ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم!
چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہمجیسا کہ آپ سب جانتے ہیں ہم اپنے سب سے بڑے خدمت گزار سے محروم ہو گئے۔ایسے انسانیت کی خدمت کرنے والے بہت کم ہی ہوتے ہیں جنکی کی کمی انکے جانے کے بعدکبھی ختم نہیں ہو سکتی۔قوم کی مسیحائی کرنے والے بلکہ انسانیت کی مسیحائی کرنے والے عبدالستار ایدھی کراچی آئی ایس ٹی یو میں دوران علاج انتقال کرگئے۔دنیا ایک مسیحا سے محروم ہو گئی۔عبدالستار ایدھی کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ایدھی ویلج میں گزشتہ روز سپرد خاک کر دیا گیا۔مرحوم کی نماز جنازہ میں سیاسی سرکاری و عسکری قیادتوں کے ساتھ ساتھ بہت سے نامور وعام لوگوں نے شرکت کی۔بہت بڑا جنازہ تھا۔عبدالستار ایدھی قوم کے لئے عطیہ خداوندی تھے۔انسانوں کی خدمت کے لئے انہوں نے جو میدان منتخب کیا عمر بھر اس میں مصروف عمل رہے۔انسانی خدمت کا روشن ستارہ غروب ہو گیا۔ایدھی ویلج میں انہیں انکی وصیت کے مطابق اس لباس میں دفن کیا گیا جو انہوں نے پہن رکھا تھا۔عظیم شخص جاتے جاتے بھی دو انسانوں کی زندگی کو منور کر گیا۔انکی وصیت کے مطابق انکی آنکھیں عطیہ کی گئیں جو دو مختلف اندھے لوگوں کو لگا دی گئیں۔ہم سب کے ایدھی نے زندگی کا سفر بے سرو سامانی کے عالم میں شروع کیا۔اپنی ماں سے بہت کچھ سیکھا ۔ماں کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ماں کے آخری ایام میں انکی خوب خدمت کی۔ایدھی صاحب کا کہنا ہے کہ جب ماں کو ہسپتال لے جانا چاہتے تھے تو ایمبولینس میسر نہ ہونے پر وہ رکشہ میں بڑی مشکل سے لے کر جاتے اسی لئے انکے دل میں بے لوث خدمت کا جذبہ بڑا اور ایمبولینس سروس جیسا کارنامہ بھی انجام دیا۔تاکہ کسی کو ایسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔۱۵۹۱ میں ایک چھوٹی سی ڈسپینسری شروع کی۔ہر وقت ڈسپینسری پر بیٹھے رہتے تاکہ کسی کو جب بھی ضرورت پڑے وہ حاضر رہیں۔کبھی بھی مشکل آتی ایدھی صاحب سب سے آگے نظر آتے۔انکے خدمت کے جذبے نے لوگوں کے دل جیت لئے اور لوگوں نے آنکھیں بند کر کے انکا بھروسا کرنا شروع کردیا۔پھر انہوں نے ایدھی فاؤنڈیشن شروع کی ایدھی فاؤنڈیشن وقت کے ساتھ ساتھ اتنی ترقی کر گئی کہ اب پاکستان سے باہر بھی دنیا کے کئی ملکوں میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ملک بھر میں انکی بارہ سو ایمبولینس کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس دو جہاز ہیلی کاپٹر اور سپیڈ بوٹ ہیں۔پاکستان بھر میں تین سو مراکز اور سترہ شیلٹر ہوم بنائے۔انکی بیماری کے دوران حکومت سندھ نے انکا علاج بیرون ملک کرانے کی خواہش ظاہر کی مگر انہوں نے کہا وہ پاکستان سے ہی علاج کروائیں گے حکومت انہیں کراچی میں قبرستان کے لئے جگہ دے دیں۔عبدالستار ایدھی ایک ایسی عظیم ہستی تھے کہ میں بیاں نہیں کر سکتا۔انکے بارے بہت سے بڑے لکھاریوں نے لکھا۔لڑکپن بلکہ بچپن ہی سے وہ خدمت کا جذبہ رکھتے تھے۔انکی خدمات دنیا کی تاریخ میں نا قابل فراموش ہیں۔جتنی انکے لئے عزت ملک پاکستان کے لوگوں کے دلوں میں ہے شاید ہی کسی اور شخصیت کے لئے ایسی عزت ہو۔وہ بے لوث خدمت کرنے والے شخص تھے۔ایدھی فاؤنڈیشن کا کروڑوں کا بجٹ ہوتا مگر ایدھی صاحب کے لئے ان میں سے ایک روپیہ بھی حرام تھا۔بہت سادہ سی زندگی گزاری ہمیشہ ایک ہی جوڑے میں نظر آتے۔دو جوڑوں سے زیادہ کپڑے نہ رکھتے ۔ٹوٹے ہوئے جوتے پہن لیتے۔ساری زندگی دو جوڑوں اور ایک چپل میں گزار دی۔پوری انسانیت کے مسیحا تھے کبھی زندگی میں اپنا فائدہ نہ سوچا بلکہ لوگوں کی بھلائی کے لئے کام کیا۔بہت سے بے سہاروں کو سہارا دیا۔بہت سی بے آسرا میتوں کو غسل دیا کفن دیا اور پھر ایدھی ویلج میں اپنے ہاتھوں سے تدفین کی۔کبھی کسی کام میں عار محسوس نہ کی خود میت کو غسل دیتے اور دفن کرتے۔بے آسراء بچوں کا آسراء تھے۔یتیموں کے وارث تھے۔انہوں نے اپنی ساری زندگی انسانیت کی خدمت میں وقف کر دی۔انکے نزدیک رنگ نسل ذات پات مذہب کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ سب کے مسیحا تھے۔نمازی اور تہجد گزار بھی تھے۔اپنی زندگی میں کبھی خدمت سے ہٹ کر کبھی کوئی کا م نہ کیا۔اپنی دنیا کو وقف کر کے اپنی آخرت سنوار لی۔ایدھی صاحب متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات حاصل کر چکے ہیں جنکے باوجود وہ سادہ لوح انسان تھے۔ان اعزازات کی تفصیل درج ذیل ہے۔بین الاقوامی اعزازات۔۔۶۸۹۱ میں عوامی خدمات میں رامون مگسیے اعزاز۔۸۸۹۱ میں لینن امن انعام۔۲۹۹۱ میں پال ہیرس میلوروٹری انٹرنیشنل فاؤنڈیشن۔دنیا کی سب بڑی ایمبولینس سروس گنیز بک ورلڈ ریکارڈ ۰۰۰۲۔ہمدان اعزاز برائے عمومی طبی خدمات ۰۰۰۲۔بین الاقوامی بلزان اعزاز ۰۰۰۲ برائے انسنیت وامن بھائی چارہ۔اطالیہ انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگری ۶۰۰۲۔یونیسکو مدنجیت سنگھ اعزاز ۹۰۰۲۔احمدیہ مسلم امن اعزاز ۰۱۰۲۔قومی اعزازات۔۔کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی طرف سے سلور جوبلی شیلڈ ۲۶۹۱۔۷۸۹۱۔حکومت سندھ کی جانب سے سماجی خدمتگزار برائے برصغیر کا اعزاز۔۹۸۹۱ نشان امتیاز پاکستان کا ایک اعلی اعزاز۔ حکومت پاکستان کے محکمہ صحت اور سماجی بہبود آبادی کی جانب سے بہترین خدمات کا اعزاز۹۸۹۱۔پاکستان سوک سوسائٹی کی جانب سے پاکستان سوک اعزاز ۲۹۹۱۔پاک فوج کی جانب سے اعزازی شیلڈ۔پاکستان اکیڈمی آف میڈیکل سائسنز کی جانب سے اعزاز خدمت۔پاکستان حقوق معاشرہ کی طرف سے انسانی حقوق اعزاز۔مارچ ۵۰۰۲ عالمی میمن تنظیم کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ اعزاز۔ایدھی صاحب کی خدمات ان اعزازات سے کہیں بڑھ کر ہیں نوبل پرائز ایدھی صاحب کو چاہے دیں یا نہ دیں لیکن اللہ کے حضور انشائاللہ انہیں نوبل انعام ضرور ملے گا اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین۔الوداع خادم اعظم پاکستانچلے جائیں گے ہم تو ہمیں یاد کرو گےڈھونڈنے کو پھر ہمیں سر بازار پھرو گے
محمود خاں اچکزئی اور افغان مہاجرین
چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہوہ جو کہتے ہیں نا پہلے تولو پھر بولو بالکل درست کہتے ہیں۔انسان کو اپنی زبان کا درست استعمال کرنا چاہیے۔اسی زبان سے دنیا میں بہت کچھ ہوا اور ہو رہا ہے۔اگر زبان احتیاط سے استعمال کی جائے تو انسان مفاد کے ساتھ ساتھ معتبر بھی نظر آتا ہے۔اگر بے احتیاطی سے بغیر سوچے سمجھے استعمال کی جائے تو انسان خسارے کے ساتھ ساتھ جاہل بھی سمجھا جاتا ہے۔کہتے ہیں کم بولنا عقلمندی ہے بالکل درست کہتے ہیں۔انسان اپنی زبان سے پوری دنیا میں دوست بھی بنا سکتا ہے اور دشمن بھی۔خیر چھوڑئیے ہمارے ہاں تو اکثر لوگوں کی زبان پھسلتی رہتی ہے اور وہ بھی ملکی مفاد کے بر عکس اسے زبان پھسلن سے منصوب کرنا چاہیے یا پھر ملکی دشمنی سے؟گزشتہ دنوں ایسا ہی ایک متنازع بیان پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا سامنے آیا۔جناب نے افغان اخبار افغانستان ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پی کے افغانوں کا ہے اور افغان مہاجرین وہاں جب تک چاہیں رہ سکتے ہیں۔افغان مہاجرین کو اگر کسی دوسرے صوبے میں مشکلات ہوں تو وہ خیبر پی کے آکر بلا خوف و خطر رہ سکتے ہیں یہاں ان سے کوئی بھی پناہ گزین کارڈ نہیں مانگ گا۔کیونکہ یہ افغانوں کا علاقہ ہے۔پاک افغان سرحدی تنازع پر اچکزئی نے کہا کہ بہتر ہے کہ پاکستان اور افغانستان آپس میں مل کر معاملات کو حل کر لیں ورنہ امریکہ اور چین معاملات طے کر لیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود تمام پشتون بھی ایسے حالات پر افسردہ ہیں۔بعد ازاں جب انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے کہا کہ ان کے بیان کو توڑ مڑوڑ کر پیش کیا گیا۔اور ایک نئی بحث شروع کروا دی ۔کہا کہ میں نے صرف یہ کہاہے کہ خیبر پی کے کبھی افغانستان کا حصہ تھا۔محمود خان اچکزئی کے ایسے بیانات نے پاکستان میں کھلبلی مچا دی خیبر پی کے حکومت اور عوام نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسے بیانات دیتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔خیبر پی کے صرف پاکستان کا ہے۔اور اس کے بغیر پاکستان کو مکمل تصور کیا ہی نہیں جا سکتا۔۷۴۹۱ کے ریفرینڈم میں خیبر پی کے کے لوگوں نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا نہ کہ افغانستان کے حق میں۔پھر ایک پاکستانی قومی اسمبلی کے رکن کی طرف سے ایسے بیانات آنا باعث تشویش ہے۔انہوں نے تو سیدھا سیدھا پاکستان میں سے ایک صوبے کو کاٹ ہی دیا اور افغانیوں سے منصوب کرنے کی کوشش کی ایسے میں انہیں غدار کہنا ہی بہتر ہے۔موصوف متعدد بار قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں اور موجودہ رکن بھی ہیں موصوف کے بھائی بلوچستان کے گورنر اور رشتے دار وزیر بھی ہیں۔جناب نے ایسا کام کیا کہ جس پلیٹ میں کھایا اسی میں چھید کرنے کی کوشش کی موصوف نے رکن اسمبلی بنتے ہوئے حلف اٹھایا تھا کہ وہ ملکی بقاء و سلامتی کا خیال رکھیں گے۔ مگر انہوں نے اپنے حلف کی پاسداری نہیں کی اور ملکی بقاء کو ڈبونے کی کوشش کی۔جناب کہتے ہیں جی کہ خیبر پی کے افغانیوں کا ہے اور انہیں یہاں سے کوئی نکال نہیں سکتا۔شاید انہیں یاد نہیں کہ پاکستان نے انہیں افغان مہاجرین کو پینتیس سال سینے سے لگا کر رکھا افغانیو کو آزادانہ زندگی بسر کرنے دی یہاں افغانیوں نے کاروبار کئے اور بہت سے کاموں میں شرکت کی افغانیو کو مختلف فورمز پر جابز دی گئیں۔اور اگر اتنی زیادہ خدمت کے باوجود پاکستان انہیں اپنے وطن کو جانے کا کہے تو پاکستان برا۔شاید اچکزئی کو یاد نہیں جب ہندوستان میں انگریزوں کا قبضہ تھا تو مسلمانوں پر ظلم و ستم کئے جاتے تھے ۔مسلمانوں کا ایک گروہ گزشتہ وقت کے افغان حاکموں سے رابطے کے بعد اس نیت سے افغانستان کی طرف ہجرت کر کے گیا کہ وہ مسلمانوں کا علاقہ ہے ہمیں کچھ دیر یا عرصہ رہنے دیں گے مگر افغانیوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو بارڈر پر روکے رکھا اور اندر جانے کی اجازت نہ دی وہ مسلمان جو اپنا سب کچھ بیچ باچ کر گئے تھے وہیں بھوک پیاس سے مرنے لگے مگر افغانیوں کو رحم نہ آیا۔مگر پاکستان نے دنیا کی تاریخ کے سب سے زیادہ پناہ گزینوں کو اس لئے گلے لگایا کہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں۔آج اگرچہ انہیں بھائیوں کی وجہ سے ملک میں دہشتگردی پھیل چکی ہے۔آج وطن پاکستان مشکلات کا شکار ہے تو افغانیوں کو چاہیے کہ جلد از جلد افغان مہاجرین کو اپنے وطن منتقل کریں۔یوں بار بار وقت کی توسیع مانگ کر معاملات کو لٹکانے کی نہیں بلکہ فوری حل کرنے کی کوشش کریں۔اور اچکزئی کو پاکستان کا غدار کہنا مناسب ہے شاید اچکزئی کو پاکستانی کی تعریف کا نہیں پتا۔پاکستانی وہ ہوتا ہے جو ہر لحاظ سے اپنے ملک کی حفاظت کرے کسی بھی طریقے سے وطن کو ٹھیس نہ پہنچائے بلکہ اس کے قول فعل سے پاکستان کے لئے محبت جھلکتی ہو۔اچکزئی سے بہتر وہ محب وطن سکھ عیسائی اور ہندو ہیں جو کہتے ہیں ہمارا پیارا پاکستان اس پے جان بھی قربان۔ایسے بیانات کو نپٹنے کے لئے کوئی قانون ہونا چاہئیے۔بلکہ حکومت کو اچکزئی کے بیان پر ایکشن لیتے ہوئے انکی رکنیت قومی اسمبلی ختم کرنی چاہئیے بلکہ انہیں پاکستان سے چلتا کرنا چاہئیے تا کہ آئیندہ کوئی پاکستانیوں کو ٹھیس نہ پہنچائے۔اچکزئی جو کہ ملکی معاملات میں اگلی صفحوں میں نظر آتے ہیں انکی طرف سے ایسا بیان قابل مذمت ہے بلکہ اسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔سلطان جی کچھ تو یہاں کیجئےغداروں کو بھی کوئی سزا دیجئے
برطانوی ریفرینڈمچوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہچوبیس جون بروز جمعہ برطانیہ میں ہونے والے ریفرینڈم نے برطانوی حکومت سمیت پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔سب تجزیے سب اندازے غلط ثابت کر دیے۔ریفرینڈم کے نتائج آنے کے بعد دنیا حیران رہ گئی کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔جی ہاں ہو سکتا ہے برطانوی عوام نے ثابت کر دیا۔قارئین آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ ریفرینڈم برطانیہ کا یورپی یونین کا رکن رہنے یا نہ رہنے پر کروایا گیا۔حکومت یہ ریفرینڈم چاہتی تو نہیں تھی۔مگر مخالفین نے ریفرینڈم کے لئے خوب تحریک چلائی۔حکومت نے تنگ آ کر سوچا کہ ریفرینڈم کروا کر ان سے جان چھڑوا لیں برطانوی حکومت ی یہ سمجھتی تھی کہ برطانوی عوام یورپی یونین کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دے گی۔مگر مخالفین لوگوں کے دلوں میں علیحدگی کے تاثزات ڈالنے میں کامیاب ہو گئے۔مجھ سمیت بہت سے لوگ مختلف نیوز چینلز پر دیکھ رہے تھے کہ تجزیہ کار اپنی رائے میں کہہ رہے ہیں کہ برطانوی عوام یورپی یونین کے ساتھ رہنے کو ترجیح دے گی۔جب بتایاگیا کہ باون فیصدلوگ یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ دیں گے اور اڑتالیس فیصد علیحدگی کے لئے۔تب عوام اور ریفرینڈم پر نظر رکھنے والوں کو مقابلہ ٹف لگا۔پھر بھی لوگ سمجھتے تھے علیحدگی مشکل ہے۔مگر جب نتائج آئے توفیصلہ اس کے برعکس ہوا۔سب اعداد و شمار الٹ ہو گئے۔باون فیصد علیحدگی اور اڑتالیس فیصد ساتھ رہنے والوں کے ووٹ نکلے۔یوں برطانوی حکومت یورپی یونین پورے یورپ سمیت بہت سے لوگوں کے اوسان خطا ہو گئے۔برطانیہ نے تینتالیس سال بعد یورپی اتحاد کی سب سے بڑی اور اہم تنظیم یورپی یونین سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔لندن سکاٹ لینڈ اور شمالی آئر لینڈ کے لوگوں نے یونین کے حق میں جبکہ مشرقی انگلینڈ ویلز اور مڈلینڈ کے لوگوں نے یونین سے علیحدگی کے لئے ووٹ دیئے۔مختلف پارٹیز بھی بھٹی ہوئی نظر آئیں۔اس کے ساتھ ہی یونین کے حامی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ عوامی رائے کی قدر کرتے ہیں اور اب ایک نئی قیادت میں ہی یونین سے بات چیت کا آغاز ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ علیحدگی کے معاملات انجام نہیں دے پائیں گے اکتوبر تک نیا وزیر اعظم چن لیں۔بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ کیمرون نے مستعفی ہو کر اچھا فیصلہ کیا ۔کیونکہ اپنے نظریات کے برعکس چلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔علیحد گی کی وجوہات بہت سی ہیں چند قابل زکر ہیں۔حکومتی مخالفین نے یا یہ کہنا بجا ہوگا یونین کے مخالفین نے اپنی کمپین خوب چلائی اور اس میں کامیابی حاصل کی۔وہ لوگوں کویہ سمجھانے میں کامیاب ہو گئے کہ برطانیہ علیحدہ ہو کر زیادہ بہتر طریقے سے ترقی کر سکتا ہے اور پوری دنیا سے اچھے تعلقات استوار کر سکتا ہے۔اکثر بوڑھے و پرانے برٹش لوگوں نے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا۔ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ رقم کی ایک بڑی مقدار فنڈز کی مد میں یونین کو دیتا ہے وہی رقم علیحدگی کے بعد اپنے اوپر خرچ کر سکے گا۔باہر سے یورپین لوگ برطانیہ میں کاروبار پر براجمان ہیں۔برطانیہ کے لوگ اپنی ایک آزادانہ ریاست چاہتے ہیںیورپین مداخلت سے پاک۔پرانے برطانوی لوگ خوف کا شکار تھے وہ سمجھتے تھے کہ یونین کے ساتھ رہ کر وہ نقصان میں ہیں وہ علیحدگی میں ہی فائدہ سمجھتے ہیں۔مگر تجزیہ کاروں نے کہا کہ سب کچھ اس کے برعکس ہوگا۔برطانیہ اب مشکلات سے دو چار ہوگا۔اس ریفرینڈم کے نتیجے میں پاؤنڈ ڈالر کے مقابلے اکتیس سال کی کم ترین سطح پر آگیا۔تیل کی قیمتیں گر گئیں ۔سونے کے بھاؤ چڑھ گئے۔بعض تجزیہ کاروں نے تو سلطنت برطانیہ کے ٹکڑے ہونے کا خطرہ ظاہر کیا۔کیونکہ سکاٹ لینڈ جہاں علیحدگی کی پہلے ہی سے مضبوط تحریک موجود تھی ایک بار پھر آزادی کی کوشش کر سکتے ہیں اور ایسا ہی شمالی آئر لینڈ والے بھی کر سکتے ہیں۔ریفرینڈم کا رزلٹ آ گیا ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ برطانیہ آج ہی یورپی یونین سے الگ ہوگیا ۔ابھی مکمل علیحدگی میں دو سال بعض کے نزدیک سات سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔مالی و افرادی معاملات کو نپٹانے میں کافی عرصہ لگے گا۔برطانوی ریفرینڈم نے ثابت کر دیا ہے کہ برطانیہ جمہوریت کی ماں ہے۔بلا شبہ عوام نے اس لئے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا کہ اپنے ملک کی قسمت بدلی جا سکے۔جو ہمارے لئے ایک مشعل راہ ہے۔ہر کام کے دو پہلو ہوتے ہیں اور برطانیہ کے یونین سے علیحدگی کے بھی دو پہلو ہیں۔یا تو بڑی مشکلات کا شکار ہو جائیں گے یا پھر اپنی ہمت و کوشش سے دنیا میں ایک نئے ولولے اورنئی سوچ کے ساتھ ابھریں گے۔اگر برطانیہ محنت و ازم سے کام لے تو یورپ سے بہت آگے نکل سکتا ہے۔اگر اسی دوران زرا سی بھی ہٹ دھرمی دکھائی تو یورپ سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔برطانوی ریفرینڈم بلا شبہ دنیا کی تاریخ کا ایک بڑا ریفرینڈم ہے۔جس نے ایک نئی روایت کو جنم دیا ہے اس سے پہلے کوئی بھی وطن کسی تنظیم سے باہر نہیں نکلا بلکہ مختلف ملکوں کی کوشش ہوتی ہے کہ مختلف تنظیموں کا حصہ بننے ۔مگر برطانیہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ان کا حصہ بنے بغیر بھی نمبر ون بنا جا سکتا ہے۔

یہ ہو کیا رہا ہے ؟
چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہیہ ہو کیا رہا ہے تماشا تیرے دیس میںہیں سب یہ جانتے مگر کوئی مانتا نہیںموجودہ پاکستان میں بہت سے فلاسفر موجود ہیں۔آپ کو جگہ جگہ فلاسفر ملیں گے۔سب کا اپنا اپنا فلسفہ ہوگا۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے زیادہ فلاسفروں کی وجہ سے ایسے حالات میں مبتلاء ہے۔یہ فلاسفر کوئی آج سے تو نہیں کافی عرصے سے چلے آرہے ہیں۔کچھ ان فلاسفروں کو جگت باز جیسا عظیم نام دیتے ہیں۔اور ایسے فلاسفروں( جگت بازوں) میں شامل ہمارے سیاستدان بھی ہیں۔کچھ فلاسفر ملکی پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں اور کچھ مخالفت کی پالیسیاں۔جگت بازی ہمارا قومی کھیل بن چکا ہے۔ہم میدان کے کھلاڑی نہیں رہے۔ہم بس باتوں کے تیر چلاتے ہیں۔کھیل کھیلنے کی صلاحیت اب ہمارے اندر موجود نہیں۔ہم ادھر اپنی جگتوں میں مصروف ہوتے ہیں اور ادھر لوگ ہمارے خلاف چالیں چل رہے ہوتے ہیں۔ہمیں تو اپنے دوست و دشمن کی پہچان نہیں رہی۔ان سب فلاسفروں کے علاوہ بھی کچھ لوگ موجود ہیں جو ذرا ایسی جگتوں میں کمزور ہیں۔ایسے کچھ نارمل لوگوں کے دل و دماغ میں گزشتہ چند دنوں سے یہ سوال لگاتر گردش میں ہے کہ ۔یہ ہو کیا رہا ہے؟جی یہ سوال پہلے بھی موجود تھا مگر اب کے بار تو ہر سیکنڈ کے ساتھ دھڑک رہا ہے۔ہم اپنے بندر تماشوں میں مصروف ہمیشہ کی طرح اور مخالفین ہمیں معاشی و سیاسی تور پر پسماندہ کرنے میں مصروف اور ہم ہیں کے جانتے ہی نہیں۔یہ ہو کیا رہا ہے کہ امریکہ جس کی خاطر ہم نے سویت یونین اور دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی اور لڑ رہے ہیں اسی نے ہمیں دھوکا دیا۔ہاں دیا اور متعدد بار دیا مگر ہم ہیں کہ جانتے ہی نہیں۔افغانستان جنہیں چلنا ہم نے سکھایا جن کا ساتھ ہر مشکل وقت میں ہم نے دیا جن کے لاکھوں مہاجرین کو ہم نے پناہ دی وہ بھی ہمیں دھوکا دے رہا ہے اور متعدد بار دے چکا ہے مگر ہم ہیں کے جانتے ہی نہیں۔ایران جسے ہم نے کئی ہتھیار اور دوسری دفاعی امداد فراہم کی اور متعدد بار سعودی عرب اور ایران کی لڑائی میں ثالثی کا کردار ادا کیا مگر وہ ہیں کہ ہمیں دھوکا دے رہے ہیں اور ہم جانتے ہی نہیں۔اس کی وجہ میں ان غدار ملکوں سے زیادہ اپنے وطن کو ٹھہراتا ہوں۔کیونکہ اپنے اچھے اور برے کی تمیز ہمیں خود ہونی چاہیے۔میں صدقے جاؤں ان تجزیہ کاروں اور سیاست دانوں کے جو اب کہہ رہے ہیں کہ یہ سب خارجہ پالیسی کی بنا پر ہے اب ہمیں اپنی خارجہ پالیسی از سر نو تشکیل دینی ہو گی۔بھائی ایسا کوئی پہلی بار ہو رہا ہے یا اس صورتحال سے پہلے واقف نہیں تھے۔اب جو مفاد انہوں نے لینے تھے لے چکے اب تو تمہارے خلاف سر عام چالیں چلیں گے۔کاش کے یہ خارجہ پالیسی پہلے تشکیل دی ہوتی ملک پاکستان کو بھی خارجہ پالیسی سے کوئی فائدہ پہنچتا۔قارئین غور کریں یہ کیا ہو رہا ہے کہ غیر مسلم ریاستوں کے ساتھ مسلم ریاستیں بھی آپ کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ وہی امریکہ و بھارت جو اسرائیلیوں کے حامی ہیں۔ افسوس کے ایران و افغانستان ان کے ساتھ مل کر ہمارے وطن کے خلاف سازشیں بننے میں مصروف ہے ۔یہ انہی اسرائیلیوں کے پشت پناہ اورو دوست ہیں جو مسلمانوں کو سر عام بے دردی سے قتل کرتے ہیں۔افسوس یہ ہو کیا رہا ہے کہ کوئی بھی تنظیم یا شخص مسلمانوں کا نام لے کر قتل و غارت کرے تو پوری دنیا میں سوگ ۔مگر یہودی و عیسائی پوری دنیا میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں چلا رہے ہیں کہ مسلمان ریاستوں سمیت پوری دنیا کو جیسے خبر ہی نہیں۔آخر یہ دہرے معیار اور دوغلی پالیسیوں میں کیسے کامیاب ہیں۔؟ کیونکہ ہمارے اندر ضمیر ہی نہیں کہنے کو تو ہم مسلمان ہیں مگر مسلمانوں والی کوئی بات نہیں جو ہمارے اندر موجود ہو۔ہو یہ رہا ہے کہ ہم اپنا اور اپنے وطن کا سودا بار بار کرتے ہیں اور گھاٹے میں کرتے ہیں۔ہماری حیثیت بھکاریوں جیسی ہے روپے کے عوض ہم اپنی آزادی دوسروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔جو ہم نے بیرون ممالک سے قرض لئے اس قرض سے پاکستان میں کیا تبدیلی آئی ؟سوائے اپنی خودمختاری کو ختم کرنے کے۔یہ کیا ہو رہا ہے کہ امریکہ نے ہمیں ایف سولہ طیارے فراہم کرنے تھے مگر صاف انکار۔دہشتگردی کی آڑ میں امریکہ ہمارے اوپر ڈرون گراتاہے۔افغانستان ہمیں آنکھیں دکھاتا ہے اور ہمارے اوپر برود برساتا ہے۔ ایران ہمارے خلاف غیر مسلم ممالک کی حمایت میں مصروف ہے۔یہ کیا ہو رہا ہے کہ ہم کئی کھرب ارب ڈالرز بھیک مانگ کر بھی اپنے بحرانوں پر قابو نہیں پا سکے۔ہم آج بھی اپنے ملکی مسائل میں گھیرے ہوئے ہیں۔اتنی زیادہ رقم ہر سال خرچ مگر مسائل کا حل صفر۔یہ کیا ہو رہا ہے کہ ہماری خارجہ امور کی وزارت ہی موجود نہیں۔ہمارے وزراء آپس میں لڑے اور بٹے ہوئے ہیں کرپٹ اور ناا ہل تو ہیں ہی بد دیانت بھی ہیں۔ملکی صورتحال جیسی بھی ہو انکی انا قائم رہنی چاہیے۔ہماری اپوزیشن جماعتیں سبحان اللہ انہیں بھی حکومت کو ٹف ٹائم دینا تب یاد آتا ہے جب ملک مسائل میں گھرا ہو اور بیرونی دباؤ بھی ہو۔محترم قادری صاحب بھی تب ہی وطن تشریف لاتے ہیں جب پاکستان اور اسکی حکومت پر بیرونی پریشر موجود ہو۔آپ انصاف کی بات کرتے ہیں بہت اچھی بات ہے۔مگر خدارا انصاف عوام کے لئے مانگیں۔انصاف کی آڑ میں اپنی سیاست کو نہ چمکائیں۔دوستو آج بھی ہمارا وطن اندرونی مسائل سے دو چار ہے۔اور ہمارے لیڈر آپس کی لعن تعن میں مصروف کوئی کرسی بچانے میں اور کوئی کرسی گرانے میں لگا ہوا ہے۔روز بروز انصاف کو روندتے ہیں نا انصافی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ہم اپنے اندرونی مسائل سے ہی باہر نہیں نکل پا رہے تو ہم بیرونی معاملات کو کیا سلجھائیں گے۔دوستو امریکہ اور بھارت کو ہر گز گوارا نہیں کے پاکستان چین اقتصادی راہداری کسی انجام کو پہنچے کیونکہ اس کے مکمل ہونے کے بعد پاکستان اور چین کی حالت خطے میں مضبوط ہوگی۔اور دونوں مخالف اسے نا کام بنانے کے لئے طرح طرح کی سازشیں کر رہے ہیں۔پاکستان میں عدم استحکام پھیلا رہے ہیں۔ہم ہیں کے جانتے ہی نہیں جانتے ہیں تو مانتے نہیں۔یہ ہو کیا رہا ہے ہمیں جاننا بھی ہوگا پہچاننا بھی ہوگا اور ماننا بھی ہوگا ۔نہیں تو ہمارا حال بد ترسے بھی برا ہو جائے گا۔آخر میں اور لینڈو حملے کے بارے چند الفاظ۔امریکہ ایک سپر پاور ہے اور اسکی پالیسیاں اسکی سیکیورٹی اسکی انٹیلی جنس ایجنسیاں سب سے بہتر۔مگر ایک شخص جو کہ انکی واچ لسٹ میں موجود ہو اس پر شک بھی ہو۔اٹھ کر سر عام ایک کلب میں فائرنگ کرتا ہے اور کلب میں داخل ہونے سے پہلے ہیلپ لائن پر کال کر کے اپنے ارادے کی خبر کرتا ہے مگر پھر بھی وہ دو گھنٹے کلب میں موجود رہتا ہے اور اپنا کام بڑی آسانی سے انجام دیتا ہے دو گھنٹے امریکن نمبر ون پاور کی پولیس اسے یہ کیسے کرنے دیتی ہے اور اسے روک کیوں نہیں پاتی۔کیا امریکی ادارے اس میں سوالیہ نشان نہیں۔اس واقعے کے پس پردہ باتوں سے کوئی آگاہ نہیں۔ایک عرصہ لگے پس پردہ باتیں نکلنے میں۔افغانیو اور ایرانیو یاد رکھو کافر کبھی تمہارا دوست نہیں ہو سکتا۔آج اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شایدسب کچھ ہے یاد مگر خد ا یاد نہیں
روزہ۔ہمارے مسلمانچوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ
روزہ اسلام کا تیسرا اور اہم رکن ہے۔عربی میں اسے صوم بھی کہتے ہیں۔صوم کے لغوی معنی ہیں کسی چیز سے رک جانا۔اصطلاح شریعت میں سحری سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے جملہ برائیوں اور مباشرت وغیرہ سے رک جانا روزہ کہلاتا ہے۔نمازحج اور زکوۃکی طرح روزہ بھی ایک عظیم عبادت ہے۔ماہ رمضان میں ہر عافل بالغ تندرست اور مقیم مرد اور عورت کے لیے روزہ رکھنا فرض ہے۔ارشاد باری تعالی ہے۔ترجمہ۔پس تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے وہ ضرور پورے مہینے کے روزے رکھے۔ارشاد باری تعالی ہے۔ترجمہ۔ابن آدم کا ہر عمل اس کا ہوتا ہے مگر روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔آپﷺ نے فرمایا۔ترجمہ۔جس شخص نے رمضان کے روزے محض اللہ تعالی پر ایمان لاتے ہوئے ثواب سمجھ کر رکھے اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیے گئے۔رمضان بڑی برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہے اور رمضان میں روزے کی حالت میں انسان کے ہر عمل پر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ثواب ملتا ہے۔روزہ انسان کے لئے بے حد اجر و ثواب کا موجب ہے۔بابرکت مہینے میں شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں۔روزہ دار کی اجرت میں بے پناہ اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ہر وقت اللہ تعالی کی رحمتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے۔قرآن میں ارشاد باری تعالی ہے۔ترجمہ۔اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔یعنی روزہ خالص انسانوں کی بھلائی کے لئے ہے۔پہلی امتوں پر روزہ ایک بوجھ سمجھا جاتا تھا لیکن اسلام اور قرآن نے اس کی اصلاح کی ۔روزہ انسانوں کی بہتری کے لئے چند دنوں کے لئے فرض کیا گیا۔بیماری بڑھاپے اور حالت سفر میں روزہ پورا کرنے کی آسانی کیونکہ روزے کی فرضیت میں اللہ تعالی کو محض انسانیت کی اصلاح اور نجات مقصود ہے۔ارشاد نبویﷺ ہے۔ترجمہ۔جوآدمی روزہ رکھنے کے باوجود جھوٹ بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالی کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے سے کوئی سروکار نہیں۔قارئین لکھنے کو تو روزے پر پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے مگر نہ تو میں کوئی بڑا عالم ہوں نہ ہی ماہر اسلامیات بس تھوڑا بنیادی لکھنا مقصود تھا تا کہ بات کو آگے بڑھا سکوں۔میں ارشاد نبوی ﷺ سے ہی آگے چلتا ہوں۔دوستو روزہ رکھنے کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ صرف اور صرف کھانے پینے سے پرہیز کرنا ۔بلکہ سر سے لے کر پاؤں تک نیز اپنے جسم کے تمام اعضاء کو روزہ کی حالت میں رکھنا ہی روزہ ہے۔یعنی بولو تو سچ بولو۔تمہارے بول سے کسی کا دل نہ دکھے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔تمہارے بول ہر لحاظ سے صاف ہوں۔یعنی زبان کا درست استعمال فحش گوئی و تلخ گوئی سے اجتناب۔اپنی آنکھوں سے فحاشی نہ دیکھو۔تمہارے ہاتھ پاؤں سے کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔یعنی پورے جسم کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھال لو یہی روزہ ہے۔مگر افسوس کہ کے ہمارے آج کے مسلمان سب کچھ جاننے کے باوجود بھی اس پر عمل پیرا نہیں۔جھوٹ و فریب کا بازار گرم ہے۔روزہ رکھ کر جھوٹ بولتے ہیں گالیاں بکتے ہیں ناپ تول میں لوگوں سے فراڈ کرتے ہیں چیزوں میں ملاوٹ کرتے ہیں چیزوں کو زخیرہ کر کے مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔رمضان جیسے بابرکت مہینے کو ہمارے نام نہاد مسلمانوں نے مشکل بنا دیا ہے۔کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر کے غریبوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔خاص کر ہمارے ملک پاکستان میں روزہ رکھ کر لوگ فراڈ اور دھوکے کر رہے ہیں۔یہ وطن ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا اور افسوس کے کہ ہمارے وطن میں نہ ہی لوگوں کو اسلام کے بارے علم ہے اور نہ ہی روزے کے بارے۔ایسے روزے کا کوئی فائدہ نہیں جس میں جھوٹ بولا جائے۔ہر طرف افراتفری کا سماں ہے۔افراتفری تو پہلے بھی تھی مگر ہمارے پاکستانی مسامان بھائیوں نے تو رمضان میں افراتفری کو اور وسعت دے دی۔لوگ رمضان جیسے رحمتوں والے مہینے میں نیکیاں کمانے کی بجائے روپیہ اور دولت کمانے میں مصروف ہیں۔ہمارے حکومتی نمائندوں کو تو اپنی لڑائیوں اور اقتدار کے کھیلوں سے ہی فرصت نہیں۔اور لوگ لوٹ مار کر رہے ہیں۔افسوس کہ اب غیر مسلم کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کابا برکت مہینہ ختم ہوگا تو مہنگائی کم ہو گی پھر ہی ضروریات زندگی حاصل کر سکیں گے۔اور مزید افسوس میں اضافہ ہوتاہے جب پتہ چلتا ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں نے اپنی چیزوں کی قیمتوں پر رمضان میں کمی کی ہے اور مسلمانوں نے قیمتوں میں اضافہ۔میری ان لوگوں سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی روزہ نہ رکھا کریں اگر اسکی پاسداری نہیں کر سکتے ۔کیوں اسلام کا نام خراب کرتے ہو؟اسلام نے توہر چیز کا واضح حکم دیا ہے۔خود کو مسلمان کہلاتے ہو تو حقیقی مسلمان بنو۔اور اللہ کو حاظر ناظر جان کر روزہ رکھو اور اسکی پاسداری کرو۔یہ سب تنقید کرنے کا مقصد حقیقت بتانا ہے۔اور پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں کچھ اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں۔آج اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شایدسب کچھ ہے یاد مگر خدا یاد نہیں