Saturday, 1 July 2017

دی کنٹریکٹر اور سوالات

چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

دی کنٹریکٹر نے منظر عام پر آتے ہی پاکستانی اداروں اور حکمرانوں کو کنٹریکٹر ثابت کردیا اور ایسے کنٹریکٹر جو اپنے آقا امریکہ سے خوف و ہراس کی وجہ سے ایک وطن کے اعلی عہدیداران ہو کر بھی کنٹریکٹر کا کام کرتے رہے۔’دی کنٹریکٹر‘ ایک کتاب کا نام ہے جو سابق امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس نے اپنی آپ بیتی پر لکھی مگر اس آپ بیتی نے پاکستانی سربراہوں کے پول بھی کھول دیئے۔جہاں حکومتی بے بسی کے پول کھولے وہیں عوام کے دلوں میں افسردگی و سوالات بھی چھوڑے۔اور امید کرتے ہیں ہمارے ادارے اور نمائندگان وضاحت ضرور پیش کریں گے۔2011 کا یہ باب پھر سے کھل کر سامنے آگیا اور اس بار کچھ زیادہ ہی کھل کر سامنے آگیا۔ایک بار پھر محب وطن پاکستانی عوام سوالات کے بوجھ تلے دب چکی ہے۔عوام کے دلوں میں طرح طرح کے سوالات گردش کرنے لگے ہیں۔عوام کے دلوں میں ملال ہے کہ وہ اپنی محنت اور کوشش سے اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنی محنت کی کمائی سے کچھ رقم ٹیکس کی صورت میں دیتے ہیں تا کہ انہیں تحفظ اور انصاف جیسی سہولتیں ملیں۔مگر افسوس کے قوم کا ہر فرد بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔مگر کیوں؟کیا ہم ان قرضوں کے بغیر ترقی نہیں کر سکتے؟آخر ہمیں خودمختاری کب نصیب ہوگی؟پاکستان تو ایک خودمختار ریاست کے طور پر معرض وجود میں آیا تھا آخر خودمختاری کہاں کھوگئی؟آیا ہماری خود مختاری ڈالرز کے عوض بک چکی ہے؟اربوں ڈالرز کے عوض اپنی خودمختاری بیچ کر بھی تعلیم صحت اور غربت میں فرق نہیں تو پھر ایسا کیوں ہے؟آیا ہمیں اپنی بدولت خودمختار ملک بن کر سوکھی روٹی بہتر نہیں؟یہ سوالات برسوں سے چلے آرہے ہیں اور ہماری خودمختاری کا جنازہ نکالنے کے لئے کافی ہیں۔اربوں ڈالرز کا قرض ہماری حکومتیں اور ادارے بٹور رہے کیا؟بحیثیت قوم ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ریمنڈ ڈیوس کے انکشافات غیرت مند قوم کے لئے آگ کے گولوں سے کم نہیں ہماری خودمختاری کی کرچیاں کرچیاں بکھری پڑی ہیں اس کتاب کے انکشافات میں۔افسوس کے کسی نمائندے کی طرف سے اس کی وضاحت بھی پیش نہیں کی گئی۔قارئین آپ کو بتاتے ہیں کیا انکشافات کئے ہیں ریمنڈ ڈیوس نے،اس کا کہنا ہے کہ اس نے دس گولیاں دو پاکستانیوں کے سینوں میں اپنے خطرے کی صورت میں سرعام لاہور شہر میں اتار دیں۔اس کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا جیسے ہی یہ معاملہ امریکہ تک پہنچا تو پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی ہوگئی۔اس نے کہا کہ اس کی رہائی کے لئے امریکہ نے کوششیں شروع کردیں اور پاکستان اور اسکے اداروں پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ اسی ضمن میں جان کیری نے نواز شریف سے ملاقات کی نواز شریف نے بازیابی کی یقین دہانی کرائی مزید بتایا کہ اس کی رہائی کے لئے جنرل پاشا نواز شریف اور صدر آصف زرداری متفق تھے۔حسین حقانی نے بھی بڑا کردار ادا کیا ۔ان سب نے امریکی سفارتکاروں کے ساتھ مل کر رہائی کی پلاننگ کی۔تاہم دیت کے تحط معاملات نمٹانے کے لئے کوشش شروع کر دی گئی مگر لواحقین ماننے کو تیار نہیں تھے اسی لئے لواحقین کو ڈرایا دھمکایا گیا اور اس میں آئی ایس آئی اہلکاروں نے بھی مدد کی۔مزید کتاب میں لکھا کہ سب سے زیادہ مدد اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا نے کی۔انہوں نے پیشی کے دوران احاطہ عدالت میں رہ کر امریکی سفیر کیمرون منٹر کو میسجز کے زریعے عدالتی کاروائی کے بارے آگاہ بھی کیا۔قارئین یوں ایک لاکھ تیس ہزار ڈالرز کا خون بہا زبردستی لواحقین کو تھما کر ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کا حکم لکھ ڈالا۔یہاں بھی عوام کے دل میں سوال اٹھتا ہے کہ ،کیا عدالت کو علم نہیں تھا کہ لواحقین پر دباؤ ڈالا گیا ہے؟۔یقینی علم ہوگا۔مگر افسوس کے قرآن واسلام کا حلف اٹھانے والے یہ عادل بھی خوف اور طاقت کے سامنے بے بس نظر آئے اور انصاف کی دجھیاں اڑادیں۔مجھے یقین ہے کہ کوئی بھی وضاحت نہیں دے گا۔مگر عوام جاننا چاہتی ہے کہ کتاب میں سب حقیقت ہے کیا؟اگر نہیں تو وضاحت پیش کریں؟شاہ محمود وہ واحد شخصیت ہیں جو امریکہ کے سامنے دیوار بنے اسکی گواہی ڈیوس کی کتاب بھی دیتی ہے۔دنیا کی نمبر ایک انٹیلی جنس آئی ایس آئی کے لمحہ فکریہ ہے انہیں از سر نو تحقیقات کرنی چاہئے اور ذمہ داران کو سزا دینی چاہئے تاکہ ملکی خود مختاری اور سلامتی کو یوں رسوا کرنے کی رسم تھم جائے۔عوام کی طرف سے منطق پیش کی جا رہی ہے کہ پاکستان ڈاکٹر عافیہ کو بازیاب کروا سکتا تھا مگر ڈیوس کی مدد کی ہر ممکنہ کوشش کی گئی اور عافیہ کی رہائی کا مطالبہ کرنے کی ہمت ہی نہیں کی۔واقعی بھکاریوں کی کوئی عزت نہیں۔بڑی بات، جب بات عزت نفس تک پہنچ جائے تو تعلق کو ٹھوکر مار دینی چاہئے عزت کا دفاع سب سے ضروری ہے تعلق بنتے رہتے ہیں۔دی کنٹریکٹر کا خلاصہ پڑھ کر اپنی حیثیت کا باخوبی اندازہہوگیا ہے پاکستانی عوام کو ، التجا ہے موجودہ آرمی چیف صاحب سے کہ ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جائے اور ملکی خودمختاری کو بحال کیا جائے عوام خودمختاری کی بحالی کے لئے تیار ہے۔چاہے اس کے عوض ہمیں پابندیاں ہی کیوں نہ برداشت کرنی پڑیں۔
سر شرم سے جھک گیا وطن کا
حاکم ہی بھک گیا وطن کا
محافظ بھی ظالم بنا وطن کا
ب بس نکلا عادل بھی وطن کا

Sunday, 11 June 2017

قبل از وقت برطانوی انتخابات اور نتائج


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

کسی بھی وطن یا ریاست کے لئے مقررہ مدت سے قبل از وقت انتخابات بظاہر و حقیقی طور پر نقصان دہ ہی دکھائی دیتے ہیں۔قبل از وقت انتخابات لوگوں اور سیاسی پارٹیوں میں بے اعتمادی کی فضا کو فروغ دیتے ہیں۔کسی نہ کسی حد تک قبل از وقت انتخابات قومی اخراجات کا ضیاء بھی ثابت ہوتے ہیں۔مبصرین و تجزیہ کاروں کے مطابق قبل از وقت انتخابات ہمیشہ قومی مفادات کے برعکس ہوتے ہیں، قبل از وقت انتخابات میں کسی نہ کسی بڑی سیاسی جماعت کے مفادات چھپے ہوتے ہیں۔ہمیشہ سیاسی جماعتیں اسی تگ و دو میں ہوتی ہیں کہ قبل از وقت انتخابات ہوجائیں اور ہماری سیاسی برتری میں اضافہ ہو۔قارئین ایسا ہی کچھ برطانوی سیاست میں ہوا۔گزشتہ روز برطانوی انتخابات اور اس کے نتائج سے با خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ برطانوی عوام اچھے و برے کا شعور رکھتی ہے،برسر اقتدار برطانوی کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ ٹریسامے نے سیاسی برتری میں اضافے کی کوشش میں اچانک اٹھارہ اپریل کو قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کر دیا۔لیکن پھر برطانوی عوام نے انہیں خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ٹریسامے نے بریگزٹ ریفرینڈم کی بنیاد پر سکورنگ کی کوشش کی۔ٹریسامے کا کہنا تھا، کہ انہیں یورپی یونین سے برطانیہ کے انخلاء کے لئے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کے لئے نیا اور مضبوط مینڈیٹ درکار ہے۔ٹریسامے اور اسکے وزراء کا خیال تھا کہ وہ عام انتخابات میں مزید برتری حاصل کر کے لیبر پارٹی کی حیثیت کو محدود کر سکتے ہیں۔تاہم برطانوی عوام باشعور ہیں انہیں کسی منصوبہ کے تحت ٹریپ کرنا بہت مشکل ہے۔گزشتہ روز کے نتائج کے مطابق کنزرویٹو پارٹی اپنی برتری میں کمی کرتے ہوئے صرف 318 نشستیں حاصل کرسکی جبکہ اسکے برعکس لیبر پارٹی نے 261 نشستیں حاصل کرکے اپنی گزشتہ سکورنگ میں 32 نشستوں کا اضافہ کیا۔اس کے ساتھ ہی نیشنل اسکاٹش پارٹی کو 35 لبرل ڈیموکریٹس کو 12 اور ڈی یو بی کو 10 نشستیں ملی ہیں۔کنزرویٹو پارٹی کو پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لئے 326 نشستیں درکار تھیں تاہم وہ سادہ اکثریت میں ناکام رہے۔خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے ڈی بی یو کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے۔دوسری طرف لیبر پارٹی کے لیڈر جیری کوربین نے ٹریسامے سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔جیری کوربین عوام میں غیر معمولی مقبولیت رکھتے ہیں۔طالب علموں میں خاصے مقبول ہیں ،انہوں نے اپنی کمپین میں طالب علموں کی بھاری فیسوں کو ختم کرنے اور انہیں مفادات دینے کا بھی اعلان کیا تھا ۔جبکہ عوام کو ٹریسامے کی سیاسی پوائنٹ سکورنگ نے بدزن کردیا۔کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ گزشتہ دنوں میں لندن اور مانچسٹر میں دہشتگردی کے واقعات کی وجہ سے عوام میں حکومت جماعت کی مقبولیت میں کمی سامنے آئی۔ہمیشہ سیکیورٹی پر کنزرویٹو پارٹی حمایت حاصل کرتی ہے۔تاہم لیبر پارٹی کے لیڈر نے واضح کیا کہ،ٹریسامے نے وزیر داخلہ کے طور پر پولیس کی نفری میں کمی کی ہے اور لوگوں کے تحفظ کو پامال کیا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ وہ برسر اقتدار آکر سیکیورٹی کو مزید بہتر بنائیں گے۔ کنزرویٹو پارٹی کے کچھ لوگوں کے نزدیک بھی پارٹی کی کم ہوتی مقبولیت کی ذمہ دار ٹریسامے ہیں ،اگر اس نظریے کو وسعت ملی تو ٹریسامے کوہر حال میں استعفی دینا پڑے گا۔عالمی لیڈروں نے بھی انتخابات کے نتائج پر تشویش کا اظہار کیا۔دوسری طرف یورپی یونین کا کہنا ہے کہ،معلق پارلیمنٹ سے برطانیہ کے بریگزٹ کے لئے ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہوسکتے ہیں۔یہ کہنا بجا ہوگا کہ، برطانیہ کا یورپی یونین سے نکلنے کے لئے برطانوی وزیراعظم کا قبل از وقت انتخابات کا جوا ان کے اپنے گلے ہی پڑ گیا۔برطانوی انتخابات میں بارہ پاکستانی نژاد ممبران بھی منتخب ہوئے، جو پاکستانی عوام کے پرامن ہونے کی علامت ہیں۔گزشتہ دنوں برطانوی دہشتگردی کے واقعات میں پاکستانی نژاد برطانوی شہری کا نام بھی سامنے آیا۔تاہم برطانوی عوام کا پاکستانی نژاد ممبران پر اعتماد اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور اس میں موجود عوام امن کی خواہاں ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ منتخب پاکستانی برطانیہ میں موجود پاکستانیوں کی حمایت کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے،اور یونہی ملک پاکستان کا نام روشن کرتے رہیں گے۔پاکستانی عوام اور سیاسی پارٹیوں کو برطانوی انتخابات سے سبق سیکھنا چاہئے۔پاکستانی عوام کو سمجھنا ہوگا کہ انتخابات کوئی گڈی گڈے کا کھیل نہیں جو جب جی چاہے رچایا جائے ، اس پرملکی دولت خرچ ہوتی ہے۔الیکشن کمیشن اور الیکشنز کو حقیقت تسلیم کرنا ہوگا تبھی جمہوری روایات کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

Sunday, 23 April 2017

پانامہ فیصلہ اور فریقین


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

گزشتہ روز بیس اپریل کومقررہ وقت دو بجے کے قریب پانامہ لیکس کا فیصلہ سنایا گیا۔جس میں پی ٹی آئی ،شیخ رشید،اور جماعت اسلامی کی اس استدعا کو مسترد کر دیا گیا کہ وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیا جائے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ تحریک انصاف ،عوامی مسلم لیگ ،اور جماعت اسلامی نے جو دستاویزات پیش کی ہیں وہ تحقیق طلب ہیں ان کی تحقیق کے لئے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔اور اسے تحقیقات مکمل کرنے کے لئے دو ماہ کا وقت دیا جائے۔عدالتی فیصلہ پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔فیصلہ میں کرائم سیریز مویز اور ناولز کے حوالے دئیے گئے۔جن کو ماہر قانون عاصمہ جہانگیر نے تنقید کا نشانہ بنایا۔اس تاریخی فیصلہ میں دو ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے وزیر اعظم کو بے ایمان اور جھوٹا گردانتے ہوئے نااہل قرار دے دیا۔ ٹربیونل کے باقی تین ججز نے خدشات کی بنا پر معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیاتاہم تحقیقات پر پانچوں ججز نے اتفاق کیا۔پانچوں ججز نے شریف برادران کی طرف سے پیش کئے گئے شواہد کو بے بنیاد قرار دے دیا۔یہاں تک کہ شہرت پانے والے قطری خط کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جس میں مختلف اداروں کے نمائندے شامل تفتیش ہونگے۔آئی ایس آئی کا نمائندہ بھی اس ٹیم کا حصہ ہوگا۔سینئر و نامور قانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن کی طرف سے جے آئی ٹی وآئی ایس آئی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جو انتہائی نامناسب ہے۔جس کے جواب میں جنرل آصف غفور نے کہا کہ مسلح افواج کی ساکھ کسی قسم کے شکوک و شبہات سے بالاتر ہے۔قارئین جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ فیصلہ کے فوری بعدتمام فریقین کی کیفیت بھی مختلف تھی۔فیصلہ کے فوری بعد حکومت کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا مٹھائیاں بانٹی گئیں بھنگڑے ڈالے گئے(نہ جانے کس خوشی کے؟)۔دوسری طرف اپوزیشن میں موجود باقی فریقین پی ٹی آئی اور دوسری جماعتیں فیصلے کی نوعیت کو سمجھنے میں مصروف ہو گئیں۔مگر سوشل میڈیا پر ان کے حامیوں نے سخت رویا اختیار کیا ۔کسی نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ سنا دیا ،کسی نے عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنا دیا ،یہاں تک کے ایسے کمنٹس بھی ملے کہ تین ججز جیو اور دو اے آر وائے دیکھتے ہیں۔کسی نے کہا کھسرا پیدا ہوا۔سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے طرح طرح کے طعنے کسے گئے۔جیسے ہی کچھ گھنٹے گزرے قانونی ماہرین نے تبصرے شروع و مکمل کئے تو لوگوں کو فیصلے کی نوعیت کا اندازہ ہونا شروع ہوگیا(جس کا کام اسی کو ساجھے)۔اور یہ جاننے میں کامیاب ہوئے کہ درحقیقت کس کی فتح اور کس کو شکست ہوئی۔پی ٹی آئی کی طرف سے مشاورت کے بعد مٹھائی بانٹی گئی جیت کی فتح کی۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور میڈیا پر لوگوں کے تاثرات بدلنے لگے۔دن گزرا تو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر موجود حامیوں نے اپنی جیت کے اسٹیٹس لگانے شروع کئے جو کل تک فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔دوسری طرف گزشتہ دن کی خوشیاں منانے والے مسلم لیگ نواز کے کارکن کچھ مایوس نظر آئے۔درحقیقت عدالتی فیصلے کو فوری کوئی بھی نہ سمجھ سکا ۔جسکی بدولت یعنی نہ سمجھی کی وجہ سے لوگ سر عام توہین عدالت کرتے نظر آئے سوشل میڈیا اور میڈیا دونوں محاذ پر۔جو قابل مذمت ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ عدالتی فیصلے ہمیشہ سے ہی بے بس رہے، عدالتی فیصلہ درست ہی سنایا جاتاہے ،فیصلہ ججز کی جانچ کے بعد درحقیقت انکی رائے یعنی انکے خیالات ہوتے ہیں جو حکم کی صورت میں پیش کئے جاتے ہیں۔مگر افسوس کہ اداروں ،عوام اور فیصلے کے فریقین نے کبھی فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا۔عدالتوں سے زیادہ قصور وار تو ادارے ہیں جو عدالتی فیصلوں پر عملدراآمد نہیں کرواتے۔عدالتوں سے زیادہ قصور وار وہ وکیل ہیں جو روپے کے عوض جھوٹے دلائل جھوٹے گواہ اور جھوٹی کہانیاں گڑھ کر ججز کو فیصلے کی نوعیت بدلنے پر مجبور کرتے ہیں۔عدالتوں سے زیادہ قصور وار وہ عوام اور فریقین ہیں جو عدالتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔مختصر یہ کہ ہم لوگ خود اپنے عدالتی وقار اور اپنی عدالتوں کی توہین کرتے ہیں اور توہین عدالت کے مرتکب ٹھہرتے ہیں بلکہ عدالتوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور ان کے کام میں رکاوٹ کا کردار ادا کرتے ہیں۔میں پاکستانی عدالتوں کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں جو بیک وقت طاقتور فریقین غنڈہ گرد وکلاء بے ایمان اداروں اور دوغلی عوام کے ہوتے ہوئے بھی اپنا فیصلہ سنا دیتی ہے۔اس کے بعد کا احوال تو ہم بیس اپریل سے دیکھ رہے ہیں کہ کسً طرح اپنی من مانی کے تحت فیصلے کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ہر وہ شخص قانون دان بنا ہوا ہے جسے چار بندوں میں بات کرنے کا موقع ملتا ہے یا کوئی چار بندوں کا جھرمٹ اسکی بات سن رہا ہے۔دوسرے لفظوں میں جسے کسی اخبار یا ٹیلی ویڑن کی نمائندگی ملی ہوئی ہے۔بھائی جس کا کم اسی کو ساجھے۔کوئی ماہر قانون ہی بہتر فیصلہ کرسکتا ہے کہ عدلیہ نے کس نوعیت کا فیصلہ دیا۔ہر بندہ قانون دان بن کر قانون کی دھجیاں تو خود اڑا رہا ہے۔سب سے بڑھ کر فریقین فیصلے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہو جاتے ہیں بھائی فیصلہ کھینچنے سے یا تو پھٹ جائے گا یا لمبا ہوجائے گا۔حکومت اور اپوزیشن دونوں فریقین خوب سیاسی دکانداری چمکانے میں مصروف ہیں کسی کو کرپشن کے خاتمے کی فکر نہیں بس اپنی اپنی حکومت بنانے اور کرسیوں کا استعمال ہی انکا مقصد ہے۔یہ ایک دوسرے کے لئے جملے کسنے میں مصروف ہیں اور مسئلہ کشمیر توجہ کا منتظر ہے بلوچستان بھی بہتری کا منتظر ہے سندھ بہتری کا منتظر ہے ملک بہتری کا منتظر ہے سی پیک کی ساکھ کو نقصان ہو سکتا ہے ملکی سالمیت کی کسی کو فکر نہیں ،بلکہ سیاسی دکانداری چمکنی چاہئے۔افسوس۔کہ اب پیپلز پارٹی بھی انصاف کے فیصلے کرے گی عدالتوں سے بڑھ کر ہے یہ؟نہیں ہر گز نہیں۔ہونا تو یہ چاہئے کہ تمام فریقین کو صدق دل سے جے آئی ٹی کی ٹیم پر بھروسہ کرنا چاہئے اور ٹیم پر نظر مرکوز رکھنی چاہئے۔میں مانتا ہوں کہ ایک وزیر اعظم سے افسران کا تفتیش کرنا مشکل ہے مگر ناممکن ہر گز نہیں۔تمام فریقین کو ملکی حالات خراب کرنے کی بجائے جے آئی ٹی کی تحقیق کو مثالی بنانے میں کردار ادا کرنا چاہئے۔کیا یہ تاریخی فیصلہ نہیں کہ ملک کا وزیر اعظم بھی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوگا۔ماضی کی ایک بات بیرسٹر اعتزاز احسن صاحب کہتے تھے کہ گیلانی صاحب اڈیالہ جیل میں بھی چلے جائیں تو وہ وزیر اعظم ہی ہوں گے اب کس منہ سے استعفی مانگ رہے ہیں ۔پی ٹی آئی کا استعفی تو سمجھ بھی آتا ہے۔پی پی؟

Sunday, 16 April 2017

عالمی امن تباہی کی طرف


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

امن کی تباہی انسانیت کے خاتمے کی علامت ہے۔اگر یونہی دنیا میں امن تباہی کے خطرے سے دو چار رہا تو خدا ناخواستہ ایک دن دنیا کو امن کے معنی و مفہوم بھول جائیں گے اور دنیا میں انسانیت کے خاتمے کی نت نئی مثالیں ملیں گی۔امن لفظ سکون آرام اور خوشی و خوشحالی کے مترادف ہے۔امن کسی بھی صوبے یا ملک کی پہلی ترجیحات میں ہی شامل ہوتا ہے۔کسی بھی چھوٹے قصبے یا کسی ایک گھر کے لئے بھی امن بہت اہمیت کا حامل ہے اور گھر کا ہر فرد امن سے جڑا ہوتا ہے کسی ایک میں بے چینی آئے تو پورے گھر کا امن درہم برہم ہوجاتا ہے۔کسی بھی علاقے کی ترقی کے لئے امن و امان کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔امن و امن ہی علاقوں کو درست سمت پر گامزن کرتا ہے ۔انسانی سکون انسان کو ہمیشہ مثبت راستے کی طرف لے جاتا ہے اور دوسری طرف بے چینی و بے آرامی انسان کو غلطیوں کی دہلیز پر لا کھڑا کرتی ہے۔قارئین جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں عالمی امن ہمیشہ سے ہی خطرے میں رہا عالمی امن کی ناؤ عرصہ دراز سے ہچکولیاں کھاتی آرہی ہے۔مگر گزشتہ کچھ عرصہ سے عالمی امن کی ناؤ بڑے ہچکولے کھا رہی ہے یہاں تک کہ امن کی ناؤ کو ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہے۔یہ خطرہ پوری دنیا کے لئے ہے۔امن کی تباہی درحقیقت دنیا کی تباہی ہے۔گزشتہ کچھ عرصہ سے دنیا بڑی تیزی سے تباہی کی طرف دوڑتی جارہی ہے۔جسے روکنا انتہائی ضروری ہے۔تاریخ سے سبق ملتا ہے کہ دنیا کا امن ہمیشہ سے دنیا میں ابھرتی و بڑی طاقتوں نے تباہ کیا ہے۔یہ طاقتیں ہمیشہ سے اپنی نمبرداری کے چکر میں دوسروں کو استعمال کرتی ہیں۔ایک دوسرے کو اپنی پاور دکھانے کے چکر میں چھوٹے ملکوں کا استعمال کرکے ان کو تباہ و برباد کرتی ہیں۔عرصہ دراز کی منصوبہ بندی کے بعد اپنے اثر ورسوخ کو استعمال کرکے بڑی طاقتیں چھوٹے ترقی پذیر ملکوں کا امن تباہ کرتی ہیں چھوٹے ملک امن کی تباہی کے بعد ایسی کیفیت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ پھر ان سے غلطیوں کا سرزد ہونا معمول بن جاتاہے۔ایسے میں سپر پاورز ایک دوسرے کو اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے نظر آتی ہیں۔ایسی ہی ایک مثال امریکہ اور روس کی ہے۔گزشتہ دنوں امریکہ کی طرف سے روس کے حلیف ملک شام کے ائیر بیس پر امریکی میزائلوں سے حملہ اور امریکہ کا افغانستان پر ایک بڑے وزنی بم کا گرانہ اور روس کا مریکہ کو دھمکانا درحقیقت طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔اسکے علاوہ امریکہ کا روس اور چائنہ کے حامی ایران کو دھمکانا بھی طاقت کا مظاہرہ تھا۔طاقت کا مظاہرہ و استعمال دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور قائم رکھنے کے لئے کیا جاتا ہے۔کچھ عرصہ سے واقعی عالمی امن خطرے میں ہے اور خطرے کی شدت پہلے سے کچھ زیادہ ہے۔جزیرہ نما کوریا میں امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔چین نے خبر دار کیا ہے کہ کسی بھی وقت جنگ چھڑ سکتی ہے۔چین نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو اکسانے اور دھمکانے سے اجتناب کریں۔اگر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہوئی تو ایک ایٹمی جنگ ہوگی جس سے دنیا بلکہ ایشیاء کا بڑا حصہ تباہ و برباد ہوجائے گا۔ایک نئے ورلڈ آرڈر کی تشکیل ہورہی ہے جس میں روس چائنہ اور ایران سمیت دوسرے ممالک شامل ہیں۔امریکہ جو کہ سپر پاور ہے وہ اپنے مقابلہ میں کسی کو کھڑا ہوتا دیکھ نہیں سکتا۔اس کو یہ آرڈر ہضم نہیں ہورہا۔جس کی وجہ سے وہ طاقت کے استعمال کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دے رہاتاکہ مخالفین پر طاقت کا خوف طاری ہو۔امریکہ اور شمالی کوریا میں لڑائی خطے میں بالادستی قائم کرنے کی ہے۔شمالی کوریا خطے سے امریکہ کا انخلاء چاہتا ہے جبکہ امریکہ شمالی کوریا کو سبق سکھانا چاہتا ہے۔دونوں لڑائی کے لئے تیار کھڑے ہیں۔حقیقت ہے کہ شمالی کوریا امریکی اڈوں کو بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے مگر اس کے جواب میں جو نقصان ہوگا اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔دوسری طرف شام پر امریکی حملے کے جواب روس نے کہا ہے کہ روس امریکہ لڑائی ایک انچ کی دوری پر ہے۔کسی بھی وقت طبل جنگ بج سکتا ہے۔روس چائنہ اور پاکستان سمیت دوسرے ممالک افغان امن کانفرنسز میں مصروف ہیں اور امریکہ کا افغانستان میں مدر آف آل بم گرانا قابل مذمت ہے۔جس سے امریکہ روس تصادم شروع ہوسکتا ہے۔بھارت براعظم ایشیاء پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے لئے پاکستان اور چائنہ کے خلاف جنگ کی تیاریوں میں مصروف رہتا ہے۔اسرائیل اس ضمن میں بھارتی کا حامی و اسلحہ ڈیلر ہے۔اسی طرح کچھ دوسرے ممالک بھی اپنا اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔دنیا کا امن خطرے میں ہے اس کی کسی کو پرواہ نہیں امن کی تباہی کا خطرہ ہے کہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔گزشتہ چند دنوں کی صورتحال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان جنگ ہوگی جو براعظم ایشیاء کے ملک افغانستان شام اور کوریا پر مسلط کی جائے گی ۔دونوں طاقتیں دوسرے ممالک کے سر پر اپنی جنگ لڑنا چاہتی ہیں۔اس جنگ سے دنیا میں بڑی تباہی پھیلنے کا خدشہ ہے بلکہ براعظم ایشیاء بڑی تباہی کے دہانے پر ہے۔اگر کسی بھی طرف سے جنگ شروع ہوئی تو اتنی تباہی ہوگی کہ امن کا نام کچھ عرصہ کے لئے دنیا کو بھول جائے گا۔کاش بڑی طاقتیں باتوں کی بجائے حقیقی معنوں میں امن کے فروغ کے لئے کام کریں ناکہ امن کی تباہی کا سودہ کرتے رہیں۔موجودہ صورتحال سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا میں امن کو کتنا بڑا خطرہ لاحق ہے۔اور یہ خطرہ ایک ہی صورت ٹل سکتا ہے کہ دنیا میں موجود تمام ملک بڑی طاقتوں کی مکاری سے کوسوں دور رہیں اور مل جل کر امن کے لئے کام کریں نہ کہ کسی جنگی کاوش کا حصہ بنیں۔ اقوام متحدہ کو موجودہ صورتحال پر تمام طاقتوں کو باز رہنے کی ہدایت دینی چاہئے کیونکہ جنگ شروع ہوئی تو نقصان سبھی کا ہوگا پوری دنیا کا امن تباہ ہوگا۔اقوام متحدہ انسانی حقوق اور امن کی حامی تنظیموں اور ملکوں کو موجودہ صورتحال میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ دنیا میں مسکراہٹیں بکھریں امن کی خوشبو مہکے۔

شام پر امریکی حملہ اور حقائق


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی

گزشتہ روز ملک شام کے ائیر بیس پر امریکی حملے کے نتیجہ میں شامی ائیر بیس مکمل تباہ ہو گیا۔یہ حملہ شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف کیا گیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد اسلامی ملک شام پر پہلی امریکی یکطرفہ فوجی کاروائی کی گئی۔جس میں 59 ٹام ہاک کروز میزائل استعمال کئے گئے۔جس کے نتیجہ میں ائیر بیس تباہ اور ائیر کمونڈور سمیت چھ فوجی جاں بحق ہو گئے۔بقول ٹرمپ کیمیائی ہتھیاروں سے معصوم لوگوں پر حملہ نا قابل قبول ہے ۔امریکی صدر کے دل میں معصوم لوگوں کے لئے ہمدردی ہے بہت اچھی بات ہے۔مگر تاریخ بہت سی تلخ حقیقتوں سے بھی آگاہ کرتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ اسرائیل کی فوجوں نے فلسطین کے معصوم بچوں عورتوں بزرگوں کو بلڈوزروں کے نیچے کچلا گولیوں سے چھلنی کیا انکی عزتوں کو تار تار کیا ظلم کی داستانیں رقم کیں۔کشمیر میں بھارتی فوجیں ظلم اور بربریت کی مثالیں قائم کر رہی ہے کشمیریوں کو جانوروں کی طرح کچلا جا رہا ہے۔بینائی سے محروم کیا جا رہا ہے عزتوں سے کھیلا جا رہا ہے ظلم کی انتہا کو وسعت دی جا رہی ہے۔مگر افسوس کہ دہرا معیار، نرم گوشہ رکھنے والے نمبر دار امریکہ کو یہ ظلم کیوں نظر نہیں آتا؟ان علاقوں کے معصوم بلبلاتے لوگ نظر کیوں نہیں آتے؟شاید امریکہ کو ان سے وابستہ کوئی مفاد نظر نہیں آتا؟امریکہ کا کوئی دوست نہیں مفاد سے اسکی دوستی ہے ۔یہی سپر پاور کی اصلیت ہے۔تاریخ میں اامریکی مفاد پرستی کی ڈھیروں مثالیں موجود ہیں۔دنیا جانتی ہے۔جانتی ہے کہ داعش کا بانی و حامی کون ہے۔حقیقت میں بشارالسد اور شامی فورسز امریکی سرپرستی کردہ تنظیم داعش کے خلاف کاروائیوں میں مصروف ہے۔شام میں باغیوں کو ہوا دینے والا بھی امریکہ ہی ہے۔امریکہ شام کو بھی عراق جیسا دیکھنا چاہتا ہے یہ کہنا بجا ہوگا کہ عراق کے ساتھ شام میں بھی پورا کنٹرول امریکی کھیل میں شامل ہے۔روس نے امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے اور ساتھ ہی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو بھی امریکہ پر ڈال کر امریکی پراپیگنڈہ کا نام دیا۔روس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے کیمیائی ہتھیاروں کو خود اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا۔شام کی حفاظت کے لئے روسی بحری بیڑہ بھی شام پہنچ گیا۔ایران نے بھی روسی موء قف کی حمایت کی۔چین نے امریکی طاقت کے یوں استعمال کو غلط قرار دیا اور امن کے حل کو ترجیح دی۔پاکستان نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کی اور امن کی کوششوں پر ذور ڈالا۔جبکہ اسرائیل نے امریکی حملے کا خیر مقدم کیا۔سعودی عرب متحدہ عرب امارات ترکی یورپ اور برطانیہ نے امریکی حمایت میں بیانات دئیے۔پاکستان نے ہمیشہ ایسے مقامات پر ڈبل اسٹینڈرڈ بیانات دیئے ہیںیعنی کسی کی بھی حمایت نہ کی۔عربی ممالک سمجھتے ہیں کہ شامی صدر بشارالسد کی حکومت گرا کر وہ اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیں گے۔مگر حقیقت اسکے برعکس ہے امریکہ اس علاقے کے سر پر جنگ کی تلوار لٹکانا چاہتا ہے اور روس بھی امریکہ سے بدلہ لینے کے لئے اس زمین کا استعمال کرنا چاہتا ہے۔دونوں بڑی طاقتیں اس علاقے کو میدان جنگ بنانے کی کاوشوں میں مگن ہیں۔اسلامی ملک ہیں کہ کسی بھی موء قف پر اکٹھے نہیں بلکہ بٹے ہوئے ہیں جوکہ اسلامی ریاستوں کہ لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔دنیا کی تاریخ کو دیکھا اور پرکھا جائے تو زندہ ضمیر بتاتا ہے کہ دنیا میں سب سے بڑے دہشتگرد خود امریکہ اور روس ہیں۔جن کے کھیل اور اثر و طاقت کے دکھاوے اور استعمال نے دنیا میں کروڑوں لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا۔جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے۔کیونکہ مسلمان بار بار طاقت کے اس کھیل میں کود جاتے ہیں۔بکھرے ہوئے مسلمانوں کو فوری متحد ہونے کی ضرورت ہے۔اس ضمن میں سعودیہ اور ایران کا ایک پیج پر ہونا اتہائی اہم و ضروری ہے۔ورنہ تاریخ کا یہ کھیل مسلمانوں کی ساکھ کے ساتھ یوں ہی کھیلتا رہے گا۔ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم بھی نمبر ون امریکہ نے ہی گرا کر تباہی کی حد کو عبور کیا۔مسلمانوں کو حقیقت سے آگاہ ہو کر پوری مسلم امہ کے مفاد کو ترجیح دینا چاہئے۔نہ کہ امریکی کھیل کو۔امریکہ ہر صورت بشارالسد کو ہٹانا چاہتا ہے۔سوال یہ ہے کہ بشارالسد کے بعد شام کا اگلا صدر کون ہوگا ؟ کہیں یہاں داعش کی حکومت بنا کر انکی جگہ ہموار کرنے کا ارادہ تو نہیں؟اگر روس نے بشارالسد کو بچانے اور امریکہ سے بدلہ لینے لئے کوششیں شروع کردیں تو شام کا کیا حال ہوگا؟ کہیں شام پر بڑی جنگ تو مسلط نہیں کی جا رہی۔جو امریکہ روس کے خلاف داعش کی مدد سے لڑے گا اور روس شامی حکومت کی مدد سے؟۔دنیا کو ،انسانیت کی باتیں کرنے والوں کو، نرم گوشہ رکھنے والوں کو، میڈیا کو، اسلامی ممالک کو، اور سوشل میڈیا پر شعور رکھنے والوں کو، شام کی حمایت کے لئے کھل کر میدان میں آنا چاہئے تا کہ بڑی طاقتیں شام کو اس کے حال پر چھوڑ دیں ناکہ اس پر مسلط مشکلات کو مزید بڑھاوا دیں۔