Sunday, 26 June 2016

برطانوی ریفرینڈم


برطانوی ریفرینڈم
چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ
چوبیس جون بروز جمعہ برطانیہ میں ہونے والے ریفرینڈم نے برطانوی حکومت سمیت پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔سب تجزیے سب اندازے غلط ثابت کر دیے۔ریفرینڈم کے نتائج آنے کے بعد دنیا حیران رہ گئی کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔جی ہاں ہو سکتا ہے برطانوی عوام نے ثابت کر دیا۔قارئین آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ ریفرینڈم برطانیہ کا یورپی یونین کا رکن رہنے یا نہ رہنے پر کروایا گیا۔حکومت یہ ریفرینڈم چاہتی تو نہیں تھی۔مگر مخالفین نے ریفرینڈم کے لئے خوب تحریک چلائی۔حکومت نے تنگ آ کر سوچا کہ ریفرینڈم کروا کر ان سے جان چھڑوا لیں برطانوی حکومت ی یہ سمجھتی تھی کہ برطانوی عوام یورپی یونین کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دے گی۔مگر مخالفین لوگوں کے دلوں میں علیحدگی کے تاثزات ڈالنے میں کامیاب ہو گئے۔مجھ سمیت بہت سے لوگ مختلف نیوز چینلز پر دیکھ رہے تھے کہ تجزیہ کار اپنی رائے میں کہہ رہے ہیں کہ برطانوی عوام یورپی یونین کے ساتھ رہنے کو ترجیح دے گی۔جب بتایاگیا کہ باون فیصدلوگ یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ دیں گے اور اڑتالیس فیصد علیحدگی کے لئے۔تب عوام اور ریفرینڈم پر نظر رکھنے والوں کو مقابلہ ٹف لگا۔پھر بھی لوگ سمجھتے تھے علیحدگی مشکل ہے۔مگر جب نتائج آئے توفیصلہ اس کے برعکس ہوا۔سب اعداد و شمار الٹ ہو گئے۔باون فیصد علیحدگی اور اڑتالیس فیصد ساتھ رہنے والوں کے ووٹ نکلے۔یوں برطانوی حکومت یورپی یونین پورے یورپ سمیت بہت سے لوگوں کے اوسان خطا ہو گئے۔برطانیہ نے تینتالیس سال بعد یورپی اتحاد کی سب سے بڑی اور اہم تنظیم یورپی یونین سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔لندن سکاٹ لینڈ اور شمالی آئر لینڈ کے لوگوں نے یونین کے حق میں جبکہ مشرقی انگلینڈ ویلز اور مڈلینڈ کے لوگوں نے یونین سے علیحدگی کے لئے ووٹ دیئے۔مختلف پارٹیز بھی بھٹی ہوئی نظر آئیں۔اس کے ساتھ ہی یونین کے حامی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ عوامی رائے کی قدر کرتے ہیں اور اب ایک نئی قیادت میں ہی یونین سے بات چیت کا آغاز ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ علیحدگی کے معاملات انجام نہیں دے پائیں گے اکتوبر تک نیا وزیر اعظم چن لیں۔بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ کیمرون نے مستعفی ہو کر اچھا فیصلہ کیا ۔کیونکہ اپنے نظریات کے برعکس چلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔علیحد گی کی وجوہات بہت سی ہیں چند قابل زکر ہیں۔حکومتی مخالفین نے یا یہ کہنا بجا ہوگا یونین کے مخالفین نے اپنی کمپین خوب چلائی اور اس میں کامیابی حاصل کی۔وہ لوگوں کویہ سمجھانے میں کامیاب ہو گئے کہ برطانیہ علیحدہ ہو کر زیادہ بہتر طریقے سے ترقی کر سکتا ہے اور پوری دنیا سے اچھے تعلقات استوار کر سکتا ہے۔اکثر بوڑھے و پرانے برٹش لوگوں نے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا۔ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ رقم کی ایک بڑی مقدار فنڈز کی مد میں یونین کو دیتا ہے وہی رقم علیحدگی کے بعد اپنے اوپر خرچ کر سکے گا۔باہر سے یورپین لوگ برطانیہ میں کاروبار پر براجمان ہیں۔برطانیہ کے لوگ اپنی ایک آزادانہ ریاست چاہتے ہیںیورپین مداخلت سے پاک۔پرانے برطانوی لوگ خوف کا شکار تھے وہ سمجھتے تھے کہ یونین کے ساتھ رہ کر وہ نقصان میں ہیں وہ علیحدگی میں ہی فائدہ سمجھتے ہیں۔مگر تجزیہ کاروں نے کہا کہ سب کچھ اس کے برعکس ہوگا۔برطانیہ اب مشکلات سے دو چار ہوگا۔اس ریفرینڈم کے نتیجے میں پاؤنڈ ڈالر کے مقابلے اکتیس سال کی کم ترین سطح پر آگیا۔تیل کی قیمتیں گر گئیں ۔سونے کے بھاؤ چڑھ گئے۔بعض تجزیہ کاروں نے تو سلطنت برطانیہ کے ٹکڑے ہونے کا خطرہ ظاہر کیا۔کیونکہ سکاٹ لینڈ جہاں علیحدگی کی پہلے ہی سے مضبوط تحریک موجود تھی ایک بار پھر آزادی کی کوشش کر سکتے ہیں اور ایسا ہی شمالی آئر لینڈ والے بھی کر سکتے ہیں۔ریفرینڈم کا رزلٹ آ گیا ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ برطانیہ آج ہی یورپی یونین سے الگ ہوگیا ۔ابھی مکمل علیحدگی میں دو سال بعض کے نزدیک سات سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔مالی و افرادی معاملات کو نپٹانے میں کافی عرصہ لگے گا۔برطانوی ریفرینڈم نے ثابت کر دیا ہے کہ برطانیہ جمہوریت کی ماں ہے۔بلا شبہ عوام نے اس لئے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا کہ اپنے ملک کی قسمت بدلی جا سکے۔جو ہمارے لئے ایک مشعل راہ ہے۔ہر کام کے دو پہلو ہوتے ہیں اور برطانیہ کے یونین سے علیحدگی کے بھی دو پہلو ہیں۔یا تو بڑی مشکلات کا شکار ہو جائیں گے یا پھر اپنی ہمت و کوشش سے دنیا میں ایک نئے ولولے اورنئی سوچ کے ساتھ ابھریں گے۔اگر برطانیہ محنت و ازم سے کام لے تو یورپ سے بہت آگے نکل سکتا ہے۔اگر اسی دوران زرا سی بھی ہٹ دھرمی دکھائی تو یورپ سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔برطانوی ریفرینڈم بلا شبہ دنیا کی تاریخ کا ایک بڑا ریفرینڈم ہے۔جس نے ایک نئی روایت کو جنم دیا ہے اس سے پہلے کوئی بھی وطن کسی تنظیم سے باہر نہیں نکلا بلکہ مختلف ملکوں کی کوشش ہوتی ہے کہ مختلف تنظیموں کا حصہ بننے ۔مگر برطانیہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ان کا حصہ بنے بغیر بھی نمبر ون بنا جا سکتا ہے۔

Sunday, 19 June 2016

یہ ہو کیا رہا ہے ؟

یہ ہو کیا رہا ہے ؟

چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ
یہ ہو کیا رہا ہے تماشا تیرے دیس میں
ہیں سب یہ جانتے مگر کوئی مانتا نہیں
موجودہ پاکستان میں بہت سے فلاسفر موجود ہیں۔آپ کو جگہ جگہ فلاسفر ملیں گے۔سب کا اپنا اپنا فلسفہ ہوگا۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے زیادہ فلاسفروں کی وجہ سے ایسے حالات میں مبتلاء ہے۔یہ فلاسفر کوئی آج سے تو نہیں کافی عرصے سے چلے آرہے ہیں۔کچھ ان فلاسفروں کو جگت باز جیسا عظیم نام دیتے ہیں۔اور ایسے فلاسفروں( جگت بازوں) میں شامل ہمارے سیاستدان بھی ہیں۔کچھ فلاسفر ملکی پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں اور کچھ مخالفت کی پالیسیاں۔جگت بازی ہمارا قومی کھیل بن چکا ہے۔ہم میدان کے کھلاڑی نہیں رہے۔ہم بس باتوں کے تیر چلاتے ہیں۔کھیل کھیلنے کی صلاحیت اب ہمارے اندر موجود نہیں۔ہم ادھر اپنی جگتوں میں مصروف ہوتے ہیں اور ادھر لوگ ہمارے خلاف چالیں چل رہے ہوتے ہیں۔ہمیں تو اپنے دوست و دشمن کی پہچان نہیں رہی۔ان سب فلاسفروں کے علاوہ بھی کچھ لوگ موجود ہیں جو ذرا ایسی جگتوں میں کمزور ہیں۔ایسے کچھ نارمل لوگوں کے دل و دماغ میں گزشتہ چند دنوں سے یہ سوال لگاتر گردش میں ہے کہ ۔یہ ہو کیا رہا ہے؟جی یہ سوال پہلے بھی موجود تھا مگر اب کے بار تو ہر سیکنڈ کے ساتھ دھڑک رہا ہے۔ہم اپنے بندر تماشوں میں مصروف ہمیشہ کی طرح اور مخالفین ہمیں معاشی و سیاسی تور پر پسماندہ کرنے میں مصروف اور ہم ہیں کے جانتے ہی نہیں۔یہ ہو کیا رہا ہے کہ امریکہ جس کی خاطر ہم نے سویت یونین اور دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی اور لڑ رہے ہیں اسی نے ہمیں دھوکا دیا۔ہاں دیا اور متعدد بار دیا مگر ہم ہیں کہ جانتے ہی نہیں۔افغانستان جنہیں چلنا ہم نے سکھایا جن کا ساتھ ہر مشکل وقت میں ہم نے دیا جن کے لاکھوں مہاجرین کو ہم نے پناہ دی وہ بھی ہمیں دھوکا دے رہا ہے اور متعدد بار دے چکا ہے مگر ہم ہیں کے جانتے ہی نہیں۔ایران جسے ہم نے کئی ہتھیار اور دوسری دفاعی امداد فراہم کی اور متعدد بار سعودی عرب اور ایران کی لڑائی میں ثالثی کا کردار ادا کیا مگر وہ ہیں کہ ہمیں دھوکا دے رہے ہیں اور ہم جانتے ہی نہیں۔اس کی وجہ میں ان غدار ملکوں سے زیادہ اپنے وطن کو ٹھہراتا ہوں۔کیونکہ اپنے اچھے اور برے کی تمیز ہمیں خود ہونی چاہیے۔میں صدقے جاؤں ان تجزیہ کاروں اور سیاست دانوں کے جو اب کہہ رہے ہیں کہ یہ سب خارجہ پالیسی کی بنا پر ہے اب ہمیں اپنی خارجہ پالیسی از سر نو تشکیل دینی ہو گی۔بھائی ایسا کوئی پہلی بار ہو رہا ہے یا اس صورتحال سے پہلے واقف نہیں تھے۔اب جو مفاد انہوں نے لینے تھے لے چکے اب تو تمہارے خلاف سر عام چالیں چلیں گے۔کاش کے یہ خارجہ پالیسی پہلے تشکیل دی ہوتی ملک پاکستان کو بھی خارجہ پالیسی سے کوئی فائدہ پہنچتا۔قارئین غور کریں یہ کیا ہو رہا ہے کہ غیر مسلم ریاستوں کے ساتھ مسلم ریاستیں بھی آپ کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ وہی امریکہ و بھارت جو اسرائیلیوں کے حامی ہیں۔ افسوس کے ایران و افغانستان ان کے ساتھ مل کر ہمارے وطن کے خلاف سازشیں بننے میں مصروف ہے ۔یہ انہی اسرائیلیوں کے پشت پناہ اورو دوست ہیں جو مسلمانوں کو سر عام بے دردی سے قتل کرتے ہیں۔افسوس یہ ہو کیا رہا ہے کہ کوئی بھی تنظیم یا شخص مسلمانوں کا نام لے کر قتل و غارت کرے تو پوری دنیا میں سوگ ۔مگر یہودی و عیسائی پوری دنیا میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں چلا رہے ہیں کہ مسلمان ریاستوں سمیت پوری دنیا کو جیسے خبر ہی نہیں۔آخر یہ دہرے معیار اور دوغلی پالیسیوں میں کیسے کامیاب ہیں۔؟ کیونکہ ہمارے اندر ضمیر ہی نہیں کہنے کو تو ہم مسلمان ہیں مگر مسلمانوں والی کوئی بات نہیں جو ہمارے اندر موجود ہو۔ہو یہ رہا ہے کہ ہم اپنا اور اپنے وطن کا سودا بار بار کرتے ہیں اور گھاٹے میں کرتے ہیں۔ہماری حیثیت بھکاریوں جیسی ہے روپے کے عوض ہم اپنی آزادی دوسروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔جو ہم نے بیرون ممالک سے قرض لئے اس قرض سے پاکستان میں کیا تبدیلی آئی ؟سوائے اپنی خودمختاری کو ختم کرنے کے۔یہ کیا ہو رہا ہے کہ امریکہ نے ہمیں ایف سولہ طیارے فراہم کرنے تھے مگر صاف انکار۔دہشتگردی کی آڑ میں امریکہ ہمارے اوپر ڈرون گراتاہے۔افغانستان ہمیں آنکھیں دکھاتا ہے اور ہمارے اوپر برود برساتا ہے۔ ایران ہمارے خلاف غیر مسلم ممالک کی حمایت میں مصروف ہے۔یہ کیا ہو رہا ہے کہ ہم کئی کھرب ارب ڈالرز بھیک مانگ کر بھی اپنے بحرانوں پر قابو نہیں پا سکے۔ہم آج بھی اپنے ملکی مسائل میں گھیرے ہوئے ہیں۔اتنی زیادہ رقم ہر سال خرچ مگر مسائل کا حل صفر۔یہ کیا ہو رہا ہے کہ ہماری خارجہ امور کی وزارت ہی موجود نہیں۔ہمارے وزراء آپس میں لڑے اور بٹے ہوئے ہیں کرپٹ اور ناا ہل تو ہیں ہی بد دیانت بھی ہیں۔ملکی صورتحال جیسی بھی ہو انکی انا قائم رہنی چاہیے۔ہماری اپوزیشن جماعتیں سبحان اللہ انہیں بھی حکومت کو ٹف ٹائم دینا تب یاد آتا ہے جب ملک مسائل میں گھرا ہو اور بیرونی دباؤ بھی ہو۔محترم قادری صاحب بھی تب ہی وطن تشریف لاتے ہیں جب پاکستان اور اسکی حکومت پر بیرونی پریشر موجود ہو۔آپ انصاف کی بات کرتے ہیں بہت اچھی بات ہے۔مگر خدارا انصاف عوام کے لئے مانگیں۔انصاف کی آڑ میں اپنی سیاست کو نہ چمکائیں۔دوستو آج بھی ہمارا وطن اندرونی مسائل سے دو چار ہے۔اور ہمارے لیڈر آپس کی لعن تعن میں مصروف کوئی کرسی بچانے میں اور کوئی کرسی گرانے میں لگا ہوا ہے۔روز بروز انصاف کو روندتے ہیں نا انصافی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ہم اپنے اندرونی مسائل سے ہی باہر نہیں نکل پا رہے تو ہم بیرونی معاملات کو کیا سلجھائیں گے۔دوستو امریکہ اور بھارت کو ہر گز گوارا نہیں کے پاکستان چین اقتصادی راہداری کسی انجام کو پہنچے کیونکہ اس کے مکمل ہونے کے بعد پاکستان اور چین کی حالت خطے میں مضبوط ہوگی۔اور دونوں مخالف اسے نا کام بنانے کے لئے طرح طرح کی سازشیں کر رہے ہیں۔پاکستان میں عدم استحکام پھیلا رہے ہیں۔ہم ہیں کے جانتے ہی نہیں جانتے ہیں تو مانتے نہیں۔یہ ہو کیا رہا ہے ہمیں جاننا بھی ہوگا پہچاننا بھی ہوگا اور ماننا بھی ہوگا ۔نہیں تو ہمارا حال بد ترسے بھی برا ہو جائے گا۔آخر میں اور لینڈو حملے کے بارے چند الفاظ۔امریکہ ایک سپر پاور ہے اور اسکی پالیسیاں اسکی سیکیورٹی اسکی انٹیلی جنس ایجنسیاں سب سے بہتر۔مگر ایک شخص جو کہ انکی واچ لسٹ میں موجود ہو اس پر شک بھی ہو۔اٹھ کر سر عام ایک کلب میں فائرنگ کرتا ہے اور کلب میں داخل ہونے سے پہلے ہیلپ لائن پر کال کر کے اپنے ارادے کی خبر کرتا ہے مگر پھر بھی وہ دو گھنٹے کلب میں موجود رہتا ہے اور اپنا کام بڑی آسانی سے انجام دیتا ہے دو گھنٹے امریکن نمبر ون پاور کی پولیس اسے یہ کیسے کرنے دیتی ہے اور اسے روک کیوں نہیں پاتی۔کیا امریکی ادارے اس میں سوالیہ نشان نہیں۔اس واقعے کے پس پردہ باتوں سے کوئی آگاہ نہیں۔ایک عرصہ لگے پس پردہ باتیں نکلنے میں۔افغانیو اور ایرانیو یاد رکھو کافر کبھی تمہارا دوست نہیں ہو سکتا۔
آج اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شاید
سب کچھ ہے یاد مگر خد ا یاد نہیں 

Monday, 13 June 2016

روزہ۔ہمارے مسلمان

روزہ۔ہمارے مسلمان
چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ
روزہ اسلام کا تیسرا اور اہم رکن ہے۔عربی میں اسے صوم بھی کہتے ہیں۔صوم کے لغوی معنی ہیں کسی چیز سے رک جانا۔اصطلاح شریعت میں سحری سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے جملہ برائیوں اور مباشرت وغیرہ سے رک جانا روزہ کہلاتا ہے۔نمازحج اور زکوۃکی طرح روزہ بھی ایک عظیم عبادت ہے۔ماہ رمضان میں ہر عافل بالغ تندرست اور مقیم مرد اور عورت کے لیے روزہ رکھنا فرض ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے۔
ترجمہ۔پس تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے وہ ضرور پورے مہینے کے روزے رکھے۔
ارشاد باری تعالی ہے۔
ترجمہ۔ابن آدم کا ہر عمل اس کا ہوتا ہے مگر روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔
آپﷺ نے فرمایا۔
ترجمہ۔جس شخص نے رمضان کے روزے محض اللہ تعالی پر ایمان لاتے ہوئے ثواب سمجھ کر رکھے اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیے گئے۔
رمضان بڑی برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہے اور رمضان میں روزے کی حالت میں انسان کے ہر عمل پر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ثواب ملتا ہے۔روزہ انسان کے لئے بے حد اجر و ثواب کا موجب ہے۔بابرکت مہینے میں شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں۔روزہ دار کی اجرت میں بے پناہ اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ہر وقت اللہ تعالی کی رحمتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے۔
قرآن میں ارشاد باری تعالی ہے۔
ترجمہ۔اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔
یعنی روزہ خالص انسانوں کی بھلائی کے لئے ہے۔پہلی امتوں پر روزہ ایک بوجھ سمجھا جاتا تھا لیکن اسلام اور قرآن نے اس کی اصلاح کی ۔روزہ انسانوں کی بہتری کے لئے چند دنوں کے لئے فرض کیا گیا۔بیماری بڑھاپے اور حالت سفر میں روزہ پورا کرنے کی آسانی کیونکہ روزے کی فرضیت میں اللہ تعالی کو محض انسانیت کی اصلاح اور نجات مقصود ہے۔
ارشاد نبویﷺ ہے۔
ترجمہ۔جوآدمی روزہ رکھنے کے باوجود جھوٹ بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالی کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے سے کوئی سروکار نہیں۔
قارئین لکھنے کو تو روزے پر پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے مگر نہ تو میں کوئی بڑا عالم ہوں نہ ہی ماہر اسلامیات بس تھوڑا بنیادی لکھنا مقصود تھا تا کہ بات کو آگے بڑھا سکوں۔میں ارشاد نبوی ﷺ سے ہی آگے چلتا ہوں۔دوستو روزہ رکھنے کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ صرف اور صرف کھانے پینے سے پرہیز کرنا ۔بلکہ سر سے لے کر پاؤں تک نیز اپنے جسم کے تمام اعضاء کو روزہ کی حالت میں رکھنا ہی روزہ ہے۔یعنی بولو تو سچ بولو۔تمہارے بول سے کسی کا دل نہ دکھے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔تمہارے بول ہر لحاظ سے صاف ہوں۔یعنی زبان کا درست استعمال فحش گوئی و تلخ گوئی سے اجتناب۔اپنی آنکھوں سے فحاشی نہ دیکھو۔تمہارے ہاتھ پاؤں سے کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔یعنی پورے جسم کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھال لو یہی روزہ ہے۔مگر افسوس کہ کے ہمارے آج کے مسلمان سب کچھ جاننے کے باوجود بھی اس پر عمل پیرا نہیں۔جھوٹ و فریب کا بازار گرم ہے۔روزہ رکھ کر جھوٹ بولتے ہیں گالیاں بکتے ہیں ناپ تول میں لوگوں سے فراڈ کرتے ہیں چیزوں میں ملاوٹ کرتے ہیں چیزوں کو زخیرہ کر کے مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔رمضان جیسے بابرکت مہینے کو ہمارے نام نہاد مسلمانوں نے مشکل بنا دیا ہے۔کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر کے غریبوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔خاص کر ہمارے ملک پاکستان میں روزہ رکھ کر لوگ فراڈ اور دھوکے کر رہے ہیں۔یہ وطن ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا اور افسوس کے کہ ہمارے وطن میں نہ ہی لوگوں کو اسلام کے بارے علم ہے اور نہ ہی روزے کے بارے۔ایسے روزے کا کوئی فائدہ نہیں جس میں جھوٹ بولا جائے۔ہر طرف افراتفری کا سماں ہے۔افراتفری تو پہلے بھی تھی مگر ہمارے پاکستانی مسامان بھائیوں نے تو رمضان میں افراتفری کو اور وسعت دے دی۔لوگ رمضان جیسے رحمتوں والے مہینے میں نیکیاں کمانے کی بجائے روپیہ اور دولت کمانے میں مصروف ہیں۔ہمارے حکومتی نمائندوں کو تو اپنی لڑائیوں اور اقتدار کے کھیلوں سے ہی فرصت نہیں۔اور لوگ لوٹ مار کر رہے ہیں۔افسوس کہ اب غیر مسلم کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کابا برکت مہینہ ختم ہوگا تو مہنگائی کم ہو گی پھر ہی ضروریات زندگی حاصل کر سکیں گے۔اور مزید افسوس میں اضافہ ہوتاہے جب پتہ چلتا ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں نے اپنی چیزوں کی قیمتوں پر رمضان میں کمی کی ہے اور مسلمانوں نے قیمتوں میں اضافہ۔میری ان لوگوں سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی روزہ نہ رکھا کریں اگر اسکی پاسداری نہیں کر سکتے ۔کیوں اسلام کا نام خراب کرتے ہو؟اسلام نے توہر چیز کا واضح حکم دیا ہے۔خود کو مسلمان کہلاتے ہو تو حقیقی مسلمان بنو۔اور اللہ کو حاظر ناظر جان کر روزہ رکھو اور اسکی پاسداری کرو۔یہ سب تنقید کرنے کا مقصد حقیقت بتانا ہے۔اور پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں کچھ اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں۔
آج اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شاید
سب کچھ ہے یاد مگر خدا یاد نہیں

Sunday, 15 May 2016

ہیں سب چور لٹیرے


!ہیں سب چور لٹیرے
چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ
پانامہ پانامہ پانامہ! سن سن کر اب عوام بھی تنگ آچکی ہے۔روز روز کوئی نہ کوئی بڑی اور اہم خبر اور پھر پانامہ کا دھماکہ۔کیا یہ دھماکہ پاکستان میں ٹھس ہو جاتا ہے؟قارئین ویسے تو آپ سب جانتے ہیں لیکن میں پھر بھی بتاتا جاؤں کے پانامہ لیکس میں جن آف شور کمپنیوں کا ذکر کیا جاتا ہے وہ کیا ہیں کس لئے ہیں اور کیوں ہیں؟سب سے بڑا مقصد تو ٹیکس بچانا ہوتا ہے۔ اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کے امراء بزنس مین و سیاست دان اپنی بڑی رقوم ایسے ممالک میں انویسٹ کرتے ہیں۔جہاں ٹیکس کی شرح بہت کم ہو اور ان کی دولت یا کمپنی کو بھی صیغہ راز میں رکھا جائے۔پانامہ نے جن آف شور کمپنیوں کا زکر کیا ہے ان میں زیادہ تر بزنس مین شامل ہیں جن کے اپنے ممالک میں ٹیکس کی شرح بہت زیادہ ہے یا بہتر مواقع نہیں۔انہوں نے ایسے ممالک میں آف شور کمپنیاں بنائی ہیں جہاں ٹیکس سے بچت ہو جائے اور ان کے اس کام کو بھی صیغہ راز میں رکھا جائے۔یعنی ٹیکس سے بچنے کے لئے کافی سارے بزنس مین آف شور کمپنیاں بناتے ہیں۔اور جو سیاست دان آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں وہ سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔وہ اس وقت مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ ملکی دولت کو کسی دوسرے ملک میں صیغہ راز میں رکھنا ایک جرم سمجھا جاتا ہے ایسے سیاستدان کو مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور اسکی تحقیقات ہوتی ہیں ۔لیکن ہمارے ہاں تو بڑے بڑ ے ڈھیٹ سیاستدان ہیں اور احمق عوام۔جن ممالک میں آف شور کمپنیاں بنائی جاتی ہیں انہیں کسی نہ کسی طرح فائدہ ضرور ملتا ہے۔ایسے ممالک ایشین لوگوں کو زیادہ پریفرینس دیتے ہیں کیونکہ ایشیائی لوگ سوال جواب بہت کم کرتے ہیں اور زیادہ تحقیقاتی بھی نہیں ہوتے۔پانامہ اور آف شور کمپنیوں کی معلومات لکھنے سے قاصر ہوں۔اب میں اپنے عنوان کی طرف آتا ہوں’’ہیں سب چور لٹیرے‘‘۔پانامہ نے کوئی بہت بڑا دھماکہ نہیں کیا بس بین الاقوامی سطح پر لوگوں کو بتایا ہے۔بہت سے لوگ ایسی معلومات پہلے بھی رکھتے تھے۔بہت سے صحافیوں تجزیہ کاروں اور لکھاریوں نے بار بار بتایا ہے کہ یہ سب چور لٹیرے ہیں۔ انکی دولت اور بزنس بیرون ممالک ہیں میرا خیال ہے کہ پاکستان کے با شعور لوگ یہ سب پہلے سے ہی جانتے تھے۔میں بھی بار بار چوروں لٹیروں کے بارے میں لکھ چکا ہوں۔میرے دوست احباب اسرار کرتے تھے پانامہ کے بارے لکھوں مگر میں جانتا تھا کہ فوری لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں یہ سب وقتی ہے۔اس کی زد میں سب سیاستدان آنے والے ہیں۔کوئی ایک دو اس کی لپیٹ کا حصہ نہیں بلکہ سارے کا سارا آوہ ہی اس کی زد میں آئے گا۔سب چور اور لٹیرے ہیں یہ قوم کا پیسا کھاتے تھے کھاتے ہیں اور کھاتے رہیں گے۔یہ وقتی مظاہرے اور تنقیدیں صرف اپنے مفادات کی خاطر ہیں۔عوام کو تو صرف اور صرف بے وقوف بنایا جاتا ہے۔سب اپنے آپ کو صادق سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو صادق و امین ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کے جھوٹ اور بہانے بنانے میں مصروف ہیں۔کوئی کہتا ہے میری آف شور جائز ہے کوئی کہتا نہیں صرف میری جائز ہے۔سب دھوکے باز اور اقتدار کے لالچی ہیں۔انہیں اسلامی حکمرانی کے بارے کچھ علم نہیں۔یہ ایک دوسرے کا احتساب نہیں ہونے دیں گے۔کیونکہ سب ہی احتساب کے شکار میں پھنس جائیں گے اور بے نقاب تو پہلے ہی سے ہیں ذلیل بھی ہو جائیں گے۔کیا دور ہے ایک مسلم ملک میں عدلیہ آزاد نہیں عدلیہ فیصلہ نہیں کرسکتی۔عدلیہ حکومتی بوجھ تلے دب گئی ہے۔اگر انصاف کرنے کا عہد کیا ہے تواس کی پاسداری بھی کرو۔ورنہ مستعفی ہو جاؤ انصاف نہیں کرسکتے تو آپکا موجود ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔کیونکہ پھر آپ بھی چور لٹیروں کے یار نظر آتے ہیں۔میں بار بار لکھ چکا ہوں کے جس کا نام کرپشن یا دوسری بدعنوانیوں میں موجود ہو اسے تا حیات الیکشنز کے لئے نا اہل ٹھہرایا جائے۔میں پورے پاکستان سے ملک کی عوام ملک کے ایوان ملک کی انتظامیہ ملک کی عدلیہ نیز ہر فرد سے اور ملک کی افواج سے گزارش کرتا ہوں کے کوئی ایسا قانون ایسا نظام تشکیل دیں جس سے سارے کرپٹ دہشتگرد اور نا اہل سیاستدانوں کو ہمیشہ کے لئے سیاست سے دور پھینکا جائے اور انکے ساتھ ساتھ کرپٹ آفیسرز کا بھی کڑا احتساب کیا جائے تا کہ غلط کام کرتے وقت احتساب کا ڈر ضرور ہو۔پڑھے لکھے سادہ اور نیک ایمان دار لوگوں کو سامنے لایا جائے۔روپے اسلحے کا زور ختم کیا جائے۔قوانین پر عملدرآمد کروایا جائے۔سرکاری اداروں کو آزاد اور فعال بنایا جائے۔انصاف کے فیصلوں پر عملدرآمد کروایا جائے۔میری عوام سے گزارش ہے کہ اگر وطن کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ان سب چور لٹیروں کو تا حیات نااہل کروانے اور ان کے کڑے احتساب کے لئے صدا بلند کریں تاکہ ملک پاکستان بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔میں پورے وثوق سے کہتا ہوں سب چور لٹیرے ہیں۔اگر پانامہ کی ایک اور قسط جاری ہو جائے تو ان میں سے مزید آپکے سامنے ننگے ہو جائیں گے۔میرا آخر میں سوال ہے کہ آف شور کمپنیاں بنانے کی نوبت کیوں آئی؟اس کی بہت بڑی وجہ بھی ہمارے وطن کے چور لٹیرے ہی ہیں۔سب سے زیادہ آف شور کمپنیاں بزنس مین طبقہ کی ہیں۔ہمارے وطن میں سیاستدانوں اور انکے حامیوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔سیاستدان اور انکے یار حکومتی ملازمین بزنس طبقہ کو ستاتے رہتے ہیں اور بھتہ مانگتے ہیں بھتہ نہ ملنے پر بے جا ٹیکسوں یا کسی اور خوف سے ڈراتے ہیں ۔ایسی کئی مشکلات کی وجہ سے بزنس مین خود کو یہاں محفوظ نہیں سمجھتا اور بیرون ممالک آف شور کمپنیاں بناتا ہے۔تحقیق تو سب کی ہونی چاہیے اور ہر لحاظ سے ہونی چاہیے اور بیرون ممالک رقوم ٹرانسفر کرنے کی وجوہات بھی معلوم کی جانی چاہیے۔ملکی رقم کو پاکستان واپس لانے کے لئے بھی سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔لیکن ایسا ہونے کون دے گا ایسا کرنے کون دے گا ؟کیوں کہ سب لٹیرے یار ہیں۔ذرا سوچئے۔
یہ ان سب کو طماچہ ہے جو میں نے مارا ہے
اٹھو میری قوم کے لوگو ذرا تم بھی طماچہ دو۔

Sunday, 8 May 2016

Kisan Kidher Jaein


کسان کہاں جائیں؟
03424652269چوہدری ذوالقرنین ہندلگوجرانوالہ
۔۔۰
گندم کی کٹائی بھی مکمل ہو گئی۔اور اپنے ساتھ کسانوں کی خوش فہمی کو بھی نگل گئی۔کسانوں کی امیدیں اور منصوبے سب ختم ہو گئے۔سب خواہشیں دری کی دری رہ گئیں۔اور کچھ بچا ہوا صبر اور حوصلہ بھی ختم ہو گیا۔قرض پہلے سے بڑھ گئے۔کسانوں کے سب ارمان ٹوٹ گئے۔گھرانے پہلے سے بھی ویران نظر آنے لگے۔فکریں اب بوجھ بن گئیں اور زہن نے سوچ سوچ کر کسانوں کو بڑھاپے میں داخل کر دیا۔آباؤ اجداد کا پیشہ اب زہر کی طرح زہریلا بن گیا۔کھیتی باڑی سے محبت ختم ہو گئی۔اور دل و دماغ گردش میں رہنے لگے طرح طرح کے وسوسے تنگ کرنے لگے۔کچھ نے تو یہ سوچ کر دل کو تسکین دی کہ نفع ہو یا نقصان سب کچھ بیچ باچ کر شہر یا کسی ٹاؤن میں منتقل ہو کر کوئی کاروبار شروع کریں گے اور زراعت کو ہمیشہ کے لئے خیر آباد کہیں گے آخر اس نے ہمیں دیا ہی کیا ہے بلکہ ہمارا خون ہی چوسا ہے۔نہ جانے ہمارے دل میں ایسی سوچ پہلے کیوں نہ آئی ہماری عقل پر پردہ جو پڑا تھا۔مگر بے چارے وہ کسان جن کے پاس نہ تو مویشی ہیں نہ ہی کوئی آباؤ اجداد کی جائیداد انکا تو کلیجہ ہی پھٹ گیا قلب نے جیسے حرکت کرنا ہی چھوڑ دیا۔اور اوپر سے فصل پر لگے اخراجات اور خرچ جو کسی ڈیلر سے قرض کے تور پر لئے تھے وہ ستانے لگے۔افسوس کے بہت ساروں نے خودکشی کا بھی سوچا ہوگا مگر کیسے خودکشی کریں گھروں میں بیٹھی ماؤں بہنوں بیویوں اور بیٹیوں کا وارث کون ہوگا۔بس دل میں یہی خیال ہے کہ جائیں تو کہاں جائیں کریں تو کیا کریں؟۔قارئین یہ سب لکھنے کا مقصد بتانا ہے کہ بالخصوص چھوٹے کسان تو پس چکے ہیں ان کا ہمدرد کوئی نہیں۔کچھ تو اللہ تعالی پر توکل قائم رکھے ہوئے ہیں اور کجھ تو زندگی کی ہمت ہار چکے ہیں بس انکا دل ہے کہ آخری آرام گاہ کا سکون لیں۔موجودہ گندم کی کٹائی کے بعد کسانوں کو بہت زیادہ ذلیل کیا گیا۔کہنے کو تو حکومت گندم کی خریداری ۰۰۳۱ روپے فی من میں کر رہی ہے مگر اصل میں جو رقم کسان کو ملتی ہے وہ ۰۰۲۱ روپے فی من ہے۔اوپر والا سو روپیہ معزز حکومت کے گوداموں تک گندم پہنچانے کا خرچ جس میں سے باردانہ کی قیمت کرایہ اور کچھ رقم محترم فوڈ انسپکٹر اور باقی عملے کی نظر۔یہ تو صرف انکے لئے تھا جو صاحب وافر مقدار میں روپیہ رکھتے ہوں مگر غریب کسان بے چارے روز باردانہ کے حصول کے لئے آتے اور سارا دن لائنوں میں کھڑے ہو کر شام کو خالی ہاتھ واپس لوٹ جاتے یعنی ہفتوں ذلالت انکا مقدر ٹھہری اور آخر کار پھر وہی ڈیلروں کو ۰۱۱ ۰روپے فی من کے عوض گندم فروخت کرنی پڑی۔مگر اس کے بر عکس ایم این ایز و ایم پی ایز فوڈ انسپکٹر اور انکے حامی و عزیزواقارب بغیر کسی لائن میں کھڑے ہزاروں کی تعداد میں توڑے و باردانہ سب سے پہلے ہی لے گئے اور انہوں نے وافر مقدار میں باردانہ لے کر بعد میں اپنا ریٹ بنا کر بلیک میں دوسرے ڈیلروں کو فروخت کیا۔بقول ہماری گورنمنٹ ساڑھے بارہ ایکڑ اور اس سے کم اراضی والے چھوٹے کاشتکاروں کو سب سے پہلے باردانہ دیا گیا اور میں نے ایسے اشتہارات بھی اخبارات میں دیکھے جن میں لکھا ہوا تھا کہ باردانہ کی منصفانہ تقسیم ہوئی۔مگر پتا نہیں انہیں نظر کیوں نہیں آتا؟کہ ان کے اپنے ایم این ایز و ایم پی ایز اور آفیسران ہی غریبوں کا حق کھا جا تے ہیں۔خدارا حضرت عمر رضی اللہ کی حیات و حکمرانی کے بارے ضرور پڑھیں شاید آپ کو خدا کا خوف آجائے۔کسانوں کے ساتھ عرصہ دراز سے ہی نا انصافی ہو رہی ہے کہیں کسانوں(زراعت) کا بجٹ میٹرو ٹرین کی نظر اور کہیں دوسرے پراجیکٹس کی نظر۔اور اگر کچھ حصہ آبھی جائے تو وہ محکمہ زراعت اور ایم پی ایز و ایم این ایز کی نظر۔کیا کسان اس وطن کا حصہ نہیں ؟اگر ہے تو ان کے ساتھ سوتیلوں سے بھی بد تر سلوک کیوں؟کیا حکمرانوں کی کسانوں سے کوئی دشمنی ہے؟اگر نہیں تو بے گانوں سا سلوک کیوں؟ کیا کوئی سازش پاکستانی کسانوں(زراعت) کا خاتمہ چاہتی ہے؟اور کیا حکومت اس میں سازشیوں کے ساتھ ہے؟پاکستان میں ہر چڑھتے سورج کے ساتھ زراعت کا پیشہ ٹھپ ہوتا جا رہا ہے۔ایسا صرف کسانوں کے ساتھ نا روا سلوک کی بدولت ہو رہا ہے۔کسان بے چارے طرح طرح کے ٹیکس دیں کہیں زرعی ٹیکس کہیں آبی ٹیکس کہیں کھادوں دواؤں کے ٹیکس یہ سب کسان کو ہی ادا کرنے ہوتے ہیں ۔اور دن بدن کھادوں دواؤں اور دوسری ضرورت کی اشیاء کے آسمانوں کو چھوتے ہوئے ریٹ اور بے چارے کسانوں کی فصل وہی کوڑی کے بھاؤ۔ آخر حکومت خود ہی بتا دے کہ کسان ایسے میں کہاں جائیں اور کیا کریں؟میں آپکو بتانا چاہتا ہوں ہمارے وطن کی زراعت کو خطرہ لاحق ہے اگر وطن سے کسان کم ہوتے گئے تو ایک دن ایسا آئے گا ہمیں بیرون ممالک سے زرعی اجناس منگوانی پڑیں گی۔اور پھر موجودہ زرعی اجناس سے چار گنا زیادہ رقم ادا کرنا پڑے گی اور پھر ایسی مہنگائی سامنے آئے گی کہ دوسرے شعبوں اور صنعت کا بھی بیڑہ بھی غرق ہو جائے گا یعنی سب کچھ اجڑ جائے گا۔ ملک میں توازن قائم نہیں رہے گا اور جرائم پہلے سے بھی چار گنا زیادہ بڑھ جائیں گے۔اگر کسانوں کی خوشحالی کے لئے کچھ نہ کیا گیا تو خوش کوئی بھی نہیں رہے گا کسان خوشحال تو پاکستان خوشحال۔ذرا سوچئے جو دہقاں و کسان آپکو کھانے پینے کی بہت ضروری اشیاء فراہم کرتا ہے اگر وہ خود اپنی ضروریات پوری نہ کر سکے تو یہ کتنی بڑی نا انصافی ہے۔محکمہ زراعت۔خدارا یا تو اس محکمے کو ختم کر دیں یا اس کو فعال بنائیں ۔ یوں ہی یہ بھی قومی خزانے پر بوجھ ہے اور وزارت زراعت کا تو اللہ ہی حافظ۔اور وزیر اعظم صاحب کہاں گئی وہ تین سو چالیس ۰۴۳ ارب کی امداد جو کسانوں کے لئے مختص تھی کہاں گئے وہ وعدے جو کسانوں ک ساتھ کئے۔اللہ تعالی سے ڈریں آخر سب نے مرنا ہے ۔مجھے غصہ آتا ہے ان ڈیلروں اور صنعت کاروں پر جنہیں کسانوں کی فصلوں کا ریٹ بڑھتا ہوا چبھتا ہے مگر اپنی چیزوں کے ریٹ بھلے معلوم ہوتے ہیں۔اصل میں کسان انکی بنائی ہوئی چیزوں کی مہنگائی اور حکومت کی کرپشن کی وجہ سے پس گیا ہے۔وزیر اعظم صاحب کسانوں کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کو پورا کریں ورنہ ہم یاد کرواتے رہیں گے اور میری صحافیوں و لکھاریوں سے گزارش ہے کہ کسانوں کا حال ایوانوں تک پہنچائیں اللہ تعالی اجر دے گا۔
نہ رہے دہقاں و کسان اس دیس میں تو
نہ رہیں گی حکومتیں سلامت نہ صنعتیں۔