Sunday, 24 April 2016

Meeting With Munib Iqbal

تقریب میسج آف اقبال ٹو یوتھ ۔ملاقات منیب اقبال




چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔۹۶۲۲۵۶۴۲۴۳۰
بیس اپریل کو میں ڈیپارٹمنٹ میں موجود تھا ایک دوست حافظ امیرحمزہ بھاگتے ہوئے آئے اور بتانے لگے کہ آج منیب اقبال شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے پوتے یونیورسٹی ایڈی ٹوریم میں تشریف لا رہے ہیں میرے ساتھ چلو انکا خطاب سنیں گے۔میں بہت کم ہی تقریبوں میں جاتا ہوں مگر حافظ صاحب نے ہمیں علامہ محمد اقبال کی عقیدت میں قائل کر لیا ۔ڈیپارٹمنٹ سے اجازت مانگی اور ایڈی ٹوریم کی طرف چل دیے لگ بھگ دو بجے کا وقت تھا پانچ منٹ بیٹھنے کے بعد میں نے جائزہ لیا کہ ابھی سیمینار کے آغاز میں کچھ وقت ہے۔میں اٹھ کر سیمینار کے آرگنائزر الیکٹرونکس سوسائٹی کے صدر عتیق الرحمان ان کے پاس چلا گیا اور اپنے بارے میں بتایا کافی رسپیکٹ ملی اورپھر ایونٹ کے بارے معلوم کیا انہوں نے مجھے بتایا کہ ابھی منیب صاحب کے آنے میں کچھ وقت درکار ہے ہم ایونٹ کے فوری بعد ریفریشمنٹ کے دوران آپکی ملاقات منیب صاحب سے کروا دیں گے۔میں وہاں سے حافظ کو لے کر قریب ہی فلیٹ میں چلا گیا ایک گھنٹے بعد کچھ با ذوق دوستوں صدام ثاقب اور اظہر نے ہمیں زبردستی پھر ساتھ لیا اور سیمینار میں چلے گئے یونیورسٹی آف لاہور الیکٹرونکس سوسائٹی والوں نے اچھا انتظام کیا ہوا تھالوگ پورے نظم و نسق کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے منیب صاحب کے آنے میں کچھ وقت ابھی بھی تھا اس سیمینار و ایونٹ کا نام و عنوان تھا’’ میسج آف اقبال ٹو یوتھ بائے منیب اقبال‘‘۔ اس بار انتظار نہ کرنا پڑا تھوڑی ہی دیر بعد منیب اقبال تشریف لائے اور پر جوش استقبال کیا گیا تلاوت قرآن پاک سے باقاعدہ تقریب کا آغاز کیا گیا آپ سب جانتے ہی ہوں گے کہ اکیس اپریل۸۳۹۱ کو علامہ محمد اقبال اس دنیا سے رخصت ہوگئے مگر لوگوں کے دلوں میں ابھی تک زندہ ہیں۔یہ تقریب علامہ صاحب کی برسی کے سلسلہ میں منعقد کی گئی تقریب میں لڑکوں نے اقبال کی شاعری سنائی اور نغمہ پیش کیا جی منیب صاحب کے خطاب کی باری آگئی آپ کو بتاتا جاؤں کہ منیب اقبال کافی ہنسی مذاق والے انسان ہیں انہوں نے سٹیج پر آتے ہی کہا’’پائی میں ڈاکٹر ڈوکٹر کوئی نئی ایویں مینوں وی لوگ اقبال صاحب دی عقیدت نال ڈاکٹر کہہ دیندے نے‘‘ ان کے اس سٹارٹنگ جملے سے لوگ زرا پہلے سے زیادہ متوجہ ہو گئے۔منیب صاحب نے کافی لمبا خطاب کیا جس میں سے کچھ سرسری باتیں بتا دیتا ہوں انہوں نے بتایا کہ علامہ صاحب کی پیدائش فجر کی آذان کے وقت ہوئی اور جب وہ اس دنیا س رخصت ہوئے تب فجر کی جماعت کھڑی تھی یعنی انہوں نے اذان سے لے کر جماعت تک کا وقت پایا اور اس تھوڑے وقت میں لوگوں کے دلوں پر چھا گئے اور اللہ نے اتنا ذیادہ مقام عطا کیا۔بتایا کہ علامہ صاحب نے انگریز حکومت کی طرف سے ’’سر‘‘ کا خطاب لینے سے انکار کردیا اور خواہش ظاہر کی کہ جب تک میرے استاد سید میر حسن کو ’’شمس العلماء ‘‘ کا خطاب نہیں ملتا تب تک میں بھی یہ خطاب نہیں لے سکتا انگریز حکومت نے کہا کہ آپ کی نظمیں اور اشعار بہت سی اخبارات پر شائع ہوتے ہیں آپکو بہت سے لوگ جانتے ہیں مگر میر حسن ۔علامہ صاحب نے جواب دیا میں بذات خود چلتا پھرتا اپنے استاد کی ایک کتاب ہوں۔انہوں نے بتایا کہ علامہ صاحب نے انسانیت مسلمانوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لئے بھی شاعری کی اور نوجوانوں کو بیدار کیا کیونکہ نوجوان قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں منیب صاحب نے اپنے دادا کے یہ اشعار بھی پڑھے۔
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں 
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا
منیب صاحب نے ایک واقعہ بتایا کہ نہرو پنڈت ایک دفعہ ملاقات کے سلسلے میں علامہ صاحب کے پاس تشریف لائے اور نیچے زمین پر بیٹھ گئے علامہ صاحب بڑے حیران ہوئے اور کہا اوپر بیٹھیں جواب میں نہرو نے کہا ہم تو بہت چھوٹے درجے کے پنڈت ہیں آپ کے آباؤ اجداد بہت اعلی درجے کے پنڈت تھے اسی لئے ہماری جگہ یہیں بنتی ہے علامہ صاحب کو بہت غصہ آیا کیونکہ وہ ایک سچے مسلمان اور درجوں پر یقین نہیں رکھتے تھے خیر پنڈت نہرو نے باتوں باتوں میں اقبال صاحب کو کہا کہ آپ نے محمد علی جناح کو مسلمانوں کی قیادت کیوں سونپی بلکہ آپ کو تو خود ہی مسلمانوں کی قیادت سنبھالنی چاہیے تھی علامہ صاحب کو بہت غصہ آیا اور کہنے لگے میں تمہاری سازشوں کو اچھی طرح جانتا ہوں تم ہمارے اندر تفرقہ ڈالنا چاہتے ہو مگر میں ہر گز ایسا نہیں ہونے دوں گا جان لو کہ مسلمانوں کے اصل لیڈر جناح ہی ہیں میں انکا ایک عام سا سپاہی ہوں اور ساتھ ہی نہرو کو گھر سے چلتا کیا۔منیب صاحب نے بتایا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ اقبال اور جناح کی آپس میں بنتی نہیں تھی یہ انکی بھول ہے انہیں’’ لیٹرز آف اقبال ٹو جناح ‘‘بک پڑھنی چاہئے بہت کم لوگ اس بک کے بارے میں جانتے ہیں یہ بک اقبال نے لکھی اور جناح نے پبلش کروائی۔علامہ صاحب کے دوقومی نظریے کے بارے میں سب جانتے ہیں منیب صاحب نے کافی چیزیں بتائیں جو پھر کبھی تفصیل سے لکھوں گا۔تقریب کے فوری بعد ریفریشمنٹ تھی ریفریشمنٹ کے دوران میری منیب اقبال صاحب سے ملاقات ہوئی دعا
سلام کے بعد میں نے اپنا تعارف کروایا تھوڑی گپ شپ کے بعد میں نے منیب صاحب سے سوالات شروع کردیے۔میں نے بھی آغاز ہنسی مذاق سے کیا منیب اقبال ابھی غیر شادی شدہ ہیں شادی سے متعلق سوال کر دیا اور انہوں نے بڑی ہوشیاری سے یہ کہہ کر جان چھڑوا لی کہ اقبال بھی آزادی پسند تھے میں بھی ابھی آزادی چاہتا ہوں کچھ عرصہ بعد شادی کا سوچوں گا پھر میں نے یوتھ کے متعلق سوال کیا اور انہوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں ساری امیدیں یوتھ سے ہی وابستہ کرنی چاہیے عمر رسیدہ لوگوں کو تو بار بار آزما چکے ہیں میں نے سیاسی پاٹیوں کے بارے میں پوچھا تو کہنے سب ایک جیسے ہیں۔پی ٹی آئی کے بارے پوچھا تو کہنے لگ جیسے پی ایم ایل نواز ویسے ہی پی ٹی آئی سب ایک جیسے ہیں سیاست کے بارے انہوں نے زرا محتاط ہو کر جوابات دئیے۔میں نے تبدیلی کے بارے پوچھا تو بتانے لگے کہ تبدیلی حقیقت میں سوچ کی تبدیلی ہے تبدیلی عوام کے شعور سے ہے ۔میں نے اقبال اکیڈمی کے بارے پوچھا تو کہنے لگے اقبال اکیڈمی کا نائب صدر ہوں اقبال اکیڈمی ہر کوئی جوائن کر سکتا ہے اسے جوائن کرنے کے لئے ایف اے بی اے تک تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے میں نے ان سے ذاتی زندگی اور سیاست کے بارے اور بھی بہت سے تیکھے سوالات پوچھے جن کویہاں بتانا ضروری نہیں سمجھتا کیونکہ میراا ن سے ملاقات کا مقصد فیوچر میں علامہ صاحب کے بار میں معلومات حاصل کرنا ہے تاکہ ان سے مل کر وہ معلومات حاصل کی جاسکیں جو بہت کم لوگ علامہ صاحب کے بارے میں جانتے ہیں اور انشاء اللہ بہت جلد علامہ صاحب کی پیدائش سے لے کر وفات تک کی اور منیب صاحب کے والد جاوید اقبال کے بارے میں بھی وقفوں میں لکھوں گا ۔فیوچر میں منیب صاحب سے ملاقاتوں کا مقصد صرف اور صرف معلومات حاصل کرنا ہے۔

آخر میں اقبال کا شعر
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

Sunday, 17 April 2016

Tabdeeli Part 2 by Zulqarnain Hundal

تبدیلی(دوسرا حصہ)

ذوالقرنین ہندل
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا
حبیب جالب کا شعر ہے حبیب جالب نے جو انقلابی گیت لکھے وہ اب کچھ اور ہی کام کے لئے استعمال ہو رہے ہیں خیر تبدیلی و انقلاب شاعری میں تو زندہ ہے۔قارئین میں آج آپکو بتانے کی کوشش کروں گا کہ ہمارے نظام اور معاشرے کے بگاڑ کی وجوہات اور ساتھ ہی حقیقی تبدیلی کے بارے آگاہ کروں گا اور بتاؤں گا کہ تبدیلی کیسے ممکن ہے۔قارئین دین سے دوری ایک بہت بڑا فیکٹر ہے جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوا اور ہو رہا ہے ہمارا نظام مفلوج ہے ہمارے حکمران و عوام دھوکے باز کرپٹ ہیں۔دوستو آپ لوگ سمجھ رہے ہوں گے کہ دین کا تبدیلی سے کیا تعلق ہے۔بہت گہرا تعلق ہے ہمارا دین اسلام زندگی کے ہر شعبے میں مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے اور آج ہم اپنے دین کے راہنما اصولوں کو ہی بھول چکے ہیں اور غیر مذاہب قومیں اور وطن ہمارے دین کے اصولوں کو لے کر دن رات ترقی کی طرف گامزن ہیں۔حقیقی تبدیلی ان میں آئی ہے۔ جنہوں نے اپنے معاشرے کی بہتری کے لئے اسلام کے راہنما اصولوں کو اپنایا ۔ دوستوں نہ تو میں کو ئی عالم ہوں نہ ہی کوئی مولوی البتہ میرا دل کہتا ہے۔ کہ تبدیلی کا واسطہ دین سے ہے۔ اگر ہم دین اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں تو ہمارا معاشرہ تبدیل ہو سکتا ہے اسکی دو چھوٹی مثالیں جھوٹ سے اور سود سے اجتناب فرق واضح نظر آئے گا۔دین اسلام کا تبدیلی سے کیا لنک و ہ بھی تفصیل میں پھر کبھی لکھوں گا۔ غربت بھی ایک بہت بڑا فیکٹر ہے۔جو ہمارے معاشرے کی بگھاڑ میں شامل ہے۔ غربت کی وجہ سے جرائم میں اصافہ ہو رہا ہے اور ہو چکا ہے۔غربت کا ڈائریکٹ لنک کرپشن سے ہے۔اور کرپشن سے غربت اور پھر غربت سے مزید جرائم دہشت گردی قتل و غارت چوری ڈکیٹی اور ایسے بہت سے جرائم اور بھی ایسے مزید فیکٹر ہبں جو معاشرے کی تبدیلی میں رکاوٹ ہیں لیکن دہرا معیار ڈیول پالیسی یعنی امیروغریب کا فرق اور جاگیردار نہ نظام خاندانی سیاست اور اعلی عہدوں پر لالچی اور چوروں ڈاکوؤں کا قبضہ اسے یہ کہنا بجا ہو گاکہ سارے فیکٹرز کی جڑ ہیں یہ۔ میں نے بارہا سوچا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ پاکستان کا موجودہ نظام تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پورا کا پورا نظام ایسے نظام کا کیا فائدہ جہاں قانون تو ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں اور نہ ہی قانون کی پاسداری جہاں انصاف نہیں مجھے تو بھکاؤ لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جب میں انکے بارے میں سوچتا ہوں کہ ان لوگوں نے اﷲ تعالی کو حاضر ناظر جان کرایمانداری کا حلف اٹھایا ہے کیا ایسے حلف کی کوئی اہمیت نہیں؟ کیا ہے یہ سب اتنا پڑھنے لکھنے کے بعد بھی جہالت؟ ہم نے پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا کہاں ہیں اسلامی قوانین ؟اگر ہیں تو پاسداری کیوں نہیں؟ کیا ہمیں اﷲ تعا لی کے سامنے پیش ہونے کا کوئی خوف نہیں ایسے نظام کا کیا فائدہ جہاں غریب۔ غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔اورامیر۔ امیر سے امیر تر قسم سے کبھی کبھی دل چاہتا ہے ایسے نظام کو ہی آگ لگا دوں نہ تو ہم ایسا کر سکتے ہیں اور نہ ہی یہ اس کا حل ہے اصلی حل تو زہن کی تبدیلی ہے۔زہن دل و دماغ نیز اپنی آنکھوں کانوں اور ہاتھوں اپنے جسم کے ہر اعضاء کو اسلام کے مطابق استعمال کرو پہلے اپنے اندر تبدیلی لاؤ اپنے اندر انقلاب لاؤ اپنا زہن تبدیل کرو۔جتنا ہمارا نظام بگھڑ چکا ہے اس میں تبدیلی لانے کے لئے کافی عرصہ لگ سکتا ہے اگر ہم کہیں کہ آلہ دین کا چراغ لا کر فٹا فٹ ہی سب کچھ تبدیل کر دیں گے تو یہ جھوٹ ہے۔اور میں بتاتا جاؤں کے بڑے بڑے تبدیلی کے دعویدار بھی جھوٹے ہیں اس وطن میں سب پنجابی والے (دا) یعنی داؤ پر بیٹھے ہوتے ہیں کب انہیں بھی لوٹنے کا موقع ملے۔آخری کالم میں بھی میں الیکشن کمیشن سے مخاطب ہوا تھا پھر کچھ کہنا چاہتا ہوں خدارا اپنے ہونے کا کچھ ثبوت پیش کریں اور آئندہ انتخابات سے پہلے ہی کوئی ایسی پالیسی تشکیل دیں جس سے کرپٹ لوگ ہمیشہ کے لئے نا اہل ثابت ہو جائیں ایسا نظام اور پالیسی بنائیں کہ اسلحہ اور روپے کی طاقت کا استعمال الیکشنز میں ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے ایسی پالیسی ہو کہ غریب اور ایماندار لوگ بھی سامنے آسکیں اگر ایسا ہو جائے تو زندگی بھر کے لئے لو گ آپ کو دعائیں دیں گے اور اﷲ بھی اسکا اجر دے گا۔میری قومی اسمبلی کے تمام ممبران اور سینٹ کے تمام ممبران سے گزارش ہے کہ آئین میں ترمیم کر کے یہ بل پاس کیا جائے کہ وزیر اعظم اور صدر پاکستان کے لئے پی ایچ ڈی و ایم فل کی ڈگری اور تعلیم والے شخص ہی اپنے کاغذات جمع کرواسکیں قومی اسمبلی وزیر مطلوبہ وزارت میں ماسٹرو ایم اے تک تعلیم یافتہ ہوں ایم این ایز وایم پی ایز بھی کم از کم ماسٹر ڈگری ہولڈر ہوں اور ناظم ونائب ناظم بی اے اور جنرل کونسلر ایف اے تک تعلیم یافتہ ہوں اور عہدوں کے حساب سے نیٹ گیٹ سیٹ وغیرہ کے ٹیسٹ ہوں جن میں پاس ہونا لازمی ورنہ الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔میں جانتا ہو ں کہ ایسا ہونے نہیں دیں گے کیوں کہ یہ تبدیلی چاہتے ہی نہیں انکا لالچ معاشر کو ختم کر کے ہی دم لے گا موجودہ پاکستان کے نظام میں صاف ستھرے سیاسی نمائندوں اور لیڈروں کی ضرورت ہے جو لالچ کے بغیر وطن کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں اگر کوئی ایسا کرنے میں اپنا کردار ادا کرے تو میر نزدیک وہ بھی عبادت ہے۔ذرا سوچئے۔حقیقی تبدیلی کے بارے میں سوچئے ہمیں ہی کچھ کرنا ہے اپنے وطن کی ساکھ کو قائم رکھنے اور بچانے کے لئے۔



Share Comments




Sunday, 10 April 2016

Tabdeeli By Zulqarnain Hundalتبدیلی


تبدیلی

چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔سٹی کوآرڈینیٹر ہماری ویب رائیٹرز کلب۔۹۶۲۲۵۶۴۲۴۳۰




ہمار ہاں پاکستان میں ہمیشہ سے ہی تبدیلی کا غلط مفہوم نکالا جاتا رہا عرصہ دراز سے ہی ہم سب تبدیلی کا مطلب بھی اپنے مطابق تبدیل کرتے ہیں ہر کوئی چینج کی بات کرتا ہے اور اپنی ضرورت اور خواہش کے مطابق اسی چینج کے معنی و مفہوم تبدیل کر دیتے ہیں۔لفظ تبدیلی بھی اب اکتا گیا ہوگا کہ کیسے وطن میں پھنس گیا ہوں میرا کوئی معیار کوئی وجود نہیں سرا سر مذاق بن کر رہ گیا ہوں بڑے بڑے تبدیلی کے دعویدار بھی تبدیلی کی باتیں آسمانوں کی بلندیوں تک کر کے پھر خود ہی اس فرش پر دے مارتے ہیں تبدیلی لفظ ایسے لوگوں کا کھلونا بن کر رہ گیا ہے ۔قارئین آپ سب سے ایک سادہ سا سوال ہے۔کہ تبدیلی کیا ہے؟ براہ کرم اپنے جوابات ضرور دیجئے گا۔ دوستو میرے نزدیک تبدیلی ایک پرفیکٹ چینج کا نام ہے۔ایک پازیٹیو چینج کا نا م ہے۔جو واقعی حقیقت میں ایک معاشر کو بدل کر بہتری کی طرف گامزن کر دے۔میں جانتا ہوں کہ آپ سب کے نزدیک بھی تبدیلی کا معیار ایسا ہی ہو گا۔تبدیلی ضمیر کی تبدیلی ہے ۔تبدیلی سوچ کی تبدیلی ہے۔ تبدیلی کچھ کرنے کی ہمت دلاتی ہے۔ تبدیلی نئے چہرے لاتی ہے۔ تبدیلی آنگن میں نئے اور پاک صاف پھل و پھول اگاتی ہے۔تبدیلی ہم سے ہے اور ہم تبدیلی سے ایک معاشرے کو بدل کر ایک اچھا اور خوشیوں والا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں تبدیلی حق و سچ کا غلبہ لاتی ہے۔قارئین تبدیلی ہر گز یہ نہیں کہ باپ کے بعد بیٹا یا بھائی۔تبدیلی یہ ہے کہ امیر کے بعد اہل غریب شخص۔اور دوستو چہروں کی تبدیلی کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ایک چوہدری کی جگہ دوسرا چوہدری یا کسی بڑے چوہدری کی جگہ اس کا چھوٹا بھائی یا بیٹا لے آیا جائے۔ہمارے وطن پاکستان میں ہر نئے سیاستدان نے اپنا سیاسی آغاز بڑے جوش و جذبے سے کیا اور تبدیلی کے نعرے لگائے مگر تھوڑی بہت مقبولیت کے بعد وہی جاگیرداروں اور قوم کے لٹیروں کو ساتھ ہاتھ ملا کر تبدیلی لفظ کی بے حرمتی کرتے ہیں۔خیر یہ کہنا بجا ہوگا کہ تبدیلی پاکستان میں بہت زیادہ ہے وہ کچھ ایسے یعنی اپنا اسٹیٹس ہی تبدیل کر دیا جاتا ہے جو نئے چہروں کو سامنے لانے سے تبدیلی کو منصوب کرتے ہیں انکے نزدیک ہی پھر تبدیلی کا معیار تبدیل ہو جاتا ہے جب وہ پرانے لٹیروں کو ساتھ ملا لیتے ہیں ایسے لوگوں کا مکروح چہرہ واضح ہو جاتا ہے اور انکے روز روز کے تبدیل ہونے کا بھی سب کو بخوبی علم ہوتا ہے
۔ایسا پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی نے کیا سب کے وعدے جھوٹے ہوتے ہیں یکے بعد دیگر وطن و قوم کا خزانہ لوٹ کر بیرون ممالک میں عالی شان محل اور بزنس ڈویلپ کرتے ہیں پاکستان کو ہمیشہ سے ہی جس کا جتنا بس چلا اس نے اتنا ہی لوٹا سب باری باری وطن کو لوٹتے ہیں ان کے بچے یورپ کے بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں اور وطن میں تعلیم کا دہرا معیار ادھر تعلیم کے بجٹ سے بیرون ممالک بچوں کی تعلیم اور آسائشیں۔ادھر صحت کا نظام بہت برا اور حکمرانوں کے زرا سی تکلیف پر بیرون ممالک مہنگے ترین علاج۔ہر سیاسی پارٹی قوم کو چونا لگانے پر تلی ہوئی ہے میں یقین سے کہتا ہوں کے یہ لوگ بیٹھ کر عوام پر ہنستے ہوں گے کہ بار بار عوام بے وقوف بن جاتی ہے
۔حقیقی تبدیلی عوام کی سوچ کی تبدیلی ہے نظام کی تبدیلی ہے۔شریف برادران ۔زرداری بھٹو فیملی۔ چوہدری برادران ۔عمران خان۔ اور مولانا حضرات سمیت سب کا مقصد صرف قوم کو لوٹنا ہی ہے بس فرق صرف اتنا ہے تبدیلی صرف اتنی ہے کہ سب کے لوٹنے کے طریقے تبدیل ہو جاتے ہیں۔تبدیلی تب ممکن ہو گی جب دہرا معیار ختم ہو جائے گا۔جب امیر وغریب کا فرق ختم ہو جائے گا امیر و غریب کے بچے ایک ادارے میں پڑھیں گے صحت کی بہتری کے لئے ایک جیسا ہی نظام ہو گا ایک ہی ہسپتال میں امیر و غریب علاج کر وائیں گے جب صحیح حقدار اور اہل حکمران سامنے آئینگے جب روپے کا لالچ ختم ہو جائے گا جب کسی غریب کا بیٹا بھی وزیر ہو گا تب ہی غریبوں کی بہتری کے لئے کچھ ہو سکے گا۔جب امیرو غریب کے لئے ایک جیسا نظام ہوگا ۔سرکاری ادارے فعال اور آزاد ہونگے انصاف کا نظام سب کے لئے یکساں ہو گا قانون سب کے لئے ایک ہو گا مگر یہ ممکن ہونا بہت مشکل ہے ہمیں اپنے حق کے لئے کسی نہ کسی طرح آواز اٹھانی ہوگی۔حقیقی تبدیلی ہم سے ہے۔میری الیکشن کمیشن آف پاکستان سے گزارش ہے کہ آئیندہ کچھ ایسا انتظام کیا جائے کہ الیکشنز میں روپے اور طاقت کے استعمال کو ختم کیا جائے اور نا ہل لوگوں کو ہمیشہ کے لئے مسترد کیا جائے اگر الیکشن کمیشن اپنا کردار ادا کرے تو واضح فرق پڑسکتا ہے۔اگلا پارٹ تبدیلی بھی چند دنوں بعد
لکھوں گا

Sunday, 27 March 2016

RAW..PATHANKOT AIR BASE..BY ZULQARNAIN HUNDAL






را۔پٹھانکوٹ ائیر بیس
چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔۹۶۲۲۵۶۴۲۴۳۰
را کی پاکستانی مخالف اور پاکستان کو توڑنے کی کوشش و کاروائیوں سے نا واقف کوئی بھی نہیں۔پاکستانی بھارتی عوام اور اقوام متحدہ سمیت سب بھارتی خفیہ ایجنسی کی کاروائیوں سے واقف ہیں۔پاکستان بننے کے بعد کبھی بھارتی حکومت نے دل سے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا ۔ادھر بھارت ہمیشہ کی طرح پاکستان کی جڑیں کمزور کرنے کی کوششیں کرتا رہا اور یہاں پاکستان ہمیشہ تعلقات کے فروغ کی کوشش کرتا رہا۔بھارت ہمیشہ دوگلی پالیسیوں پر گامزن رہا یعنی بگل میں چھری منہ میں رام رام۔ظاہری تور پر تعلقات کی بہتری اور پس پردہ تخریب کاریاں۔پہلے بھارتی مداخلت نے مشرقی پاکستان کو توڑا اور بنگلہ دیش وجود میں آیا۔بھارت نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا اپنی خفیہ ایجنسی را کو افغانستان اور ایران کے زریعے پاکستان میں بہت سی تخریب کاریوں کے لئے استعمال کیا۔پاکستان نے را کے کئی ایجنٹس پکڑے بھی باقائدہ کاروائی بھی کی اور اقوام متحدہ کو ثبوت بھی پیش کئے اور بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لانے کی کوشش بھی کی۔مگر اسکے خاطر خواہ نتائج سامنے نہ آئے اور نہ ہی بھارت اپنے کاموں سے باز آیا اور نہ ہی اقوام متحدہ نے کوئی ایکشن لیا۔یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ کیا پاکستان را کا معاملہ صحیح طریقے سے دنیا کے سامنے پیش کر پایا؟یا پھر اقوام متحدہ ہی نام نہاد ہے اپنے مفادات کے لئے؟یا بھارت بہت بڑا چال باز ہے انٹرنیشنل لیول پر؟
گزشتہ دنوں بلوچستان سے بھارت کا حاضر ڈیوٹی افسر اور را کا بڑا نمائندہ پکڑا گیا جو کہ ابھی زیر تفتیش ہے موصوف کا نام کل بھوشن یادو ہے۔ براستہ ایران ایرانی پاسپورٹ بنوا کر پاکستان پہنچا جناب نے اپنا نام بھی تبدیل کر رکھا تھا
مزید تفتیش سے پتا چلا کہ براستہ افغانستان اسلحہ اور رقم پاکستان منتقل کرتا اور بلوچی تنظیموں کو روپے اور اسلحہ کی مدد فراہم کرتا۔بلکہ یہ کہنا بجا ہو گا کہ بہت سی تنظیموں کی پشت پناہی کرتا۔ اور روپے کے عوض انکو پاکستانی مخالف کام کے لیئے متعدد ٹاسک دیئے جاتے۔مزید انکشافات کیئے جا رہے ہیں کہ بلوچستان کے علاقہ میں جیولری کی دکان چلاتا رہا تاکہ کسی کو شک نہ ہو تفتیشی ٹیم نے اس کے موبائل آکاؤنٹس اور وائرلیس سیٹ کی بھی انفارمیشن حاصل کرلی ہے۔ انٹرنیٹ آکاؤنٹس کی بھی۔اور انکشاف یہ کیا جا رہا ہے کہ اس کے مزید ساتھی را کے اور بھی نمائندے پاکستان میں موجود ہیں ۔ بلوچستان کے علاوہ کراچی میں باقائدگی سے تخریب کاریاں کی جاتی رہیں را نے اپنے اس نمائندے سمیت پوری ٹیم کو بلوچستان کراچی کی پاکستان سے علیحدگی سمیت اور مزید ٹاسک سونپے۔ لیکن پاکستانی انٹیلی جنس نے اس کمیٹی کے سربراہ کو ہی پکڑ لیا اور مزید پورے گروہ کے پکڑے جانے کا امکان ہے۔معلومات کے مطابق یہ شخص کافی عرصہ سے اپنی سرگرمیوں میں مصروف تھا اور اسکے بہت سے ساتھی پاکستان سمیت افغانستان میں موجود ہیں۔بھارت کا افغانستان پر کافی عرصہ سے کنٹرول ہے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی پوری کوشش کرتا رہا کئی بار پاکستانیوں نے را کے نمائندوں کو پکڑا مگر بھارت ثبوتوں کے باوجود ماننے سے انکار کر دیتا مگر اس بار بھارت نے تسلیم کیا کہ کل بھوشن یادو ہمارا ہی شہری ہے اس کے علاوہ بھارت کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔یعنی کے چوری اور سینہ زوری پاکستان ان حالات میں بھی بات چیت کو چھوڑنا نہیں چاہتا ایک طرف بھارت میں دوگلی پالیسیاں اور دوسری طرف پاکستان کی خطے میں امن کی کوشش۔ ایرانی صدر حسن روحانی پاکستان آئے تعلقات کو مزید فروغ دینے پر بات چیت ہوئی جنرل راحیل شریف نے ایرانی صدر سے ملاقات کی اور بھارتی پرپیگنڈہ کے بارے میں بتایا اور را کے ایران میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف کام کے بارے بتایا اور امید ظاہر کی ایران امن کی خاطر پاکستان کا ساتھ دے گا۔پٹھانکوٹ ائیر بیس پر حملے کی تحقیقات کے لئے پاکستانی کمیٹی منگل کو بھارت روانہ ہوگی وہیں بھارت میں بھارتیوں کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے اور تحقیقاتی کمیٹی پر بہت سی پابندیاں عائد کر دیں
۔ یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں؟دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا تحقیقاتی کمیٹی ایسے میں تحقیقات مکمل کر پائے گی؟ بھارت پٹھانکوٹ ائیر بیس پر حملہ کی تحقیقات کو لے کر اتنا خوفزدہ کیوں ہے؟ کیا اس میں کوئی بھارتی سازش ہے؟ یا بھارتی انٹیلی جینس را نے خود یہ حملہ کر وایا؟تا کہ پاکستان پر پریشر ڈالا جاسکے اور دوسری طرف اپنی تخریب کاریاں جاری رکھی جا سکیں۔ مجھ سمیت بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ بھارت پٹھانکوٹ ائیر بیس پر حملہ کا کوئی حل نہیں چاہتا کیونکہ یہ انکی اپنی تنظیم را کا ہی رچایا ہوا ہے صرف پا کستان پر الزامات ڈالنے اور پا کستان سے تعلق ختم کرنے کی خاطر رچایہ گیا۔ ہمیشہ سے ہی پاکستان بھارت کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اور بھارت اپنی کثیر رقم پاکستان میں مختلف سازشیں جنم دینے اور پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے یہ بھارتی عوام کے لئے بھی سوچنے کی بات ہے پٹھانکوٹ سمیت کئی دوسرے حملے بھی بھارتی ایجنسی را کے

اپنے ہی پلان کا حصہ تھے جو صرف پاکستان کو عالمی سطح پر نقصان کی خاطر کئے گئے۔

Tuesday, 15 March 2016

Kisano K Sath Dhoka Dahi By Zulqarnain Hundal





کسانوں کے ساتھ دھوکہ دہی۔۔۔۔ تحریر: چوہدری ذوالقرنین ہندل،گوجرانوالہ

کسانوں کے ساتھ ہمیشہ سے دھوکا ۔فراڈ کیا جا رہا ہے۔ پوری دنیا کے کسان بے بس بالخصوص پاکستان کے ۔’کسان ‘جو کہ کسی دور میں ایک شان سمجھاجاتا تھا۔کسان ایک فخریہ لفظ تھا۔کسان لوگ خود پر بہت فخر محسوس کرتے تھے کسان علاقے کے معزز و قابل احترام لوگ سمجھے جاتے تھے۔ زمینداری اور کاشت کاری پیشہ میں لوگ دلچسپی رکھتے تھے۔اور کسان اپنے علاقہ میں دوسرے لوگوں کی مدد کیاکرتے تھے۔کسانوں کا ایک دور ایسا بھی تھا کہ کسان ضرورت مندوں کو سال بھر کا اناج مفت میں خوشی خوشی دیا کرتے تھے اور ایسے میں بھی کسان گھرانے ہنسی خوشی زندگی بسر کرتے تھے یہ بات بھی سچ ہے کہ حالات ایک جیسے نہیں رہتے۔ موجودہ حالات کسانوں کے لئے بہت ہی کٹھن اور تکلیف دہ ثابت ہو رہے ہیں کسان چاہے آج بھی قابل احترام لوگ سمجھے جاتے ہیں مگر کسان دن بدن پستے جا رہے ہیں حالات کچھ ایسے ہیں کہ جو لوگ دوسروں کے کھانے کے لئے اناج اگاتے ہیں اب وہ خود کے گھروں میں بہت مشکل سے دو وقت چولہا جلا سکتے ہیں اور دوسری ضروریات زندگی پوری کرنا ان کے بس کی بات نہیں رہی کاشت کاری پیشہ جو لوگوں کی شان و شوکت کو ظاہر کرتا تھا آج یہی پیشہ وبال جان ثابت ہو رہا ہے۔
چھوٹے کاشتکار اور زرعی اراضی ٹھیکوں پر لے کر کاشت کاری کرنے والے تو قرض کے بوجھ تلے دبتے جا رہے ہیں سارا دن کھیتوں میں محنت کے باوجود بھی ضروریات زندگی پوری کرنا ناممکن سا ہو گیا ہے ایسے میں غریب اور محنت کش لوگوں کی خود کشیوں کے واقعات سامنے آرہے ہیں چھوٹے کسان بے چاریے بن کر رہ گئے ہیں وہ اپنے بچوں کو معیاری تعلیم اچھی صحت اچھی غزا اچھے کپڑے کوئی بھی ضروریات کو اچھی طرح مہیا نہیں کر سکتے۔
چھوٹے کسانوں کی بہت بڑی تعداد کاشت کاری چھوڑ کر دوسرے کاموں کی طرف جا رہی ہے اور ماں جیسی زمینوں کو بیچ کر شہروں میں صنعت سے وابستہ ہو رہے ہیں کاشت کاری میں عدم دلچسپی ملک و قوم کے لئے بہت ہی زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے اور ہوگا ہمارے وطن کی اکثریت کاشت کاری و زراعت سے منسلک ہے اور اگر کاشت کار دب جائے تو باقی شعبوں میں بھی ہلچل مچ جاتی ہے کسی بھی وطن بلکہ ہمارے وطن کی مضبوطی میں زراعت کا بھی بہت زیادہ عمل دخل ہے ایسے میں مجھے اپنے وطن کی حکومت اور محکمہ زراعت ہمیشہ کی طرح گہری نیند میں نظر آئے ہیں اگر کسانوں نے کبھی شور ڈال کر انہیں بیدار کرنا چاہا تو کسان تنظیم کے سربراہان کو بھی وہی نیند کی دوا کھلا پلا کر اپنا حامی بنا لیتے ہیں ۔قارئین غور فرمائیے گا یہ کہنا بجا ہوگا کہ عرصہ دراز سے کسانوں کے ساتھ دھوکا اور فراڈ کیا جاتا رہا جھوٹے دعوے اور فرضی امداد دی جاتی رہی۔گزشتہ چار سالوں سے کسان بے چارے کبھی سیلاب کی لپیٹ میں آتے رہے اور کبھی فصلوں کے کم داموں کی وجہ سے تنگ نظر آئے۔ اس عرصہ میں ایسا بھی ہوتا رہا کہ کسانوں نے جو کھادوں۔دواؤں اور پانی کے اخراجات فصلوں پر لگائے فصلیں کاشت کے بعد ان اخراجات کی رقم بھی پوری نہیں کر پائیں۔اور کسان قرض کے ملبے تلے دب کر رہ گیا۔گزشتہ سال ۴۱۰۲میں حکومت کی طرف سیلاب سے متاثرہ زمین داروں کو امداد کا اعلان کیا گیا جو کہ اعلان ہی بن کر رہ گیا فوٹو سیشن کے لیئے حکومت اور انکے نمائندوں نے چند لوگوں کو امدادی چیک دیئے اور پھر پردہ سے غائب یعنی کے جو رقم امداد کے لیئے مختص کی گئی ان میں سے تنکہ فوٹوسیشن کے لیئے لوگوں کو دیا اور باقی کی رقم کرپشن کی نظر بڑے زمینداراور حکومتی نمائندے خوب امدادی پیسہ کھاتے رہے۔ایسا ہی کچھ ۵۱۰۲نومبر میں ہوا۔بلدیاتی انتخابات کی آمد تھی۔حکومت بلدیاتی انتخابات کی وجہ سے خو فزدہ تھی۔ اور ایوزیشن جماعتوں نے بھی کسانوں کو اچھا لاہوا تھا۔ ایسے میں ایک تیر سے دو شاکار کھیلنے کے لیئے وزیرا عظم پاکستان نے کسان پیکج کا اعلان کیا۔ جس کے تحت چھوٹے کسانوں کو فوری ۰۰۰۵فی ایکڑ امداد سولر ٹیوب ویل اور زراعت کے لیئے آسان شرائط پر قر ضوں اور کھادوں دواؤں کے ریٹ پر کمی کسانوں کے زرعی بینک کے قرضوں پر ۲فیصد رعائیت اور بہت سی سہولتوں کا اعلان کیا گیا۔ پہلے تو کسان چیخا کہ یہ کیا مزاق۔ ہمیں آٹے میں تنکہ برابر مدد دی جارہی ہے یہ ہمارے اور زراعت کے ساتھ مزاق ہے اس اعلان کے بعد اپوزیشن جماعتیں بھی کسانوں کا ساتھ چھوڑ گیءں اور بلدیاتی انتخابات کے باعث کسان پیکج کی مخالفت کرنے لگیں۔ یعنی کے اپنے اپنے مفاد کسان تھوڑا دھیما پڑ گیا اور سوچا خیر کچھ نہ آنے سے کچھ آجائے بہتر ہے۔ کچھ تو فرق پڑے گا۔بلدیاتی انتخابات سے کچھ پہلے ہی چند علاقوں میں فوری ۰۰۰۵پر ایکڑ کے چیک تقسیم کیئے گئے ۔ اور الیکشنز کے دوران اور تھوڑا عرصہ تک امدادکے چیک مختلف علاقوں میں تقسیم کئے گئے۔ جو نہی الیکشنز گزرے امدادی چیک روک دیئے گے۔اور ابھی تک باقی کسانوں کو رقم فراہم نہیں کی گئی۔ ان کو آج َؔ 249کل کے دلاسے دیئے جارہے ہیں۔اور اسکے علاوہ دوسری شرائط بھی پوری نہیں کی جا رہیں۔نہ قرضوں پر کمی نہ آسان شرائط پر قر ضے کچھ بھی نہیں سب دھوکا دہی ۔یہاں سے سوال اٹھتا ہے کہ جو بڑی رقم کسانوں کے لئے یا کسان پیکج کے لئے مختص کی گئی تھی کیا وہ حکومتی نمائندوں میں بانٹی گئی؟ ایم این ایز۔ایم پی ایز کو تقسیم کی گئی؟یا پھر میٹرو ٹرین کی نظر ہو گئی؟کہاں گئی وہ رقم جو کسانوں کے لئے مختص تھی؟میرے چھوٹے سے گاؤں اور اس جیسے سینکڑوں دیہات اور قصبوں کے لوگ منتظر ہیں کہ کب انہیں کسان پیکج کے تحت امدادی رقم فراہم کی جائے مگر وہ معصوم اور سیدھے سادھے لوگ نہیں جانتے کے اب فوٹو سیشن ہو گیا ہے بس یہ منصوبہ فوٹو سیشن کے وقت کچھ چیک تقسیم کئیے جانے کا منصوبہ تھا۔ان کے حق میں آنے والی رقم کرپشن کی نظر ہو گئی ہے۔ کسان پیکج کے بعد مہینے گزر گئے ہیں

رقم چند لوگوں کو تقسیم کرنے کے بعد باقی کی ہڑپ ۔کھادوں دواؤں کے ریٹ وہی اور معیار صفر۔کسان اپنی رقم کھادوں دواؤں کی نظر کرتے ہیں۔ اور قرضوں پر کھادیں دوائیں حاصل کرتے ہیں ۔مگر ان میں بھی دو نمبری ہے۔ اول تو دام مہنگے ہیں ان کے ۔دوم معیار بھی کم تر۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کہاں ہے محکمہ زراعت جو کھادوں دواؤں کے معیار چیک کرتا ہے ۔اور کسانوں کو بہتر کاشتکاری کے بارے آگاہ کرتا ہے۔انکی کارکردگی بھی صفر صرف اورصرف سفارشی لوگ ملازم بھرتی ہیں ۔ اور حکومت کے ساتھ مل کر کسانوں کے ساتھ دھوکا دہی کی جا رہی ہے ۔
آخر کب اس وطن میں کوئی کسانوں کا ہمدرد لیڈر انکے حق کی خاطر دھوکے بازوں سے لڑے گا۔کسانوں کے ساتھ متعدد ایسی ناانصافیاں ہو رہی ہیں اور کی جا تی رہیں جو میں پھر کبھی بیان کروں گا۔ کرپٹ اور دھوکا بازوں کے لئے آپﷺ کی حدیث مبارکہ

’’جو ہم کو فریب دے وہ ہم میں س نہیں‘‘(مسلم)
قرآن کی روشنی میں
’’جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے‘‘(البقرہ۔۰۱)
آخر میں اقبال کا شعر
جس کھیت سے نہ ہو میسر دہقاں کو روزی
اس  کھیت ک ہر گوشہ گندم کو جلا دو