Sunday, 1 May 2016

Baldyati Idary Gumshuda



بلدیاتی ادارے گمشدہ
چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔۹۶۲۲۵۶۴۲۴۳۰
قارئین آپ جانتے ہیں کہ بلدیاتی الیکشنز کروانے کے لئے اپوزیشن جماعتوں نے کتنی کوششیں کیں صوبائی حکومتیں ہر گز نہ چاہتی تھیں کہ مقامی حکومتیں بنیں اور اقتدار لوکل سطح پر منتقل ہو۔یعنی اپنے وزراء اور ایم پی ایز کو خوش رکھنا ہی بس ان کی منشاء تھی۔مگر عدالت سپریم کورٹ آف پاکستان نے بہت کوشش و ہمت اور سوچ کے بعد بلدیاتی الیکشنز کروانے کا حکم جاری کیا۔حکومتیں ٹال مٹول سے کام کرتی رہیں مگر اپوزیشن جماعتوں نے عوام کی طاقت کا سہارا لیتے ہوئے حکومتوں کو بلدیاتی انتخابات کروانے پر مجبور کیا۔جی آخر کار قسطوں میں بلدیاتی انتخابات ہوئے۔اسی دوران الیکشن کمیشن لاچار نظر آیا۔قتل و غارت اسلحے کا استعمال اور سر عام روپے اور اسلحے کی نمائش اور ایسے ہی متعدد واقعات نظر آئے۔ کوئی دھاندلی کرتا نظر آیا اور کسی کو ووٹ نہ دینے پر کڑی سزائیں سہنی پڑیں۔کئی ہستے بستے گھر اجڑ گئے۔بہت ساری پرانی دشمنیاں دوبارہ تازہ ہوئیں۔بہت سی نئی دشمنیوں نے جنم لیا۔بہت سی رشتہ داریوں میں دراڑیں پڑیں۔ان سب کے بتانے کا مقصد ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہیں۔ہمارے حکمران اور ادارے نااہل اور کرپٹ ہیں۔انتخابات مکمل ہوئے جیسے صوبائی حکومتیں چاہتی تھیں ویسے ہی ہوا بھاری اکثریت سے صوبائی حکومتوں کے اپنے ہی نمائندے منتخب ہوئے۔ بڑی بڑی دعوتیں جیت کی خوشیوں میں اڑائی گئیں۔جیت کی خوشیوں میں فائرنگ اور رقص کی محفلیں سجائی گئیں۔بلدیاتی انتخابات میں دوبارہ پرانا عکس نظر آیا وہی نمائندے وہی نظام۔قارئین بلدیاتی ادارے وہ ادارے ہیں جو کسی سیاستدان کے لئے بنیاد ہوتے ہیں۔یعنی کے سیاست کی پہلی سیڑھی۔جہاں بار بار پرانے لوگ بلا مقابلہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر جیت جاتے ہیں وہیں بلدیاتی انتخابات میں کچھ نئے چہرے بھی سامنے آئے اور منتخب ہوئے۔جو لوگوں کی نئی امید ہیں۔بلدیاتی انتخابات کروانے کا مقصد اقتدار کو لوکل سطح پر منتقل کرنا تا کہ مقامی لوگ اپنے مقامی نمائندے سے اپنے مسائل حل کروا سکیں۔مگر گزشتہ بلدیاتی نمائندوں نے بھی ایم این ایز اور ایم پی ایز کی طرح لوٹ مار کا بازار گرم رکھا جس سے لوگوں کا اعتبار ہی سیاست دانوں سے اٹھ گیا۔میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ کم از کم حلف کی ہی پاسداری کر لیا کریں۔خیر چھوڑیں یہ سب لکھنے کا مقصد تھا کہ تھوڑا بلدیاتی انتخابات کا عکس دکھاؤں۔اب میں اپنے عنوان پر آتا ہوں ’’بلدیاتی ادارے گمشدہ‘‘۔قارئین کیسا لگے گا اگر آپ نے اپنی پسند کے مطابق شادی کے لئے ساری مشکلات جھیلنے کے بعد آخر کار سب کو رضا مند کرلیا اور اس کے بعدمہندی کی رات بھی خوب شور شرابا کیا۔صبح نکاح کے لئے شیروانی بھی تیار ہو۔شادی کی ساری خریداری بھی کی ہو۔ اور عین مقررہ وقت پر آپ بارات لے کر لڑکی والوں کے پاس پہنچے ہوں اور کسی وجہ سے یا بغیر کسی وجہ سے لڑکی والے انکار کر دیں تو سوچیں ہونے والے دلہے پر کیا قیامت گزرے گی یقین سے کسی کے لئے بھی اچھا نہیں ہو گا۔ لیکن ایسا ہوا۔افسوس کہ ہمارے بلدیاتی نمائندے جو منتخب ہو چکے جنہوں نے اپنے جیتنے کی خوشی میں بہت دھوم دھام سے دعوتیں اڑائیں ہلا گلا کیا۔حلف برداری کی تقریب بھی ہو چکی ہو۔مگر افسوس کے اختیارات نہ ملے ہوں۔ ایسا ہوا اور سارے بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ ہوا۔ بے چارے اس دلہے کی مانند ہی ہیں سارے انتظامات جیت و جشن کے بعد بھی اپنا عہدہ سیٹ اور اختیارات حاصل نہ کرسکے۔وہ وعدے جو انہوں نے عوام کے ساتھ کئے تھے وہ ان کو سونے نہیں دیتے ہوں گے۔اور جو شوق سے یا برادری میں مقام بڑھانے کے لئے آگے آئے ان کو بھی یہ جیت مہنگی پڑی۔قارئین پنجاب اور سندھ میں تو سٹی تحصیل اور ضلعی حکومتوں کے الیکشن بھی نہیں ہوئے بس گورنمنٹ آج کل کے دلاسے دے رہی ہے اور جہاں تک میرا خیال ہے اب جن سیٹوں کے الیکشن رہ گئے نہیں ہوں گے کیوں کہ ایسا کوئی آثار نظر نہیں آتا۔بلدیاتی نمائندوں کے بارے میں بتا دوں جن میں سے بہت سے ایسے ہیں جو قرض تلے دب کر الیکشنز جیتے مگر اپنا مقام حاصل نہیں کر سکے۔میں سوچ کر حیران ہوتا ہوں کہ صوبائی حکومتوں کے اپنے ہی نمائندے اکثریت میں ہیں۔مگر پھر بھی اختیارات نہیں دیے جا رہے۔کیا ایسے میں ان کے نمائندے باغی نہیں ہو جائیں گے؟۔یا پھر انہیں چپ کی گولی دی جا چکی ہے؟۔یا فکسنگ ہو گئی ہے؟ کہ نمائندوں کو آخر میں دولت سے نوازا جائے گا۔اختیارات نمائندوں کو نہ سونپنے کا مقصد کیا ہے؟۔ کیا حکومتوں کے پاس مزید رقم نہیں کہ بلدیاتی اداروں کو فعال بنا سکیں ؟اگر ایسا ہے تو کیا وہ رقم ایم پی ایز کو نوازی گئی؟۔یا پھر صوبائی حکومتوں نے مقامی حکومتوں کے بارے میں کچھ سوچا ہی نہیں؟۔اصل فیکٹر کیا ہے عوام جاننا چاہتی ہے؟ اور جس کا جواب دینا حکومتوں پر لازم ہے؟ ۔آخر کار اتنا زیادہ روپیہ خرچ کروا کر الیکشنز کروائے گئے۔حکومتی خزانہ وامیدواروں کا خزانہ خرچ ہوا۔کیا یہ صرف نامی کلامی انتخابات تھے اس کا مقصد صرف اور صرف لوگوں کو ذلیل کرنا ہی تھا۔کدھر ہیں بلدیاتی ادارے نظر کیوں نہیں آتے؟۔کیا آپ کے چہیتے افسرز آپکے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ساتھ مل کر یونین کونسلز ٹاؤن میونسپل اور ضلعی ہالز پر قابض ہیں؟ یا سب کچھ بیچ کر کھا چکے ہیں؟۔بلدیاتی اداروں کو فعال بنانے میں رکاوٹ کیا ہے؟۔خدارا اگر قوم کا پیسا خرچ کیا ہے انتخابات پر تو بلدیاتی ادارے بھی فعال کریں۔یوں خود ہی نہ مقامی حکومتوں کے اختیارات بھی استعمال کریں۔قوم کو بے وقوف بنانا چھوڑ دیں اور اللہ تعالی سے ڈریں اور معافی مانگیں۔ورنہ جگہ جگہ یہ ہی لکھا ہوا دیکھیں گے’’ بلدیاتی ادارے گمشدہ‘‘۔اور آپ کے اپنے نمائندے ہی آپ سے بغاوت پر اتر آئیں گے۔