Sunday, 25 December 2016

قائد کی ولادت کا دن اور ہم


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

قائداعظم پورا نام محمد علی جناح 25 دسمبر1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔والد کا نام پونجا جناح چمڑے کے بڑے تاجر۔محمد علی جناح بچپن سے ہی اعلی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ابتدائی تعلیم کراچی سے اور برطانیہ سے بائیس سال کی عمر میں بیرسٹر بن کر ہندوستان واپس لوٹے۔وکالت میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچے۔کانگرس سے سیاست کا آغاز کیا بعد ازاں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی۔ہندؤں سے بدزن ہوکر آپ نے مسلمانوں کو حقوق دلانے کا بیڑا اٹھایا ۔چودہ نکات بھی اسی ضمن میں پیش کئے۔مشکل حالات میں ہندوستان میں مسلمانوں کی وکالت مدبرانہ انداز میں کی اور برصغیر میں مسلمانوں کے عظیم لیڈر قرار پائے۔لیڈرانہ صلاحیتوں اور انتھک محنت کی بدولت محمد علی جناح انگریزوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوگئے کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہے۔آخر کار آپکی محنتوں اور کاوشوں کی بدولت 14اگست1947کو ایک اسلامی ملک پاکستان قیام میں آیا۔آپ پاکستان کے سب سے پہلے گورنر جنرل تھے۔ابتدائی مراحل میں آپ نے پاکستانیوں کو متحد کیا۔آپ کے پختہ ایمان اور یقین کی بدولت پاکستان دن رات ترقی کی راہ پر گامزن رہا۔اسی دوران آپ ٹی بی کے عارضے میں مبتلا تھے مگر آپ نے بیماری کی تاب نہ لاتے ہوئے اسے پوشیدہ رکھا اور ملکی خدمت میں گامزن رہے۔کچھ عرصہ علیل رہنے کے بعد آ پ وفات پا گئے۔آپ نے پاکستانیوں کو ہمیشہ ایمان اتحاد اور تنظیم کا درس دیا۔آپ کے جانے کے بعد آپکے افکار کو کوئی سمجھ نہ سکا۔آپ کے بعد پاکستان کو کوئی عظیم لیڈر نہ مل سکا۔وطن آہستہ آہستہ ترقی کی پٹڑیوں سے نیچے اترتا گیا۔بے ایمان حکمرانوں اور جاگیرداروں کے گٹھ جوڑ نے ملکی اتحاد کو نیست و نابود کر دیا۔بد عنوانیوں نے ملک میں جڑیں مضبوط کر لیں انہی بدعنوانیوں کے باعث لوگوں کے ایمان کمزور ہونے لگے۔ملک اور ملکی اداروں میں کرپشن نے زور پکڑ لیا۔لفظ تنظیم کا مفہوم بھی پاکستانیوں کو بھولنے لگا۔ملک سے ہی ملکی دشمن پیدا ہوتے رہے۔سیاستدانوں کی ہٹ دھرمیوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا۔سیاست دانوں اور جاگیر داروں کی چالبا زیوں اور مفادات کے برعکس دہشتگردی نے زور پکڑا۔وطن خون کی ندی بن گیا۔اسی بہادر اور غیور قوم میں غربت کے مارے اور حکومت کے ستائے لوگ ملکی غدار بنے۔وطن پاکستان جو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اسی ملک میں نظریہ پاکستان اور اسلام کو رسوا کیا گیا۔ملک ایسا کھنڈر بنا کے لوگ ایک دوسرے سے ڈرنے لگے۔مسلمانوں سے مسجدوں کو نقصان پہنچنے لگا اور طالب علموں سے مدرسوں کو ۔اساتذہ ملکی غداروں کے حامی نکلنے لگے۔صحافی و سیاست دان ملکی غداری میں نمایاں۔سیاست دانوں کی بدعنوانیوں نے ملک کو کرپشن کا گڑھ بنا دیا۔آہ ۔افسوس۔اے قائد میں کیا لکھوں؟اپنے وطن کی غداریوں کو لکھوں؟یا بے ایمانیوں کو لکھوں؟جھوٹے اور وقتی ولولوں کو لکھوں؟یا لفظی جھوٹ لکھوں؟قائد ہمارے ولولے صرف وقتی ہوتے ہیں۔ہم وقتی شرمندہ ہوتے ہیں۔آج آپ کی ولادت کا دن بھی گزر گیا بڑے وقتی جذبے ظاہر کئے یہ بھی کہا گیا قائد ہم اپنی کرتوتوں سے شرمندہ ہیں ۔مگر پھر جذبوں میں بھی جھوٹ قائد درحقیقت ہم شرمندہ نہیں بلکہ بے ہس بلکہ بے شرم ہیں۔بے شرم لفظ ہماری درست ترجمانی کرتا ہے۔قائد ہم تو وہ قوم بن چکے ہیں جو اپنے محسن کی زندگی اسکے ایمان اور خلوص پر شک کرتے ہیں اور کبھی کبھار جھوٹا بھی قرار دیتے ہیں۔ہم سرکشی کی راہ پر چلنے والے وہ پتلے ہیں جنہیں درست غلط سے سرو کار نہیں بس پیچھے چلنے کے عادی ہیں چاہے کوئی کنویں میں دھکیل دے۔ہماری صلاحتیں زنگ آلود ہو چکی ہیں۔اے قائد ہم تیرے ایمان اتحاد اور تنظیم پر کیا عمل کریں ہم اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کو بھول بیٹھے ہیں۔افسوس اے قائد آج تیرے پاکستانیوں نے تیری ولادت کے دن بڑے پروگرام منعقد کئے بڑی ڈاکومنٹریز چلائی گئیں مگر تیری سچائی تیرے پختہ ایمان تیرے یقین اور تیرے افکار و نظریات کو نہ سمجھا۔ادھر تیرے ولولوں کی لفظی قدریں کیں ادھر تیرے وطن کو تار تار کیا۔اے قائد کیا یہ تیرا پاکستان ہے؟ہر گز نہیں۔یہ فرقہ واریت یہ کرپشن یہ دہشتگردی یہ بے انصافی یہ دہرا معیاریہ قانون کی دھجیاں یہ پلی بارگین یہ کرسی کا لالچ یہ پانامہ یہ ہٹ دھرمی یہ قبضہ مافیا اور وغیرہ وغیرہ کیا یہ سب قائد کا نظریہ ہے نہیں ہر گز نہیں یہ تو کرسیوں پر بیٹھے ان فرنگی غلاموں کے دہرے معیار ہیں انکے ہوس سے لبریز قوانین ہیں۔بلکہ افسوس سے ان فرنگی غلاموں کے غلام ہم سب عوام ۔ہمیں خود کو قائد سے منصوب نہیں کرنا چاہیے۔قائد کی روح کو ٹھیس پہنچے گی۔قائد ہم شرمندہ نہیں بے شرم ہیں۔
اے قائد تجھے ٹھیس تو پہنچی ہوگی
ولادت پہ تیری تیرے نظریات کو کر گئے رسوا
کیا یاد تو فقط چند رسمی لفظوں میں یاد کیا
تیرے اپنوں نے تیرا درس بھلا دیا
اے قائد تجھے ٹھیس تو پہنچی ہوگی
چھپا کر اپنی علالت جس قوم کے لئے کام کیا
اسی کے لوگوں نے تیرے افکار کو تار تار کیا
میرے رہبر قائد تجھے ٹھیس تو پہنچی ہوگی

Sunday, 11 December 2016

سرکار دو جہاں ﷺ


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

آپﷺ کی تاریخ ولادت کے متعلق مختلف روایات میں کچھ علماء 9 ربیع الاول کو درست مانتے ہیں۔مگر زیادہ علماء اکرام کے نزدیک 12 ربیع الاول کو آپﷺ کی ولادت صبح صادق کے وقت ہوئی۔آپﷺ کی پیدائش سے مشرق و مغرب منور ہو گئے۔آپﷺ کا نام محمدﷺ رکھا گیا۔محمدﷺ کا سادہ سا ترجمہ۔جس کی تعریف کے بعد پھر تعریف کی جاتی ہو۔اس سے واضح ہے کہ آپﷺ وہ ذات ہیں جن کی تعریف کا سلسلہ جاری ہے اورہمیشہ جاری رہے گا۔یہ حقیقت ہے کہ جتنا دنیا بھر میں آپﷺ کی شان کے بارے میں لکھا گیا اتنا اور کسی کے بارے میں کبھی لکھا نہیں جا سکتا یہاں تک کہ غیر مسلم بھی آپﷺ کی تعریفوں میں متعدد کتابیں لکھ چکے ہیں۔پیدائش کے بعد آپﷺ کی پرورش حضرت حلیمہ سعدیہ نے کی۔چار سال کی عمر میں آﷺ کو آپ کی حقیقی والدہ حضرت آمنہ کے سپرد کیا گیا۔ابھی آپﷺ چھ برس کے ہوئے تھے کہ حضرت آمنہ انتقال کر گئیں۔اس کے بعد آپﷺ کی پرورش آپﷺ کے دادا حضرت ابومطلب نے کی۔آپﷺ کے دادا آپﷺ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔آپﷺ کی عمر آٹھ سال ہوئی تو آپﷺ کے دادا بھی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔دادا کی وفات کے بعد آپﷺ کو آپکے چچا حضرت ابوطالب نے اپنی کفالت میں لیا۔آپﷺ نے بارہ سال کی عمر میں اپنے چچا کے تجارتی قافلے کے ساتھ ملک شام کا سفر کیا۔اسی سفر کے دوران بحیرہ نامی عیسائی راہب نے آپﷺ کو دیکھا اور کہا آپﷺ سید المرسلینﷺ ہیں۔آپﷺ نے بھی باقی انبیاء کی طرح بکریاں چرائیں۔مکہ میں آپﷺ کو صادق  و امین کے لقب سے لوگ جانتے تھے۔پچیس برس کی عمر میں آپﷺ کی شادی حضرت خدیجہ سے ہوئی۔جب آپﷺ چالیس برس کے ہوئے ایک دن غار حرا میں عبادت میں مصروف تھے۔جبرائیل علیہ اسلام حاضر ہوئے اور کہا۔(پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو قلم کے زریعے علم سکھایا۔)یوں آپﷺ پر وحی کا آغاز ہوا۔آپﷺ نے اس کے بعد احکام الہی کی تبلیغ کا آغار کیا۔آپﷺ نے شروع شروع میں بڑی تکلیفیں برداشت کیں مگر صبر کا دامن نہیں چھوڑا یوں آپﷺ کی تبلیغ سے لوگ جوق در جوق اسلام کے دائرے میں داخل ہوتے گئے۔آپﷺ کے مخالفین بھی آپﷺ کی سچائی کو مانتے تھے۔وحی کے نزول سے پہلے بھی آپﷺ مکہ کے صادق اور امین شخص مانے جاتے تھے۔لوگ آپﷺ کے پاس اپنی امانتیں رکھواتے۔آپﷺ سے فیصلے کرواتے یعنی انصاف کرواتے۔اللہ تعالی نے بچپن سے ہی آپﷺ کو رسالت کی خصوصیات عطا کیں۔آپﷺ دنیا کے آخری نبی ہیں۔آپﷺ کے بعد اس دنیا میں کوئی نبی نہیں آئے گا۔آپﷺ کی امت آخری امت ہے۔اب قیامت تک امت محمدی ہی رہے گی۔آپﷺ پوری دنیا کے رسولﷺ ہیں۔تمام قوموں کے نبی۔آپﷺنے لوگوں کو جینا سکھایا تہذیب سکھائی اسلام جیسا بہترین دین دیا اور قرآن جیسی اعلی کتاب دی۔قرآن اللہ تعالی کی طرف سے بھیجی گئی آخری کتاب ہے۔وہ کتاب جس میں سابق آسمانی کتابوں کا بھی ذکر ہے۔آپﷺ سرکار دوجہاں ہیں۔آپﷺ اللہ کے محبوب اور آخری نبی ہیں۔اس کے باوجود بھی آپﷺ نے اتنی سادہ زندگی بسر کی جو ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے۔آپﷺ کی حیات مبارکہ کا ہر عمل ہمارے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔آپﷺ قیامت کے روز اپنی امت کی شفاعت فرمائیں گے۔قارئین میں نہ تو کوئی بڑا اسکالر ہوں نہ ہی کوئی عالم اور نہ ہی کوئی بڑا رائیٹر میری اتنی اوقات کہاں کے آﷺ کی صفات بیان کر سکوں آپﷺ تو سردار دو عالم ہیں۔لیکن پھر بھی مجھ جیسا کوئی کم ظرف بھی آپﷺ کی حیات طیبہ پر روشنی ڈالے تو کئی کتابوں کا مجموعہ اکٹھا ہو جائے۔خیر اخبار میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے تھوڑا سا لکھا غلطی کوتاہی کو در گزر کیجئے گا۔قارئین ربیع الاول کا مہینہ ہے دنیا بھر میں آپﷺ کی ولادت کی خوشی منائی جا رہی ہے۔لوگ عقیدت میں گلیاں سجا رہے ہیں نیاز بانٹ رہے ہیں محفلیں منعقد کی جا رہی ہیں۔ہر طرف جشن کا سماں ہے اور ایسا سماں ہر سال ہوتا ہے ایسی خوشیاں ایسا سماں تا قیامت رہے گا۔کوئی اولی و اعلی ہمارا نبی پڑھ رہا ہے کوئی تیراکھاواں میں تیرے گیت گاواں جیسی نعتیں پڑھ رہا ہے۔ہر طرف رسولﷺ کی عقیدت میں خوشیاں منائی جارہی ہیں۔یہاں اہل اسلام سے گزارش ہے کہ اس بابرکت ربیع الاول میں ہم سب آپﷺ کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے کا عہد کریں۔قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونے کا عہد کریں۔اللہ کے رسول سے حقیقی محبت کا اظہار کریں۔نوافل ادا کریں۔اپنی غلطیوں کی معافی مانگیں۔ہمیشہ کے لئے رسولﷺ کے احکامات پر عمل کرنے کا عہد کریں۔بددیانتی بے ایمانی جھوٹ اور دوسرے برے کاموں کو ترک کرنے کا عہد کریں۔نماز پڑھنے کا عہد کریں زکواۃ دینے کا عہد کریں روزے رکھنے کا عہد کریں۔قرآن پڑھنے اور سمجھنے کا عہد کریں۔دینی و سیاسی انتشار کو ترک کرنے کا عہد کریں۔انصاف و عدل کو یقینی بنانے کا عہد کریں۔کرپشن کے خاتمے کا عہد کریں۔چوری ڈکیٹی و قتل و غارت کو ترک کرنے کا عہد کریں۔نیز تمام برے افعال کو ترک کرنے کا عہد کریں۔تمام اچھے کام کرنے کا وعدہ کریں۔اپنی زندگی کو اتباع رسول ﷺکے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔افسوس کہ ہمارے سب جذبے وقتی ثابت ہوتے ہیں۔ہر سال ہم محرم رمضان اور ربیع الاول جیسے بابرکت مہینوں میں بڑے جذبا تی ہو جاتے ہیں۔مگر ان کے گزرتے ہی سب جوش سب ولولے مانند پڑ جاتے ہیں اور پھر وہی گناہوں کوتاہیوں والی زندگی۔یا اللہ ہدایت عطا کر۔حقیقی عاشق رسول اور رسول کے احکامات پر عمل کرنے والے امتی بنا دے۔

Sunday, 4 December 2016

قرض مافیا



چوہدری ذوالقرنین ہندل۔ گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی


دنیا بھر میں قرض مافیا نے اپنی جڑیں مضبوط کر رکھی ہیں۔قرض مافیا نے ایسا نظام ایسے قوانین قرض بنا کر رائج کیے ہیں کہ غریب و مفلس اور سیدھے سادھے انسان کے لئے اس کی زد سے بچنا بڑا مشکل بلکہ ناممکن ہے۔قرض میں ظاہری فائدہ لوگوں کو متوجہ کر کے اس مافیا کے رائج قوانین کی زد میں لاتا ہے۔درحقیقت یہ ایک بڑا نقصان ہے۔اسلام میں بھی سود پر قرض سے منع فرمایا گیا ہے۔اسلامی سکالرز اس پر بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔قرض مافیا کی پالیسیاں درحقیقت سود پر منحصر ہوتی ہیں۔کرپشن ایک بنیادی مسئلہ ہے۔جیسے دوسری بدعنوانیاں کرپشن کے باعث جنم لیتی ہیں ایسے ہی کرپشن کی وجہ سے قرض مافیا یعنی سود پر قرض دینے و لینے والوں نے بازار گرم کر رکھا ہے۔کرپشن سے کسی ملک و معاشرے میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے جس کے باعث غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔غربت کی فضا میں منافع خور بنیے غریبوں کو انکی زمین و جائیداد کے کاغذات کے برعکس سود پر قرض دیتے ہیں۔جو قرض سود کی شکل میں ہر سال بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ غریب کی جائیداد بھی ایک دن اسی قرض کی تحویل میں آجاتی ہے۔برصغیر ہندوستان میں تقسیم سے پہلے یہ کام ہندو بنیے کرتے تھے ۔کیونکہ اسلام میں سود حرام ہے جسکی وجہ سے مسلمان ایسے کام پر لعنت بھیجتے تھے۔زمانہ گزرا تاریخ بدلی اور روایات تبدیل ہوگئیں رسم و رواج بدل گئے۔لوگ پڑھ لکھ گئے شعور آگیا۔مگر پڑھنے کے بعد بھی لوگ ان فرسودہ نظام و روائج سے پیجھے نہ ہٹ سکے بلکہ وقت نے ان پڑھے لکھے لوگوں کو اس سازشی اور ذاتی مفادات والے نظام کے پیروکار بنا دیا۔موجودہ دور میں ہم سمجھتے ہیں کہ پڑھ لکھ کر ہم آزاد ہوگئے ہیں۔مگر افسوس کہ کل تک جن کاموں کو ہم گناہ کبیرا سمجھتے تھے آج انہی کو کرتے ہمیں جھجھک بھی محسوس نہیں ہوتی۔در حقیقت ہم بنے بنائے رستوں پر چلنے کے عادی ہوچکے ہیں۔خود اپنے راستے بنانا نہیں جانتے۔یہ ہماری بھول ہے کہ ہم موجودہ دور میں مکمل آزاد ہیں۔درحقیقت ایک مکمل سازش کے تحت ہمیں غلام بنایا جا رہا ہے۔ہم اب پہلے کی نسبت زیادہ سازشوں کے تابع ہیں ۔ہم فالو کرتے۔کسی نہ کسی طرح ہم سازش کی تحویل میں ہیں۔نہ چاہتے ہوئے بھی سود جیسے ممنوع کاموں پر عمل پیرا ہیں۔خیر چھوڑئیے اس پر پھر کبھی تفصیل سے لکھوں گا۔ابھی قرض ماقیا کے بارے میں سنئے۔قرض مافیا ایک مکمل ٹیم ہوتی ہے۔اس میں قرض لینے اور دینے والے بااثر لوگ موجود ہوتے ہیں۔یہ بااثر لوگ کسی نہ کسی طرح اس کھیل اس نظام اور اس بزنس سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔قرض بھی غریب کو غریب تر اور امیر کو مزید امیر کرنے والا سودا ہوتا ہے۔ظاہری متوجہ کا حامل یہ سود پر قرض غریب کو بڑا حسین دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں اسکی تباہی کا سبب ہوتا ہے۔پاکستانی نظام میں بھی یہ قرض و سود سسٹم اپنی جڑیں گاڑھے ہوئے ہے۔بلکہ کئی سالوں سے اس کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔امیر کا جس کام میں فائدہ ہو اس کام کو پاکستان میں بڑی تقویت ملتی ہے۔اسی وجہ سے سود و قرض پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹ چکا ہے اور باقی ماندہ کو بھی چت کرنے کی تگ و دو میں ہے۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہونے کے باوجود بھی سود سے بچاؤ کے لئے کوئی حکمت عملی نہیں کر سکا۔دراصل اس قرض و سود میں حکومت کے رہنماؤں اور وزراء کا کسی نہ کسی طرح مفاد موجود ہے۔پاکستان میں وزراء سیاستدان امراء جاگیردار بزنس مین اور بیوروکریٹس سب قرض مافیا ٹیم کا حصہ ہیں۔سیاستدان و بیوروکریٹس بزنس مینز و امراء کو حکومتی خزانے سے قرض دلواتے ہیں اور پھر وہی قرض معاف کرواتے ہیں اور اسی طرح اپنا حصہ تقسیم کر کے مفاد میں۔اپنے مفادات میں ملکی نقصان کی بھی پروا نہیں کرتے۔انہی قرض مافیا کے حکومت پر قابض ہونے کی وجہ سے ہی ملک بیرونی قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔یہ لوگ ملکی دولت سے خود قرض لے کر معاف کروا لیتے ہیں۔اور دوسری طرف غریب کو با مشکل قرض مل بھی جائے تو قرض کی واپسی میں تاخیر پر انکی جائیداد ضبط کر لی جاتی ہے۔گزشتہ دنوں پارلیمانی کمیٹی نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان سے قرض معاف کروانے والوں کی تفصیل مانگی تو بنک نمائندے نے اسے قانون کے برعکس قرار دے کر تفصیل دینے سے انکار کر دیا۔یقین سے کہتا ہوں کہ اس تفصیل میں بڑے جاگیرداروں بڑے بزنس کے ٹائیکونوں بڑے سیاستدانوں اور بااثر لوگوں کے نام موجود ہوں گے۔جسکی وجہ سے یہ تفصیل پیش نہیں کی جا رہی۔اور یہ قرض مافیا کا پاکستان میں متحرک ہونے کا ثبوت ہے۔اور بااثر لوگوں کے ملوث ہونے کی نشانی ہے۔پاکستان میں سب قوانین سب ادارے غریبوں کے لئے ہوتے ہیں امیر پر اسکی پاسداری لازم نہیں ہوتی۔لیکن قرض معافی جیسے قوانین اور امدادی رقمیں صرف امیروں کے لئے ۔پاکستان میں جو دہرا معیار چلتا آرہا ہے وہ ہر گزرتے دن تقویت پکڑ رہا ہے۔جو ملکی ساکھ و سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔ 2015 میں270 ارب روپے کے قرض معاف کروائے گئے۔ایک بڑی رقم ہے۔جس دور میں ملک کے ہر فرد پر لاکھ سے زائد کا قرض موحود ہو اس دور میں اربوں کے قرض معاف کرنا اور پھر انکی تفصیلات بھی نہ دکھانا ایک مجرمانہ عمل ہے۔ماضی کی طرح عوام کو بے وقوف بنانے کی بجائے بتایا جائے کہ اربوں کا قرض کیوں اور کن کو معاف کیا جاتا ہے۔کیا یہ غریبوں کے لئے سبسڈی ہے؟یا پھر بدعنوانیوں کا کالا چٹھا ہے جسے دکھانے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ملک کے ہر ادارے کا احتساب ہی ملک کو بہتری پر گامزن کر سکتا ہے۔یہ وقت کی ضرورت ہے۔ قرض مافیا کی تفصیلات عوام تک بھی پہنچنی چاہئے اور انکا احتساب بھی ہونا چاہئے۔یہی وقت کی پکار ہے۔احتساب۔

Sunday, 30 October 2016

تلخ حقیقت


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو۔وائس آف سوسائٹی

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان بننے سے لے کر اب تک یعنی آزادی کے ستر سال بعد بھی پاکستان کرپشن سے آزاد نہ ہوسکا۔ملک کا ہر طبقہ کسی نہ کسی طرح کی کرپشن میں ملوث ہے۔بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا جس کا جہاں بس چلتا ہے وہ وہاں کرپشن کا کھیل ضرور کھیلتا ہے۔جیسے ہم انگریزی کا the جہاں موقع ملے لگا لیتے ہیں ایسے پنجابی کا دا بھی پاکستانی موقع دیکھ کر ضرور لگاتے ہیں۔دا بھی کرپشن کی ایک قسم ہے۔معزرت کے ساتھ کرپشن بھی ایک کھیل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے ۔بلکہ میرے نزدیک تو کرپشن ہمارا قومی کھیل بن چکا ہے۔جسے ہمارے لیڈران بڑے شوق سے کھیلتے ہیں۔ہمارے افسران بھی اس کھیل کے دل و جان سے متوالے ہیں۔بیوروکریٹ تو اس کھیل کے بکیے ہیں۔اس کھیل میں امپائر بھی ہیں ۔امپائر بعض اوقات کھیل کو محدود کر دیتے ہیں اور بعض اوقات لمبی اننگز چلنے دیتے ہیں۔پاکستان میں کرپشن کا کھیل ہر سطح پر کھیلا جاتا ہے۔وفاقی سطح پر صوبائی سطح پر اور لوکل سطح پر۔کھیل کے اصول میدان اور آلات سطح کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔جتنی چھوٹی سطح کا کھیل اتنا ہی چھوٹا اور جتنی ہی بڑی سطح کا کھیل اتنا ہی بڑا۔ہر کھیل کی طرح اس کھیل کے کھلاڑیوں کا بھی ایک منفرد اسٹیٹس ہوتا ہے۔کچھ ٹیکنیکل کھیل کھیلتے ہیں کچھ تجربہ کار ہوتے ہیں ۔اسی طرح چھوٹے بڑے کھلاڑی۔تجربہ کار بڑے کھلاڑی ہر حال میں سروائیو کر جاتے ہیں ۔چھوٹے کھلاڑی ہی پکڑ میں آتے ہیں۔اور کپتان کی مرضی سے ان آؤٹ ہوتے رہتے ہیں۔میرے نزدیک کرپشن معاشرے میں موجود برائیوں کی جڑ ہے۔کرپشن کی وجہ سے غربت و نا انصافی پیدا ہوتی ہے۔پھر چوری ڈکیتی قتل و غارت جیسی برائیاں جنم لیتی ہیں۔معاشرہ تباہی کی طرف چلا جاتا ہے۔ہوس و لالچ بھی کرپشن کی پیداوار ہیں۔کرپشن گزشتہ ستر سالوں سے ملک کو کھوکھلا کر رہی ہے۔کھوکھلا ہونے کی صورت میں ملک میں عدم استحکام پھیل رہا ہے۔بد امنی یے ایمانی زور پکڑ رہی ہے۔کرپشن کے بڑے کھلاڑی بڑے چالباز اور چالاک ہیں۔کسی بھی صورت میں قانون کی گرفت میں نہیں آتے کیونکہ قانون کو بھی کھیل کا حصہ بنا لیتے ہیں۔عدلیہ کی کمزوری تو گزشتہ کئی روز سے دیکھ رہا ہوں۔عدالتی احکامات کو حکومت ہوا میں اڑا دیتی ہے۔اپوزیشن بھی اپنی سیاست چمکانے اور اپنی باری کے لالچ میں عدالت کو مذاق سمجھتی ہے۔حکومت اپنا احتساب ہر حال میں ٹالنا چاہتی ہے کیوں کہ وہ ہے ہی کرپٹ۔اپوزیشن احتساب نہیں بلکہ احتساب کے نام پر اپنی سیاسی دکانداری چمکانا چاہتی ہے کیونکہ انہیں بھی بڑی کرسی پر بیٹھ کر بڑے کھیل کھیلنے کے خواب آتے ہیں۔گزستہ چند دنوں کی ملکی صورتحال سے حکومت اور اپوزیشن کی نیت اور مفاد کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔مگر کوئی ماننے کو تیار ہی نہیں کیونکہ سب اس سسٹم کا حصہ ہیں سب کے ذاتی مفادات اسی میں ہیں۔پاکستانی عوام کو کرپٹ عناصر ہمیشہ سے ہی بے وقوف بناتے رہے اور بنا رہے ہیں۔افسوس چھوٹے تین سال کے بچے کے قاتل حکومت اور اپوزیشن بچے کے قتل پر بھی دکانداری چمکا رہے ہیں۔بچے کے غریب اور بے بس باپ کی آواز کسی نے نہیں سنی جو کہہ رہا تھا یہ سب بڑے لوگ ہیں ہم غریب لوگ انہیں کیا کہہ سکتے ہیں۔کسی نہیں سوچا کے تین دن کے بچے کی ماں تو مفلوج ہی ہو گئی ہوگی۔یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ عرصہ دراز سے سیاسی لیڈران ہمیں استعمال کر رہے ہیں اور ہم ہو رہے ہیں۔یہ مفاد پرست کرپٹ اور کرسی کے لالچی عوام کو لڑوا کر خود پھر ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔افسوس کہ سرحدوں پر بھارتی اشتعال انگیزی جاری ہے۔کشمیری بے چارے بے بس ہماری راہ تک رہے ہیں۔سی پیک اور گوادر سولیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔بھارتی خفیہ ایجنسی راہ بلوچستان اور کراچی میں سازشوں میں مصرورف ہے۔اور ہماری حکومت اندرورنی معاملات کو نپٹانے کی بجائے مزید بگاڑ رہی ہے۔ہماری اپوزیشن ملکی سلامتی خطرے میں ڈال کر اپنی دکان داری چمکا رہی ہے۔سب اپنے مفادات اپنے دفاع کے لئے مصروف ہیں۔ملکی سلامتی اور ملکی دفاع کی کسی کو پرواہ نہیں۔پاک آرمی ہی اس وقت پاکستان کی خیر خواہ نظر آرہی ہے۔باقی عوام و حکمران اور باقی لیڈران آج کل تماشوں میں مصروف ہیں۔سب ڈرامے باز ہیں۔ملکی بہتری ان سب کا احتساب مانگتی ہے۔جب ہر عام و خاص احتساب سے گزرے گا تب ہی ملکی بہتری ممکن ہے۔ہمیں موجودہ حالات میں ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں الزام کی ذد میں آنے والے کو فوری معطل کیا جائے اور جس پر الزام ثابت ہوجائے اسے ہمیشہ کے لئے بین کیا جائے۔اور جس پر الزام ثابت نہ ہو اسے فوری بحال کیا جائے۔احتساب کا موسم تو ہے کاش سب کا احتساب ہوجائے۔ کاش سب کرپٹ اور لالچی سلاخوں کے پیچھے ہوں۔کاش اس وطن کی عوام میں شعور آ جائے۔کاش کوئی وطن کا رکھوالا لیڈر آجائے۔یہ سب باتیں ہم کاش میں ہی کہہ سکتے ہیں۔اور دعا کرسکتے ہیں اے ہمارے پالنے والے اس ملک کو سلامت رکھنا ۔اس ملک میں انصاف دلا دے یارب۔اس زرخیز زمین میں کوئی حضرت عمر! جیسا حکمران بنا دے یارب۔

Sunday, 23 October 2016

پنجابیوں کی پنجابی



چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی
میں پنجاب دا باسی آں
مینوں لکھنی پنجابی نہ آوے
میں پنجاب دا باسی آں
مینوں پڑھنی پنجابی نہ آوے
میں پنجاب دا باسی آں
مینوں پیور پنجابی نہ آوے
میں پنجاب دا باسی آں
کوئی اگلی نسل نوں سکھا جاوے
انتہائی افسوس سے میں بھی پنجاب کا ایک ایسا باسی ہوں جسے پنجابی بولنی تو آتی ہے مگر لکھنے اور پڑھنے میں غلطیاں ہزار کرتا ہوں۔شاید بولنے میں بھی غلطیاں ہوں۔میں بھی ایسا پنجابی ہوں جسے سکول میں پنجابی بولنے پر سزا کی وعید سنائی جاتی تھی۔میں بھی انہی پنجابیوں میں سے ایک پنجابی ہوں جس کی گریجوایشن مکمل ہونے کو ہے مگر اب تک پنجابی کا ایک بھی مضمون نہیں پڑھا۔کیوں کہ میں بھی باقی لوگوں کی طرح پنجاب کا پنجابی ہوں۔بعض اوقات مجھے بھی اپنے پنجاب کے پنجابیوں کی پنجابی سن کر ہنسی آ جاتی ہے کیوں کہ موصوف پنجابی میں بھی انگریزی اور ہندی بول رہے ہوتے ہیں اور ایسا کمبی نیشن تیار کرتے ہیں کہ پنجابی جاننے والے کی زبردستی ہنسی نکل جائے۔پنجابی دنیا کی دسویں بڑی زبان ہے۔سو ملین سے زائد لوگ پنجابی بولتے ہیں۔پنجابی زبان کی ابتدا برصغیر سے ہوئی۔برصغیر ہندوستان اور پاکستان بالخصوص پنجاب میں بسنے والے لوگوں کی زبان ہے پنجابی۔بہت مٹھری یعنی خوش اخلاق و متوجہ کرنے والے زبان ہے پنجابی۔صوفیوں اور ولیوں کی زبان ہے پنجابی۔پانچ دریاؤں سے سیراب ہونے والے سر سبز علاقہ کے مکینوں کی زبان ہے پنجابی۔امن کا پیغام ہے پنجابی۔علماء اور صوفیوں ولیوں نے پنجابی زبان میں ہی برصغیر میں اسلام کا امن و بھلائی کا پیغام پہنچایا۔ایسی زبان ہے پنجابی کے بہت سی زبانیں اس میں ضم ہوجائیں۔بہترین پرامن خوشحال کلچر کی پہچان ہے پنجابی۔بہت ہی دلکش اور آسان زبان ہے پنجابی۔ایسی زبان جسے پوری دنیا کے لوگ باآسانی سمجھ جاتے ہیں اور چند ہی دنوں میں سیکھ جاتے ہیں۔خطے میں امن و بھلائی و بھائی چارے کو فروغ دینے والی زبان ہے پنجابی۔ایسی زبان ہے پنجاب کہ دوسری زبان بولنے والے بھی اس کی مٹھاس میں میٹھے ہو جائیں۔پنجابی شاعری یقینی ہر کسی کے دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔دنیا بھر میں پنجابی بولنے والے موجود ہیں۔انڈیا اور پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے پنجابی۔کینیڈا میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے پنجابی۔صوفیوں اور ولیوں نے پنجابی کلام لکھ کر زبان پنجابی کو بہت زیادہ پرموٹ کیا۔بلکہ پنجابی کی مٹھاس کو ہمیشہ کے لئے میٹھا کر دیا۔قوم سکھ نے اس زبان کو اپنے تن من میں ہمیشہ کے لئے جذب کر لیا۔بعد ازاں بہت سے سکھ مسلمان ہوگئے۔مسلمانوں سکھوں عیسائیوں ہندؤں کی ایک بڑی تعداد پنجابی بولتی ہے۔برصغیر کی تقسیم سے پہلے ہی پنجابی زبان کو خطرات لاحق تھے۔تقسیم سے پہلے پنجابی دوسری زبانوں کو سیکھنے پر رضا مند نہ تھے۔انگریزوں کو اپنا بڑا دشمن تصور کرتے تھے۔پنجابیوں نے ہمیشہ انگریزوں کے خلاف کھل کر بغاوت کی۔ایک بہادر اور دلیر قوم کی زبان ہے پنجابی۔پنجابی شروع ہی سے ایک بہادر قوم تصور کی جاتی ہے۔تقسیم کے بعد انگریزی کلچر کے حامیوں نے دونوں ملکوں میں اپنے من پسند کلچر کو پھیلانے اور نمایاں بنانے کے لئے آہستہ آہستہ کام شروع کر دیا۔جو کچھ حد تک اپنے احداف پورے کرتے نظر آیا۔برصغیر کے کلچر اور باقی مقامی زبانوں پر اثر انداز ہوا۔بھارت میں موجود سکھوں کو اپنی ماں بولی زبان خطرے میں لرزتی نظر آئی تو بہت سے سکھوں نے اپنی ماں بولی زبان کی مضبوطی کے لئے اعلی سطح پر اقدامات اٹھائے اور ایسی حکمت عملی ترتیب دی کہ پنجابی تا قیامت لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے۔سکھوں نے دوسرے ملکوں میں جا کر پنجابی کو پرموٹ کیا۔جسکی مثال کینیڈا اور یوکے ہے۔دوسری طرف پاکستان میں موجود پنجابیوں کے پاؤں لڑکھڑاتے ہی نظر آئے۔مغربی کلچر اور زبان لوگوں کے دلوں میں ایسا بیٹھے کہ لوگ اپنی ماں بولی زبان پنجابی کو ہی نشانہ بنانے لگے۔پاکستانی پنجابی بجائے پنجابی کو پرموٹ کرنے کے ڈی پرموٹ کرتے رہے۔فلموں اور گانوں میں پنجابی کو غلط طریقوں سے پیش کیا گیا۔ہر فلم پنجابی زبان کے منہ پر طماچہ ہوتی۔دیکھتے ہی دیکھتے لوگ زبان پنجابی سے بد زن ہونے لگے۔نصاب میں پنجابی کی کتابوں کو ہمیشہ کے لئے غائب کر دیا۔پنجاب پڑھنے والوں کی تعداد کم وہونے لگی۔بڑے افسوس سے جن لوگوں نے اپنے ماں باپ سے پنجابی زبان کو ورثہ میں حاصل کیا۔وہی اپنے بچوں کو پنجابی بولنے سے منع کرنے لگے۔بلکہ طرح طرح کی پابندیاں لگانے لگے۔سکولوں اور کالجوں میں پنجابی بولنے والے سزا کے حقدار ٹھہرنے لگے۔ایک جامع پلان کے تحت مغرب پسند عناصر پنجابی اور پاکستان میں رہنے والے پنجابیوں کو اپنے منتخب کلچر اور زبان میں ضم کرنے لگے۔تاریخ گواہ ہے کہ سکھ پنجابیوں نے مغرب پسند عناصر کو اپنے رنگ میں رنگ دیا۔دوسری طرف پاکستانی پنجابی مغربی رنگوں میں رنگے گئے۔آج ملک بھر میں پنجابی زبان کو ایک جاہلوں والی زبان سمجھا جاتا ہے۔پنجاب میں بسنے والے ہر ماں باپ کی خواہش ہے کہ اسکے بچے پنجابی نہ بولیں بلکہ انگریزی سیکھیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجابی زبان زندہ رہے گی اور مزید پھلے پھولے گی۔مگر افسوس کہ تاریخ کے اوراق میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ پاکستان میں موجود پنجابی اپنی ماں بولی زبان پنجابی کو ختم کرنے کی کوششیں کرتے رہے۔کچھ پاکستان پنجاب کے پنجابی بھی اپنی ماں بولی زبان کی کم ہوتی ساکھ کو دوبارہ سے بحال کرنا چاہتے ہیں۔یہ اچھا قدم ہوگا مگر افسوس کہ ایسے کئی قدم پہلے بھی رک گئے شاید اب کے بار بھی یہ قدم کچھ میٹنگز کے بعد رک جائیں۔ایسی کوششوں پر بہت پہلے ہی عملدرآمد ضروری تھا۔اگرکوئی دوبارہ قدم اٹھا رہا ہے تو سچے پنجابیوں کو اسکا ساتھ دینا ہوگا اورتب تک کوششیں جاری رکھنی چاہئیں جب تک میٹرک تک پنجاب میں پنجابی کو لازمی مضمون نہ قرار دیا جائے۔نصاب میں پنجابی زبان کی واپسی ہی پنجاب میں پنجابی کی مضبوطی ثابت ہوگا۔میرا اور دوسرے پنجابی یھائیوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ پنجابی کو لازمی مضمون کے تور پر نصاب میں شامل کیا جائے۔ساڈا حق ایتھے رکھ۔