کرنا ہوتا ہے ۔نہ کہ اپنے جارحانہ فیصلے ان پر مصلت کرنا۔ہر کام کا کوئی طریقہ کار ہوتا ہے ۔پہلے آگاہی دی جاتی ہے۔پھر اس پر عملدرآمد کر وایا جاتا ہے۔
حکومت نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کر کے بڑے بڑے برجوں کو الٹ دیا ہے۔عوام حکومت کے اس اقدام سے کافی خوش بھی ہے۔واقعی حکومت کا یہ اقدام بھی قابل تعریف ہے۔مگر اس اقدام کی گہرائی میں بھی جایا جائے تو علم ہوتا ہے کہ مناسب منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔بظاہر یہ منصوبہ بہت اچھا ہے اور واقعی اس کے نتائج پاکستان کے لئے مفید ثابت ہوں گے۔مگر دیکھا جائے تو تجاوزات کے خلاف آپریشن کسی ترتیب کے تحت نہیں کیا جا رہا۔کسی روز دائیں جانب دو کلومیٹر جا کر کوئی عمارت گرا دی جاتی ہے تو کسی روز بائیں جانب۔اس غیر ترتیب شدہ آپریشن میں جہاں مال داروں کو وقت مل رہا ہے۔ وہیں غریبوں کے سر پر کم وقت کی تلوار لٹک رہی ہے۔اگر آپریشن کسی ترتیب کے تحت کیا جائے تو غریب لوگوں کو اپنی باری کا اندازہ ہو جائے اور اپنے مقررہ وقت سے پہلے وہ اپنا بندوبست کر لیں۔ایسے میں عوام کو بھی وقت مل جا ئے گا اور حکومت کا بھی وقت بچ جائے گا۔
اسی طرح پچاس لاکھ گھروں کی اسکیم میں بھی نامناسب منصوبہ بندی نظر آرہی ہے۔وزیر اعظم کچھ کہتے ہیں اور تفصیلات کچھ نظر آتی ہیں۔تاہم اس حکومتی جلد سازی و فیصلے پر بعد میں بھی ردو بدل ہو سکتا ہے۔
حکومت کی نامناسب منصوبہ بندی کے تحت آج عوام سو پیاز اور سو جوتے بھی کھا رہی ہے۔یعنی ٹیکسوں کی بھرمار نے مہنگائی کا طوفان برپا کیا ہوا ہے۔ڈالر کی قیمت میں اضافہ کے باعث ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے۔غربت کی ماری عوام مہنگائی کے اس طوفان میں مزید پس رہی ہے۔حکومت ایک طرف عوام پر مہنگائی کا طوفان مصلت کر کے دوسری طرف آئی ایم ایف سے قرض مانگ رہی ہے۔اگر قرض ہی مانگنا تھا تو عوام کو پھر ریلیف کیوں نہیں دیا؟ مانتے ہیں کہ اس میں گزشتہ حکومتوں کا پورا پورا قصور شامل ہے۔مگر یاد رکھئے! کہ عوام کو نہ ہی دیا ہوا ریلیف بھولتا ہے اور نہ ہی مہنگائی۔
حکومتی وزراء کی طرف سی پیک جیسے منصوبے پر نامناسب بیان بازی نے ،اس مفید منصوبے کو متاثر کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج امریکہ دوبارہ اسے سبوتاز کرنے کی تگ و دو کرہا ہے۔آئی ایم ایف ہم سے سی پیک کی تفصیلات مانگ رہا ہے۔چائنہ ہم سے کترانہ شروع ہوگیا ہے۔خطے میں ہمارا مذاق بن رہا ہے۔حکومت کی یونہی ڈگمگاتی پالیسیاں اور منصوبہ بندی ہر گز وطن کے مفاد میں نہیں۔
اسی طرح ٹریفک قوانین پر پابندی جو کہ نہایت ہی قابل تعریف اقدام ہے۔صرف اسی وجہ سے سوشل میڈیا پر مذاق بنا، کیوں کہ قوانین پر عملدرآمد سے پہلے ان کے بارے آگاہی نہیں دی گئی۔
حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے سارے اقدامات قابل تعریف ہیں۔اور واقعی خالص عوام کی بھلائی کے لئے ہیں۔مگر حکومت اپنے ہر عمل میں جلد بازی کا شکار ہو رہی ہے۔منصوبہ بندی کا فقدان حکومت کے لئے تنقید کے تیر چلا رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج حکومت کا ہر منصوبہ مذاق بن رہا ہے اور عوام مایوس نظر آرہی ہے۔حکومت کو ایک بات زہن نشین کرنی چاہئے کہ وہ ایک سال یا دو سال کے لئے منتخب نہیں ہوئے ۔بلکہ عوام کی طرف پانچ سال کے لئے منتخب کیے گئے ہیں۔اگر حکومت کا رویہ یونہی غیر سنجیدہ رہا۔ تو وہ دن دور نہیں جب انکا نام بھی گزشتہ روایتی حکومتوں کے ساتھ موجود ہوگا۔
حکومت پاکستان کو مناسب و دیرپا منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔جس میں دانائی نظر آئے۔جو ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے میں مددگار ثابت ہو۔جس سے عوام کو بھی ریلیف ملے۔تنقیدی تبصروں سے نکل کر مناسب منصوبہ بندی کے تحت عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

Tuesday, 9 October 2018

احتساب یا سیاسی انتقام

پاکستان 
 میں لفظ’ احتساب‘ مشکوک نظروں او ر غلط نظریے سے دیکھا جاتا ہے۔احتساب کو مشکوک بلندیوں تک پہنچانے میں گزشتہ سیاسی پارٹیوں اور آمروں کا خاصہ کردار رہا ہے۔گزشتہ ادوار میں احتساب کو ذاتی و سیاسی مفادات و انتقام کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔
پاکستانی عوام برسوں سے حقیقی احتساب کی راہ تک رہی ہے۔ہمارے آباؤ اجداد بھی اس کی گونج سننے کو بے تاب تھے۔یہی وجہ ہے لفظ احتساب کی مقبولیت آج بھی قائم ہے۔احتساب کے معنی ’جانچ پڑتال‘ کے ہیں۔یعنی محاسبہ کرنا نفس عارف کا تفصیل تعینات سے،ڈھونڈنا ان میں حقائق کو، اور پھر روک تھام وغیرہ۔
ہمارے ہاں درمیانہ طبقہ احتساب کا خاصہ متلاشی رہا ہے۔کیونکہ اس طبقے کو ہر دور میں یہی ابہام رہا ہے، کہ ان کے جائز حقوق پر ڈاکا ڈالا جاتا ہے۔دوسری طرف امراء و جاگیرداروں میں اسے مزاح کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔کیونکہ انہیں یقین ہے کہ، یہ ممکن ہی نہیں کہ احتساب ہوسکے۔بروقت مناسب احتساب قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج امریکہ ،یورپ، اور چائنہ وغیرہ ہم سے بہت آگے ہیں۔بروقت احتساب نے قوموں کو بام عروج تک پہنچایا ہے۔واقعی اس میں ان کی محنت ہی شامل ہے۔
ہمارے ہاں جیسی محنت و کارکردگی دیگر شعبوں میں ہے ،ویسی ہی احتساب کے عمل میں۔بلکہ ہمارے ہاں حکومتیں اور ادارے احتساب کو اپنے ذاتی مفاد و مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرتے آئے ہیں۔گزشتہ کئی عرصوں سے ہمارے ہاں احتساب مسلسل ذاتی مفادات کی غرض سے جاری ہے۔کبھی پیپلز پارٹی، تو کبھی مسلم لیگ، ایک دوسرے کو فرضی احتساب میں دھکیلتے آئے ہیں۔کیا وجہ ہے کہ ،ہمارے ہاں بار بار وہی چہرے سامنے آرہے؟کیا وجہ ہے کہ بار بار احتساب کی ضرورت پڑتی ہے؟وجہ یہی ہے کہ احتسابی عمل کی کبھی تکمیل ہی نہیں ہوئی۔جس کی بدولت ان کو بار بار کرپشن کا موقع ملتا ہے۔بار بار وہی پرانے چہرے سامنے آرہے ہیں۔ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں احتساب کی بازگشت صرف اور صرف سیاسی انتقام کی صورت میں ہی سنائی دی۔سیاسی انتقام کی صورت میں صرف ہدف و نشانہ بنا کر ہی احتساب ہوتا ہے۔سیاسی پارٹیوں میں انتقامی احتساب برسوں سے چل رہا ہے۔کبھی اس کی باری تو کبھی اس کی۔اور یہ انتقامی احتساب ملک کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ہمارے ملک پر عسکری آمر بھی قابض رہے ۔سنا ہے کہ آمریت بہت مضبوط ہوتی ہے۔مگر افسوس کہ گزشتہ ادوار کے آمر بھی فقط حدفی احتساب کو ہی فروغ دیتے رہے۔احتساب پر مفادات اور اقتدار کو ترجیح دیتے رہے۔بروقت اور شفاف احتساب کی تکمیل میں گزشتہ آمر و منتخب حکومتیں ہمیشہ ناکام رہی ہیں۔احتساب کے ڈر سے پارٹی مفادات بدلتے بھی دیکھے گئے۔احتساب کے خوف سے پارٹیاں بدلنے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔نا مکمل احتساب کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ، بہت سے کرپٹ سیاستدان احتساب سے بچنے کے لئے سیاسی پارٹیاں بدل لیتے۔ اس پارٹی میں شامل ہو جاتے ،جو احتساب کی صدا بلند کرتی۔مگر افسوس کہ، احتساب کی صدا لگانے والوں کو اپنی پارٹی یا گروہ میں کبھی کوئی بدعنوان و کرپٹ نظر نہیں آیا۔گزشتہ چند سالوں سے تبدیلی کی صورت میں احتساب کی باز گشت پھر سنائی دے رہی ہے۔جس کا سہرا عمران خان کے سر جاتا ہے۔عمران خان نے ہمیشہ ہر فورم پر کرپشن کے خاتمے پر زور دیا۔یہی وجہ ہے عوام نے انہیں آج ایوانوں میں پہنچایا ہے۔عوام آج احتساب کے مطالبے پر عملدرآمد چاہتی ہے۔ مانتے ہیں کہ، عمران خان بھی اپنے اس وعدے پر قائم ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف آج دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں ہیں۔شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں بلا کر، آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں گرفتار کیا گیا ۔اس میں کوئی مزائقہ نہیں۔نیب ایک آزاد و خودمختار ادارہ ہے۔ اسی لئے اسپیکر قومی اسمبلی کو بتائے بغیر گرفتار کیا گیا۔مگر سوال یہ ہے کہ نیب کی گزشتہ کارکردگی کیا ہے؟ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ، ضمنی انتخابات سے پہلے ہی کیوں گرفتار کیا گیا؟ کیا یہ گرفتاری انتخابات پر اثر انداز نہیں ہوگی؟کہیں ایسا تو نہیں تھا کہ انتخابات میں ہارنے کے خوف سے گرفتاری عمل میں لائی گئی ہو؟ چلیں ہم مان لیتے ہیں کہ ایسا ہرگز نہیں۔ موجودہ حکومت صدق دل سے احتساب کا عمل چاہتی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ، احتساب صرف ایک پارٹی تک ہی محدود کیوں؟کیا دیگر پارٹیوں میں موجود وزراء اور منتخب نمائندے بھی نیب و دیگر کیسوں میں ملوث نہیں؟نیب کی لسٹ میں موجود ، زلفی بخاری، علیم خان،پرویز خٹک ، پرویز الہی اور دیگر نمائندوں کو کیوں نہیں بلایا جا رہا؟ کیا نیب کے پاس ان کے لئے وقت نہیں؟ عوام ایسا احتساب ہر گز نہیں چاہتی ،جس میں ایک ہی جماعت کو نشانہ بنایا جائے۔ سب کا احتساب چاہتی ہے ،نہ کہ صرف حدفی احتساب۔عوام ہر گز یہ نہیں چاہتی کے پارٹی کے بڑے رہنماؤں کو ہاتھ نہ ڈالا جائے۔ضرور ڈالا جائے۔مگر عوام کو بتایا جائے نیب والے کب آصف زرداری اور شجاعب حسین کو بلا رہے ہیں؟ کب بیرون ملک موجود پرویز مشرف کا احتساب ہوگا؟عوام تو چاہتی ہے کہ، جلد از جلد ملک کو نقصان پہنچانے والے سلاخوں کے پیچھے ہوں۔ چاہے کسی بھی پارٹی سے ہوں۔اگر حکومت ایسا نہیں کر سکتی تو پھر اسے انتقامی سیاست سمجھا جائے ؟روایتی سیاست کو ہر گز احتساب کا رنگ نہ دیں ۔احتساب کے لئے کچھ نیا کرنا پڑے گا ۔اپنی صفوں سے بھی صفایا کرنا پڑے گا۔پشاور میٹرو جس کی لاگت میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔کیا اس منصوبے کا فرانزک آڈٹ ضروری نہیں؟ احتساب کی جیسی فضا آج چل رہی ہے۔ایسی ہی فضا گزشتہ ادوار میں بھی چلتی رہی ہے۔گزشتہ منتخب حکومتوں اور آمروں نے اداروں کو ذاتی مفادات کے لئے استعمال نہ کیا ہوتا۔تو آج ہمارے اداروں پر سوالیہ نشان نہ ہوتا۔ویسی ہی غلطی موجودہ حکومت کر رہی ہے۔موجودہ حکومت کی طرف سے احتساب کی فضا صرف سیاسی حدف حاصل کرنے کا شاخسانہ نظر آرہی ہے۔وریراعظم صاحب اگر واقعی احتساب چاہتے ہیں، تو پارٹیوں کی تفریق کئے بغیر ہر رنگ کی پارٹی کے شخص کو جو مطلوب ہو، کٹہرے میں لایا جائے۔چاہے اپنی ہی پارٹی کا کیوں نہ ہو۔ ابھی عوام موجودہ حکومت پر اعتماد کرتی ہے، اور امید کرتی ہے کہ یہ گزشتہ ادوار کی طرح لوگوں کو حدف بنا کر احتساب کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کریں گے۔بلکہ صدق دل سے سیاسی انتقام، پارٹی، اور ذاتی مفادات کو پرے رکھ کر احتساب کے عمل کو تکمیل تک پہنچائیں گے۔اگر موجودہ حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہی تو اس میں او ر جنرل مشرف کے دور میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ بہت سے شکوک و شبہات جنم لیں گے۔اگر حالات ایسے ہی رہے تو حکومت سے عوام کا اعتماد جلد اٹھ جائے گا۔
۔

Sunday, 30 September 2018

تبدیلی کہاں ہے؟


چوہدری ذوالقرنین ہندل:لکھاری گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں،مکینیکل انجینیئر اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔

ہم سب بھی دنیا میں موجود ایسی قوم کا حصہ ہیں،جن کی اکثریت عملی لحاظ سے سست اور کاہل ہے۔ایسی قوم جس نے بڑے قابل ، زہین اور تاریخ دان دیئے ہوں۔مگر اس کی اکثریت عملی لحاظ سے سست اور زبانی کلام میں درجہ اول کی ہو۔ہمیشہ اکثریت کی بدولت اقلیت کو پنپنے کا خاص موقع ہی نہیں ملتا۔مجموعی لحاظ سے ہم خاصی الجھی ہوئی قوم ہیں۔لیڈرشپ کا فقدان واضح ہے۔اپنی سمت خود تعین کرنے سے عاری، بنے بنائے راستوں پر چلنے کی عادی قوم۔شاید دنیا میں ایسی ہی اکثریت ہو ۔مگر ہم بھی وہی قوم ہیں، جن کو واویلہ مچانا خوب آتا ہو۔کامل یقین سے عاری، اور بے یقینی سے پیوستہ۔بے یقینی ہمیشہ وسوسوں کو جنم دیتی ہے۔وسوسے افراتفری کو فروغ دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عمل سے عاری قوموں میں ہمیشہ مایوسی ہی جھلک رہی ہوگی۔شکایات کے انبار نے زہنوں پر منفیت کو مصلت کیا ہوگا۔’اللہ اتنی دیر تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود نہ چاہے‘۔یہاں چاہنے سے مراد ہر گز یہ نہیں کہ کوئی خلائی مخلوق آئے اور سب بدل جائے۔حقیقی تبدیلی عوام ہی لا سکتی ہے۔عمل سے،تحمل سے اور دانائی سے۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ،ہم کسی ایک نظریے پر چلتے ہی نہیں۔ہماری باتوں اور عمل میں بڑا تضاد موجود ہے۔شاید ہم زمانے کی رفتار کو صحیح سمجھ نہیں پائے۔بطور پاکستانی عوام ہم سب عمل سے عاری ہیں۔اول درجے کے بے صبر۔تحمل وبرداشت شاید قریب سے بھی نہ گزری ہو۔البتہ باتوں سے ہم خود کو بڑے درجے کے دانشور و دانا ظاہر کرتے۔مگر عملی میدان میں ہماری دانائی گہری نیند سو جاتی ہے۔بات پاکستان کی موجودہ حکومت کی ہو۔چند مہینے پہلے بڑی دانائی کی باتیں کر رہے تھے۔واقعی خود کو عوام میں اول درجے کے دانا بھی ثابت کر چکے۔یہی وجہ ہے کہ آج حکومت میں ہیں۔تحمل و برداشت تو پہلے ہی سے دور رہی ۔مگر ایک دانائی کا ہی سہارا تھا ،جس کی بدولت حکومت ملی۔تبدیلی کے بڑے دعوے۔سو دن میں ملکی قسمت بدلنے کے کرتب۔کرپشن کا دنوں میں ہی جڑ سے سوکھ جانا۔بیرون ملک موجود پاکستانی رقم کی وطن واپسی کی کامیاب ترین ترکیبیں۔قومی کرکٹ ٹیم پر سے وزیراعظم کے اثر ات کا خاتمہ۔رشتہ داروں اور دوستوں کو وزارتوں سے پرے رکھنا۔وزراتی پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کی دوا۔نوجوانوں سے بھرے ایوان۔پڑھا لکھا ایوان ہمارا۔پروٹوکول کو غائب کرنا۔سائیکل کو جہاز کا درجہ دینا۔پٹرول کو پانی کی طرح عام کرنا۔مہنگائی کی کمر توڑ دینا۔آئی ایم ایف سے نظر چرانا۔ملک کو خودمختار بنانا۔دوسرے ملکوں کو قرض دینا۔ایسے دعوے ہرگز کسی بنگالی بابا نے نہیں کئے تھے۔ بلکہ ہماری ہونہار موجودہ حکومت نے کئے تھے۔ایسے ہی کچھ کرتب اور ترکیبیں 2013 کے الیکشن سے پہلے مسلم لیگ نواز نے بھی بتائی تھیں۔اس سے پہلے یہ کرتب دیگر جماعتوں کی طرف سے بھی بتائے گئے ہوں گے۔تو تبدیلی کہاں گئی؟ہو سکتا ہے، تبدیلی الیکشن کی تھکاوٹ اتار رہی ہو۔الیکشن کے بعد وہی رویہ حکومت کا ہے ،جو ماضی کی حکومتوں کا رہا۔وہی رویہ اپوزیشن کا ہے، جو ماضی میں اپوزیشن کا رہا۔تو بدلاؤ کہاں ہے؟فواد چوہدری اور مشاہداللہ کا ایک دوسرے پر تنقید کرنا، بھی تبدیلی کا حصہ نہیں۔بلکہ ہر گز نہیں ،ماضی میں ایسی تنقید خود عمران خان، خواجہ آصف،عابد شیر اور مراد سعید اور دیگر بھی کرتے رہے ہیں۔الیکشن میں دھاندلی کے الزامات پہلے بھی تھے ،اور اب بھی ہیں۔اپوزیشن کی حکومت کا دنوں میں بستر گول کرنے کی دھمکی، بھی تبدیلی کا حصہ نہیں۔ایسا تو گزشتہ معروف دھرنوں میں بھی ہوتا رہا ہے۔عوام کا حکومت کو منتخب کر کے جلد بدگمان ہو جانا، بھی ہر گز نیا نہیں۔ایسا بھی ہماری ہی تاریخ کا حصہ ہے۔ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ کر ملکی امور کو روکنا،پہلے بھی ہماری فطرت میں شامل تھا ،اور اب بھی ہے۔حکومتی اکڑ پہلے بھی تھی، اور اب بھی ہے۔تنقید برائے تنقید پہلے بھی تھی ،اور اب بھی ہے۔عہدوں کی بندر بانٹ پہلے بھی تھی ،اور اب بھی ہے۔تو بدلا کیا ہے؟کچھ نہیں۔صرف طریقہ واردات کے علاوہ۔گزشتہ حکومت نے چار دن تنخواہیں نہ لینے کے دعوے کر کے عوام کو بے وقوف بنایا تھا۔اب کی حکومت بھینسیں بیچ کر خوب داد وصول کر رہی ہے۔میں اس فقرے سے بالکل متفق ہوں’ جیسی عوام ویسے حکمران‘۔
یاد رکھئے !کہ اتنی دیر تک کچھ نہیں بدلے گا ،جب تک ہم نہیں بدلیں گے۔ہمیں اپنے اندر مثبت سوچ کو جذب کرنا ہوگا۔منفیت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔صبر کے پیمانے کو وسیع کرنا ہوگا۔تحمل و برداشت سے آشنا ہونا پڑے گا۔ذاتی انا کو پرے رکھ کر غلط کو غلط اور درست کو درست کہنا ہوگا۔اپنی منتخب کردہ حکومت اور نمائندے پر یقین کرنا ہوگا۔انہیں وقت دینا ہوگا۔تنقید کرنا ہوگی مگر جائز تنقید۔پارٹیوں کی گرفت سے نکل کر محب وطن پاکستانی بننا ہوگا۔جائز تنقید سننا ہوگی۔چاہے خود پر ہی کیوں نہ ہو۔کسی کی مخالفت میں گھٹیا جملوں اور پرپیگنڈہ سے اجتناب کرنا ہوگا۔اگر حکومت غلط ڈگر پر ہو تو مل کر پوری قوم کو مخالفت کرنا ہوگی۔اگر اپوزیشن غلط کرے تو سب کو مل کر اسے براکہنا ہوگا۔ سیاسی پارٹیوں کی محبت سے نکل کر ملکی سلامتی کا سوچنا ہوگا۔سیاسی ورکر بننے کی بجائے ملکی ورکر بننا ہوگا۔حق کا ساتھ دینا ہوگا۔جتنا بھٹو گے اتنا بھٹکو گے۔چھوٹی سی مثال آخر پر ،اس گاؤں کا کام کوئی سیاستدان نہیں کرتا ۔جس کی عوام مختلف پارٹیوں میں تقسیم ہوجائے۔کیوں کہ اس گاؤں کی نظریاتی تقسیم کی بنا پر ووٹ کی قدر ختم ہوجاتی ہے۔عوام کو اپنی قدر بڑھانا ہوگی ،متحد ہوکر۔ورنہ! تبدیلی لفظ کو بھول جاؤ۔
شعر کو زرا مروڑنے پر معزرت
یہاں بدلی ہے نہ عادت حکومت کی ،نہ ہی اپوزیشن کی
وہی ہے بے صبرعوام ،اس میں ہر گز کوئی تبدیلی تو نہیں

Sunday, 16 September 2018

بے روزگار انجینئرز


چوہدری ذوالقرنین ہندل:لکھاری مکینیکل انجینئر اور وائس وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔

اعزاز جیسے کتنے ہی انجینئرز ہوں گے جنہوں نے انٹرمیڈیٹ میں سخت محنت کی بدولت انجینئرنگ یونیورسٹیز میں داخلہ لیا ہوگا۔یہ لمحات واقعی ان کے اور گھر والوں کے لئے مسرت کا باعث بنے ہوں گے۔والدین کے چہروں کی چمک عیاں ہوتی ہوگی۔بہت سی امیدوں اور خوابوں کی تعبیر میں، کامیابی کی راہ پر گامزن !ان کی آنکھوں کے تارے گھر کے آنگن کو روشن کر رہے ہوں گے۔جوں توں کر کے ،قرض اٹھا کر، مزدوری کرکے ،زیورات بیچ کر، یا پراپرٹی بیچ کر چار سال کی فیسیں اتاری ہوں گی۔یہ کٹھن وقت والدین نے بڑی ہمت اور آس و امید سے گزار دیا ہوگا۔ڈگری مکمل ہونے پر’ کنووکیشن ‘کے موقع پر والدین کو اپنے چمکتے ستاروں کی مسکراہٹ میں اپنے خوابوں کی تکمیل نظر آرہی ہو گی۔باعث فخر سارے خاندان کو مٹھائیاں کھلائی ہوں گی ،مبارکبادیں وصول کی ہوں گی۔مگر وقت کی رفتار تھی کہ کم نہ ہوئی نہ ہی ان مسرت بھرے لمحات کا دورانیہ بڑھا۔کچھ عرصہ گزرا کہ چند انجینئرز ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ٹرینی انجینئرز بھرتی ہوگئے۔کچھ کی سیاسی وابستگی اور شناسائی کام آگئی۔کچھ کے والدین نے ہمت بڑھاتے ہوئے اپنے ستاروں کو مزید پڑھنے کے لئے بیرون ملک اور پاکستان میں داخلہ کر وا دیا۔اب آخری قسم کے انجینئرز جن کی تعدا د شاید سب سے زیادہ ہے۔یہ درمیانے طبقہ سے ہوتے ہیں، اور درحقیقت ان کے والدین اپنی ساری جمع پونجی حتی کہ قرض لے کر بھی ان کی تعلیم پر صرف کر چکے ہوتے ہیں۔اب انہی انجینئرز پر بہت سی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔عرصہ گزرتا ہے،مسلسل ناکامی کے باعث بہت سے اپنی فیلڈ بدل کر سکول ٹیچر بن جاتے ہیں ،سیلز مین بن جاتے ہیں،اور یہاں تک کہ سی ایس ایس جیسے مقابلے کے امتحانوں کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔زہنی دباؤ ہے کہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ڈپریشن میں اضافہ کے لئے رشتہ داروں کی پوچھ گیچھ جلتی پہ تیل کا کام انجام دیتی ہے۔ایسے مشکل حالات اور ڈپریشن کی حالت میں بہت سے انجینیئرز غلط راہ اختیار کرتے ہیں۔باقی بچنے والے انجینئرز کی قسم اعزاز والی ہے۔اعزاز راولپنڈی سے نسٹ سے مکینیکل انجینئرنگ گریجوئیٹ تھا۔ جس نے مسلسل نوکری نہ حاصل کر نے پر زہنی دباؤ و ڈپریشن سے ہمیشہ نجات کے لئے اکتوبر 2017کوخودکشی کا راستہ اختیار کیا۔ایسے مزیدکم ہمت نوجوان ہیں، جو خود کو الجھنوں سے آزاد کر کے والدین کی آنکھوں کا نور ہمیشہ کے لئے بے نور کر جاتے ہیں۔یہ واقعات ہماری حکومت ومعاشرے کی بد انتظامی کوعیاں کرتے ہیں۔دنیا بھر میں انجینئرنگ و ٹیکنالوجی جیسی فیلڈ سر فہرست ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج امریکہ ، روس، انگلینڈ ، چائنہ، جرمنی، اور جاپان وغیرہ دنیا میں نمایاں ہیں۔ مگر ہمارا نظام تو یکسر مختلف ہے۔ہمارے ہاں انجینئرز تھوک کے حساب سے تول کر بک رہے ہیں مگر پھر بھی خریدارانہیں خریدنے سے قاصر ہیں۔آج ہمارے انجینئرز یونیورسٹیز میں بڑے بڑے پراجیکٹس بنا کر دنیا بھر میں نام کما رہے ہیں۔مگر ہماری حکومتیں بڑے پراجیکٹس پر اپنے انجینیئرز کو موقع دینے سے قاصر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے شہر کراچی اور لاہور جتنے بڑے ممالک بھی مختلف مقامات پر ہم سے بہت آگے ہیں۔ہماری حکومت اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کی ناکامی کی انتہا یہ ہے، کہ آج تک 2015 ,2016,2017کے انجینئرز فریش ہیں،اور ٹرینی انجینئرز کی پوسٹوں پر اپلائی کر رہے ہیں۔آج بھی پاکستان بھر سے پچاس ہزار کے قریب انجینئرز بے روزگار ہیں۔حکومت اور پی ای سی ہمیشہ سے ’جاب پلیسمنٹ ‘میں ناکام رہی ہے۔ڈسکاؤنٹ جیسے جھوٹے بہلاوے دیے جا رہے ہیں۔کیا فائدہ ایسے ڈسکاؤنٹ کا اگر سپر وائزری سرٹیفیکیٹ حاصل کر کے بھی روزگار نہیں ملنا؟ جب روزگار ہی نہیں تو کیا خریدیں کیسے ڈسکاؤنٹ استعمال کریں؟ہماری حکومتوں کا المیہ یہ ہے، کہ انہیں’ چیک اینڈ بیلنس‘ نام سے آشنائی ہی نہیں۔کوئی خبر و علم نہیں کہ کیسے اداروں کو کنٹرول کرنا ہے۔ہماری ہاں ڈیمانڈ کہاں ہے۔بھائی جتنی گنجائش ہے جس شعبے میں اسی حساب سے یونیورسٹیز کو سیٹیں آلاٹ کرو۔اگر ’سپلائی و ڈیمانڈ‘ کا علم ہی نہیں ہوگا ،تو ہمارے ادارے عدم توازن کا ہی شکار رہیں گے۔ہماری حکومتیں جب بڑے پراجیکٹس پر فارن انجینئرز اور ورکرز کو لگاتی ہیں، تو انجینیئرز کی مایوسی میں اضافہ ہوتا ہے۔طرح طرح کے سوال جنم لیتے ہیں۔کیا ہمارے انجینئرز قابل نہیں؟ اگر ایسا ہے تو بیرون ملک جا کر یہ کامیاب کیوں ہو جاتے ہیں؟ہمارے ہاں بہت سی کمپنیاں سوائے چند ملٹی نیشنل کے فریش انجینئرز کو بھرتی ہی نہیں کرتیں۔بھائی کہاں سے لائیں یہ تجربہ موقع نہیں دو گے تو تجربہ کہاں سے آئے گا۔اگر کوئی کمپنی فریش انجینیئرز کی پوسٹ نکالے بھی تو چھ ماہ کا تجربہ مانگ لیتی ہے۔بہت سی چھوٹی کمپنیوں میں انجینئرز مزدوروں سے بھی کم اجرت پر کام کررہے ہیں۔ایسے میں انجیئرز کی مایوسی میں اضافہ ہی ہوگا۔ یہ حالات تو ان انجینیئرز کے ہیں جو پاکستان انجینیرنگ کونسل سے رجسٹرڈ ہیں۔ آپ خود سوچ لیں کہ، وہ انجینئرز اور ٹیکنالوجسٹ جو انجینئرنگ کونسل سے رجسٹرڈ نہیں انکی بے بسی کا کیا عالم ہوگا؟کیابڑھتا ڈپریشن خودکشی کے لئے کافی نہیں؟کیا ہمارا نظام و معاشرہ بلو وہیل جیسی خونی گیموں سے زیادہ بھیانک نہیں؟کیا یہی قصور ہے ان انجینئرز کا کہ انہوں نے سوچا کہ اپنے وطن کی ترقی کے لئے انجینئرنگ و ٹیکنالوجی جیسی فیلڈ میں کام کریں گے؟کون ان کی بے روزگاری کا حل نکالے گا؟کیا کروڑوں نوکریوں میں ان کا بھی کوئی حصہ بنتا ہے؟کیا لاکھوں گھروں میں انہیں بھی کوئی گھر ملے گا؟یا یونہی ہر سال حکومت نے اپنا نوجوان سرمایہ مایوسیوں کی نظر کرنا ہے؟وقت ہے کہ ملک کا نوجوان سرمایہ مایوسیوں کی نظر ہونے سے بچایا جائے۔ اس سرمائے کو، ان کی جوان ہمت کو ملکی ترقی کے لئے استعمال کیا جائے۔ذرا سوچئے!