Sunday, 23 April 2017

پانامہ فیصلہ اور فریقین


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

گزشتہ روز بیس اپریل کومقررہ وقت دو بجے کے قریب پانامہ لیکس کا فیصلہ سنایا گیا۔جس میں پی ٹی آئی ،شیخ رشید،اور جماعت اسلامی کی اس استدعا کو مسترد کر دیا گیا کہ وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیا جائے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ تحریک انصاف ،عوامی مسلم لیگ ،اور جماعت اسلامی نے جو دستاویزات پیش کی ہیں وہ تحقیق طلب ہیں ان کی تحقیق کے لئے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔اور اسے تحقیقات مکمل کرنے کے لئے دو ماہ کا وقت دیا جائے۔عدالتی فیصلہ پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔فیصلہ میں کرائم سیریز مویز اور ناولز کے حوالے دئیے گئے۔جن کو ماہر قانون عاصمہ جہانگیر نے تنقید کا نشانہ بنایا۔اس تاریخی فیصلہ میں دو ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے وزیر اعظم کو بے ایمان اور جھوٹا گردانتے ہوئے نااہل قرار دے دیا۔ ٹربیونل کے باقی تین ججز نے خدشات کی بنا پر معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیاتاہم تحقیقات پر پانچوں ججز نے اتفاق کیا۔پانچوں ججز نے شریف برادران کی طرف سے پیش کئے گئے شواہد کو بے بنیاد قرار دے دیا۔یہاں تک کہ شہرت پانے والے قطری خط کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جس میں مختلف اداروں کے نمائندے شامل تفتیش ہونگے۔آئی ایس آئی کا نمائندہ بھی اس ٹیم کا حصہ ہوگا۔سینئر و نامور قانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن کی طرف سے جے آئی ٹی وآئی ایس آئی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جو انتہائی نامناسب ہے۔جس کے جواب میں جنرل آصف غفور نے کہا کہ مسلح افواج کی ساکھ کسی قسم کے شکوک و شبہات سے بالاتر ہے۔قارئین جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ فیصلہ کے فوری بعدتمام فریقین کی کیفیت بھی مختلف تھی۔فیصلہ کے فوری بعد حکومت کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا مٹھائیاں بانٹی گئیں بھنگڑے ڈالے گئے(نہ جانے کس خوشی کے؟)۔دوسری طرف اپوزیشن میں موجود باقی فریقین پی ٹی آئی اور دوسری جماعتیں فیصلے کی نوعیت کو سمجھنے میں مصروف ہو گئیں۔مگر سوشل میڈیا پر ان کے حامیوں نے سخت رویا اختیار کیا ۔کسی نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ سنا دیا ،کسی نے عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنا دیا ،یہاں تک کے ایسے کمنٹس بھی ملے کہ تین ججز جیو اور دو اے آر وائے دیکھتے ہیں۔کسی نے کہا کھسرا پیدا ہوا۔سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے طرح طرح کے طعنے کسے گئے۔جیسے ہی کچھ گھنٹے گزرے قانونی ماہرین نے تبصرے شروع و مکمل کئے تو لوگوں کو فیصلے کی نوعیت کا اندازہ ہونا شروع ہوگیا(جس کا کام اسی کو ساجھے)۔اور یہ جاننے میں کامیاب ہوئے کہ درحقیقت کس کی فتح اور کس کو شکست ہوئی۔پی ٹی آئی کی طرف سے مشاورت کے بعد مٹھائی بانٹی گئی جیت کی فتح کی۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور میڈیا پر لوگوں کے تاثرات بدلنے لگے۔دن گزرا تو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر موجود حامیوں نے اپنی جیت کے اسٹیٹس لگانے شروع کئے جو کل تک فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔دوسری طرف گزشتہ دن کی خوشیاں منانے والے مسلم لیگ نواز کے کارکن کچھ مایوس نظر آئے۔درحقیقت عدالتی فیصلے کو فوری کوئی بھی نہ سمجھ سکا ۔جسکی بدولت یعنی نہ سمجھی کی وجہ سے لوگ سر عام توہین عدالت کرتے نظر آئے سوشل میڈیا اور میڈیا دونوں محاذ پر۔جو قابل مذمت ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ عدالتی فیصلے ہمیشہ سے ہی بے بس رہے، عدالتی فیصلہ درست ہی سنایا جاتاہے ،فیصلہ ججز کی جانچ کے بعد درحقیقت انکی رائے یعنی انکے خیالات ہوتے ہیں جو حکم کی صورت میں پیش کئے جاتے ہیں۔مگر افسوس کہ اداروں ،عوام اور فیصلے کے فریقین نے کبھی فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا۔عدالتوں سے زیادہ قصور وار تو ادارے ہیں جو عدالتی فیصلوں پر عملدراآمد نہیں کرواتے۔عدالتوں سے زیادہ قصور وار وہ وکیل ہیں جو روپے کے عوض جھوٹے دلائل جھوٹے گواہ اور جھوٹی کہانیاں گڑھ کر ججز کو فیصلے کی نوعیت بدلنے پر مجبور کرتے ہیں۔عدالتوں سے زیادہ قصور وار وہ عوام اور فریقین ہیں جو عدالتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔مختصر یہ کہ ہم لوگ خود اپنے عدالتی وقار اور اپنی عدالتوں کی توہین کرتے ہیں اور توہین عدالت کے مرتکب ٹھہرتے ہیں بلکہ عدالتوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور ان کے کام میں رکاوٹ کا کردار ادا کرتے ہیں۔میں پاکستانی عدالتوں کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں جو بیک وقت طاقتور فریقین غنڈہ گرد وکلاء بے ایمان اداروں اور دوغلی عوام کے ہوتے ہوئے بھی اپنا فیصلہ سنا دیتی ہے۔اس کے بعد کا احوال تو ہم بیس اپریل سے دیکھ رہے ہیں کہ کسً طرح اپنی من مانی کے تحت فیصلے کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ہر وہ شخص قانون دان بنا ہوا ہے جسے چار بندوں میں بات کرنے کا موقع ملتا ہے یا کوئی چار بندوں کا جھرمٹ اسکی بات سن رہا ہے۔دوسرے لفظوں میں جسے کسی اخبار یا ٹیلی ویڑن کی نمائندگی ملی ہوئی ہے۔بھائی جس کا کم اسی کو ساجھے۔کوئی ماہر قانون ہی بہتر فیصلہ کرسکتا ہے کہ عدلیہ نے کس نوعیت کا فیصلہ دیا۔ہر بندہ قانون دان بن کر قانون کی دھجیاں تو خود اڑا رہا ہے۔سب سے بڑھ کر فریقین فیصلے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہو جاتے ہیں بھائی فیصلہ کھینچنے سے یا تو پھٹ جائے گا یا لمبا ہوجائے گا۔حکومت اور اپوزیشن دونوں فریقین خوب سیاسی دکانداری چمکانے میں مصروف ہیں کسی کو کرپشن کے خاتمے کی فکر نہیں بس اپنی اپنی حکومت بنانے اور کرسیوں کا استعمال ہی انکا مقصد ہے۔یہ ایک دوسرے کے لئے جملے کسنے میں مصروف ہیں اور مسئلہ کشمیر توجہ کا منتظر ہے بلوچستان بھی بہتری کا منتظر ہے سندھ بہتری کا منتظر ہے ملک بہتری کا منتظر ہے سی پیک کی ساکھ کو نقصان ہو سکتا ہے ملکی سالمیت کی کسی کو فکر نہیں ،بلکہ سیاسی دکانداری چمکنی چاہئے۔افسوس۔کہ اب پیپلز پارٹی بھی انصاف کے فیصلے کرے گی عدالتوں سے بڑھ کر ہے یہ؟نہیں ہر گز نہیں۔ہونا تو یہ چاہئے کہ تمام فریقین کو صدق دل سے جے آئی ٹی کی ٹیم پر بھروسہ کرنا چاہئے اور ٹیم پر نظر مرکوز رکھنی چاہئے۔میں مانتا ہوں کہ ایک وزیر اعظم سے افسران کا تفتیش کرنا مشکل ہے مگر ناممکن ہر گز نہیں۔تمام فریقین کو ملکی حالات خراب کرنے کی بجائے جے آئی ٹی کی تحقیق کو مثالی بنانے میں کردار ادا کرنا چاہئے۔کیا یہ تاریخی فیصلہ نہیں کہ ملک کا وزیر اعظم بھی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوگا۔ماضی کی ایک بات بیرسٹر اعتزاز احسن صاحب کہتے تھے کہ گیلانی صاحب اڈیالہ جیل میں بھی چلے جائیں تو وہ وزیر اعظم ہی ہوں گے اب کس منہ سے استعفی مانگ رہے ہیں ۔پی ٹی آئی کا استعفی تو سمجھ بھی آتا ہے۔پی پی؟

Sunday, 16 April 2017

عالمی امن تباہی کی طرف


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

امن کی تباہی انسانیت کے خاتمے کی علامت ہے۔اگر یونہی دنیا میں امن تباہی کے خطرے سے دو چار رہا تو خدا ناخواستہ ایک دن دنیا کو امن کے معنی و مفہوم بھول جائیں گے اور دنیا میں انسانیت کے خاتمے کی نت نئی مثالیں ملیں گی۔امن لفظ سکون آرام اور خوشی و خوشحالی کے مترادف ہے۔امن کسی بھی صوبے یا ملک کی پہلی ترجیحات میں ہی شامل ہوتا ہے۔کسی بھی چھوٹے قصبے یا کسی ایک گھر کے لئے بھی امن بہت اہمیت کا حامل ہے اور گھر کا ہر فرد امن سے جڑا ہوتا ہے کسی ایک میں بے چینی آئے تو پورے گھر کا امن درہم برہم ہوجاتا ہے۔کسی بھی علاقے کی ترقی کے لئے امن و امان کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔امن و امن ہی علاقوں کو درست سمت پر گامزن کرتا ہے ۔انسانی سکون انسان کو ہمیشہ مثبت راستے کی طرف لے جاتا ہے اور دوسری طرف بے چینی و بے آرامی انسان کو غلطیوں کی دہلیز پر لا کھڑا کرتی ہے۔قارئین جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں عالمی امن ہمیشہ سے ہی خطرے میں رہا عالمی امن کی ناؤ عرصہ دراز سے ہچکولیاں کھاتی آرہی ہے۔مگر گزشتہ کچھ عرصہ سے عالمی امن کی ناؤ بڑے ہچکولے کھا رہی ہے یہاں تک کہ امن کی ناؤ کو ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہے۔یہ خطرہ پوری دنیا کے لئے ہے۔امن کی تباہی درحقیقت دنیا کی تباہی ہے۔گزشتہ کچھ عرصہ سے دنیا بڑی تیزی سے تباہی کی طرف دوڑتی جارہی ہے۔جسے روکنا انتہائی ضروری ہے۔تاریخ سے سبق ملتا ہے کہ دنیا کا امن ہمیشہ سے دنیا میں ابھرتی و بڑی طاقتوں نے تباہ کیا ہے۔یہ طاقتیں ہمیشہ سے اپنی نمبرداری کے چکر میں دوسروں کو استعمال کرتی ہیں۔ایک دوسرے کو اپنی پاور دکھانے کے چکر میں چھوٹے ملکوں کا استعمال کرکے ان کو تباہ و برباد کرتی ہیں۔عرصہ دراز کی منصوبہ بندی کے بعد اپنے اثر ورسوخ کو استعمال کرکے بڑی طاقتیں چھوٹے ترقی پذیر ملکوں کا امن تباہ کرتی ہیں چھوٹے ملک امن کی تباہی کے بعد ایسی کیفیت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ پھر ان سے غلطیوں کا سرزد ہونا معمول بن جاتاہے۔ایسے میں سپر پاورز ایک دوسرے کو اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے نظر آتی ہیں۔ایسی ہی ایک مثال امریکہ اور روس کی ہے۔گزشتہ دنوں امریکہ کی طرف سے روس کے حلیف ملک شام کے ائیر بیس پر امریکی میزائلوں سے حملہ اور امریکہ کا افغانستان پر ایک بڑے وزنی بم کا گرانہ اور روس کا مریکہ کو دھمکانا درحقیقت طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔اسکے علاوہ امریکہ کا روس اور چائنہ کے حامی ایران کو دھمکانا بھی طاقت کا مظاہرہ تھا۔طاقت کا مظاہرہ و استعمال دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور قائم رکھنے کے لئے کیا جاتا ہے۔کچھ عرصہ سے واقعی عالمی امن خطرے میں ہے اور خطرے کی شدت پہلے سے کچھ زیادہ ہے۔جزیرہ نما کوریا میں امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔چین نے خبر دار کیا ہے کہ کسی بھی وقت جنگ چھڑ سکتی ہے۔چین نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو اکسانے اور دھمکانے سے اجتناب کریں۔اگر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہوئی تو ایک ایٹمی جنگ ہوگی جس سے دنیا بلکہ ایشیاء کا بڑا حصہ تباہ و برباد ہوجائے گا۔ایک نئے ورلڈ آرڈر کی تشکیل ہورہی ہے جس میں روس چائنہ اور ایران سمیت دوسرے ممالک شامل ہیں۔امریکہ جو کہ سپر پاور ہے وہ اپنے مقابلہ میں کسی کو کھڑا ہوتا دیکھ نہیں سکتا۔اس کو یہ آرڈر ہضم نہیں ہورہا۔جس کی وجہ سے وہ طاقت کے استعمال کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دے رہاتاکہ مخالفین پر طاقت کا خوف طاری ہو۔امریکہ اور شمالی کوریا میں لڑائی خطے میں بالادستی قائم کرنے کی ہے۔شمالی کوریا خطے سے امریکہ کا انخلاء چاہتا ہے جبکہ امریکہ شمالی کوریا کو سبق سکھانا چاہتا ہے۔دونوں لڑائی کے لئے تیار کھڑے ہیں۔حقیقت ہے کہ شمالی کوریا امریکی اڈوں کو بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے مگر اس کے جواب میں جو نقصان ہوگا اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔دوسری طرف شام پر امریکی حملے کے جواب روس نے کہا ہے کہ روس امریکہ لڑائی ایک انچ کی دوری پر ہے۔کسی بھی وقت طبل جنگ بج سکتا ہے۔روس چائنہ اور پاکستان سمیت دوسرے ممالک افغان امن کانفرنسز میں مصروف ہیں اور امریکہ کا افغانستان میں مدر آف آل بم گرانا قابل مذمت ہے۔جس سے امریکہ روس تصادم شروع ہوسکتا ہے۔بھارت براعظم ایشیاء پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے لئے پاکستان اور چائنہ کے خلاف جنگ کی تیاریوں میں مصروف رہتا ہے۔اسرائیل اس ضمن میں بھارتی کا حامی و اسلحہ ڈیلر ہے۔اسی طرح کچھ دوسرے ممالک بھی اپنا اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔دنیا کا امن خطرے میں ہے اس کی کسی کو پرواہ نہیں امن کی تباہی کا خطرہ ہے کہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔گزشتہ چند دنوں کی صورتحال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان جنگ ہوگی جو براعظم ایشیاء کے ملک افغانستان شام اور کوریا پر مسلط کی جائے گی ۔دونوں طاقتیں دوسرے ممالک کے سر پر اپنی جنگ لڑنا چاہتی ہیں۔اس جنگ سے دنیا میں بڑی تباہی پھیلنے کا خدشہ ہے بلکہ براعظم ایشیاء بڑی تباہی کے دہانے پر ہے۔اگر کسی بھی طرف سے جنگ شروع ہوئی تو اتنی تباہی ہوگی کہ امن کا نام کچھ عرصہ کے لئے دنیا کو بھول جائے گا۔کاش بڑی طاقتیں باتوں کی بجائے حقیقی معنوں میں امن کے فروغ کے لئے کام کریں ناکہ امن کی تباہی کا سودہ کرتے رہیں۔موجودہ صورتحال سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا میں امن کو کتنا بڑا خطرہ لاحق ہے۔اور یہ خطرہ ایک ہی صورت ٹل سکتا ہے کہ دنیا میں موجود تمام ملک بڑی طاقتوں کی مکاری سے کوسوں دور رہیں اور مل جل کر امن کے لئے کام کریں نہ کہ کسی جنگی کاوش کا حصہ بنیں۔ اقوام متحدہ کو موجودہ صورتحال پر تمام طاقتوں کو باز رہنے کی ہدایت دینی چاہئے کیونکہ جنگ شروع ہوئی تو نقصان سبھی کا ہوگا پوری دنیا کا امن تباہ ہوگا۔اقوام متحدہ انسانی حقوق اور امن کی حامی تنظیموں اور ملکوں کو موجودہ صورتحال میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ دنیا میں مسکراہٹیں بکھریں امن کی خوشبو مہکے۔

شام پر امریکی حملہ اور حقائق


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

گزشتہ روز ملک شام کے ائیر بیس پر امریکی حملے کے نتیجہ میں شامی ائیر بیس مکمل تباہ ہو گیا۔یہ حملہ شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف کیا گیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد اسلامی ملک شام پر پہلی امریکی یکطرفہ فوجی کاروائی کی گئی۔جس میں 59 ٹام ہاک کروز میزائل استعمال کئے گئے۔جس کے نتیجہ میں ائیر بیس تباہ اور ائیر کمونڈور سمیت چھ فوجی جاں بحق ہو گئے۔بقول ٹرمپ کیمیائی ہتھیاروں سے معصوم لوگوں پر حملہ نا قابل قبول ہے ۔امریکی صدر کے دل میں معصوم لوگوں کے لئے ہمدردی ہے بہت اچھی بات ہے۔مگر تاریخ بہت سی تلخ حقیقتوں سے بھی آگاہ کرتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ اسرائیل کی فوجوں نے فلسطین کے معصوم بچوں عورتوں بزرگوں کو بلڈوزروں کے نیچے کچلا گولیوں سے چھلنی کیا انکی عزتوں کو تار تار کیا ظلم کی داستانیں رقم کیں۔کشمیر میں بھارتی فوجیں ظلم اور بربریت کی مثالیں قائم کر رہی ہے کشمیریوں کو جانوروں کی طرح کچلا جا رہا ہے۔بینائی سے محروم کیا جا رہا ہے عزتوں سے کھیلا جا رہا ہے ظلم کی انتہا کو وسعت دی جا رہی ہے۔مگر افسوس کہ دہرا معیار، نرم گوشہ رکھنے والے نمبر دار امریکہ کو یہ ظلم کیوں نظر نہیں آتا؟ان علاقوں کے معصوم بلبلاتے لوگ نظر کیوں نہیں آتے؟شاید امریکہ کو ان سے وابستہ کوئی مفاد نظر نہیں آتا؟امریکہ کا کوئی دوست نہیں مفاد سے اسکی دوستی ہے ۔یہی سپر پاور کی اصلیت ہے۔تاریخ میں اامریکی مفاد پرستی کی ڈھیروں مثالیں موجود ہیں۔دنیا جانتی ہے۔جانتی ہے کہ داعش کا بانی و حامی کون ہے۔حقیقت میں بشارالسد اور شامی فورسز امریکی سرپرستی کردہ تنظیم داعش کے خلاف کاروائیوں میں مصروف ہے۔شام میں باغیوں کو ہوا دینے والا بھی امریکہ ہی ہے۔امریکہ شام کو بھی عراق جیسا دیکھنا چاہتا ہے یہ کہنا بجا ہوگا کہ عراق کے ساتھ شام میں بھی پورا کنٹرول امریکی کھیل میں شامل ہے۔روس نے امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے اور ساتھ ہی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو بھی امریکہ پر ڈال کر امریکی پراپیگنڈہ کا نام دیا۔روس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے کیمیائی ہتھیاروں کو خود اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا۔شام کی حفاظت کے لئے روسی بحری بیڑہ بھی شام پہنچ گیا۔ایران نے بھی روسی موء قف کی حمایت کی۔چین نے امریکی طاقت کے یوں استعمال کو غلط قرار دیا اور امن کے حل کو ترجیح دی۔پاکستان نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کی اور امن کی کوششوں پر ذور ڈالا۔جبکہ اسرائیل نے امریکی حملے کا خیر مقدم کیا۔سعودی عرب متحدہ عرب امارات ترکی یورپ اور برطانیہ نے امریکی حمایت میں بیانات دئیے۔پاکستان نے ہمیشہ ایسے مقامات پر ڈبل اسٹینڈرڈ بیانات دیئے ہیںیعنی کسی کی بھی حمایت نہ کی۔عربی ممالک سمجھتے ہیں کہ شامی صدر بشارالسد کی حکومت گرا کر وہ اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیں گے۔مگر حقیقت اسکے برعکس ہے امریکہ اس علاقے کے سر پر جنگ کی تلوار لٹکانا چاہتا ہے اور روس بھی امریکہ سے بدلہ لینے کے لئے اس زمین کا استعمال کرنا چاہتا ہے۔دونوں بڑی طاقتیں اس علاقے کو میدان جنگ بنانے کی کاوشوں میں مگن ہیں۔اسلامی ملک ہیں کہ کسی بھی موء قف پر اکٹھے نہیں بلکہ بٹے ہوئے ہیں جوکہ اسلامی ریاستوں کہ لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔دنیا کی تاریخ کو دیکھا اور پرکھا جائے تو زندہ ضمیر بتاتا ہے کہ دنیا میں سب سے بڑے دہشتگرد خود امریکہ اور روس ہیں۔جن کے کھیل اور اثر و طاقت کے دکھاوے اور استعمال نے دنیا میں کروڑوں لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا۔جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے۔کیونکہ مسلمان بار بار طاقت کے اس کھیل میں کود جاتے ہیں۔بکھرے ہوئے مسلمانوں کو فوری متحد ہونے کی ضرورت ہے۔اس ضمن میں سعودیہ اور ایران کا ایک پیج پر ہونا اتہائی اہم و ضروری ہے۔ورنہ تاریخ کا یہ کھیل مسلمانوں کی ساکھ کے ساتھ یوں ہی کھیلتا رہے گا۔ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم بھی نمبر ون امریکہ نے ہی گرا کر تباہی کی حد کو عبور کیا۔مسلمانوں کو حقیقت سے آگاہ ہو کر پوری مسلم امہ کے مفاد کو ترجیح دینا چاہئے۔نہ کہ امریکی کھیل کو۔امریکہ ہر صورت بشارالسد کو ہٹانا چاہتا ہے۔سوال یہ ہے کہ بشارالسد کے بعد شام کا اگلا صدر کون ہوگا ؟ کہیں یہاں داعش کی حکومت بنا کر انکی جگہ ہموار کرنے کا ارادہ تو نہیں؟اگر روس نے بشارالسد کو بچانے اور امریکہ سے بدلہ لینے لئے کوششیں شروع کردیں تو شام کا کیا حال ہوگا؟ کہیں شام پر بڑی جنگ تو مسلط نہیں کی جا رہی۔جو امریکہ روس کے خلاف داعش کی مدد سے لڑے گا اور روس شامی حکومت کی مدد سے؟۔دنیا کو ،انسانیت کی باتیں کرنے والوں کو، نرم گوشہ رکھنے والوں کو، میڈیا کو، اسلامی ممالک کو، اور سوشل میڈیا پر شعور رکھنے والوں کو، شام کی حمایت کے لئے کھل کر میدان میں آنا چاہئے تا کہ بڑی طاقتیں شام کو اس کے حال پر چھوڑ دیں ناکہ اس پر مسلط مشکلات کو مزید بڑھاوا دیں۔

Sunday, 26 March 2017

افغان امن ماسکو کانفرنس


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

چند دنوں سے افغان امن کے حوالے سے روس کے شہر ماسکو میں کانفرنس کے بارے خبریں گردش کر رہی ہیں اس حوالے سے چند ماہ قبل بھی کوششیں کی گئیں جن میں افغان امن پر اتفاق کیا گیا اسی ضمن میں اگلے ماہ ماسکو میں روس چائنہ افغانستان پاکستان بھارت اور دوسرے وسطی ایشیائی ممالک کے وفوداکٹھے ہوں گے۔امریکہ کا شمولیت سے انکار کئی شکوک و شبہات کو حقیقت کی طرف لے جائے گا۔افغانستان ایک اسلامی ملک ہے جو سنٹرل ایشیاء میں پاکستان ایران ترکمانستان ازبکستان تاجکستان اور چائنہ کے ساتھ واقع ہے۔جغرافیائی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے اسی وجہ سے دنیا کی نظریں یہاں سے ہٹتی نہیں۔قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے۔ایشیائی ممالک کی تجارت کے لئے سنٹر کی حیثیت رکھتا ہے۔1980 سے دہشتگردی کی آڑ میں ہے۔روس امریکہ اور دوسرے مغربی اتحادی اس کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔بھارت نے بھی افغانستان پر اپنا اثر و رسوخ جما کر پاکستانی حکمرانوں کی غلطیوں کا فائدہ اٹھا کر افغانستان کو پاکستان کے خلاف بھڑکانہ شروع کر دیا۔اس سے قبل پاکستان افغانستان کے تعلقات قدرے بہتر تھے پاکستان نے تاریخ کی سب سے بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کو پناہ دی۔حالات یکسر نہیں رہتے بدلاؤ آتا رہتا ہے۔منفی بدلاؤ بھی ہو سکتا ہے اور مثبت بھی۔سویت وار کے بعد امریکا کوافغانستان کو ایک خودار اور پر امن ریاست بنانا تھا مگر امریکہ نے اپنا مقصد پورا ہوتے ہی اپنا رویہ بدل لیا۔دہشتگردی کی آڑ میں ہزاروں کی تعداد میں فسادیوں نے جنم لیا۔مذہب عزت کلچر سب کو پامال کیا گیا۔امریکی کھیل کی بدولت افغانستان ایک صدی پیچھے ہی رہ گیا۔ترقی و خوشحالی پر روک کی چھاپ لگ گئی۔پاکستان نے بھی اس دہشتگردی سے بڑے نقصانات اٹھائے مگر وقت بدلا پاکستان نے اپنی غلطیوں کو بھانپا ان سے سیکھا اور مثبت راہ کو چنا۔آج واقعی پاکستان اپنے فہم کی وجہ سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔گزشتہ بدلتی صورتحال کو افغان حکومت نہ بھانپ سکی یا پھر ایسا چاہتی ہی نہیں۔شاید گزشتہ صدی سے کچھ نہیں سیکھا۔اسی لئے اپنی تباہی کے سودے خودہی کر رہی ہے۔خود کو خود مختار بنانے کی بجائے دوسروں پر انحصار رکھا ۔اب وقت کی سمت افغانستان کے لئے پھر موزوں ہے بلکہ بہت ہی زیادہ موزوں ہے۔چین اور دوسرے ممالک نے پاکستان میں امن کی بنا پر اسے محفوظ ملک گردانتے ہوئے سی پیک کا مرکز بنانے کا ارادہ کیا جس پر کام جاری ہے جو شاید چند برسوں تک پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔پاکستان کے ساتھ افغانستان 2650 کلو میٹر لمبی سرحد کے ذریعے منسلک ہے بلکہ آر پار رہنے والے ایک ہی زبان کلچراور مذہب کے لوگ ہیں۔افغانستان براہ راست اس روٹ کا حصہ ہے۔اسی لئے پاکستان افغان امن کے لئے تگ و دو کر رہا ہے۔دوسری طرف افغانستان کی سرزمین سی پیک کو ناکام بنانے کے لئے استعمال ہو رہی ہے۔افغانستان کو بھارتی چالاکیوں میں آنے کی بجائے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے۔پاکستان کا امن افغانستان کے ساتھ جڑا ہے درست ہے۔اسی طرح پاکستان کے ساتھ افغانستان کے پاس بھی سی پیک سے اقتصادی ترقی کے مواقع موجود ہیں۔اب افغانستان پر ہی منحصر ہے کہ وہ اسے کیسے ڈیل کرتا ہے۔اپنی تباہی کو پریفر کرتا ہے یا مسترد کر کے ایک اقتصادی ملک بن کر ابھرتا ہے۔ماضی میں روس واقعی افغان امن کی تباہی کا باعث بنامگر صورتحال بدل چکی ہے۔اب دنیا کی بڑی طاقتیں جنگ کی جگہ معاشی ترقی پر یقین رکھتی ہیں۔یہی ابھرتی طاقتوں کا وطیرہ ہے۔گزشتہ چند عرصے سے پاکستان روس ایران اور چائنہ افغانستان میں امن کے لئے تہہ دل سے کوشاں ہیں۔کیونکہ سی پیک کی مکمل افادیت سے مستفید ہونے کے لئے افغانستان میں امن بہت ضروری ہے۔افغانستان کے امن سے ہی پاکستان کا امن منسلک ہے۔پاکستان سی پیک کا مرکز ہے۔یہی ایک قریبی راستہ ہے وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی کا اور افغانستان میں امن کی بدولت ہی ایشیائی ممالک میں تجارت کو مزید پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔یہ بھی سچ ہے کہ افغانستان میں امن سے ہی چائنہ پاکستان ایران اور روس کو فائدہ ہے۔موجودہ امن کوششیں اور ماسکو کانفرنس بھی سی پیک کی افادیت سے مستفید ہونے اور اسکی تکمیل کے لئے ہے۔افغانستان ایسا خوش قسمت ملک ہے جو براہ راست سی پیک کا حصہ ہے۔اور جسکی ترقی اور امن کے لئے دوسرے ممالک مسلسل تگ و دو میں ہیں۔مگر شاید افغانستان سنجیدہ نہیں افغانستان کی سنجیدگی اسے ترقی یافتہ ملک بنا سکتی ہے۔اور غیر سنجیدگی مزید افلاس کی طرف دھکیلے گی۔اب فیصلہ افغانیوں کے ہاتھوں میں ہے۔امریکہ کا افغان امن ماسکو کانفرنس میں شرکت سے انکار دہرے معیار کا بیان ہے۔جو ایک سپر پاور کو ذیب نہیں دیتا ۔بلکہ کئی شکوک شبہات کو حقیقت کے قریب لے جاتا ہے جس سے امریکی دہرا معیار واضح ہوتا ہے امریکہ کو اس سے متعلق نظر ثانی کی ضرورت ہے۔پاکستان کو ماسکو کانفرنس میں بھارتی ہٹ دھرمیوں اور افغانی الزامات کو مد نظر رکھ کر شرکت کرنی چاہئے اور بھی بہتر ہو اگر پاکستان اس کانفرنس میں شرکت سے پہلے مختلف نقطوں پر تبادلہ خیال کر لے۔جیسے چائنہ روس اور ایران کو اعتماد میں لے کر بھارتیوں کو باز آنے اور افغانیوں کو تعاون کرنے کا زور ڈالے۔اس کانفرنس کا فائدہ اسی صورت میں ہے اگر افغانستان اپنے خیر خواہ اور دشمنوں کو بھانپ لے اور بدلتی صورتحال سے سیکھ کر اپنے امن اور ترقی کو پریفر کرے نا کہ بھارتی چالاکیوں کی گرفت میں رہے۔اگلے مہینے تک پاکستان کو اس کانفرنس میں، حقیقی پہلوؤں کو اجاگر کرنے، اس کے بارے سوچ کر کام کرنے کی ضرورت ہے تا کہ پاکستان خطے میں امن کے لئے بہترین کردار ادا کر سکے۔

Sunday, 19 March 2017

پاک افغان امن


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

یہ واقعی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے جڑا ہوا ہے۔خطے میں اس وقت تک امن کی فضاء کو قائم نہیں رکھا جا سکتا جب تک افغانستان امن کی خاطر تہہ دل سے اقدامات نہ کرے۔دونوں ملک 2640 کلو میٹر کی لمبی سرحد سے دوطرفہ تجارت کرتے ہیں۔اس سرحد کو ڈیورنڈ لائن کہتے ہیں۔اس سے بھی بڑھ کر اس سرحد کے آر پار رہنے والے ایک ہی زبان بولتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے رشتہ دار بھی ہیں ایک ہی مذہب ایک ہی ثقافت بلکل ایک جیسے لوگ۔پاکستان اور افغانستان براعظم ایشیاء کے دو اسلامی ملک ہیں۔جغرافیائی لحاظ سے دونوں اہمیت کے حامل ہیں۔قدرتی وسائل سے مالا مال بھی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ ان ممالک پر اپنا پورا اثر رسوخ چاہتا ہے۔امریکہ اور روس کی لڑائی کے لئے امریکہ نے بڑی مکاری کے ساتھ دونوں ملکوں کا استعمال کیا اور براستہ پاکستان افغانستان پر جنگ مسلط کر دی۔اسی جنگ کے دوران افغانستان سے لاکھوں پناہ گزین پاکستان آئے ۔پاکستانیوں نے انہیں مسلمان بھائی سمجھ کر خوشی سے تسلیم کیا۔پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بھی قدرے بہتر تھے۔وقت گزرا روس کو شکست ہوئی سویت یونین کے ٹکڑے ہوئے امریکہ سپر پاور بن کر ابھرا۔آہستہ آہستہ امریکہ نے دونوں ملکوں سے اپنی امداد روک لی اور دونوں بارے اپنی سٹریٹیجی بھی بدلی صرف فوجی و جنگی مداخلت جاری رکھی۔اسی دوران امریکہ کبھی پاکستان میں دہشتگردی کی آڑ میں بم برساتا اور کبھی افغانستان میں دونوں ملکوں کے حالات بدتر ہوتے گئے۔نوبت یہاں تک پہنچی کے دونوں ایک دوسرے پر الزام تراشی پر اتر آئے۔اس بدلتی کیفیت میں بھارت نے افغانستان پر سرمایہ کاری شروع کی اور افغانستان پر اپنا اثر رسوخ قائم کیا۔افغان حکومت بھارتی زبان بولنے لگی۔قائد کا پاکستان جو امن و آشتی کے لئے اسلام کے نام پر قائم ہوا۔وہی ملک افراتفری کا شکار ہونے لگا۔امن کی دھجیاں بکھرنے لگیں۔محبتوں کو قدروں کو پامال کیا گیا۔بیک وقت پاکستان کے متعدد دشمن پیدا ہوگئے۔جن میں افغانستان اور امریکہ دشمنوں کے سہولت کار رہے۔وقت گزرا پاکستان نے اپنی غلطیوں کو جانچا اور اپنی سالمیت کو مضبوط کیا۔دشمنوں کے خلاف جنگ لڑی اور کامیاب رہے امریکی ڈرون کا پاکستان میں گرنا بھی بند ہوگیا۔لیکن افغان حکومت بھارتی بین سنتی رہی اور اپنی بربادی کا سودا کرتی رہی۔پاکستان ایک محفوظ ملک بنا اور چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور جیسا بڑا منصوبہ سامنے آیا اور اس پر کام جاری و ساری ہے۔یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس سے اس خطے کی صورتحال یکسر بدل جائے گی۔یہ خطہ ایک معاشی خطہ بن کر ابھرے گا۔آج پاکستان پھر ایک مثبت سمت پر گامزن ہے اور دنیا اس کا اعتراف بھی کر چکی ہے اسی لئے پاکستان چائنہ اکنامک کوریڈور میں پچاس سے زائد ممالک شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں۔افغانستان بھی براہ راست اس راہداری کا حصہ ہے۔شاید افغانستان کو اس بات کی خبر نہیں کہ وہ کس قدر خوش قسمت ملک ہے کہ وہ براہ راست اس بڑے اقتصادی منصوبے کا حصہ ہے۔اگر اس کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا تو بھارتی شہہ پر براستہ افغانستان پاکستان میں دہشتگردی کر کے سی پیک کو ناکام بنانے کی سازشیں نہ کی جاتیں۔گزشتہ روز افغانستان کی طرف سے دہشتگردوں نے پاکستانی چوکی پر پھر حملہ کیا۔افغانستان سے در اندازی کا سلسلہ تشویش ناک صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ان حملوں میں ملوث تنظیموں اور سہولت کاروں کے ٹھکانے افغانستان میں پاکستانی سرحد کے قریب ہیں۔پاکستان بار بار افغانستان کو دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کا کہہ چکا ہے مگر خاطر خواہ اقدام نہیں کئے جا رہے۔یا تو یہ افغان حکومتی شہ پر ہورہا ہے یا افغان فورسز دہشتگردوں سے کمزور ہیں۔بر حال افغان حکومت کو پاکستانی تعاون سے ان دہشتگردوں کے خاتمے کے لئے کام کرنا چاہئے تا کہ دونوں ممالک کا امن اور تجارت بحال ہوسکے۔پاکستان نے تو ماضی کی غلطیوں کو پہچان کر اپنا آج اور مستقبل سنوار لیا ہے۔اب افغان حکومت کے پاس بھی موقع ہے کہ وہ دوبارہ اپنی بہتری اور امن امان کے بارے میں سوچے نہ کہ بھارتی گود میں کھیلتے کھیلتے خود کو دہشتگردی کی آڑ میں جلاتا رہے۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ افغانستان ایک مسلم ہمسایہ اور خیرخواہ پاکستان کو مخالف اور ایک غیر مسلم مکار انتہا پسند اور دشمن ملک بھارت کو اپنا دوست تصور کرتا ہے۔افغانستان کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ بدلتی صورتحال سے آشنا ہو جائے اور خود کو امن اور ترقی کی راہ پر گامزن کر لے نہ کہ امریکی و بھارتی سہولت کار بن کے دہشتگردی کی آگ میں جلتا رہے۔پاکستان کا کیا ہے پاکستان تو پاک افغان سرحد بند بھی کر سکتا ہے اور اس پر آمدورفت کو کنٹرول بھی کرسکتا ہے جس پر کام بھی جاری ہے۔ماضی میں دونوں طرف سے غلطیاں سرزد ہوئیں لیکن اب غلطیاں دہرانے کا دور ختم ہوا دونوں ملکوں کو نئی دوستی بھائی چارے اور ولولے کے ساتھ امن و ترقی کی راہ کو چننا چاہئے۔کیونکہ دونوں ممالک میں امن سے ہی خطے میں امن ہوگا۔دونوں وطنوں کا امن بھی ایک دوسرے کے امن سے منسلک ہے۔اگر افغانستان نے بھارتی گود نہ چھوڑی تو ایک دن پھر افغانستان دوسرے ملکوں وریاستوں سے صدیاں پیچھے ہوگااور اس کے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ نہ ہوگا۔پاکستان کی طرف سے بھی خاطر خواہ اقتدامات ہونے چاہئے ایسا نہ ہو کہ بھارت براستہ افغانستان ہمارے امن کوششوں کو تار تار کرنے کی تگ و دو کرتا رہے۔پاکستان کو فی الفور افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر طریقے سے طے کرنے چاہئیے۔یہ بھی وقت کی ضرورت ہے۔پاک افغان امن سے بہت سے دشمنوں کو بیک وقت شکست ہوگی۔پاکستانی حکومت کو افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے دہشتگردی کے خاتمے اور اقتصادی ترقی کی اہمیت بارے آگاہ کرنا چاہئے۔